TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Book 40 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 40 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

93 Hadith · 12 Chapters
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۴۵) عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہَا قَالَتْ: کَانَ أَوَّلَ مَا افْتُرِضَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلَاۃُ رَکْعَتَانِ رَکْعَتَانِ اِلَّا الْمَغْرِبَ فَاِنَّہَا کَانَتْ ثَـلَاثًا ثُمَّ أَتَمَّ اللّٰہُ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَائَ الْآخِرَۃَ أَرْبَعًا فِی الْحَضَرِ، وَأَقَرَّ الصَّلَاۃَ عَلٰی فَرْضِہَا الْأَوَّلِ فِی السَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۶۹)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جو نماز شروع میں فرض کی گئی، وہ مغرب کے علاوہ دو دو رکعتیں تھیں، مغرب کی تین رکعتیں تھیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ظہر، عصر، اور عشاء کی نمازوں کی حضر میں چار چار رکعتیں پوری کر دیں اور پہلے فرض ہونے والی ( دو دو رکعتوں) کو سفر میں مقرر کردیا۔
Takhreej
(۲۳۴۵) تخریـج:… أخرجہ البخاری: ۳۵۰، ومسلم: ۶۸۵، وابوداود: ۱۱۹۸(انظر: ۲۶۸۶۹)
2345
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۴۶)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاۃُ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ بِمَکَّۃَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ زَادَ مَعَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا الْمَغْرِبَ فَاِنَّہَا وِتْرُ النَّہَارِ، وَصَلَاۃَ الْفَجْرِ لِطُوْلِ قِرَائَ تِہَا، قَالَتْ: وَکَانَ اِذَا سَافَرَ صَلَّی الصَّلَاۃَ الْأُوْلَی۔ (مسند احمد: ۲۶۵۷۰)
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: مکہ میں نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ آئے تو دو دو رکعتوں کا مزید اضافہ کر دیا گیا، سوائے نمازِ مغرب کے، کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں،اور سوائے نمازِفجرکے، کیونکہ اس میں قراء ت لمبی ہوتی ہے۔سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مزید کہتی ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر ہوتے تو پہلے والی نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۴۶)تخریـج:… اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، الشعبی لم یسمع من عائشۃ، ویغنی عنہ الحدیث بالطریق الأول، أخرجہ ابن خزیمۃ: ۳۰۵، ۹۴۴، وابن حبان: ۲۷۳۸، ، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱/ ۴۱۵ ، وابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۱۳۲، واسحاق بن راھویہ: ۱۶۳۵ (انظر: ۲۶۰۴۲)
2346
Zaeef
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۴۷) عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَرَضَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ صَلَاۃَ الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ، وَالْخَوْفِ رَکْعَۃً عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۳۳۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار رکعتیں، سفر کی نماز دو رکعتیں اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی۔
Takhreej
(۲۳۴۷) تخریـج:… اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ مسلم: ۶۸۷، وابوداود: ۱۲۴۷، وابن ماجہ: ۱۰۶۸، والنسائی: ۱/ ۲۲۶ (انظر: ۲۱۲۴، ۳۳۳۲)
2347
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۴۸) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ زَحْرٍ أَنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ لَکُمْ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَلَّاۃَ فِی الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِی السَّفَرِ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۹۱۸۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان پر حضر کی نماز چار اور سفر کی نماز دو رکعتیں فرض کی ہیں۔
Takhreej
(۲۳۴۸) تخریـج:… حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف، عبید اللہ بن زحر مختلف فیہ، وفیہ انقطاع بین عبید اللہ وبین ابی ھریرۃ (انظر: ۹۲۰۰)
2348
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۴۹) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَاۃُ السَّفَرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْأَضْحٰی رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْفِطْرِ رَکْعَتَانِ، وَصَلَاۃُ الْجُمُعَۃِ رَکْعَتَانِ تَمَامٌ غَیْرُ قَصْرٍ عَلٰی لِسَانٍ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۷)
سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سفری نماز کی دو رکعتیں، نمازِ عیدالاضحی کی دو رکعتیں، نماز عید الفطر کی دو اور نمازِ جمعہ کی دو رکعتیں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان پر پوری نمازیں ہیں،ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔
Takhreej
(۲۳۴۹) تخریـج:… حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۰۶۳، والنسائی: ۳/ ۱۱۱ (انظر: ۲۵۷)
2349
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۵۰) عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قُلْتُ: {لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاۃِ اِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا} وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ لِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَدَقَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَا عَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴)
یعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے تو نماز کو قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ، جبکہ اب تو لوگ امن میں ہیں؟ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے جواب دیتے ہوئے کہا: جس چیز سے تجھے تعجب ہوا ہے، مجھے بھی اس پر تعجب ہوا تھا، لیکن جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خیرات (اور رخصت) ہے، جواللہ نے تم پر صدقہ کی ہے، سو تم اس کی یہ رخصت قبول کرو۔
Takhreej
(۲۳۵۰) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۶۸۶ (انظر: ۱۷۴)
2350
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۵۱) عَنْ أَبِی حَنْظَلَۃَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی السَّفَرِ، قَالَ: اَلصَّلَاۃُ فِی السَّفَرِ رَکْعَتَانِ، قُلْتُ اِنَّا آمِنُونَ، قَالَ: سُنَّۃُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۸۶۱)
ابوحنظلہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سفر کی نماز کے بار ے سوال کیا تو انہوں نے کہا: سفر کی نماز دو رکعتیں ہے۔ میں نے کہا: ہم تو اب امن میں ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Takhreej
(۲۳۵۱) تخریـج:… صحیح لغیرہ ، أخرجہ الدولابی فی ’’الکنی‘‘: ۱/ ۱۶۰، وابن ابی شیبۃ: ۲/۴۴۷، (انظر: ۴۷۰۴، ۵۲۱۳)
2351
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۵۲) عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِیْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: اِنَّا نَجِدُ صَلَاۃَ الْخَوْفِ فِی الْقُرْآنِ وَصَلَاۃَ الْحَضَرِ وَلَا نَجِدُ صَلَاۃَ السَّفَرِ؟ فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعَثَ مُحَمَّداً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَعْلَمُ شَیْئًا، فَاِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَیْنَا مُحَمَّداً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ۔ (مسند احمد: ۵۳۳۳)
خالد بن اسید کی آل میں سے ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ ہمیں قرآن مجید میں خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے، لیکن ہم سفر کی نماز کا کوئی ذکر نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھیجا اور ہم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے، جو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Takhreej
(۲۳۵۲) تخریـج:… صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۰۶۶، والنسائی: ۳/ ۱۱۷(انظر: ۵۶۸۳)
2352
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۵۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اِنَّہُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: نَجِدُ صَلَاۃَ الْخَوْفِ وَصَلَاۃَ الْحَضَرِ فِی الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاۃَ الْمُسَافِرِ؟ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: بَعَثَ اللّٰہُ نَبِیَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ أَجْفَی النَّاسِ فَنَصْنَعُ کَمَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۶۸۳)
(دوسری سند)امیہ بن عبد اللہ کہتے ہیں : ہم نے سیّدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ ہم خوف اور حضر کی نمازیں تو قرآن میں پاتے ہیں ، لیکن ہم مسافر کی نماز کا کوئی تذکرہ نہیں پاتے؟ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا، جبکہ ہم سب لوگوں سے سب سے زیادہ سخت مزاج تھے، پس ہم تو اب اسی طرح کریں گے، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۵۳)تخریـج:… انظر الحدیث بالطریق الاول۔
2353
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۵۴) عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ سَافَرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ وَحِیْنَ قَامَ أَرْبَعًا، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَنْ صَلّٰی فِی الْسَّفَرِ أَرْبَعًا کَمَنْ صَلّٰی فِی الْحَضَرِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاۃُ اِلَّا مَرَّۃً حَیْثُ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ وَصَلَّی النَّاسُ رَکْعَۃً رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۳۲۶۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر پر ہوتے تو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور جب مقیم ہوتے تو چار رکعتیں پڑھتے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جس نے سفر میں چار رکعتیں پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضر میں دو رکعتیں پڑھتا ہے۔سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مزید کہا: صرف ایک دفعہ نماز کو (ایک رکعت پر) قصر کر کے پڑھا گیا، (اور وہ بھی اس طرح تھا کہ) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں اور لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کی تھی۔
Takhreej
(۲۳۵۴) تخریـج:… اسنادہ ضعیف، حمید بن علی وھو ابوعکرشۃ العقیلی، قال الدارقطنی: لایستقیم حدیثہ، ولا یحتج بہ، وقال ابوزرعۃ: کوفی لابأس بہ، وذکرہ ابن حبان فی الثقات، وقال البخاری فی ’’تاریخہ‘‘: حمید بن علی عن الضحاک مرسل، والضحاک بن مزاحم لم یسمع من ابن عباس (انظر: ۲۲۶۲)
2354
Zaeef
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۵۵) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ شُفَیٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ یَسْأَلُوْنَہُ عَنِ الصَّلَاۃِ فِی السَّفَرِ، فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَِذا خَرَجَ مِنْ أَھْلِہِ لَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلٰی أَھْلِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان سے سفری نماز کے بارے میں پوچھتے تھے،وہ کہتے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گھر سے نکلتے تو واپس لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۵۵) تخریـج:… اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۷۳۷، وعبد بن حمید: ۹۶۹، والطحاوی: ۱/ ۴۱۷، والطبرانی: ۱۲۷۱۱، والبیھقی: ۳/ ۱۵۳ (انظر: ۲۱۵۹)
2355
Sahih
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
۔ (۲۳۵۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَ عُمَرَ فَکَانَا لَا یَزِیْدَانِ عَلٰی رَکْعَتَیْنِ وَکُنَّا ضُلَّالًا فَہَدَانَا اللّٰہُ بِہِ فَبِہٖ نَقْتَدِی۔ (مسند احمد: ۵۷۵۷)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیّدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سفر کیے، میں نے نہیں دیکھا کہ انھوں نے دو رکعتوں سے زیادہ نماز پڑھی ہو اور ہم تو گمراہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے ذریعے ہمیں ہدایت دی،سو ہم تو ان ہی کی پیروی کرتے ہیں۔
Takhreej
(۲۳۵۶) تخریـج:… اسنادہ حسن (انظر: ۵۶۹۸، ۵۷۵۷)
2356
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۵۷) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِی السِّمْطِ اَنَّہُ أَتٰی أَرْضًا یُقَالُ لَھَا دَوْمِیْنُ، مِنْ حِمْصَ عَلٰی رَأْسِ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ مِیلًا فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ لَہُ: أَتُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ؟ فَقَالَ: رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ، فَسَأَلْتُہُ، فَقَالَ: اِنَّمَا أَفْعَلُ کَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ: کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۸)
