TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Book 40 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 40 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

93 Hadith · 12 Chapters
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۵) عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَزِیْدَ الْھُنَائِیِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاۃِ، قَالَ کُنْتُ أَخْرُجُ اِلَی الْکُوْفَۃِ فَأُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی أَرْجِعَ، وَقَالَ أَنَسُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا خَرَجَ مَسِیْرَۃَ ثَـلَاثَۃِ أَمْیَالٍ أَوْ ثَـلَاثَۃِ فَرَاسِخَ شُعْبَۃُ الشَّاکُّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۳۸)
یحی بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ میں کوفہ کی طرف جاتا ہوں اور واپس لوٹنے تک دو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں۔ سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک نکلتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔
Takhreej
(۲۳۶۵) تخریـج:… أخرجہ مسلم: ۶۹۱ (انظر: ۱۲۳۱۳)
2365
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۶) عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: اُنْطُلِقَ بِنَا اِلَی الشَّامِ اِلٰی عَبْدِالْمٰلِکِ وَنَحْنُ أَرْبَعُوْنَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ لِیَفْرِضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعَ وَکُنَّا بِفَجِّ النَّاقَۃِ صَلّٰی بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ سَلَّمَ وَدَخَلَ فُسْطَاطَہُ وَقَامَ الْقَوْمُ یُضِیْفُوْنَ اِلَی رَکْعَتَیْہِ رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ، قَالَ: فَقَالَ: قَبَّحَ اللّٰہُ الْوُجُوہَ، فَوَاللّٰہِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّۃَ وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَۃَ، فَأَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((اِنَّ أَقْوَامًا یَتَعَمَّقُوْنَ فِی الدِّیْنِ یَمْرُقُوْنَ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۴۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم چالیس انصاری لوگوں کو شام میں عبد الملک کے پاس بھیجا گیا، تاکہ وہ ہمارے لیے کچھ مقرر کرے۔ جب وہ (انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) لوٹے اور ہم فَجُّ النَّاقَۃِ مقام تک پہنچے ، تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیرکر اپنے خیمے میں چلے گئے۔لیکن ہوا یوں کہ وہ (مقتدی) کھڑے ہو گئے اور ان دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، اس پر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ ان چہروں کا برا کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے سنت کو نہیں پایا اور نہ رخصت کو قبول کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک کچھ قومیں دین میں مبالغہ اور تشدد کی حد تک گھسیں گی، لیکن پھر دین سے یوں نکل جائیںگی، جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۳۶۶) تخریـج:… اسنادہ قوی۔ أخرجہ سعید بن منصور فی ’’سننہ‘‘: ۲۹۰۵، والضیائ: ۱۸۹۴ وابن عساکر فی ’’تاریخ دمشق‘‘: ۵/ ورقۃ ۱۸۰، وأخرج القسم المر فوع منہ البزار: ۱۸۵۳ (انظر: ۱۲۶۱۵)
2366
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۷) عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی اِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی مَکَّۃَ فَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُہُ: ھَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَامَ بِمَکَّۃَ عَشْرًا۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰۶)
یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوںنے کہا: ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوںنے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔
Takhreej
(۲۳۶۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۲۰۴۹، ۲۲۹۳، ۳۷۸۱، ومسلم: ۱۴۲۷ (انظر: ۱۲۹۷۶)
2367
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی رَکْعَتَیْنِ، وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْراً مِنْ اَمَارَتِہِ ثُمَّ أَتَمَّ۔ (مسند احمد: ۵۱۷۸)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے منی میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ اور سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی دور میں دو دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہاں سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پوری پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۶۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۰۸۲، ومسلم: ۶۹۴ (انظر: ۴۶۵۲)
2368
