TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Book 40 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 40 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

93 Hadith · 12 Chapters
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۰۵) عَنْ عَلِّی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْدَفَہُ عَلٰی دَابَّتِہِ فَلَمَّا اسْتَوٰی عَلَیْہِ کَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَـلَاثاًً، وَحَمِدَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً، وَسَبَّحَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً، وَھَلَّلَ اللّٰہَ وَاحِدَۃً، ثُمَّ اسْتَلْقٰی عَلَیْہِ فَضَحِکَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ: ((مَا مِنَ امْرِیئٍ یَرْکَبُ دَابَّتَہُ فَیَصْنَعُ کَمَا صَنَعْتُ اِلَّا أَقْبَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَضَحِکَ اِلَیْہِ کَمَا ضَحِکْتُ اِلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۳۰۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی سواری پر بٹھایا ہوا تھا، پس جب آپ سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ الحمد للّٰہ اور ایک دفعہ لا الہ الا اللّٰہ کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور مسکرائے۔ اس کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جوآدمی بھی اپنی سواری پر سوار ہو اور اس طرح کرے، جس طرح میں نے کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتے ہیں، جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنس پڑا ہوں۔
Takhreej
(۲۳۰۵) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، ابوبکر بن عبد اللہ ابن ابی مریم الغسانی الشامی ضعیف، وعلی بن ابی طلحۃ لم یدرک ابن عباس (انظر: ۳۰۵۷)
2305
Zaeef
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۰۶) عَنْ أَبِی تَمِیْمَۃَ الْھُجَیْمِیِّ عَمَّنْ کَانَ رَدِیْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ کُنْتُ رَدِیْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ: تَعَسَ الشَّیْطَانُ، فَقَالَ لِیَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُلْ تَعَسَ الشَّیْطَانُ، فَاِنَّکَ اِذَا قُلْتَ تَعَسَ الشَّیْطَانُ تَعَاظَمَ الشَّیْطَانُ فِی نَفْسِہِ وَقَالَ صَرَعْتُہُ بِقُوَّتِی فَاِذَا قُلْتُ بِسْمِ اللّٰہِ تَصَاغَرَتْ اِلَیْہِ نَفْسُہُ حَتّٰی یَکُوْنَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ (وَفِی لَفْظٍ) تَصَاغَرَ حَتّٰی یَصِیْرَ مِثْلَ الذُّبَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۷)
ابوتمیمہ ہجیمی ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جونبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ردیف تھے، وہ کہتے ہیں: میں گدھے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سوار تھا، گدھے کو ٹھوکر لگ گئی، جس پر میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو جائے۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اس طرح نہ کہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے، کیونکہ جب تم یہ کہتے ہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے تو شیطان دل میں اپنے آپ کو بڑا جاننے لگتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اپنی طاقت سے اس کو گرا دیا ہے، لیکن (جب ایسی صورت میں) تم بسم اللہ کہو گے تو شیطان کا نفس ذلیل ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مکھی سے بھی زیادہ چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا ذلیل ہوجاتا ہے کہ وہ مکھی کی طرح چھوٹا بن جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۳۰۶) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۹۸۲ (انظر: ۲۰۵۹۱)
2306
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۰۷) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((عَلٰی ظَہْرِ کُلِّ بَعِیْرٍ شَیْطَانٌ فَاِذَا رَکِبْتُمُوْھَا فَسَمُّوا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِکُمْ)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۵)
سیّدنا حمزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کمر پر شیطان ہے، اس لیے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا کرو، پھراپنی حاجات (کو پورا کرنے میں) سستی نہ برتو۔
Takhreej
(۲۳۰۷) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ الدارمی: ۲/ ۲۸۵، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۱۰۳۳۸، وابن خزیمۃ: ۲۵۴۶، وابن حبان: ۱۷۰۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۹۹۴، والحاکم: ۱/ ۴۴۴ (انظر: ۱۶۰۳۹)
2307
