TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں

Chapter 24 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 24 of 40 · 4 Hadith
۔ (۴۴۹۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ جِبْرِیْلَ ذَھَبَ بِإِبْرَاھِیْمَ إِلَی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ، فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَی الْجَمْرَۃَ الْوُسْطٰی، فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَی الْجَمَرَۃَ الْقُصْوٰی، فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ فَسَاخَ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاھِیْمُ أَنْ یَذْبَحَ ابْنَہُ إِسْحَاقَ، قَالَ لأَبِیْہِ: یَا أَبَتِ! أَوْثِقْفِی َلاأَضْطَرِبُ فَیَنْتَضِحَ عَلَیْکَ مِنْ دَمِی إِذَا ذَبَحْتَنِی، فَشَدَّہُ، فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَۃَ،فَأَرَادَ أَنْ یَذْبَحَہُ نُوْدِیَ مِنْ خَلْفِہِ {أَنْ یَّآ إِبْرَاھِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا}۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جبریل، ابرہیمm کو جمرۂ عقبہ کی طرف لے کر چلے،تو شیطان سامنے آگیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں،سو وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابرا ہیم علیہ السلام جمرۂ وسطی کے پاس آئے تو پھر شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو پھر سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام جمرۂ قصویٰ کے پاس گئے، وہاں بھی شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو یہاں بھی سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اباجان ! آپ مجھے باندھ دیں تاکہ جب آپ مجھے ذبح کریں تو میں نہ تڑپ سکوں اور اس طرح میرا خون آپ کے اوپر نہ پڑے، ابراہیم علیہ السلام نے اسے باندھ دیا اور جب انہوں نے چھری سنبھالی تو پیچھے سے آواز آئی: اے ابرا ہیم! ا ٓپ نے خواب کو سچ کر دکھایا۔
Takhreej
(۴۴۹۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، عطاء بن السائب اختلط (انظر: ۲۷۹۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر (۴۱۳۷) دیکھیں۔جمہور محقق اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کیا گیا تھا، نہ اسحق علیہ السلام کو، قرآن مجید کے ظاہری سیاق و سباق کا بھییہی تقاضا ہے، ہم کتاب التفسیر میں سورۂ صافات میں یہ مسئلہ وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔
4496
Zaeef
۔ (۴۴۹۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَدَاۃَ جَمْعٍ: ((ھَلُمَّ، اُلْقُطْ لِیْ۔)) فَلَقَطْتُّ لَہُ حَصَیَاتٍ، ھُنَّ حَصَی الْخَذْفِ، فَلَمَّا وَضَعَہُنَّ فِیْیَدِہِ قَالَ: ((نَعَمْ، بِأَمْثَالِ ھٰؤُلَائِ وَإِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِی الدِّیْنِ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِالْغُلُوِّ فِیْ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے مزدلفہ کی صبح کو فرمایا: ادھر آؤ، میرے لئے کنکریاں چن کر لائو۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لایا، آپ نے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: جی ہاں! بالکل اسی قسم کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں حد سے تجاوز کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے والے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔
Takhreej
(۴۴۹۷) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۲۹، والنسائی: ۵/ ۲۶۹(انظر: ۱۸۵۱)
4497
Sahih
۔ (۴۴۹۸) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْمِیْ جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِیْیَوْمَ النَّحْرِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ وَلَا یُصِبْ بَعْضُکُمْ، (وَفِیْ لَفْظٍ: لَا تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ) وَإِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَارْمُوْھَا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔)) فَرَمٰی بِسَبْعٍ وَلَمْیَقِفْ، وَخَلْفَہُ رَجُلٌ یَسْتُرُہُ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اَلْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۸۵)
۔ سلیمان بن عمرو کی ماں (سیدہ ام جندب ازدیہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دس ذوالحجہ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور فرمایا: لوگو!ایک دوسرے کو قتل کرونہ ایذا پہنچاؤ، جب تم جمرے کی رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات کنکریاں ماریں اور اس کے بعد آپ وہاں نہ رکے، ایک آدمی آپ کے پیچھے سوار تھا،جو (لوگوں کی کنکریوں سے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کر رہا تھا،میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Takhreej
(۴۴۹۸) حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۶۶، ۱۹۶۷، وابن ماجہ: ۳۰۲۸، ۳۰۳۱(انظر: ۱۶۰۸۷)
Explanation
فوائد:… جمروں کی رمی کرتے وقت ہجوم کر کے اور بڑے بڑے پتھر مار کر ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔
4498
Sahih
۔ (۴۴۹۹) عَنِ ابْنِ أَبِیْ نُجَیْحٍ قَالَ: سَأَلْتُ طَاؤُوْسًا عَنْ رَجُلٍ رَمَی الْجَمْرَۃَ بِسِتِّ حَصَیَاتٍ، فَقَالَ: لِیُطْعِمْ قَبْضَۃً مِنْ طَعَامٍ، قَالَ: فَلَقِیْتُ مُجَاھِدًا فَسَأََلْتُہُ، وَذَکَرْتُ لَہُ قَوْلَ طَاؤُوْسٍ، فَقَالَ: رَحِمَ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، أَمَا بَلَغَہُ قَوْلُ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَمَیْنَا الْجِمَارَ أَوِ الْجَمْرَۃَ فِیْ حَجَّتِنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاکَـرُ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِسِتٍّ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِسَبْعٍ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِثَمَانِ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِتِسْعٍ، فَلَمْ یَرَوْا بِذٰلِکَ بَأْسًا۔ (مسند احمد: ۱۴۳۹)
۔ ابن ابی نجیح کہتے ہیں: میں نے طائوس سے پوچھاکہ اگر کوئی آدمی جمرے کو چھ کنکریاں مارے تو اس کا کیا بنے گا؟ انھوں نے کہا: وہ ایک مٹھی کھانا صدقہ کرے۔ اس کے بعد جب میری مجاہد سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے طائوس کے فتوے کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، کیا سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ قول ان تک نہیں پہنچا، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے موقع پر ہم نے جمرات کی رمی کی، اس کے بعد ہم بیٹھے باتیں کررہے تھے، کسی نے کہا: میں نے چھ کنکریاں ماریں ہیں، کسی نے کہا: میں نے تو سات ماری ہیں ، کسی نے کہا: میں نے آٹھ ماری ہیں اور کسی نے کہا: میں نے نوماری ہیں، پھر انھوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہ کی۔
Takhreej
(۴۴۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، مجاھد لم یسمع من سعد بن ابی وقاص۔ أخرجہ النسائی: ۵/۲۷۵ (انظر: ۱۴۳۹)
Explanation
فوائد:… جمہوراہل علم کا مسلک یہ ہے کہ سات کنکریاں مارنا ہی ضروری ہے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا۔
4499
Zaeef

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.