TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان - ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of روزے دار کا وصال کرنا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 18 · 6 Hadith
۔ (۳۸۸۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْابَدَ))(مسند احمد:۶۵۲۷)
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے، اس نے حقیقت میں کوئی روزہ نہیں رکھا۔
Takhreej
(۳۸۸۰) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۷۹، ومسلم: ۱۱۵۹(انظر: ۶۵۲۷)
3880
Sahih
۔ (۳۸۸۱) عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَرَابٍ فَدَارَ عَلَی الْقَوْمِ وَفِیْہِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ، فَلَمَّا بَلَغَہُ، لَہُ: اِشْرَبْ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہٗلَیْسَ یُفْطِرُ الدَّہْرَ، فَقَالَ یََعْنِی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْاَبَدَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۲۸)
۔ سیدہ اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو لوگوں کو پلانے کے لیے پیش کیا، ان میں ایک آدمی روزے دار تھا، جب وہ مشروب اس کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: پیو۔ لیکن کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو روزہ ترک ہی نہیں کرتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔
Takhreej
(۳۸۸۱) تخر یـج: مرفوعہ صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۴۵۳ (انظر: ۲۷۵۷۶)
3881
Sahih
۔ (۳۸۸۲) عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الشِّخِّیْرِ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ یَصُوْمُ الدَّہْرَ، قَالَ: ((لَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ)) (مسند احمد: ۱۶۴۱۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن شخیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس کو ترک کیا۔
Takhreej
(۳۸۸۲) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۰۵ (انظر: ۱۶۳۰۸)
3882
Sahih
۔ (۳۸۸۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صَوْمِ الدَّہْرِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ۔)) اَوْ قَالَ: ((لَمْ یَصُمْ وَلَمْ یُفْطِرْ)) (مسند احمد: ۱۶۴۲۷)
۔ (دوسری سند) ان کے باپ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اسے ترک کیا۔
Takhreej
(۳۸۸۳) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3883
Sahih
۔ (۳۸۸۴) عَنْ اَبِی مُوْسَی الاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ صَامَ الدَّہْرَ ضُیِّقَتْ عَلَیْہِ جَہَنَّمُ ہٰکَذَا۔)) وَقَبَضَ کَفَّہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۵۱)
۔ سیدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس کے اوپر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ہتھیلی کو بند کر کے کیفیت بیان کی۔
Takhreej
(۳۸۸۴) تخر یـج: موقوفہ صحیح۔ اخرجہ النسائی (انظر: ۱۹۷۱۳)
3884
Sahih
۔ (۳۸۸۵) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ فُلَانًا لَا یُفْطِرُ نَہَارًا الدَّہْرَ، فَقَالَ: ((لَا اَفْطَرَ وَلَا صَامَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۶۳)
۔ سیدناعمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کسی دن کے روزے کا ناغہ نہیں کرتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا ہے۔
Takhreej
(۳۸۸۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۲۰۶(انظر: ۱۹۸۲۵)
Explanation
فوائد:… ’’نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا۔‘‘ افطار نہ کرنے کا مفہوم تو واضح ہے کہ وہ کھانے پینے سے رکا رہا، روزہ نہ رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس معاملے میں مسنون طریقے کی مخالفت کی، اجر و ثواب کا مستحق نہیں ٹھہرا اور اپنے آپ کو ایسے تکلیف دینے کے درپے ہو گیا کہ ممکن ہے کہ اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالے اور جہاد اور کئی دوسرے حقوق سے عاجز ا ٓ جائے۔ اس مسئلہ سے متعلقہ ایک فقہی بحث اگلے باب کی پہلی اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کو سب سے زیادہ فضیلت والا قرار دیا،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا۔ سوال یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہکے روزے ناجائز ہیں۔ امام اسحاق، اہل ظاہر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کی رائے یہ ہے کہ ان روزوں کا حکم کراہت کا ہے۔ ابن حزم اس انداز کے حرام ہونے کے قائل ہے اور قاضی عیاض نے کہا: جمہور اہل علم کا خیالیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی عید الفطر، عیدالاضحی اور تین ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی تمام دنوں کے روزے رکھنا جائز ہے۔ امام شافعی اور ان کے اصحاب نے کہا: جب آدمی دونوں عیدوں اور ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی دنوں کے لگاتار روزے رکھنا جائز ہے، بلکہ مستحبّ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نہ اسے کوئی ضرر لاحق ہو اور کوئی دوسرا حق فوت ہو، بصورتِ دیگر اس کے لیےیہ روزے مکروہ ہوں گے، ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ، اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔)) اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔‘‘ (بخاری: ۱۹۴۲، ۱۹۴۳، مسلم: ۱۱۲۱) وجۂ استدلال یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس صحابی کو لگاتار روزے رکھنے پر برقرار رکھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو طلحہ اور کئی سلف بھی لگاتار روزے رکھا کرتے تھے۔ اس رائے کے قائلین نے اس باب کی احادیث کے درج ذیل جوابات دیئے: (۱)ان احادیث کو ان کے حقیقی معانی پر محمول کیا جائے گا، یعنی ان سے مراد یہ ہے کہ دونوں عیدوں اور ایام تشریق سمیت ہمیشہ کے روزے رکھے جائیں۔ (۲) یا ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جس کو اس طرح روزے رکھنے سے کوئی ضرر لاحق ہو جاتا ہے یا اس سے کوئی حق فوت ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو فرمایا تھا: ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْاَبَدَ۔)) ’’اس نے روزہ نہیں رکھا، جس نے ہمیشہ روزے رکھے۔‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو علم تھا کہ یہ صحابی ان روزوں سے عاجز آ جائیں گے اور ایسے ہی ہوا کہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو جن روزوں کی اجازت دی تھی، وہ بھی ان کے لیے مشکل ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس بات پر ندامت کا اظہار کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رخصت قبول کیوں نہیں کی تھی۔ جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حمزہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو لگاتار روزے رکھنے کی اجازت دے دی تھی، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ اندازہ تھا کہ یہ صحابی ضرر سے محفوظ رہے گا۔ (۳) ’’لَا صَامَ‘‘ کے الفاظ اس آدمی کے حق میں بمعنی خبر ہیں، نہ کہ بمعنی دعا، جو ان روزوں سے بڑی مشقت محسوس کرتا ہے۔ رہا اس آدمی کا مسئلہ جو نہ مشقت محسوس کرتا اور نہ کوئی دوسرا حق فوت ہونے دیتا ہے اور نہ ممنوعہ دنوں کے روزے رکھتا ہے تو اس کے لیے تو لگاتار روزے مستحبّ ہوں گے، جب سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انھوں نے کہا: کنا نعد اولئک فینا من السابقین۔ … ہم اپنے اندر ایسے لوگوں کو آگے بڑھ جانے والوں میں شمار کرتے تھے۔ (سنن بیہقی) عروہ کہتے ہیں: سفر ہو یا حضر، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہمیشہ کے روزے رکھتی تھیں۔ (سنن بیہقی) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌جہاد کی وجہ سے عہد ِ نبوی میں روزے نہیں رکھتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فوت ہوئے تو میں نے ان کو عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ روزہ ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری) امام نووی نے ’’المجموع‘‘ میں دو عیدوں اور ایام تشریق کے علاوہ ہمیشہ کے روزے رکھنے والوں کے نام ذکر کیے ہیں، ان میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، سیدنا ابو امامہ اور ان کی بیوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ۔ سعید بن مسیب، ابو عمرو بن حماس، سعید بن ابراہیم، اسود بن یزید وغیرہ نے بھی ہمیشہ کے روزے رکھے، سعید بن ابراہیم نے چالیس سال لگاتار روزے رکھے تھے۔ جمہور اہل علم کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
3885
Sahih

Chapters

18
01
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
7 Hadith
02
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
3 Hadith
03
سحری تک وصال کرنے کی رخصت
1 Hadith
04
رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
15 Hadith
05
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
12 Hadith
06
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
3 Hadith
07
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
2 Hadith
08
رمضان کے روزوں کی قضاء اور اس کے وقت کا بیان
2 Hadith
09
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
3 Hadith
10
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
11
ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
9 Hadith
12
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
11 Hadith
13
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
6 Hadith
14
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
4 Hadith
15
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
4 Hadith
16
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
17
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
4 Hadith
18
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.