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۰۸) عَنْ عَلِیٍّ الْأَزْدِیِّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَّمَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اسْتَوٰی عَلٰی بَعِیْرِہِ خَارِجًا اِلٰی سَفَرٍ کَبَّرَ ثَـلَاثاً، ثُمَّ قَالَ: (({سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۔} اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ فِی سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰہُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ، اَللّٰھُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: اَللّٰہُمَّ اصْحَبْنَا فِی سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِی أَھْلِنَا)۔)) وَاِذَا رَجَعَ قَالَھُنَّ وَزَادَ فِیْہِنَّ: ((آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۶۳۷۴)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے علی ازدی کو یہ تعلیم دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے،پھر پڑھتے: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس سواری کو تابع کیا ہے ، جبکہ ہم اس کو تابع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اوربے شک ہم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ بے شک ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقوٰی کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے پسند ہو، اے اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان کردے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے، اے اللہ! سفر میں بھی تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی ہمارا خلیفہ ہے، اے اللہ! میں تجھ سے پنا ہ مانگتا ہوں سفر کی مشکلات سے، ناکام و غمگین واپس لوٹنے سے اور اپنے گھر اورمال میں برے منظر کو دیکھنے سے ۔ اور ایک روایت میں ہے: اے اللہ! سفر میں ہمارا ساتھی بن جا اور ہمارے اہل میں ہمارا خلیفہ بن جا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس لوٹتے تویہی کلمات کہتے اور ان میں یہ الفاظ زائد کرتے: واپس لوٹنے والے ہیں، تو بہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔
Takhreej
(۲۳۰۸) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۱۳۴۲ (انظر: ۶۳۷۴)
2308
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۰۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ سَفَراً فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ قَالَ: ((اَللَّھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ…۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ ۔ (مسند احمد: ۹۱۹۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو سواری پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! تو سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں ہمارا خلیفہ ہے، …۔ پھر انھوں نے سابقہ روایت کے الفاظ کی طرح الفاظ ذکر کیے۔
Takhreej
(۲۳۰۹) تخریـج:… حدیث حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۴۳۸، والنسائی: ۸/ ۲۷۳ (انظر: ۹۲۰۵)
2309
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۱۰) عَنْ أَبِی لَاسِ نِ الْخُرَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: حَمَلَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی اِبِلٍ مِنْ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ ضِعَافٍ اِلَی الْحَجِّ، قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ھٰذِہِ الْاِبِلَ ضِعَافٌ، نَخْشٰی أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ بَعِیْرٍ اِلَّا فِی ذِرْوَتِہِ شَیْطَانٌ فَارْکَبُوھُنَّ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِنَّ کَمَا أُمِرْتُمْ ثُمَّ امْتَہِنُوھُنَّ لِأَنْفُسِکُمْ فَاِنَّمَا یَحْمِلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۰۴)
سیّدنا ابو لاس خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حج کے لیے صدقہ کے کمزور اونٹوں پر سوار کیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول: یہ اونٹ تو کمزور ہیں، ہمیں تو یہ اندیشہ ہے کہ یہ ہمیں نہ اٹھا سکیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کوہان پر شیطان ہوتا ہے، اس لیے جب تم ان پر سوار ہونے لگو تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرو، جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، پھر ان کو اپنی خدمت کے لیے استعمال کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی اٹھاتا ہے (یعنی ان اونٹوں میں بوجھ اٹھانے پر قوت اور صبر پیدا کر دیتا ہے)۔
Takhreej
(۲۳۱۰) تخریـج:… اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۸۳۸ (انظر: ۱۷۹۳۹)
2310
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۱۱) عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّ حَبِیْبَ بْنَ مَسْلَمَۃَ أَتٰی قَیْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فِی الْفِتْنَۃِ الْأُوْلٰی وَھُوَ عَلٰی فَرَسٍ فَتَأَخَّرَ عَنِ السَّرْجِ وَقَالَ: اِرْکَبْ فَأَبٰی، فَقَالَ لَہُ قَیْسُ بْنُ سَعْدٍ اِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: صَاحِبُ الدَّابَّۃِ أَوْلٰی بِصَدْرِھَا۔)) فَقَالَ لَہُ حَبِیْبٌ اِنِّی لَسْتُ أَجْہَلُ مَا قَالَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلٰکِنِّی أَخْشٰی عَلَیْکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۷)
