TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 274 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
مسجد میں حائضہ کے چٹائی بچھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْبُوذٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِالْخُمْرَةِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ .
Maimunah said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to lay his head in the lap of one of us while she was menstruating and recite Qur'an, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out while she was menstruating.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے  ( مسجد میں )  بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی۔
274
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 274 Arabic reference : Book 1, Hadith 275
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 274
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۸۶)، مسند احمد ۶/۳۳۱، ۳۳۴، ویأتي عند المؤلف في الحیض۱۹ برقم: ۳۸۵ (حسن)

Related Chapters

343
1
حائضہ کے مسجد میں چٹائی بچھانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
(101)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman Getting Something From The Masjid
باب: حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے
Jam e Tirmazi
3
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
4
CHAPTER: The Menstruating Woman Hands Over Something From The Masjid.
باب: حائضہ عورت مسجد سے کوئی چیز لے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
6
حائضہ عورت مسجد سے دور رہے۔
Sunnan Ibn e Maja
7
حائضہ کے مسجد میں معتکف اپنے شوہر کے سر میں کنگھا کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
(97)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman: That She Does Not Make Up The Missed Salat
باب: حائضہ کے نماز قضاء نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
(98)Chapter: What Has Been Related About The Junub And The Menstruating Persons That They Do Not Recite The Qur'an
باب: جنبی اور حائضہ کے قرآن نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(99)Chapter: What Has Been Related About Fondling Menstruating Woman
باب: حائضہ کے ساتھ بوس و کنار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
(102)Chapter: What Has Been Related About Dislike For Engaging In Sexual Intercourse With A Menstruating Woman
باب: حائضہ سے جماع کے جائز نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
(103)Chapter: What Has Been Related About The Atonement For That
باب: حائضہ سے جماع کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Exiting The Masjid After The Adhan
باب: اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: : What Has Been Related About The Congregation In The Masjid Being Held Two Times
باب: جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Is Said When One Enters Into The Masjid
باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About 'When One Of You Enters The Masjid Let Him Perform Two Rak'ah'
باب: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعتیں پڑھے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Undesirability Of Taking The Grave As A Masjid
باب: قبروں پر مسجد بنانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Sleeping In The Masjid
باب: مسجد میں سونے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Masjid Founded Upon Taqwa
باب: اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About Which Of The Masajid Are More Virtuous
باب: کون سی مسجد سب سے افضل ہے؟
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Khumrah
باب: چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Salat On The Hasir (Mat)
باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Going Early To The Friday Prayer
باب: جمعہ کے لیے مسجد سویرے آنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: (What Has Been Related) About Women Going Out To The Masjid
باب: عورتوں کے مسجد جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: (What Has Been Related) About It Being Disliked To Spit In The Masjid
باب: مسجد میں تھوکنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Mentioned About The Virtue Of Walking To The Masjid And What Rewards Are Written For Each Step One Takes
باب: پیدل مسجد جانے اور ہر قدم پر اجر لکھے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Woman Who Menstruated Makes Up The Fasts But Not The Salat
باب: حائضہ عورت روزہ کی قضاء کرے گی نماز کی نہیں
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Which Rites Are Carried Out By The Menstruating Woman
باب: حائضہ عورت حج کے کون کون سے مناسک ادا کرے؟
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Salat For The Deceased In The Masjid
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The One Cloth That Is Placed Under The Deceased In The Grave
باب: قبر میں میت کے نیچے کپڑا بچھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
40
مسجد میں وضو کر لینے اور سونے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
41
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
Musnad Ahmad
42
جس نے حائضہ بیوی سے جماع کر لیا، اس کے کفارے کا بیان
Musnad Ahmad
43
حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جوٹھے کے پاک ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
44
حائضہ عورت کے جسم اور کپڑوں کے پاک ہونے کا بیان، الّا یہ کہ وہ جگہ جہاں خون لگا ہوا ہو
Musnad Ahmad
45
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
مؤذن کا جواب نہ دینے اور اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی وعید
Musnad Ahmad
47
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
48
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
Musnad Ahmad
49
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
50
چٹائی، ٹاٹوں،پوستینوںاور اوڑھنیوں پر نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

88
Sunnan Nisai
385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْبُوذٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ .
