TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4526 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 7 in this chapter
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
۔ (۴۵۲۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَوْ مَعْمَرٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ: ثَنَا ابْنُ عُیَنْیَۃَ عَنْ ھِشَامِ بْنِ حُجَیْرٍ عَنْ طَاؤُوْسٍ قَالَ: قَالَ مُعَاوِیَۃُ لِابْنِ عَبَّاسٍ (وَفِیْ لَفْظٍ عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِی مُعَاوِیَۃُ:) أَمَا عَلِمْتَ أَنِّی قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِشْقَصٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ فِی حَدِیْثِہِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَھٰذِہِ حُجَّۃٌ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۱۱)
۔ طاوس کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے ایک چوڑے پھل سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر کے بال تراشے تھے؟ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی نہیں، پھر انھوں نے کہا: یہ بات سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر حجت ہے ۔
4526
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۵۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۳۰، ومسلم: ۱۲۴۶ (انظر: ۱۶۸۸۷)

Related Chapters

1,001
1
Chapter: To Avoid Removing One's Hair For Those Who Want To Offer Sacrifice
باب: جو قربانی کرنا چاہتا ہو وہ بال نہ کاٹے
Jam e Tirmazi
2
Chapter: It is recommended to pray Subh when it is still dark on the day of sacrifice in Al-Muzdalifah, and to do it very early after ascertaining that dawn has broken
قربانی کے دن مزدلفہ میں صبح کی نماز خوب اندھیرے میں پڑھنا اور طلوع فجر کا یقین ہونے کے بعد اس (کی جلدی )میں مبالغہ کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
3
Chapter: It is permissible to offer the sacrifice before stoning the Jamrah, or to shave before offering the sacrifice or stoning the Jamrah, or to perform Tawaf before any of them
قربانی کو رمی سے ‘اور بال منڈوانے کو قربانی اور رمی (دونوں )سے مقدم کرنا اور ان سب سے پہلے طواف افاضہ کرنا جائز ہے
Sahih Muslim
4
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
Musnad Ahmad
5
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
Musnad Ahmad
6
خصی جانور کی قربانی کرنا
Musnad Ahmad
7
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
8
میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
9
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
Musnad Ahmad
10
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
11
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
Musnad Ahmad
12
(33) CHAPTER. What is said regarding the water with which human hair has been washed.
جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
13
(15) CHAPTER. To rub the hair thoroughly (while taking a bath) till one feels that one has made his skin wet (underneath the hair) and then one pours water over it.
بالوں کا خلال کرنا اور جب یقین ہو جائے کہ کھال تر ہو گئی تو اس پر پانی بہا دینا ( جائز ہے )
Sahih Bukhari
14
(108) CHAPTER. The marking of the Budn (camels for sacrifice).
قربانی کے جانور کا اشعار کرنا
Sahih Bukhari
15
(115) CHAPTER. To slaughter cows (as sacrifices) on behalf of one's wives without being ordered by them.
کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا
Sahih Bukhari
16
(127) CHAPTER. To shave the head and (or) to have the head-hair cut short on finishing the Ihram.
احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا
Sahih Bukhari
17
(7) CHAPTER. The performance of Umra after performing Hajj without having a Hady.
حج کے بعد عمرہ کرنا اور قربانی نہ دینا
Sahih Bukhari
18
(13) CHAPTER. Reception of the returning pilgrims; and the riding of three persons on one animal.
مکہ آنے والے حاجیوں کا استقبال کرنا اور تین آدمیوں کا ایک سواری پر چڑھنا
Sahih Bukhari
19
(3) CHAPTER. The slaughtering (of Hady) before shaving the head (in case) one is prevented from performing (Hajj or Umra).
رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا
Sahih Bukhari
20
(17) CHAPTER. What is hated of exaggeration in praising, and one should say only what he knows.
کسی کی تعریف میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے جو جانتا ہو بس وہی کہے
Sahih Bukhari
21
(195) CHAPTER. (It is permissible for a man) to look in (or search) the hair of the Dhimmi women (i.e., non-Muslims living under the protection of Muslims) and that of the lady-believers if they disobey Allah, and to compel them to take off their clothes if there is necessity.
ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں
Sahih Bukhari
22
(2) CHAPTER. To remove what harms the boy, by offering Al-Aqiqa.
عقیقہ کے دن بچہ کے بال مونڈنا ( یا ختنہ کرنا )
Sahih Bukhari
23
(1) CHAPTER. The legal way of Al-Udhiya.
قربانی کرنا سنت ہے اور حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے کہا کہ یہ سنت ہے اور یہ امرمشہور ہے ۔
Sahih Bukhari
24
(2) CHAPTER. The distribution of the animals (for sacrifice by Imam) among the people.
امام کا قربانی کے جانور لوگوں میں تقسیم کرنا ۔
Sahih Bukhari
25
(4) CHAPTER. Meat is desired on the day of Nahr.
قربانی کے دن گوشت کی خواہش کرنا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
26
(11) CHAPTER. To slaughter the sacrifice after the (Eid) Salat (prayer).
قربانی کا جانور نماز عیدالاضحی کے بعد ذبح کرنا چاہیئے ۔
Sahih Bukhari
27
(77) CHAPTER. To start combing the hair from the right side.
بالوں میں کنگھا کرنا
Sahih Bukhari
28
(54) CHAPTER. What is disliked of praising a person.
تعریف میں مبالغہ کرنا منع ، مکروہ ہے
Sahih Bukhari
29
(51) CHAPTER. Circumcision at an old age, and pulling out one's armpit hair.
بوڑھا ہونے پر ختنہ کرنا اور بغل کے بال نوچنا
Sahih Bukhari
30
(46) CHAPTER. The Baia (pledge) of a child.
نابالغ لڑکے کا بیعت کرنا
Sahih Bukhari
31
Chapter: It is permissible for the pilgrim performing Umrah to shorten his hair and he does not have to shave it. It is recommended for him to shave his hair or shorten it at Al-Marwah
عمرہ کرنے والا(احرام کھولتے وقت )اپنے بال کٹوا سکتا ہے ‘اس کے لیے سر منڈوانا واجب نہیں‘اور مستحب یہ ہے کہ منڈوانا یا کٹوانا مروہ کےپاس ہو
Sahih Muslim
32
Chapter: It is recommended to perform Tawaf Al-Ifadah on the day of sacrifice
قربانی کے دن طواف افاضہ کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
33
Chapter: It is recommended to select a good animal for the sacrifice and to slaughter it oneself, not delegating it to anyone else, and to say the name of Allah, and to say the Takbir
اچھی قربانی کرنا کسی کو وکیل بنا ئے بغیر خود ذبح کرنا مستحب ہے اور بسم اللہ اور تکبیر پڑھنا
Sahih Muslim
34
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
Sahih Muslim
35
Chapter: Humility In Dress And Sticking To Coarse And Simple Clothes, Furnishings Etc., Permissibility Of Wearing Clothes Made From Camel Hair And Those On Which There Are Markings
لباس پہننے میں انکسار روا رکھنا موٹے اور باسہولت کپڑے پہننا اور بچھونے وغیرہ کے لیے استعمال کرنا ،نیز بالوں کے بنے ہو ئے (اونی ) اور منقش کپڑے پہننے کا جواز
Sahih Muslim
36
CHAPTER: Regarding Reception.
