TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان - صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of روزے دار کا وصال کرنا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 18 · 11 Hadith
۔ (۳۸۶۹) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِیَوْمُ عِیْدٍ، فَلَا تَجْعَلُوْا یَوْمَ عِیْدِکُمْیَوْمَ صِیَامِکُمْ إِلَّا اَنْ تَصُومُوْا قَبْلَہُ اَوْ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن، عید کا دن ہے، پس تم اِس عید کے دن روزہ نہ رکھو کرو، الّا یہ کہ اس سے پہلے ایک دن روزہ رکھ لو یا بعد والے دن۔
Takhreej
(۳۸۶۹) تخر یـج: اسنادہ حسن۔ اخرجہ الحاکم: ۱/ ۴۳۷، وابن خزیمۃ: ۲۱۶۱ (انظر: ۸۰۲۵)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((وَلَا تَخْتَصُّوْا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِیْ وَلَا تَخْتَصُّوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ فِیْ صَوْمٍ یَصُوْمُہٗ اَحَدُکُمْ۔)) ’’جمعہ کی رات کو قیام کے ساتھ اور جمعہ کے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہ کرو، الّا یہ کہ جمعہ کا دن کسی کی عادت والے روزے میں آ جائے۔ ‘‘ اس موضوع سے متعلقہ تمام احادیث کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس آدمی کے لیے جمعہ کا روزہ رکھنا جائز ہے، جو جمعرات یا ہفتہ کو بھی روزہ رکھے، اسی طرح وہ شخص بھی جمعہ کے دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، جس کی عادت میں جمعہ کا دن آجائے، مثلا ایک آدمی ہر سال عرفہ کے دن یعنی (۹) ذوالحجہ کا روزہ رکھتا ہے، اگر اتفاق سے یہ دن جمعہ کا بھی ہو تو اس کیلئے روزہ رکھنا جائز ہو گا۔ جمعہ کا دن اس اعتبار سے عید ہے کہ اس میں ہفتے کے باقی دنوں کی بہ نسبت کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں، لوگ نمازِ عید کی طرح نمازِ جمعہ میں جمع ہوتے ہیںاور عید کے خطبے کی طرح اس میں خطبۂ جمعہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نہانا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور اچھے کپڑے پہننا، یہ امور بھی عید سے مشابہت پیدا کر دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
3869
Sahih
۔ (۳۸۷۰) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: نَھٰی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ صِیَامِیَوْمِ الْجُمْعَۃِ إِلَّا اَنْ یَکُوْنَ فِی اَیَّامٍ۔ (مسند احمد: ۸۷۵۷)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، الّایہ کہ دوسرے دنوں کی عادت چل رہی ہو۔
Takhreej
(۳۸۷۰) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطحاوی: ۱/ ۵۱۱، وابن راھویہ: ۲۳۷ (انظر: ۸۷۷۲)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری (۱۹۷۵) اور صحیح مسلم (۱۱۴۴) میں بھی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی حدیث موجود ہے، لیکن اس کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلّٰا یَوْمًا قَبْلَہٗاَوْبَعْدَہٗ)) ’’تممیں سے کوئی آدمی جمعہ کے روز کا روزہ نہ رکھے، الا یہکہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔‘‘
3870
Sahih
۔ (۳۸۷۱) عَنْ اِیَادِ بْنِ لَقِیْطٍ قَالَ: سَمِعْتُ لَیْلٰی اِمْرَاَۃَ بِشْرٍ تَقُوْلُ: إِنَّ بَشِیْرًا سَاَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَصُوْمُ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ وَلَا اَکَلِّمُ ذَالِکَ الْیَوْمَ اَحَدًا؟ فَقَالَ: النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تصُمْ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ إِلَّا فِی اَیَّامٍ ہُوَ اَحَدُھَا اَوْ فِی شَہْرٍ، وَاَمَّا اَنْ لَاتُکَلِّمَ اَحَدًا فَلَعَمْرِیْ! لَاَنْ تَکَلَّمَ بِمَعْرُوْفٍ وَتَنْہٰی عَنْ مُنْکَرٍ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَسْکُتَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۰۰)
۔ سیدہ لیلیٰ زوجہ بشیر کہتی ہیں کہ سیدنا بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: میں جمعہ کے دن روزہ رکھوں گا اور اس دن کسی سے کلام نہیں کروں گا، (یہ جائز ہے)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھنا، الّا یہ کہ دوسرے دنوں میںیا مہینے میں (ایک عادت کے ساتھ) روزے رکھے جا رہے ہوں اور یہ جمعہ کا دن بھی ان میں سے ایک ہو جائے، باقی رہا مسئلہ تمہارے خاموش رہنے کا تو میری عمر کی قسم! تمہارا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے لیے بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۳۸۷۱) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۲۳۲، والبیھقی: ۱۰/ ۷۵(انظر: ۲۱۹۵۴)