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۶۹) عَنْ أَبِی جُحَیْفَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْأَبْطَحِ الْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ (وَفِی لَفْظٍ) الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) ثُمَّ لَمْ یَزَلْ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی أَتَی الْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۵۴)
سیّدنا ابوجحیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ابطح مقام پر عصر کی یا ظہر وعصر دونوں کی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
Takhreej
(۲۳۶۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۹۵، ۴۹۹، ومسلم: ۵۰۳ (انظر: ۱۸۷۴۳، ۱۸۷۴۷)
2369
Sahih
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
۔ (۲۳۷۰) عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیْہِ عَبَّادٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ یَعْنِی (بْنَ أَبِی سُفْیَانَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَہُ مَکَّۃَ، قَالَ فَصَلّٰی بِنَا الظُّھْرَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی دَارِ النَّدْوَۃِ، قَالَ: وَکَانَ عُثْمَانُ حِیْنَ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ اِذَا قَدِمَ مَکَّۃَ صَلّٰی بِہَا الْظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَائَ الْآخِرَۃَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، فَاِذَا خَرَجَ اِلٰی مِنًی وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاۃَ، فَاِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنًی أَتَمَّ الصَّلَاۃَ حَتّٰی یَخْرُجَ مِنْ مَکَّۃَ، فَلَمَّا صَلّٰی بِنَا الظُّہْرَ رَکْعَتَیْنِ (یَعْنِی مُعَاوِیَۃَ) نَھَضَ اِلَیْہِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَہُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّکَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَہُ بِہِ، فَقَالَ لَھُمَا: وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ: فَقَالَا لَہُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّہُ أَتَمَّ الصَّلَاۃَ بِمَکَّۃَ؟ قَالَ: فَقَاَلَ لَھُمَا: وَیْحَکُمَا، وَھَلْ کَانَ غَیْرَ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّیْتُہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ وَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ قَالَا: فَاِنَّ ابْنَ عَمِّکَ قَدْ کَانَ أَتَمَّہَا، وَاِنَّ خِلَافَکَ اِیَّاہُ لَہُ عَیْبٌ، قَالَ فَخَرَجَ مَعَاوِیَۃُ اِلَی الْعَصْرِ فَصَلَّاھَا بِنَا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۶۹۸۲)
عباد کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ میں آئے، انھوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر دار الندوہ میں چلے گئے۔ جب سیّدناعثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ میں آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ منی اور عرفات میں جاتے تو قصر نماز پڑھتے، پھر جب حج سے فارغ ہو جاتے اور منی میں اقامت اختیار کرتے تو پوری نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چلے جاتے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کے پاس گئے اور کہا: تو نے اپنے چچازاد (سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) پر قبیح ترین عیب لگایا ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا؟ ان دونوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: تم ہلاک ہو جائے، جو عمل میں نے کیا ہے، کیا اس کی کوئی اور صورت بھی ہے؟ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ یہی نماز پڑھی ہے۔ لیکن ان دونوں نے پھر کہا: تیرے چچازاد نے تو پوری پڑھی ہے اور یہ ان پر عیب ہے کہ تو ان کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ عصر کے لیے آئے تو چار رکعتیں پڑھائیں۔
Takhreej
(۲۳۷۰) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۷۶۵ (انظر: ۱۶۸۵۷)
2370
Sahih
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
۔ (۲۳۷۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَۃَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ اِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَۃَ صَلَّیْنَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، فَاِذَا أَقَمْنَا أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ صَلَّیْنَا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۵۸)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سفر کیا اور (اس کے دوران مکہ میں) انیس دن قیام کیا، اور دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی سفر میں انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، لیکن جب اس سے زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں تو چار چار رکعتیں ادا کرتے ہیں۔
Takhreej
(۲۳۷۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۲۹۸، ۴۲۹۹ (انظر: ۱۹۵۸)
2371
Sahih
