TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3564 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 6 in this chapter
صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان
۔ (۳۵۶۴) حدثنا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ اَنَا اَیُوْبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَقَۃَ رَمَضَانَ عَلَی الذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوْکِ صَاعَ تَمْرٍ اَوْ صَاعَ شَعِیْرٍ۔ قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِہِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ۔ قَالَ اَیُّوْبُ: وَقَالَ نَافِعٌ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُعْطِی التَّمْرَ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا اَعْوَزَ التَّمْرُ، فَاَعْطٰی الشَّعِیْرَ۔ (مسند احمد: ۴۴۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔
3564
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۵۶۴) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۵۱۱، ومسلم: ۹۸۴(انظر: ۴۴۸۶)

Related Chapters

475
1
(70) CHAPTER. Obligation of Sadaqat-ul-Fitr.
صدقہ فطر کا فرض ہونا
Sahih Bukhari
2
(71) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is compulsory on the free or the slave Muslims.
صدقہ فطر کا مسلمانوں پر یہاں تک کہ غلام لونڈی پر بھی فرض ہونا
Sahih Bukhari
3
باب: رمضان کی زکاۃ (یعنی صدقہ فطر) کی فرضیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
باب: غلام اور لونڈی پر صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
باب: چھوٹے بچے پر صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
باب: صدقہ فطر کافر ذمی پر فرض نہ ہونے اور مسلمانوں پر فرض ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
باب: صدقہ فطر کتنا فرض ہے؟
Sunnan Nisai
8
باب: زکاۃ کی فرضیت کے اترنے سے پہلے صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Sadaqat al-Fitr
باب: صدقہ فطر کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About: It Is To Be Paid Before The Salat
باب: نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
13
صَدَقَة الْفطر
صدقہ فطر کا بیان
Mishkat
14
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
Musnad Ahmad
15
عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان
Musnad Ahmad
16
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
Musnad Ahmad
17
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
18
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
Musnad Ahmad
19
صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
20
شوہر اور رشتہ داروں پر صدقہ کرنے اور ان کو دوسروں پر مقدم کرنے اور مستحق لوگوں کے مراتب کا بیان
Musnad Ahmad
21
نیک لوگوں کو صدقہ دینے کے مستحبّ ہونے اور بے عمل لوگوں کو دینے کے مکروہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
22
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
23
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
24
فصل: حکمرانوں کو اس بات سے ڈرانا کہ وہ برے لوگوں کو اپنے خاص مشیر بنائیں اور اس امر کا بیان کہ حکمرانوں کے لیے اللہ کے اموال کس قد ر حلال ہیں
Musnad Ahmad
25
(17) CHAPTER. Whoever ordered his servant to give something in charity and did not give it himself.
اس کے بارے میں کہ جس نے اپنے خدمت گار کو صدقہ دینے کا حکم دیا اور خود اپنے ہاتھ سے نہیں دیا
Sahih Bukhari
26
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
27
(72) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of barley.
صدقہ فطر میں اگر جو دے تو ایک صاع ادا کرے
Sahih Bukhari
28
(73) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of meal (per head).
گیہوں یا دوسرا اناج بھی صدقہ فطر میں ایک صاع ہونا چاہیے
Sahih Bukhari
29
(74) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is one Sa of dates (per head).
صدقہ فطر میں کھجور بھی ایک صاع نکالی جائے
Sahih Bukhari
30
(75) CHAPTER. (Sadaqat-ul-Fitr is) one Sa of raisins (dried grapes) (per head).
صدقہ فطر میں منقیٰ بھی ایک صاع دینا چاہیے
Sahih Bukhari
31
(76) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is to be given before the Eid prayers.
صدقہ فطر نمازعید سے پہلے ادا کرنا
Sahih Bukhari
32
(77) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr (is compulsory) on a slave as well as on a free Muslim.
صدقہ فطر آزاد اور غلام پر واجب ہونا
Sahih Bukhari
33
(78) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr is obligatory on the young and the old.