عبد الرحمن بن امیہ کہتے ہیں کہ سیّدناحبیب بن مسلمۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سیّدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، یہ پہلے فتنے کے وقت کی بات ہے، وہ گھوڑے پر سوار تھے، وہ گھوڑے کی زین سے پیچھے ہٹ گئے اور ان سے کہا:سوار ہوجاؤ ، لیکن سیّدنا قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (اس مقام پر) سوار ہونے سے انکار کردیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا: سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق دار ہے۔ آگے سے سیّدنا حبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس ارشادسے جاہل نہیں ہوں، لیکن میں تجھ پر( کسی دشمن سے) ڈرتا ہوں۔
Takhreej
(۲۳۱۱) تخریـج:… صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۵۳۴، وفی ’’الاوسط‘‘: ۱۹۴۸ (انظر: ۱۵۴۷۸)
2311
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۱۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی یَقُوْلُ: بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْشِی اِذْ جَائَہُ رَجُلٌ مَعَہُ حِمَارٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِرْکَبْ، فَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِکَ مِنِّی اِلَّا أَنْ تَجْعَلَہُ لِیْ۔)) قَالَ: فَاِنِّی قَدْ جَعَلْتُہ لَکَ، قَالَ: فَرَکِبَ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۸۰)
سیّدنا بریدہ اسلمی کہتے ہیں: ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل رہے تھے، اچانک ایک آدمی، جس کے پاس گدھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سوار جائیں، جبکہ وہ خود پیچھے ہٹنے لگا،اس پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، (میں اس کے اگلے حصے پر سوار نہیں ہوں گا، کیونکہ) تو اپنی سواری کے اگلے حصے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے، ہاں اگر تو مجھے اجازت دے دے تو ٹھیک ہے۔ اس نے کہا: میں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (اس اگلے حصے پر) سوار ہوگئے۔
Takhreej
(۲۳۱۲) تخریـج:… صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۵۷۲، والترمذی: ۲۷۷۳ (انظر: ۲۲۹۹۲)
2312
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۱۳) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَضَی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ صَاحِبَ الدَّابَّۃِ أَحَقُّ بِصَدْرِھَا۔ (مسند احمد: ۱۱۹)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ کیاکہ سواری کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتاہے۔
Takhreej
(۲۳۱۳) تخریـج:… حدیث حسن لشواھدہ(انظر: ۱۱۹)
2313
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۱۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا تُسَافِرُوا بِالْقُرْآنِ فَاِنِّی أَخَافُ أَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ۔ (مسند احمد: ۴۵۷۶)
سیّدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کو لے کر (دشمن کے علاقے کی طرف) سفر نہ کرو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ دشمن کے ہتھے چڑھ جائے گا۔
Takhreej
(۲۳۱۴) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۱۸۶۹(انظر: ۴۵۷۶)
2314
Sahih
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
۔ (۲۳۱۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْھٰی أَنْ یُسَافَرَ بِالْمُصْحَفِ اِلٰی أَرْضِ الْعَدُوِّ۔ (مسند احمد: ۵۴۶۵)
۔ (دوسری سند)میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مصحف (قرآن) لے کر دشمن کے علاقے میں سفر کرنے سے منع فرما رہے تھے۔
Takhreej
(۲۳۱۵)تخریـج:… انظر الحدیث بالطریق الاول۔
2315
Sahih
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۱۶) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ یُرِیْدُ سَفَرًا أَوْ غَیْرَہُ فَقَالَ حِیْنَ یَخْرُجُ: آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ، اِلَّا رُزِقَ خَیْرَ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ، وَصُرِفَ عَنْہُ شَرُّ ذٰلِکَ الْمَخْرَجِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱)
سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی سفر یا کسی اور کام کے ارادے سے گھر سے نکلتا ہے اور یہ دعا پڑھتا ہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اِعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ … میں اللہ پرایمان لایا،اس (کی رسی) کو مضبوطی سے تھاما اور میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، گناہوں سے بچنے کی قدرت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ کے ساتھ۔ تو اس کو اس راستے کی خیر و برکت دی جائے گی اور اس راستے کو اس کی برائی سے بچالیا جائے گا۔
Takhreej
(۲۳۱۶) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل الذی روی عنہ صالح بن کیسان، أخرجہ الخطیب فی ’’تاریخ بغداد‘‘: ۵/ ۱۴۵، وابن السنی فی ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘: ۴۹۱ (انظر: ۴۷۱)
2316
Zaeef
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۱۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا أَرَادَ سَفَراً قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ)) (مسند احمد: ۱۲۹۶)
سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو فرماتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصُوْلُ وَبِکَ أَحُوْلُ وَبِکَ أَسِیْرُ۔ … اے اللہ! میں تیرے ساتھ ہی (دشمن پر) حملہ کرتا ہوں، تیرے ساتھ ہی میں حرکت کرتا ہوں اور تیرے ساتھ ہی میں چلتا ہوں۔
Takhreej
(۲۳۱۷) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، عمران بن ظبیان الحنفی الکوفی قال البخاری: فیہ نظر، وقال ابو حاتم: یکتب حدیثہ، یعنی فی المتابعات، وتناقض ابن حبان فذکرہ فی الثقات، وقال فی ’’الضعفائ‘‘: فحش خطؤہ حتی بطل الاحتجاج بہ، وقال یعقوب بن سفیان: ثقۃ
2317
Zaeef
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۱۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَرَادَ أَنْ یَخْرُجَ اِلٰی سَفَرٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الْسَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی أعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ۔)) وَاِذَا أَرَادَ الرُّجُوْعَ قَالَ: ((آئِبُونَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔)) وَاِذَا دَخَلَ أَھْلَہُ قَالَ: ((تَوْباً تَوْباً لِرَبِّنَا أَوْباً لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْباً۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱)
سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی الْسَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰہُمَّ اِنِّی أعُوْذُبِکَ مِنَ الضُّبْنَۃِ فِی السَّفَرِ وَالْکَآبَۃِ فِی الْمُنْقَلَبِ، اَللّٰھُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ۔ … اے اللہ! تو سفر میں ساتھی ہے اور ہمارے گھر میں خلیفہ ہے،اے اللہ! میں تجھ سے سفر میں کثرتِ عیال سے اور سفر سے ناکام واپسی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت کو کم کر دے) اور ہمارے لے یہ سفرآسان کردے۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: آئِبُونَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔ … واپس لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اورجب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو فرماتے: تَوْباً تَوْباً لِرَبِّنَا أَوْباً لَایُغَادِرُ عَلَیْنَا حَوْباً۔ ہم توبہ کرتے ہیں، ہم توبہ کرتے ہیں اور اپنے اس رب کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو ہمارا کوئی گناہ نہیں چھوڑتا، (بلکہ سب کو معاف فرما دیتا ہے)۔
Takhreej
(۲۳۱۸) تخریـج:… حدیث حسن، أخرجہ أبو یعلی: ۲۳۵۳، وابن حبان: ۲۷۱۶، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۱۷۳۵، والبزار: ۳۱۲۷، والحاکم: ۱/ ۴۸۸ (انظر: ۲۳۱۱)
2318
Sahih
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۱۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَرْجِسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (قَالَ عَاصِمٌ: وَقَدْ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ): کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ فِیْ سَفَرٍ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمُظْلُوْمِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالْأَھْلِ۔)) وَاِذَا رَجَعَ قَالَ مِثْلَہَا اِلَّا أَنَّہُ یَقُوْلُ: ((وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ۔)) فَیَبْدَأُء بِالْأَھْلِ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن سرجس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ وَدَعْوَۃِ الْمُظْلُوْمِ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْمَالِ وَالْأَھْلِ۔( اے اللہ ! میں سفر کی مشقتوں سے، واپس لوٹنے کے غم سے سے، زیادہ ہو جانے کے بعد نقصان سے، مظلوم کی بددعا سے اور مال اور گھر میں برے منظر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔) اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹتے تو یہی کلمات دوہراتے ۔ البتہ آخری جملے کو اس طرح کہتے تھے: وَسُوْئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ۔(اور اپنے اہل اور مال میں برے منظر۔) یعنی اس میں الْأَہْل کا لفظ پہلے آیا، (اور المَال کا بعد میں)
Takhreej
(۲۳۱۹) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۱۳۴۳(انظر: ۲۰۷۷۶)
2319
Sahih
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۲۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ وَسُئِلَ عَاصِمٌ عَنِ الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ قَالَ حَارَ بَعْدَ مَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۲)
(دوسری سند) عاصم سے الْحَوْرِ بَعْدَ الْکَوْرِ کے (معنی کے) بارے میں پوچھاگیا تو انھوں نے کہا: (کسی نعمت کے) زیادہ ہو جانے کے بعد اس میں کمی آجانا۔
Takhreej
(۲۳۲۰)تخریـج:… أخرجہ الترمذی: ۳۴۳۹، وانظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۲۰۷۸۱)
2320
Sahih