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
۔ (۲۳۷۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَمَّا فَتَحَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ أَقَامَ فِیْہَا سَبْعَ عَشْرَۃَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۸)
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ فتح کیا تو وہاں سترہ دن قیام کیا اور دو دو رکعت نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۳۷۲)تخریـج: …حدیث صحیح، شریک بن عبد اللہ النخعی وانظر الحدیث بالطریق الأول
2372
Sahih
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
۔ (۲۳۷۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَبُوْکَ عِشْرِیْنَ یَوْمًا یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۸۶)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور اس دوران قصر نماز پڑھتے رہے۔
Takhreej
(۲۳۷۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۱۲۳۵(انظر: ۱۴۱۳۹)
2373
Sahih
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
۔ (۲۳۷۴) عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شَرَاحِیْلَ قَالَ: خَرَجْتُ اِلَی ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاۃُ الْمُسَافِرِ؟ فَقَالَ: رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا صَلَاۃَ الْمَغْرِبِ ثَـلَاثًا، قُلْتُ: أَرَأَیْتَ اِنْ کُنَّا بِذِی الْمَجَازِ؟ قَالَ: وَمَا ذُوالْمَجَازِ؟ قُلْتُ: مَکَانٌ نَجْتَمِعُ فِیْہِ وَنَبِیْعُ فِیْہِ وَنَمْکُثُ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً أَوْ خَمْسَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً، قَالَ: یَا أَیُّھَا الرَّجُلُ کُنْتُ بِأَذْرَبِیْجَانَ، لَا أَدْرِی قَالَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ أَوْ شَہْرَیْنِ، فَرَأَیْتُہُمْ یُصَلُّونَہَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، وَرَأَیْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُصْبَ عَیْنَیَّ یُصَلِّیْھِمَا رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ نَزَعَ ھٰذِہِ الْآیَۃَ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} حَتّٰی فَرَغَ مِنَ الْآیَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۵۵۲)
ثمامہ بن شراحیل کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا:مسافر کی نماز کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: دو دو رکعتیں ہے، سوائے نماز مغرب کے، وہ تین رکعت ہے۔ میں نے کہا:آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم ذی المجاز میں ہوںتو؟ انھوںنے کہا: ذوالمجاز کیا ہے؟ میں نے کہا:وہ ایک جگہ کا نام ہے، ہم اس میں جمع ہوتے ہیں اورخرید و فروخت کرتے ہیں اور وہاںپندرہ یا بیس راتیں ٹھہرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:ارے!، میں آذربیجان میں چار یا دو ماہ تک ٹھہرا رہا، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} تلاوت کی یعنی: یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔ حتیٰ کہ آیت سے فارغ ہوگئے۔
Takhreej
(۲۳۷۴) تخریـج: …اسنادہ حسن (انظر: ۵۵۵۲)
2374
Sahih
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
۔ (۲۳۷۵) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ اِلَیْہِ فَتًی مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَہُ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَجَائَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِی عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوْہُ أَوْ کَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَحَجَجْتُ مَعَہُ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، وَشَہِدْتُ مَعَہُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَکَّۃَ ثَمَانَ عَشْرَۃَ لَا یُصَلِّی اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَیَقُوْلُ لِأَھْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَاِنَّا سَفْرٌ، وَاعْتَمْرَتُ مَعَہُ ثَـلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ یُصَلِّ اِلَّا رَکْعَتَیْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَجَّاتٍ فَلَمْ یُصَلِّیَا اِلَّا رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۲)
ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۷۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف من اجل علی بن زید بن جدعان، ولبعض الحدیث شواھد، ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۵۰، وابن خزیمۃ: ۱۶۴۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ (۵۱۵)، وأخرجہ مختصرا ابوداود:۱۲۲۹ (انظر: ۱۹۸۶۵، ۱۹۸۷۱)
2375
Zaeef
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