باب: مسافر کا استقبال کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: A Man Cipping His Hair During The (First) Ten Days Of (Dhul-Hijjah), While He Intends To Sacrifice
باب: قربانی کا ارادہ کرنے والا ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں بال نہ کاٹے ۔
Sunnan Abu Dawood
38
قربانی کا ارادہ رکھنے والا شخص ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
Sunnan Ibn e Maja
39
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Imam Descends From The Minbar
باب: منبر سے اترنے کے بعد امام کا بات چیت کرنا جائز ہے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About How Long The Prayer Is Shortened
باب: کتنے دنوں تک قصر کرنا درست ہے؟
Jam e Tirmazi
42
Chapter: (Mentioning) What Is Allowed From Walking And Actions During Voluntary Salat
باب: نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Stoning On The Day Of An-Nahr During Duha (The Morning Light)
باب: قربانی کے دن چاشت کے وقت رمی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Sharing In Badanah (Sacrificial Camels) and Cows
باب: قربانی میں اونٹ یا گائے میں شرکت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: (Purchasing the Hadi)
باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About One Who Shaved Before He Slaughtered, Or Offered The Sacrifice Before He Stoned
باب: ذبح کرنے سے پہلے سر مونڈا لینے یا رمی جمرات سے پہلے قربانی کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Selling Over The Sale Of One's Brother
باب: اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرنا منع ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

12
Musnad Ahmad
48
۔ (۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ثَنَا یُوْنُسُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَۃِ فَجَلَسْتُ إِلٰی شَیْخٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوْہُ وَلَا تُؤَنِّبُوْہُ دَعُوْہُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاکَ مِنْ مُعَاذٍ یَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ إِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِہِمْ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ہٰذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۸)
ہصان بن کاہل کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: …، پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے: انھوں نے کہا: اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو ہاں میں نے سیدنا معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نقل کر رہے تھے میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ؓہیں۔
Musnad Ahmad
63
۔ (۶۳)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ؓ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ مَا أَتَیْتُکَ حَتَّی حَلَفْتُ أَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ أُوْلَائِ أَنْ لَا آتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ ،وَجَمَعَ بَہْزٌ بَیْنَ کَفَّیْہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی حَلَفْتُ عَدَدَ أَصَابِعِیْ ہَذِہِ أَنْ لَاآتِیَکَ وَلَا آتِیَ دِیْنَکَ) وَإِنِّی قَدْ جِئْتُ امْرَئً ا لَا أَعْقِلُ شَیْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ، وَإِنِّی أَسْئَلُکَ بِوَجْہِ اللّٰہِ بِمَ بَعَثَکَ رَبُّنَا إِلَیْنَا؟ قَالَ: ((بِالْاِسْلَامِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا آیَۃُ الْاِسْلَامِ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَمَا الْاِسْلَامُ؟) قَالَ: ((أَنْ تَقُوْلَ أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ وَتَخَلَّیْتُ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَ تُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَکُلُّ مُسْلِمٍ عَلٰی مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۹۹)
سیدنا معاویہ بن حیدہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کے پاس آنے سے پہلے اِن سے زیادہ قسمیں اٹھائیں تھیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے۔ بہز راوی نے دونوں ہتھیلیوں کو جمع کر کے اشارہ کیا۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ میں نے ان اپنی انگلیوں کی تعداد جتنی قسمیں اٹھائیں کہ نہ میں نے آپ کے پاس آنا ہے اور نہ آپ کا دین اختیار کرنا ہے، بہرحال اب میں آپ کے پاس آ گیا ہوں، جبکہ میں ایسا شخص ہوں کہ جسے کسی چیز کوئی سمجھ نہیں ہے، الا یہ کہ وہ امور جو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مجھے سمجھا دیں گے، اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمارے ربّ نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ مبعوث کیاہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کی نشانی کیا ہے، اسلام کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرا یہ کہنا کہ میں نے اپنا چہرہ (اللہ کے لیے) مطیع کر دیا ہے اور میں (شرکیہ دین سے) باز آ گیا ہوں، پھر تو نماز قائم کرے، زکاۃ ادا کرے اور ہر مسلمان، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔
Musnad Ahmad
1830
۔ (۱۸۳۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَھْدِیٍّ وَأَبُو سَعِیْدٍ قَالاَ ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إسْمَاعِیْلَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُوْ سَعْیِدٍ قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ، وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۴)
سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ دائیں طرف سلام پھیرتے تو آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آجاتی، اسی طرح جب بائیں طرف سلام پھیرتے تو رخسار کی سفیدی نظر آ جاتی۔
Musnad Ahmad
3107
۔ (۳۱۰۷) حَدَّثَنَا، عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیْلُ أَنَا أَیُّوْبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَاَلتْ: أَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَہُ عَلَیْہَا السَّلَامُ، فَقَالَ: ((اِغْسِلْنَہَا ثَـلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ إِنْ رَأَیْتُنَّ ذَالِکَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِی الْآخِرَۃِ کَافُوْرًا أَوْ شَیْئًا مِنْ کَاُفْوٍر، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآدِنَّنِی)) قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاہُ، فَأَلْقٰی إِلَیْنَا حِقْوَہُ وَقَالَ: ((أَشْعِرْنَہَا إِیَّاہُ)) قَالَ: وَقَالَتْ حَفْصَۃُ قَالَ: ((اِغْسِلْنَہَا وِتْرًا ثَـلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا۔)) قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِیَّۃَ: مََشَطْنَاہَا ثَـلَاثًا قُرُوْنٍ (زَادَتْ فِیْ رِوَایَۃٍ) وَأَلْقَیْنَا خَلْفَہَا قَرْنَیْہَا وَنَاصِیَتَہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۷۱)
سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین یا پانچ دفعہ غسل دو یا اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زیادہ مرتبہ نہلا دو، البتہ آخری دفعہ میں کچھ کافور ملا لینا، پھر جب غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ پس جب ہم غسل سے فارغ ہوئیں تو ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ازار کا کپڑا ہمیں دیا اور فرمایا: سب سے پہلے اس کو اس چادر میں لپیٹو۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے طاق یعنی تین یا پانچ یا سات دفعہ غسل دو۔ سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم نے کنگھی کرکے ان کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک روایت میں ہیں: ہم نے ان کے سامنے والے اور جانبین کے بالوں کو پیچھے کر دیا تھا۔
Musnad Ahmad
3564
۔ (۳۵۶۴) حدثنا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ اَنَا اَیُوْبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَقَۃَ رَمَضَانَ عَلَی الذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوْکِ صَاعَ تَمْرٍ اَوْ صَاعَ شَعِیْرٍ۔ قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِہِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ۔ قَالَ اَیُّوْبُ: وَقَالَ نَافِعٌ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُعْطِی التَّمْرَ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا اَعْوَزَ التَّمْرُ، فَاَعْطٰی الشَّعِیْرَ۔ (مسند احمد: ۴۴۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔
Musnad Ahmad
3792
۔ (۳۷۹۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ اَنْبَاَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ قَالَ: بَنٰییَعْلَی بْنُ مُنَبِّہٍ فِی رَمَضَانَ فَاَصْبَحَ ہُوَ جُنُبٌ، فَلَقِیَ اَبَا ہُرَیْرَۃَ فَسَاَلَہُ فَقَالَ: اَفْطِرْ، قَالَ: اَفَلَا اَصُوْمُ ہٰذَا الْیَوْمَ وَاُجْزِئُہُ مِنْ یَوْمٍ آخَرَ، قَالَ: اَفْطِرْ، فَاَتٰی مَرْوَانَ فَحَدَّثَہُ فَاَرْسَلَ اَبَا بَکْرٍ بْنَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ إِلٰی اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَاَلَہَا فَقَالَتْ: قَدْ کَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصْبِحُ فِینَا جُنُبًا مِنْ غَیْرِ احْتِلامٍ، ثُمَّ یُصْبِحُ صَائِمًا فَرَجَعَ إِلٰی مَرْوَانَ فَحَدَّثَہُ فَقَالَ: الْقَ بِہَا اَبَا ہُرَیْرَۃَ! فَقَالَ: جَارٌ جَارٌ، فَقَالَ: اَعْزِمُ عَلَیْکَ، لِتَلْقَ بِہِ، فَلَقِیَہُ فَحَدَّثَہُ فَقَالَ: إِنِّی لَمْ اَسْمَعَہُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّمَا اَنْبَاَنِیْہِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَالِکَ لَقِیْتُ رَجَائً فَقُلْتُ: حَدِیْثُیَعْلٰی مَنْ حَدَّثَکَہُ،فَقَالَ: إِیّایَ حَدَّثَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۲۶)