صدقہ فطر بڑوں اور چھوٹوں پر واجب ہے
Sahih Bukhari
34
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “This is for him whose family is not present at the Al- Masjid-al-Haram (i.e. non-resident of Makkah). (V. 2:196)
اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا تمتع یا قربانی کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجدالحرام کے پاس نہ رہتے ہوں۔
Sahih Bukhari
35
(37) CHAPTER. If somebody gives another person a horse (as a gift) then the rule is the same as that concerning the Umra or Sadaqa (i.e., the giver has no right to claim restitution).
جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے ( کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ) لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
36
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
Sahih Bukhari
37
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
Sahih Muslim
38
Chapter: Zakat Al-Fitr is due from the muslims in the form of dates and barley
مسلمان کھجور اورجو سے صدقہ فطر (فطرانہ)ادا کرسکتے ہیں
Sahih Muslim
39
Chapter: The command to pay Zakat Al-Fitr before the prayer
فطرانہ نماز عید سے پہلے نکالنے کا حکم
Sahih Muslim
40
Chapter: Each land has its own sighting of the moon, and if they see the crescent in one land, that does not necessarily apply to regions that are far away from it
ہر علاقے کے لوگوں کے لیے اپنی رؤیت (معتبر )ہے اوراگر ایک علاقے کے لوگ چاند دیکھ لیں تو ان سے دو روالوں کے لیے اس کا حکم (کہ روزوں کا آغازہو گیا )ثابت نہیں ہو گا
Sahih Muslim
41
Chapter: The Meaning Of Every Child Is Born In A State Of Fitrah And The Ruling On The Dead Children Of The Disbelievers And Of The Muslims.
(فرمان نبوی: ) ہر بچہ پیدا ہونے والے بچے کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کا حکم؟
Sahih Muslim
42
CHAPTER: Zakat For The Closing Of Fast At The End Of Ramadan.
باب: صدقہ فطر کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: When Sadaqah At The End Of Ramdan Is To Be Given.
باب: صدقہ فطر کب دیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: How Much Sadaqah Should Be Given At The End Of Ramadan.
باب: صدقہ فطر کتنا دیا جائے ؟
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: The View That Half A Sa’ Of Wheat Is To Be Given As Sadaqah.
باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: The One Who Vows To Give His Wealth In Charity.
باب: جو اپنا سارا مال صدقہ میں دے دینے کی نذر مانے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: One Who Is Killed In A Fight Among People And His Killer Is Not Known.
باب: لوگوں کے درمیان ان دیکھے تیر سے مارے گئے شخص کا کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
48
لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
49
Chapter: Sadaqat al-Fitr
صدقہ فطر کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
50
عیدین کے خطبے میں امام لوگوں کو صدقہ کرنے پر ابھارے۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
48
۔ (۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ثَنَا یُوْنُسُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَۃِ فَجَلَسْتُ إِلٰی شَیْخٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوْہُ وَلَا تُؤَنِّبُوْہُ دَعُوْہُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاکَ مِنْ مُعَاذٍ یَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ إِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِہِمْ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ہٰذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۸)
ہصان بن کاہل کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: …، پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے: انھوں نے کہا: اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو ہاں میں نے سیدنا معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نقل کر رہے تھے میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ؓہیں۔
Musnad Ahmad
63
۔ (۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ مَا أَتَیْتُکَ حَتَّی حَلَفْتُ أَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُوْلَائِ أَنْ لَا آتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ ،وَجَمَعَ بَہْزٌ بَیْنَ کَفَّیْہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِیْ ہَذِہِ أَنْ لَاآتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ) وَإِنِّی قَدْ جِئْتُ امْرَئً ا لَا أَعْقِلُ شَیْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ، وَإِنِّی أَسْئَلُکَ بِوَجْہِ اللّٰہِ بِمَ بَعَثَکَ رَبُّنَا إِلَیْنَا؟ قَالَ: ((بِالْاِسْلَامِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا آیَۃُ الْاِسْلَامِ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَمَا الْاِسْلَامُ؟) قَالَ: ((أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ وَتَخَلَّیْتُ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَکُلُّ مُسْلِمٍ عَلٰی مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۹)
