TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4288 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
باب: جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ:‏‏‏‏ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمَ. فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، ‏‏‏‏‏‏أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي . قَالَ:‏‏‏‏ فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ،‏‏‏‏ فَأُخْرِجَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ. قَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا صُورَةٌ . قَالَ:‏‏‏‏ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ.
Maimunah, the wife of the Prophet narrated: The Messenger of Allah was upset one morning and Maimunah said to him: O Messenger of Allah, you look upset today., He said: 'Jibril, peace be upon him, had promised to meet me last night but he did not come, and by Allah, he never failed to keep an appointment,; The day passed, then he thought of a puppy that was beneath a table of ours. He ordered that it be taken out, and then he took some water In his hand and sprinkled it over the place where it had been. That evening, Jibril, peace be upon him, came and met him. The Messenger of Allah said to him: 'You [promised to meet me last night,; He said: 'Yes, but we do not enter a house in which there is a dog or a picture,; the next day the Messenger of Allah Commanded that dogs be killed.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا: ”جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی“، آپ اس دن اسی طرح ( غمزدہ ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے ( پلے ) کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا، آپ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس سے اس جگہ پر چھینٹے مارے، پھر جب شام ہوئی تو آپ کو جبرائیل علیہ السلام ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ نے مجھ سے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر ( مجسمہ ) ہو، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔
4288
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4283 In-book reference : Book 42, Hadith 21 English translation : Vol. 5, Book 42, Hadith 4288
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4283
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس ۲۶ (۲۱۰۵)، سنن ابی داود/اللباس ۴۸ (۴۱۵۷)، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۶۸)، مسند احمد (۶/۳۳۰)

Related Chapters

658
1
باب: جس گھر میں تصویر اور کتا ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے
Jam e Tirmazi
2
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو
Musnad Ahmad
3
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
4
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
Musnad Ahmad
6
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
7
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
8
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
9
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
10
Chapter: The Prohibition Of Making Images Of Living Beings, And The Prohibition Of Using Images That Are Not Subjected To Disrespect In Furnishings And The Like; The Angels (Peace Be Upon Them) Do Not Enter A House In Which There Is An Image Or A Dog
جاندار کی تصویر بنا نے اور جوفرش پر روندی نہ جا رہی ہو ں ان تصویروں کو استعمال کرنے کی ممانعت نیز یہ کہ جس گھر میں تصویر یا کتاہوا ہو اس میں ملا ئیکہ علیہ السلام دا خل نہیں ہو تے
Sahih Muslim
11
CHAPTER: The Person Observing I’tikaf Entering His House For A Need.
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: The Supplication That A Man Should Recite When He Enters His House
گھر میں داخل ہوتے وقت کیا دعا پڑھے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
13
Chapter: What Is Said When One Enters Into The Masjid
باب: مسجد میں داخل ہوتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Mentioned About The Tasmiyah When Entering The Area Of Relieving Oneself
باب: پاخانے (بیت الخلاء) میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About: The Two Months Of Eid Will Not Both Be Deficient
باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About: Can The One Performing I'tikaf Leave For His Needs Or Not?
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے نکل سکتا ہے یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
17
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About That Seeking Permission Is Three Times
باب: کسی کے گھر داخل ہونے کے لیے تین بار اجازت حاصل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam When Entering The House
باب: اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam Before Seeking Permission Enter
باب: گھر میں داخلہ کی اجازت لینے سے پہلے سلام کرنا (کیسا ہے؟)
Jam e Tirmazi
21
قضائے حاجت کرنے والے کا داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت دعا پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
Musnad Ahmad
23
خاص طور پر مہینے کا (۲۹) دنوں کا ہونے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان ’’دو مہینے ناقص نہیں ہوتے‘‘کے درمیان جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
24
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
Musnad Ahmad
25
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
Musnad Ahmad
26
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
27
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
Musnad Ahmad
28
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
Musnad Ahmad
29
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
30
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میںسے نہیںہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
31
(41) CHAPTER. What is said regarding the statement: “The reward of deeds depends upon the intention and hoping to get rewards from Allah.”
اس بات کے بیان میں کہ عمل بغیر نیت اور خلوص کے صحیح نہیں ہوتے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جو نیت کرے
Sahih Bukhari
32
(9) CHAPTER. Can a Junub (a person who has yet to take a bath after the sexual act or wet dream) put his hands in a pot (containing water) before washing them if they are not polluted with a dirty thing except Janaba?
کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے ؟ جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو ۔
Sahih Bukhari
33
(38) CHAPTER. No Salat (prayer) (is to be offered) except the compulsory Salat after the Iqama has been pronounced for that compulsory Salat.