Maimunah said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to lay his head in the lap of one of us and recite Qur'an while she was menstruating, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out when she was menstruating.
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ۱؎ وہ حائضہ ہوتی۔
Jam e Tirmazi
845
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا فَزَارَةَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَاتَتْ بِسَرِفَ، ‏‏‏‏‏‏وَدَفَنَّاهَا فِي الظُّلَّةِ الَّتِي بَنَى بِهَا فِيهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلَالٌ .
Yazid bin Al-Asamm narrated about Maimunah: The Messenger of Allah married he while he was Halal and he stayed with her while he was Halal. She died in Sarif, and we buried her at the (site of the) tent where he had stayed wit her.
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی اور آپ حلال تھے اور ان سے خلوت کی تو بھی آپ حلال تھے۔ اور انہوں نے سرف ہی میں انتقال کیا، ہم نے انہیں اسی سایہ دار مقام میں دفن کیا جہاں آپ نے ان سے خلوت کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث یزید بن اصم سے مرسلاً روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی کی اور آپ حلال تھے۔
Sahih Muslim
1107
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ لَوْ شَاءَتْ بَهْمَةٌ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ»
Maimuna reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) prostrated himself, if a lamb wanted to pass between his arms, it could pass.
سفیان بن عیینہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن اصم سے ، انہوں نے اپنے چچا یزید بن اصم سے ، انہوں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہﷺ سجدہ کرتے توبکری کا بچہ اگر آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان سے گزرنا چاہتا توگزر سکتا تھا ۔
Sahih Muslim
1795
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَلَمَةُ: فَلَقِيتُ كُرَيْبًا، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَقَالَ: «وَاجْعَلْنِي نُورًا» وَلَمْ يَشُكَّ.
Salama said: I met Kuraib and he reported Ibn `Abbas as saying: I was with my mother's sister Maimuna and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came there, and then he narrated the rest of the hadith as was narrated by Ghundar and said these words: Make me light, beyond any doubt.
نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں سلمہ بن کبیل نے بکیر سے حدیث سنائی ، انھوں نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ سلمہ نے کہا : میں کریب کو ملا تو انھوں نے کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں اپنی خالہ میمونہ کے ہاں تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ ۔ ۔ پھر انھوں نے غندر ( محمد بن جعفر ) کی حدیث ( 1794 ) کی طرح بیان کیا اور کہا : "" اور مجھے سراپا نور کردے "" اور انھوں نے ( کسی بات میں ) شک کا اظہار نہ کیا ۔
Sunnan Abu Dawood
369
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ وَعَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ مِنْهُ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَيْهِ .
Maimunah reported: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم prayed on a sheet of cloth put on by one of his wives who was menstruating. He was praying while (a part of) it was upon him.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جس کا کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی پر پڑا ہوا تھا، وہ حائضہ تھیں اور آپ اسے اوڑھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔
Sunnan Ibn e Maja
2408
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَت:‏‏‏‏ كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا:‏‏‏‏ لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا .
It was narrated that : the Mother of the Believers Maimunah used to take out loans frequently, and some of her family said: “Do not that,” and they denounced her for that. She said: “No. I heard my Prophet (ﷺ) and my close friend say: ‘There is no Muslim who takes out a loan and Allah(SWT) knows that he intends to pay it back, but Allah(SWT) will pay it back for him in this world.'”
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں تو ان کے گھر والوں میں سے کسی نے ان سے کہا: آپ ایسا نہ کریں، اور ان کے ایسا کرنے کو اس نے ناپسند کیا، تو وہ بولیں: کیوں ایسا نہ کریں، میں نے اپنے نبی اور خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو قرض لیتا ہو اور اللہ جانتا ہو کہ وہ اس کو ادا کرنا چاہتا ہے مگر اللہ اس کو دنیا ہی میں اس سے ادا کرا دے گا ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
2692
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ .
It was narrated that 'Ata bin Abu Maimunah said: “I only know it from Anas bin Malik who said: 'No case involving retaliation was referred to the Messenger of Allah (ﷺ) but he enjoined forgiveness.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے ( یعنی سفارش کرتے ) ۔
Sunnan Nisai
1219
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السَّلَمِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ،‏‏‏‏ وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ،‏‏‏‏ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ ،‏‏‏‏ وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَلَا تَأْتُوهُمْ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ .