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
Musnad Ahmad
1830
۔ (۱۸۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ وَأَبُو سَعِیْدٍ قَالاَ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُوْ سَعْیِدٍ قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ، وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۴)
سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، اسی طرح جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی۔
Musnad Ahmad
3107
۔ (۳۱۰۷) حَدَّثَنَا، عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا أَیُّوْبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَاَلتْ: أَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَہُ عَلَیْہَا السَّلَامُ، فَقَالَ: ((اِغْسِلْنَہَا ثَـلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَالِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِی الْآخِرَۃِ کَافُوْرًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَاُفْوٍر، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآدِنَّنِی)) قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ، فَأَلْقٰی إِلَیْنَا حِقْوَہُ وَقَالَ: ((أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ)) قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَۃُ قَالَ: ((اِغْسِلْنَہَا وِتْرًا ثَـلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا۔)) قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِیَّۃَ: مََشَطْنَاہَا ثَـلَاثًا قُرُوْنٍ (زَادَتْ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَأَلْقَیْنَا خَلْفَہَا قَرْنَیْہَا وَنَاصِیَتَہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۷۱)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین یا پانچ دفعہ غسل دو یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زیادہ مرتبہ نہلا دو، البتہ آخری دفعہ میں کچھ کافور ملا لینا، پھر جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ پس جب ہم غسل سے فارغ ہوئیں تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ازار کا کپڑا ہمیں دیا اور فرمایا: سب سے پہلے اس کو اس چادر میں لپیٹو۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے طاق یعنی تین یا پانچ یا سات دفعہ غسل دو۔ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم نے کنگھی کرکے ان کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک روایت میں ہیں: ہم نے ان کے سامنے والے اور جانبین کے بالوں کو پیچھے کر دیا تھا۔
Musnad Ahmad
3792
۔ (۳۷۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ اَنْبَاَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ قَالَ: بَنٰییَعْلَی بْنُ مُنَبِّہٍ فِی رَمَضَانَ فَاَصْبَحَ ہُوَ جُنُبٌ، فَلَقِیَ اَبَا ہُرَیْرَۃَ فَسَاَلَہُ فَقَالَ: اَفْطِرْ، قَالَ: اَفَلَا اَصُوْمُ ہٰذَا الْیَوْمَ وَاُجْزِئُہُ مِنْ یَوْمٍ آخَرَ، قَالَ: اَفْطِرْ، فَاَتٰی مَرْوَانَ فَحَدَّثَہُ فَاَرْسَلَ اَبَا بَکْرٍ بْنَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ إِلٰی اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَاَلَہَا فَقَالَتْ: قَدْ کَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصْبِحُ فِینَا جُنُبًا مِنْ غَیْرِ احْتِلامٍ، ثُمَّ یُصْبِحُ صَائِمًا فَرَجَعَ إِلٰی مَرْوَانَ فَحَدَّثَہُ فَقَالَ: الْقَ بِہَا اَبَا ہُرَیْرَۃَ! فَقَالَ: جَارٌ جَارٌ، فَقَالَ: اَعْزِمُ عَلَیْکَ، لِتَلْقَ بِہِ، فَلَقِیَہُ فَحَدَّثَہُ فَقَالَ: إِنِّی لَمْ اَسْمَعَہُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّمَا اَنْبَاَنِیْہِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَالِکَ لَقِیْتُ رَجَائً فَقُلْتُ: حَدِیْثُیَعْلٰی مَنْ حَدَّثَکَہُ،فَقَالَ: إِیّایَ حَدَّثَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۶)
