سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان - Book 40 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 40 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 93 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
یحی بن یزید ہنائی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ میں کوفہ کی طرف جاتا ہوں اور واپس لوٹنے تک دو دو رکعت نماز پڑھتا ہوں۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت تک نکلتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے، امام شعبہ کو شک ہوا ہے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم چالیس انصاری لوگوں کو شام میں عبد الملک کے پاس بھیجا گیا، تاکہ وہ ہمارے لیے کچھ مقرر کرے۔ جب وہ (انس رضی اللہ عنہ ) لوٹے اور ہم فَجُّ النَّاقَۃِ مقام تک پہنچے ، تو انھوں نے ہمیں عصر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیرکر اپنے خیمے میں چلے گئے۔لیکن ہوا یوں کہ وہ (مقتدی) کھڑے ہو گئے اور ان دو رکعتوں کے ساتھ مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے، اس پر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان چہروں کا برا کرے، اللہ کی قسم! انہوں نے سنت کو نہیں پایا اور نہ رخصت کو قبول کیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک کچھ قومیں دین میں مبالغہ اور تشدد کی حد تک گھسیں گی، لیکن پھر دین سے یوں نکل جائیںگی، جیسے شکار سے تیر نکل جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۳۶۶) تخریـج:… اسنادہ قوی۔ أخرجہ سعید بن منصور فی ’’سننہ‘‘: ۲۹۰۵، والضیائ: ۱۸۹۴ وابن عساکر فی ’’تاریخ دمشق‘‘: ۵/ ورقۃ ۱۸۰، وأخرج القسم المر فوع منہ البزار: ۱۸۵۳ (انظر: ۱۲۶۱۵)
یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوںنے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوںنے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔
سیّدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے منی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے ابتدائی دور میں دو دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہاں سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ پوری پڑھا کرتے تھے۔
سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابطح مقام پر عصر کی یا ظہر وعصر دونوں کی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔
عباد کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ میں آئے، انھوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر دار الندوہ میں چلے گئے۔ جب سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ منی اور عرفات میں جاتے تو قصر نماز پڑھتے، پھر جب حج سے فارغ ہو جاتے اور منی میں اقامت اختیار کرتے تو پوری نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چلے جاتے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کے پاس گئے اور کہا: تو نے اپنے چچازاد (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ) پر قبیح ترین عیب لگایا ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا؟ ان دونوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: تم ہلاک ہو جائے، جو عمل میں نے کیا ہے، کیا اس کی کوئی اور صورت بھی ہے؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہی نماز پڑھی ہے۔ لیکن ان دونوں نے پھر کہا: تیرے چچازاد نے تو پوری پڑھی ہے اور یہ ان پر عیب ہے کہ تو ان کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے لیے آئے تو چار رکعتیں پڑھائیں۔
سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سفر کیا اور (اس کے دوران مکہ میں) انیس دن قیام کیا، اور دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی سفر میں انیس دن ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعتیں پڑھتے ہیں، لیکن جب اس سے زیادہ دنوں تک ٹھہرتے ہیں تو چار چار رکعتیں ادا کرتے ہیں۔
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور اس دوران قصر نماز پڑھتے رہے۔
ثمامہ بن شراحیل کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا:مسافر کی نماز کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے کہا: دو دو رکعتیں ہے، سوائے نماز مغرب کے، وہ تین رکعت ہے۔ میں نے کہا:آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم ذی المجاز میں ہوںتو؟ انھوںنے کہا: ذوالمجاز کیا ہے؟ میں نے کہا:وہ ایک جگہ کا نام ہے، ہم اس میں جمع ہوتے ہیں اورخرید و فروخت کرتے ہیں اور وہاںپندرہ یا بیس راتیں ٹھہرتے ہیں۔ انہوں نے کہا:ارے!، میں آذربیجان میں چار یا دو ماہ تک ٹھہرا رہا، میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی دو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ پھر سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} تلاوت کی یعنی: یقینا تمہارے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے۔ حتیٰ کہ آیت سے فارغ ہوگئے۔
ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔
Takhreej
(۲۳۷۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف من اجل علی بن زید بن جدعان، ولبعض الحدیث شواھد، ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۴۵۰، وابن خزیمۃ: ۱۶۴۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۸/ (۵۱۵)، وأخرجہ مختصرا ابوداود:۱۲۲۹ (انظر: ۱۹۸۶۵، ۱۹۸۷۱)
(دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوسفر بھی کیا، اس میں واپس آنے تک دو دو رکعت ہی نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں اٹھارہ راتیں قیام کیا اور لوگوں کو دو دو رکعت ہی پڑھائیں ، ما سوائے مغرب کے۔ پھر آپ (مقیم لوگوں کو) فرماتے تھے: اے اہل مکہ! کھڑے ہو جاؤ اور مزید دو رکعتیں بھی پڑھو، کیونکہ ہم مسافر ہیں ۔پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف میں دو دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جعرانہ کی طرف لوٹے، وہاں سے ذو القعدہ کے مہینے میں عمرہ بھی کیا، (ان سفروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قصر نماز ہی پڑھتے رہے) پھر میں نے سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد، حج اور عمرہ ادا کیا، وہ بھی نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، (اس کے بعد میں یہی کام) سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کیے، وہ بھی دو دو رکعت ہی پڑھتے تھے، پھر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے شروع میں تو اسی طرح (قصر نماز) پڑھتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اس کے بعد چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔
عبد الرحمن بن ابی ذباب کہتے ہیں کہ سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، جب لوگوں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا تو انھوں نے کہا: لوگوں میں نے مکہ آتے ہی شادی کر لی تھی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کسی شہر میں شادی کرلے تو وہ وہاں مقیم والی نماز پڑھے۔
Takhreej
(۲۳۷۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، عکرمۃ بن ابراہیم الباھلی، قال أبوزرعۃ العراقی: لا أعرف حالہ، وعبد الرحمن بن أبی ذباب لایعرف أخرجہ الحمیدی: ۳۶ (انظر: ۴۴۳)