جبیر بن نفیر کہتے ہیں: جناب ابو سمط دو مین نامی جگہ پر آئے، جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے کہا: کیا تو دو رکعت نماز پڑھ رہا ہے؟اس نے کہا: میں نے تو سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ذی الحلیفہ دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: میں تو اسی طرح کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۲۳۵۷) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۹۲ (انظر: ۱۹۸)
2357
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۵۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَافَرَ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ (وَفِی رِوَایَۃٍ سِرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ) لَا یَخَافُ اِلَّا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ سے سفر کیا (اور ایک روایت میں ہے: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان کا سفر کیا) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر تھا، لیکن پھر بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آنے تک دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے۔
Takhreej
(۲۳۵۸) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۵۴۷، والنسائی: ۳/ ۱۱۷(انظر: ۱۸۵۲)
2358
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۵۹) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ وَھْبِ نِ الْخُزَاعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنًی أَکْثَرَ مَا کَانَ النَّاسُ وَآمَنَہُ رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۳۴)
سیّدناحارثہ بن وہب خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ منیٰ میں ظہر وعصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی اور امن بھی بہت تھا۔ ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ قصر کا تعلق دشمن کے خوف یا صرف جہادی سفر سے نہیں ہے، بلکہ ہر سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی، اس میں امن ہو یا خوف۔
Takhreej
(۲۳۵۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۸۳، ۱۶۵۶، ومسلم: ۶۹۶(انظر: ۱۸۷۲۷، ۱۸۷۳۱)
2359
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۰) عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَکَّۃَ، فَقُلْتُ: اِذَا کُنَّا مَعَکُمْ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا، وَاِذَا رَجَعْنَا اِلٰی رِحَالِنَا صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ، قَالَ: سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۲)
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Takhreej
(۲۳۶۰) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۸۸ (انظر: ۱۸۶۲، ۱۹۹۶)
2360
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۱)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِذَا لَمْ تُدْرِکِ الصَّلَاۃَ فِی الْمَسْجِدِ کَمْ تُصَلِّی فِی الْبَطْحَائِ قَالَ رَکْعَتَیْنِ سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۶)
(دوسری سند) میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: جب تم مسجد میں نماز (باجماعت) نہیں پاتے توبطحاء میں کتنی رکعتیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: دو رکعت پڑھتا ہوں اور یہی ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Takhreej
(۲۳۶۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2361
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: اِنِّی أَکُوْنُ بِمَکَّۃَ فَکَیْفَ أُصَلِّی؟ فَقَالَ: رَکْعَتَیْنِ سُنَّۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۲)
(تیسری سند)میں نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کرتے ہوئے کہا:جب میں مکہ میں ہوتا ہوں تو وہاں کیسے نماز پڑھوں؟ انھوں نے جواب دیا: دو رکعتیں اور یہی ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Takhreej
(۲۳۶۲)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2362
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ سِتَّ سِنِیْنَ بِمِنًی فَصَلَّوْا صَلَاۃَ الْمُسَافِرِ۔ (مسند احمد: ۴۸۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اور سیّدناعثمان کے ساتھ چھ سال تک منی میں نماز پڑھی، وہ مسافر والی نماز پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۶۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۹۴ (انظر: ۴۸۵۸)
2363
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ فِی مَسْجِدِہِ بِالْمَدِیْنَۃِ أَرْبَعَ رَکْعَاتٍ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ آمِنًا لَا یَخَافُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۲۲)
سیّدنا انس بن مالک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مدینہ میں مسجد نبوی میںظہر کی نماز کی چار رکعت پڑھائی، اور ذو الحلیفہ کے مقام پر عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی، یہ حجۃ الوداع کا (سفر تھا) ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم امن کی حالت میں تھے اور کسی سے نہیں ڈر رہے تھے۔
Takhreej
(۲۳۶۴) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الطحاوی: ۱/ ۴۱۸، وابن حبان: ۲۷۴۶، وابویعلی: ۳۶۳۴، وأخرجہ مسلم مختصرا: ۶۹۰ (انظر: ۱۲۰۷۹، ۱۳۴۸۸)
2364
Sahih

Chapters

12
01
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
7 Hadith
02
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
03
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
5 Hadith
04
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
12 Hadith
05
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
06
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
7 Hadith
07
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
08
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
9 Hadith
09
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
12 Hadith
10
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
14 Hadith
11
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
6 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
1 Hadith
No chapter matched that.