۔ رجاء بن حیوہ کہتے ہیں کہ یعلیٰ بن منبہ نے رمضان میں شادی کی، اس طرح اس کی جناب والی حالت میں ہی صبح ہو گئی، پس وہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملے اور ان سے یہ سوال کیا، انہوں نے جواباً کہا: روزہ افطار کردو۔ یعلیٰ نے کہا: کیا اس طرح نہ ہو جائے کہ میں آج کا روزہ بھی مکمل کر لوں اور اس کے عوض ایک اور روزہ بھی رکھ لوں۔ انہوں نے کہا: افطار کر کر دے۔ یعلی، مروان کے پاس پہنچ گیا اور یہ واقعہ ذکر کیا، مروان نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بھیجا، پس انھوں نے سیدہ سے سوال کیا اور انہوں نے یہ جواب دیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا روزہ بھی ہوتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ جنابت احتلام کی وجہ سے نہیں ہوتی تھی، ابوبکر بن عبدالرحمن نے واپس جا کر مروان کو یہ حدیث بیان کی۔ اس نے کہا: جا کر یہ بات سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتاؤ۔ ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا:: وہ تو میرے ہمسائے ہیں، میرے ہمسائے ہیں(اس لیے میں ان کو یہ بات نہیں بتلا سکوں گا)۔ لیکن مروان نے کہا: میں تمہیں حتمی حکم دیتا ہوں کہ جا کر ان کو ملو اور (انہیںیہ حدیث بیان کرو)، پس وہ گیا اور ان سے جا ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کر دی، سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میںنے خود تو یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنی تھی، البتہ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلائی تھی۔ابن عوف کہتے ہیں: اس کے بعد جب میری ملاقات رجاء سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ سے یعلیٰ والی حدیث کس نے بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا: خود یعلی نے مجھے بیان کی تھی۔
Musnad Ahmad
4526
۔ (۴۵۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَوْ مَعْمَرٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ: ثَنَا ابْنُ عُیَنْیَۃَ عَنْ ھِشَامِ بْنِ حُجَیْرٍ عَنْ طَاؤُوْسٍ قَالَ: قَالَ مُعَاوِیَۃُ لِابْنِ عَبَّاسٍ (وَفِیْ لَفْظٍ عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِی مُعَاوِیَۃُ:) أَمَا عَلِمْتَ أَنِّی قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِشْقَصٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ فِی حَدِیْثِہِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَھٰذِہِ حُجَّۃٌ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۱۱)
۔ طاوس کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے ایک چوڑے پھل سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے بال تراشے تھے؟ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی نہیں، پھر انھوں نے کہا: یہ بات سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر حجت ہے ۔
Musnad Ahmad
3560
۔ (۳۵۶۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَقَۃَ الْفِطْرِ عَلَی الصَّغِیْرِ وَالْکَبِیْرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوْکِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْ شَعِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۵۱۷۴)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
Musnad Ahmad
4585
۔ (۴۵۸۵)۔ عن عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَہٗ۔ قَالَ: حَدَّثَنِي (الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرِو نِالأَ نْصَارِيُّ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ وَ عَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرٰی)) قَالَ : فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ، فَقَالَا: صَدَقَ۔ قَالَ إِسْمَاعِیْلُ : فَحَدَّثْتُ بِذَاکَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ، فَقَالا : صَدَقَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۲۳)
۔ سیدنا حجاج بن عمرو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو جائے گا، لیکن اگلے سال اس پر دوسرا حج ہو گا۔ عکرمہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ f کو بتائی تو انھوں نے کہا: جی اس نے سچ کہا ہے۔
Musnad Ahmad
4633
۔ (۴۶۳۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ بِثَمَانِيْ عَشْرَۃَ بَدَنَۃَ مَعَ رَجُلٍ، فَأَمَّرَہُ فِیْھَا بِأَمْرِہِ، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَیْنَا مِنْھَا شَيْئٌ؟ فَقَالَ: ((اِنْحَرْھَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا، ثُمَّ اجْعَلْھَا عَلٰی صَفْحَتِھَا وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ رُفْقَتِکَ۔)) قَالَ عَبْدَ اللّٰہ: قَالَ أَبِيْ: وَلَمْ یَسْمَعْ إِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ مِنْ أَبِي التَّیَّاحِ إِلاَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہدی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ بھیجے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو اس معاملے کا امیر بنایا، پس جب وہ چل پڑا تو پھر لوٹ آیا اور اس نے کہا: جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ و نے فرمایا: اس کو ذبح کر دینا اور اس کا جوتااس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا، اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔ امام احمد نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے صرف یہ حدیث سنی ہے۔