جب نماز کی تکبیر ہونے لگے تو فرض نماز کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا
Sahih Bukhari
34
(59) CHAPTER. Can one buy the thing which he has given in charity?
کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے ؟ اور دوسرے کا دیا ہوا صدقہ خریدنے میں تو کوئی حرج نہیں
Sahih Bukhari
35
(38) CHAPTER. Taking a bath on entering Makkah.
مکہ میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا
Sahih Bukhari
36
(67) CHAPTER. It is neither permissible for a naked person to perform Tawaf of the Kabah nor for a Mushrik [polytheist, pagan, idolater, and disbeliever in the Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad ] to perform Hajj.
بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا آدمی نہیں کر سکتا اور نہ کوئی مشرک حج کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
37
(18) CHAPTER. The saying of Allah: … So enter houses through their proper doors … (V. 2:189)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو
Sahih Bukhari
38
(12) CHAPTER. The two months of Eid do not decrease.
عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
Sahih Bukhari
39
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet : “We neither write nor know accounts.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے
Sahih Bukhari
40
(48) CHAPTER. Al-Wisal [i.e., to observe Saum (fast) continuously without eating or drinking anything by day or night, may be for a day or two or more].
پے درپے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا
Sahih Bukhari
41
(19) CHAPTER. A Mutakif can let his head in the house for washing.
اعتکاف والا دھونے کے لیے اپنا سر گھر میں داخل کرتاہے
Sahih Bukhari
42
(111) CHAPTER. One can travel with a slave-girl without knowing whether she is pregnant or not?
اگر لونڈی خریدے تو استبراء رحم سے پہلے اس کو سفر میں لے جا سکتا ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
43
(3) CHAPTER. He who undertakes to repay the debts of a dead person has not the right to change his mind.
جو شخص کسی میت کے قرض کا ضامن بن جائے تو اس کے بعد اس سے رجوع نہیں کر سکتا ، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا
Sahih Bukhari
44
(11) CHAPTER. No Hima (private pasture) except according to what Allah and His Messenger did.
اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی اور چراگاہ محفوظ نہیں کرسکتا
Sahih Bukhari
45
(26) CHAPTER. Whoever tied his camel at the pavement (of the mosque)or at the gate of the mosque.
مسجد کے دروازے پر جو پتھر بچھے ہوتے ہیں وہاں یا دورازے پر اونٹ باندھ دینا
Sahih Bukhari
46
(9) CHAPTER. If partners divide the houses, etc., none of them has the right of backing out or the right of pre-emption.
جب شریک لوگ گھروں وغیرہ کو تقسیم کر لیں تواب اس سے پھر نہیں سکتے اور نہ ان کو شفعہ کا حق رہے گا ۔
Sahih Bukhari
47
(37) CHAPTER. If somebody gives another person a horse (as a gift) then the rule is the same as that concerning the Umra or Sadaqa (i.e., the giver has no right to claim restitution).
جب کوئی کسی شخص کو گھوڑا سواری کے لیے ہدیہ کر دے تو وہ عمریٰ اور صدقہ کی طرح ہوتا ہے ( کہ اسے واپس نہیں لیا جا سکتا ) لیکن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ وہ واپس لیا جا سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
48
(1) CHAPTER. The conditions permissible on embracing Islam, and in contracts and transactions.
اسلام میں داخل ہوتے وقت اور معاملات بیع و شراء میں کون سی شرطیں لگانا جائز ہے ؟
Sahih Bukhari
49
(194) CHAPTER. There is no emigration (from Makkah) after the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی
Sahih Bukhari
50
(20) CHAPTER. Not to marry more than four (at a time) as is decreed in the Statement of Allah: ...two or three or four... (V.4:3)
چار بیویوں سے زیادہ ( بیک وقت ) آدمی نہیں رکھ سکتا ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,323
Sunnan Nisai
4281
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام:‏‏‏‏ لَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا صُورَةٌ. فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الصَّغِيرِ .