۔ (۲۳۷۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہٍ وَفِیْہِ) مَا سَافَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَفَراً اِلَّا صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی یَرْجِعَ، وَاِنَّہُ أَقَامَ بِمَکَّۃَ زَمَانَ الْفَتْحِ ثَمَانِیَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً یُصَلِّی بِالنَّاسِ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ أَبِی وَحَدَّثَنَاہُ یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِھٰذَا الْاِسْنَادِ وَزَادَ فِیْہِ اِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((یَا أَھْلَ مَکَّۃَ قُوْمُوْا فَصَلُّوا رَکْعَتَیْنِ أُخْرَیَیْنِ فَاِنَّا سَفْرٌ۔)) ثُمَّ غَزَا حُنَیْنًا وَالطَّائِفَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی جِعْرَانَۃَ فَاعْتَمَرَ مِنْہَا فِی ذِی الْقَعْدَۃِ، ثُمَّ غَزَوْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَحَجَجْتُ وَاعْتَمَرْتُ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، وَمَعَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ، قَالَ یُوْنُسُ اِلَّا الْمَغْرِبَ، وَمَعَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَدْرَ اِمَارَتِہٖ، قَالَ یُوْنُسُ: رَکْعَتَیْنِ اِلَّا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ اِنَّ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۲۰۱۰۵)
(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوسفر بھی کیا، اس میں واپس آنے تک دو دو رکعت ہی نماز ادا کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور لوگوں کو دو دو رکعت ہی پڑھائیں ، ما سوائے مغرب کے۔ پھر آپ (مقیم لوگوں کو) فرماتے تھے: اے اہل مکہ! کھڑے ہو جاؤ اور مزید دو رکعتیں بھی پڑھو، کیونکہ ہم مسافر ہیں ۔پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں دو دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جعرانہ کی طرف لوٹے، وہاں سے ذو القعدہ کے مہینے میں عمرہ بھی کیا، (ان سفروں میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قصر نماز ہی پڑھتے رہے) پھر میں نے سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جہاد، حج اور عمرہ ادا کیا، وہ بھی نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، (اس کے بعد میں یہی کام) سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بھی کیے، وہ بھی دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی خلافت کے شروع میں تو اسی طرح (قصر نماز) پڑھتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔
Takhreej
(۲۳۷۶) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2376
Zaeef
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
۔ (۲۳۷۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ عُثْمَانَ ابْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی بِمِنًی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فَأَنْکَرَہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ اِنِّی تَأَھَّلْتُ بِمَکَّۃَ مُنْذُ قَدِمْتُ وَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَأَھَّلَ فِی بَلَدٍ فَلْیُصَلِّ صَلَاۃَ الْمُقِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۳)
عبد الرحمن بن ابی ذباب کہتے ہیں کہ سیّدناعثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، جب لوگوں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا تو انھوں نے کہا: لوگوں میں نے مکہ آتے ہی شادی کر لی تھی اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کسی شہر میں شادی کرلے تو وہ وہاں مقیم والی نماز پڑھے۔
Takhreej
(۲۳۷۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، عکرمۃ بن ابراہیم الباھلی، قال أبوزرعۃ العراقی: لا أعرف حالہ، وعبد الرحمن بن أبی ذباب لایعرف أخرجہ الحمیدی: ۳۶ (انظر: ۴۴۳)
2377
Zaeef

Chapters

12
01
سفر کی فضیلت ،اس پر آمادہ کرنے اور اس کے بعض آداب کا بیان
7 Hadith
02
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
7 Hadith
03
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
5 Hadith
04
سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان
12 Hadith
05
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
9 Hadith
06
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
7 Hadith
07
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
08
عورتوں کے سفر کرنے،ان کے ساتھ نرمی کرنے، سفر کے لیے ان کے درمیان قرعہ اندازی کرنے اور محرم کے بغیر ان کا سفر نہ کرنے کا بیان
9 Hadith
09
سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
12 Hadith
10
قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
14 Hadith
11
قصر نماز کی مدت، مسافر کب پوری نماز ادا کرے گا اور اقامت کی نیت نہ کرنے والے کا حکم، ان سب امور کا بیان
6 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو کسی شہر میںآتا ہے اور وہاں پر شادی کرلیتا ہے یا اس کی بیوی اس شہر کی رہنے والی ہے توجب وہ وہاں آئے تونماز پوری پڑھے گا
1 Hadith
No chapter matched that.