It was narrated that Mu'awiyah bin Al-Hakam As-Sulami said: I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), we were recently in a state of ignorance, then Allah (SWT) brought Islam. Some men among us follow omens.' He said: 'That is something that they find in their own hearts; it should not deter them from going ahead.' I said: 'And some men among us go to fortune tellers.' He said: 'Do not go to them.' He said: 'Some men among us draw lines.' He said: 'One of the Prophets used to draw lines. So whoever is in accord with his drawing of lines, then so it is.' He said: While I was praying with the Messenger of Allah (ﷺ), a man sneezed and I said: 'Yarhamuk-Allah (May Allah have mercy on you).' The people glared at me and I said: 'May my mother be bereft of me, why are you looking at me?' The people struck their hands against their thighs, and when I saw that they were telling me to be quiet, I fell silent. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished, he called me. May my father and mother be ransomed for him, he neither did hit me nor rebuke me nor revile me. I have never seen a better teacher than him, before or after. He said: 'This prayer of ours is not the place for ordinary human speech, rather it is glorification and magnification of Allah (SWT), and reciting Qur'an.' Then I went out to a flock of sheep of mine that was tended by a slave woman of mine beside Uhud and Al-Jawwaniyyah, and I found that the wolf had taken one of the sheep. I am a man from the sons of Adam and I get upset as they get upset. So I slapped her. Then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him what happened. He regarded that as a serious action on my part. I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), should I set her free?' He said: 'Call her.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: 'Where is Allah (SWT), the Mighty and Sublime?' She said: 'Above the heavens.' He said: 'And who am I?' She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'She is a believer, set her free.'
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو برا شگون لیتے ہیں! آپ نے فرمایا:  یہ محض ایک خیال ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، تو یہ ان کے آڑے نہ آئے  ۱؎ معاویہ بن حکم نے کہا: اور ہم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں! تو آپ نے فرمایا:  تم لوگ ان کے پاس نہ جایا کرو ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم میں سے کچھ لوگ  ( زمین پر یا کاغذ پر آئندہ کی بات بتانے کے لیے )  لکیریں کھینچتے ہیں! آپ نے فرمایا:  نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے، تو جس شخص کی لکیر ان کے موافق ہو تو وہ صحیح ہے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ اسی دوران اچانک قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آ گئی، تو میں نے  ( زور سے )  «يرحمك اللہ»  اللہ تجھ پر رحم کرے  کہا، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: «واثكل أمياه»  میری ماں مجھ پر روئے ، تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مجھے گھور رہے ہو؟ لوگوں نے  ( مجھے خاموش کرنے کے لیے )  اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کو تھپتھپایا، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ہی مجھے ڈانٹا، اور نہ ہی برا بھلا کہا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ سے اچھا اور بہتر معلم کسی کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا:  ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز درست نہیں، نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرأت قرآن کا نام ہے ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف آیا جنہیں میری باندی احد پہاڑ اور جوانیہ ۲؎ میں چرا رہی تھی، میں  ( وہاں )  آیا تو میں نے پایا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری اٹھا لے گیا ہے، میں  ( بھی )  بنو آدم ہی میں سے ایک فرد ہوں، مجھے  ( بھی )  غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک چانٹا مارا، پھر میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، تو آپ نے مجھ پر اس کی سنگینی واضح کی، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اسے بلاؤ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا:  اللہ کہاں ہے؟  اس نے جواب دیا: آسمان کے اوپر، آپ نے پوچھا:  میں کون ہوں؟  اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  یہ مومنہ ہے، تو تم اسے آزاد کر دو ۔
Jam e Tirmazi
103
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَلَكَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوِ الْأَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
Ibn 'Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said: I prepared some water for the Prophet to perform Ghusl for Janabah with. So he turned the vessel with his left hand, (pouring some water) over his right. Then he washed his hands. Then he entered his hand into the vessel to pour water over his private area, then he rubbed his hands on the wall, or the ground. Then he rinsed out his mouth and washed his nose by putting water in and blowing it out, and washed his face and forearms. Then he poured water over his head three times, then he poured water over the remainder of his body, then he moved from where he was and washed his feet.
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