۔ رجاء بن حیوہ کہتے ہیں کہ یعلیٰ بن منبہ نے رمضان میں شادی کی، اس طرح اس کی جناب والی حالت میں ہی صبح ہو گئی، پس وہ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملے اور ان سے یہ سوال کیا، انہوں نے جواباً کہا: روزہ افطار کردو۔ یعلیٰ نے کہا: کیا اس طرح نہ ہو جائے کہ میں آج کا روزہ بھی مکمل کر لوں اور اس کے عوض ایک اور روزہ بھی رکھ لوں۔ انہوں نے کہا: افطار کر کر دے۔ یعلی، مروان کے پاس پہنچ گیا اور یہ واقعہ ذکر کیا، مروان نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بھیجا، پس انھوں نے سیدہ سے سوال کیا اور انہوں نے یہ جواب دیا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا روزہ بھی ہوتا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ جنابت احتلام کی وجہ سے نہیں ہوتی تھی، ابوبکر بن عبدالرحمن نے واپس جا کر مروان کو یہ حدیث بیان کی۔ اس نے کہا: جا کر یہ بات سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتاؤ۔ ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا:: وہ تو میرے ہمسائے ہیں، میرے ہمسائے ہیں(اس لیے میں ان کو یہ بات نہیں بتلا سکوں گا)۔ لیکن مروان نے کہا: میں تمہیں حتمی حکم دیتا ہوں کہ جا کر ان کو ملو اور (انہیںیہ حدیث بیان کرو)، پس وہ گیا اور ان سے جا ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کر دی، سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میںنے خود تو یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نہیں سنی تھی، البتہ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بتلائی تھی۔ابن عوف کہتے ہیں: اس کے بعد جب میری ملاقات رجاء سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ سے یعلیٰ والی حدیث کس نے بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا: خود یعلی نے مجھے بیان کی تھی۔
Musnad Ahmad
4201
۔ (۴۲۰۱) عَنْ غُنَیْمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ الْمُتْعَۃِ قَالَ: فَعَلْنَاہَا وَہٰذَا کَافِرٌ بِالْعُرُشِ، یَعْنِی مُعَاوِیَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۸)
۔ غنیم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے (رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ) اُس وقت تمتع کیا تھا، جب یہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
Musnad Ahmad
4585
۔ (۴۵۸۵)۔ عن عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَہٗ۔ قَالَ: حَدَّثَنِي (الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرِو نِالأَ نْصَارِيُّ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ وَ عَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرٰی)) قَالَ : فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ، فَقَالَا: صَدَقَ۔ قَالَ إِسْمَاعِیْلُ : فَحَدَّثْتُ بِذَاکَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ، فَقَالا : صَدَقَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۲۳)
۔ سیدنا حجاج بن عمرو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو جائے گا، لیکن اگلے سال اس پر دوسرا حج ہو گا۔ عکرمہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ f کو بتائی تو انھوں نے کہا: جی اس نے سچ کہا ہے۔
Musnad Ahmad
4633
۔ (۴۶۳۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ بِثَمَانِيْ عَشْرَۃَ بَدَنَۃَ مَعَ رَجُلٍ، فَأَمَّرَہُ فِیْھَا بِأَمْرِہِ، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَیْنَا مِنْھَا شَيْئٌ؟ فَقَالَ: ((اِنْحَرْھَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا، ثُمَّ اجْعَلْھَا عَلٰی صَفْحَتِھَا وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ رُفْقَتِکَ۔)) قَالَ عَبْدَ اللّٰہ: قَالَ أَبِيْ: وَلَمْ یَسْمَعْ إِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ مِنْ أَبِي التَّیَّاحِ إِلاَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہدی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ بھیجے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو اس معاملے کا امیر بنایا، پس جب وہ چل پڑا تو پھر لوٹ آیا اور اس نے کہا: جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ و نے فرمایا: اس کو ذبح کر دینا اور اس کا جوتااس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا، اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔ امام احمد نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے صرف یہ حدیث سنی ہے۔