3871
Sahih
۔ (۳۸۷۲) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی الْحَارِثِ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَسَاَلَہُ، فَقَالَ: یَا اَبَا ہُرَیْرَۃَ! اَنْتَ نَہَیْتَ النَّاسَ اَنْ یَصُوْمُوْایَوْمَ الْجُمْعَۃِ؟ قَالَ: لَا، لَعَمْرُ اللّٰہِ! غَیْرَ اَنِّیْ وَرَبِّ ہٰذِہِ الْحُرْمَۃِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَصُوْمَنَّ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃ إِلاَّ فِی اَیَّامٍیَصُوْمُہُ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۹۴۴۸)
۔ بنو حارث بن کعب کے ایک فرد سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک آدمی نے آکر پوچھا: ابوہریرہ! آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا:نہیں، اللہ کی عمر کی قسم! البتہ اس حرمت کے ربّ کی قسم! میںنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن روزہ ہر گز نہ رکھے، الّایہ کہ یہ دن ایسے دوسرے دنوں میں آ جائے، جن کے وہ روزے رکھ رہا ہو۔
Takhreej
(۳۸۷۲) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطحاوی: ۱/ ۵۱۱، وابن راھویہ: ۲۳۷ (انظر: ۹۴۶۷)
3872
Sahih
۔ (۳۸۷۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، وَہِیَ صَائِمَۃٌ فِییَوْمِ جُمُعَۃٍ، فَقَالَ لَہَا: ((اَصُمْتِ اَمْسِ؟)) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ((اَتُرِیْدِیْنَ اَنْ تَصُوْمِیْ غَدًا؟)) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَاَفْطِرِیْ إِذًا۔)) (مسند احمد: ۶۷۷۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے دن سیدہ جویریہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: کیا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر روزہ توڑ دو۔
Takhreej
(۳۸۷۳) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۴۳، وابن خزیمۃ: ۲۱۶۲، وابن حبان: ۳۶۱۱، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۲۷۵۳(انظر: ۶۷۷۱)
3873
Sahih
۔ (۳۸۷۴) عَنْ اَبِی اَیُّوْبَ الْہَجْرِیِّ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلٰی جُوَیْرِیَۃَ فِییَوْمِ جُمُعَۃٍ وَہِیَ صَائِمَۃٌ، فَقَالَ لَہَا: ((اَصُمْتِ اَمْسِ؟)) قَالَتْ: لاَ، قَالَ: تَصُوْمِیْنَ (وَفِی لَفْظٍ اَتُرِیْدِیْنَ اَنْ تَصُوْمِیْ) غَدًا؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَاَفْطِرِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۹۱)
۔ سیدہ جویریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے دن ان کے ہاں تشریف لائے، جبکہ وہ روزہ سے تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: کیا تمہارا کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: توپھر روزہ افطار کر لو۔
Takhreej
(۳۸۷۴) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۸۶(انظر: ۲۶۷۵۵)
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہفتہ کے دن کا روزہ رکھنے کی بھی نیت رکھتا ہو، بصورت ِ دیگر جب اس کو اس مسئلے کا پتہ چلے گا، تو وہ روزہ توڑ دے گا۔
3874
Sahih
۔ (۳۸۷۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَصُوْمُوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَحْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔
Takhreej
(۳۸۷۵) تخر یـج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۶۱۵)
3875
Sahih
۔ (۳۸۷۶) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ اَنَّہُ سَاَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ الْاَنْصَارِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ: اَسْمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی عَنْ صِیَامِیَوْمِ الْجُمُعَۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ ہٰذَا الْبَیْتِ! (مسند احمد: ۱۴۲۰۱)
۔ محمد بن عباد سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا، جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، کہ کیا آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جمعہ کے دن ر وزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!