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَکَہُ اللَّیْلُ قَالَ: ((یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔)) (مسند احمد: ۶۱۶۱)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب غزوہ یا کسی اور سفر کے لیے نکلتے اور راستے میں رات ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھتے: یَاأَرْضُ! رَبِّی وَرَبُّکِ اللّٰہُ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّ مَا فِیْکِ، وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِیْکِ، وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَیْکِ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ کُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَیَّۃٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاکِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ۔(اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شرّ سے، تیرے اندر کے شرّ سے، تیرے اندر پیدا کی ہوئی چیزوں کے شرّ سے اور تیرے اوپر رینگنے والی چیزوں کے شرّ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، ہر قسم کے شیر، شخص، سانپ اور بچھو کے شرّ سے اور اس علاقے میں رہنے والے کے شرّ سے ، (غرضیکہ) ہر جنم دینے والے اور ہر جنم لینے والے کے شرّ سے۔)
Takhreej
(۲۳۲۱) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، الزبیر بن الولید الشامی، تفرد بالروایۃ عنہ شُریح بن عبید الحضرمی، أخرجہ ابوداود: ۲۶۰۳ (انظر: ۶۱۶۱)
2321
Zaeef
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۲۲) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَۃَ بِنْتَ حَکِیْمٍ السُّلَمِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، ثُمَّ قَالَ: أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ یَضُرَّہُ شَیْئٌ حَتَّی یَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِہِ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۶۳)
سیّدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ خولہ بنت حکیم سلمیۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کہیں پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھے: أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ کُلِّہَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ ( میں اللہ کے تمام اور مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جواس نے پیداکی۔)تو کوئی چیز اسے وہاں سے روانہ ہونے تک نقصان نہیں دے گی۔
Takhreej
(۲۳۲۲) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۲۷۰۸ (انظر: ۲۷۱۲۲)
2322
Sahih
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا صَعِدْنَا کَبَّرْنَا وَاِذَا ھَبَطْنَا سَبَّحْنَا۔ (مسند احمد: ۱۴۶۲۲)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، جب (بلند جگہ پر)چڑھ رہے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب (بلند جگہ سے) اتر رہے ہوتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۲۳) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۲۹۹۳، ۲۹۹۴ (انظر: ۱۴۵۶۸)
2323
Sahih
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
۔ (۲۳۲۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا صَعِدَ أَکَمَۃً أَوْ نَشَزًا قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَمْدٍ (وَفِی لَفْظٍ) وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۰۶)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی ٹیلے یا اونچی جگہ پر چڑھتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الشَّرَفُ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ، وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَمْدٍ (ایک روایت کے الفاظ کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ کہتے) وَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ … اے اللہ! ہر بلند جگہ پر عزت و حیثیت تیرے لیے ہی ہے اور ہر قسم کی تعریف پر (اصل) تعریف لیے ہی ہے۔ اور (ایک روایت کے مطابق) ہر حال میں تعریف تیرے لیے ہی ہے۔
Takhreej
(۲۳۲۴) تخریـج:… اسنادہ ضعیف لضعف عمارۃ بن زاذان و زیادِ بن عبد اللہ النمیری، أخرجہ أبویعلی: ۳۲۹۷، والطبرانی فی ’’الدعائ‘‘: ۸۴۹، والبیھقی فی ’’الدعوات الکبیر‘‘: ۴۱۳ (انظر: ۱۲۲۸۱)
2324
Zaeef

Chapters

12
01
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
7 Hadith
02
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
03
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
5 Hadith
04
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
12 Hadith
05
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
06
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
7 Hadith
07
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
08
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
9 Hadith
09
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
12 Hadith
10
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
14 Hadith
11
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
6 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
1 Hadith
No chapter matched that.