Takhreej
(۳۸۷۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۸۴، ومسلم: ۱۱۴۳(انظر: ۱۴۱۵۴)
Explanation
فوائد:… ان روایات کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا منع ہے، البتہ درج ذیل روایت قابل غور ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَصُوْمُ مِنْ غُرَّۃِ کُلِّ شَھْرٍ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَقَلَّمَا کَانَ یُفْطِرُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر مہینے کے ہر ماہ کے شروع میں تین دن روزہ رکھتے تھے اور جمعہ کے دن تو کم ہی افطار کرتے تھے۔ (ابن ماجہ، نسائی) اگر درج بالا روایات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہیں رکھتے ہوں گے، بلکہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ملاتے ہوں گے، تو بہتر ہو گا اور اس سے ساری نصوص پر عمل ہو جائے گا۔
3876
Sahih
۔ (۳۸۷۷) عَنْ حَسَّانَ بْنِ نُوْحٍ الْحِمْصِیِّ قَالَ: رَاَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: تَرُوْنَ کَفِّی ہٰذِہِ؟ فَاَشْہَدُ اَنِّیْ وَضَعْتُہَا عَلٰی کَفِّ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِی رِوَایَۃٍ: بَایَعْتُ بِہَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَہٰی عَنْ صِیَامِیَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِی فَرِیْضَۃٍ، وَقَالَ: ((إِنْ لَّمْ یَجِدْ اَحَدُکُمْ إِلَّا لِحَائَ شَجَرَۃٍ فَلْیُفْطِرْ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۴۲)
۔ حسان بن نوح حمصی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر کو دیکھا، انھوں نے کہا: لوگو! تم میرییہ ہتھیلی دیکھ رہے ہو؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلی پر رکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے الّایہ کہ فرضی روزہ ہو۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اگر کھانے کے لیے کچھ نہ ملے، ما سوائے درخت کے چھلکے کے، تو وہی کھا کر (روزہ نہ ہونے کی نشاندہی کر دینی چاہیے)۔
Takhreej
(۳۸۷۷) قال الالبانی: صحیح، اخرجہ ابوداود: ۱۷۲۶، وابن ماجہ: ۱۷۲۶، والترمذی: ۷۴۴ (انظر: ۱۷۶۹۰)
3877
Sahih
۔ (۳۸۷۸) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ اُخْتِہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَصُوْمُوْا یَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِیْمَا افْتُرِضَ عَلَیْکُمْ، فَإِنْ لَمْ یَجِدْ اَحَدُکُمْ إِلَّا عُوْدَعِنَبٍ اَوْ لِحَائَ شَجَرَۃٍ فَلْیَمْضَغْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: ہفتہ کا روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ یہ ان دنوں میں آ جائے کہ جن کے روزے تم پر فرض ہیں، اگر اس دن کو کسی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہو، ما سوائے انگور کی لکڑییا درخت کے چھلکے کے، تو اسی کو چبا لے۔
Takhreej
(۳۸۷۸) قال الالبانی: صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۴۲۱، وانظر الحدیث السابق(انظر: ۲۷۰۷۵)
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایسے نہ ہو کہ ہفتہ کا دن کھائے پئے بغیر گزر جائے۔
3878
Sahih
۔ (۳۸۷۹) عَنْ عُبَیْدِ نِ اْلاَعْرَجِ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ اَنَّہَا دَخَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَتَغَدّٰی وَذَالِکَ یَوْمَ السَّبْتِ، فَقَالَ: ((تَعَالَی فَکُلِیْ۔)) فَقَالَتْ: إِنِّی صَائِمَۃٌ، فَقَالَ لَہَا: ((صُمْتِ اَمْسِ؟)) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ((فَکُلِیْ فَإِنَّ صِیَامَیَوْمِ السَّبْتِ لَا لَکِ وَلَا عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۶)
۔ عبید اعرج کہتے ہیں: مجھے میری دادی نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے، یہ ہفتہ کا دن تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: آئو کھانا کھائو۔ لیکن انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر کھا لو، کیونکہ ہفتہ کے دن کے روزہ کا نہ ثواب ملتا ہے اور نہ گناہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۳۸۷۹) تخر یـج: اسنادہ ضعیف للاختلاف فیہ علی ابن لھیعۃ (انظر: ۲۷۰۷۶)
Explanation
فوائد:… ثواب اور گناہ کا نہ ملنا اس صورت میں ہے، جب آدمی جہالت کی وجہ سے روزہ رکھ لے، وگرنہ اگر علم ہونے کے بعد یا بطورِ تعظیم ہفتہ کا روزہ رکھے گا تو گنہگار ہو گا۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ صرف ہفتہ کا روزہ رکھناممنوع ہے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۶۹) اور (۳۸۷۳) وغیرہ سے معلوم ہوا کہ جمعہ اور ہفتہ، دو دنوں کا لگاتار روزہ رکھا جا سکتا ہے، اس رخصت سے یہ استدلال کرنا بھی ممکن ہے کہ ہفتہ اور اتوار کا لگاتار روزہ رکھنا جائز ہے، حدیث نمبر (۳۹۶۸) سے بھییہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور یہ بات ایسے ہی ہے، جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوم عاشوراء کے ساتھ(۹) محرم کا روزہ رکھنے کا بھی عزم کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصد یہودیوں کی مخالفت کرنا تھا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آئندہ سال نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا نہ کہ دس کے ساتھ نو محرم کا بھی۔ اس کی مزید وضاحت عاشورا کے روزے کے بارے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)
3879
Zaeef

Chapters

18
01
وصال سے منع کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس کا بطور خصوصیت جائزہونے کا بیان
7 Hadith
02
صحابہ کے وصال سے باز آنے سے انکار کرنے پر ان کو عبرت سکھانے کے لیےیا ان کے فعل پر انکار کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کے ساتھ دو دنوں اور دو راتوں تک وصال کرنے کا بیان
3 Hadith
03
سحری تک وصال کرنے کی رخصت
1 Hadith
04
رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
15 Hadith
05
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
12 Hadith
06
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
3 Hadith
07
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
2 Hadith
08
رمضان کے روزوں کی قضاء اور اس کے وقت کا بیان
2 Hadith
09
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
3 Hadith
10
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
11
ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
9 Hadith
12
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
11 Hadith
13
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
6 Hadith
14
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
4 Hadith
15
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
4 Hadith
16
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
2 Hadith
17
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
4 Hadith
18
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.