It was narrated that Az-Zuhri said: Ibn As-Sabbaq said: Maimunah told me that Jibril, peace be upon him, said to the Messenger of Allah 'We (Angles) do not enter a house in which there is a dog or a picture, The next day the Messenger of Allah commanded that all dogs be killed, even small dogs. '
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ”لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور مجسمہ ( مورت ) ہو“۔ اس دن جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ چھوٹے چھوٹے کتوں ( پلوں ) کو بھی مارنے کا حکم دے رہے تھے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
3103
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ أَتَانِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْيَمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي لَأَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ كُلِّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زَيْدٌ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَهُمَا صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعُسُبِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللِّخَافِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَصُدُورِ الرِّجَالِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ بَرَاءَةٌ مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ‏‏‏‏ 128 ‏‏‏‏ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ‏‏‏‏ 129 ‏‏‏‏ سورة التوبة آية 128-129 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Az-Zuhri: From 'Ubaid bin As-Sabbaq, that Zaid bin Thabit narrated to him, he said: 'Abu Bakr As-Siddiq sent for me - (regarding) those killed at Al-Yamamah - and 'Umar bin Al-Khattab was with him. He (Abu Bakr) said: 'Umar came to me and said: The fighting inflicted many casualties among the reciters of the Qur'an on the Day of Al-Yamamah, and I fear that there will be more casualties among the reciters in other parts of the land, such that much of the Qur'an may be lost. In my view, you should order that the Qur'an be collected.' Abu Bakr said to 'Umar: How can I do something which was not done my the Messenger of Allah (ﷺ)? 'Umar said: 'By Allah! It is something good.' 'Umar continued trying to convince me until Allah opened up my chest to that which He had opened the chest of 'Umar, and I saw it as he saw it. Zaid said: 'Abu Bakr said: You are a young wise man, and we have no suspicions of you. You used to write down the Revelation for the Messenger of Allah as the Qur'an was revealed. He (Zaid) said: 'By Allah! If they had ordered to move one of the mountains it would have been lighter on me than that.' He said: 'I said: How will you do something which was not done by the Messenger of Allah (ﷺ)? Abu Bakr said: By Allah! It is something good. Abu Bakr and 'Umar continued trying to convince me, until Allah opened up my chest for that, just as He had opened their chests, the chest of Abu Bakr and the chest of 'Umar. So I began searching for Qur'anic material from parchments, leaf stalks of date-palms and Al-Likhaf - meaning stones - and the chests of men. I found the end of Surah Bara'ah with Khuzaimah bin Thabit: Verily, there has come to you a Messenger from among yourselves. It grieves him that you should receive any injury or difficulty. He is eager for you; for the believers (he is) full of pity, kind, and merciful. But if they turn away, say: Allah is sufficient for me. There is no god but He, in Him I put my trust, and He is the Lord of the Mighty Throne (9:128 & 129).'
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے موقع پر ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے انہیں بلا بھیجا، اتفاق کی بات کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ بھی وہاں موجود تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: عمر بن خطاب میرے پاس آئے ہیں کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قراء ( حافظوں ) کی ہلاکت ہوئی ہے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اگر ان تمام جگہوں میں جہاں جنگیں چل رہی ہیں قراء قرآن کا قتل بڑھتا رہا تو بہت سارا قرآن ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ مکمل قرآن اکٹھا کرنے کا حکم فرمائیں۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ سے کہا: میں کوئی ایسی چیز کیسے کروں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔ عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ بہتر کام ہے۔ وہ مجھ سے یہ بات باربار کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے بھی اس کام کے لیے شرح صدر عطا کر دیا جس کام کے لیے اللہ نے عمر کو شرح صدر عطا فرمایا تھا۔ اور میں نے بھی اس سلسلہ میں وہی بات مناسب سمجھی جو انہوں نے سمجھی۔ زید کہتے ہیں: ابوبکر رضی الله عنہ نے ( مجھ سے ) کہا: تم جوان ہو، عقلمند ہو، ہم تمہیں ( کسی معاملے میں بھی ) متہم نہیں کرتے۔ اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی لکھتے بھی تھے، تو ایسا کرو کہ پورا قرآن تلاش کر کے لکھ ڈالو، ( یکجا کر دو ) زید کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر مجھ سے پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کہتے تو یہ کام مجھے اس کام سے زیادہ بھاری نہ لگتا، میں نے کہا: آپ لوگ کوئی ایسا کام جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے کیسے ( کرنے کی جرات ) کرتے ہیں؟ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما دونوں مجھ سے باربار یہی دہراتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو بھی اس حق کے لیے کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے سینے کو اس نے کھولا تھا، تو میں نے پورے قرآن کی تلاش و جستجو شروع کر دی، میں پرزوں، کھجور کے پتوں، نرم پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے لے کر نقل کر کر کے یکجا کرنے لگا، تو سورۃ برأۃ کی آخری آیات «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم فإن تولوا فقل حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» ”تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، اس پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کا حریص ہے اور ایمان داروں کے حال پر نہایت درجہ شفیق اور مہربان ہے۔ پھر بھی اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ مجھ کو کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے“ ( التوبہ: ۱۲۸ ) ۔ مجھے خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہ کے پاس ملیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sunnan Abu Dawood
4157
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ فَلَمَّا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .
Narrated Ibn Abbas: Maimunah, wife of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم reported him as saying: Gabriel صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم promised to visit me last night, but he did not visit me. Then it occurred to him that there was a pup under his bed. So he ordered and it was turned out. He then got water in his hand and sprinkled it on its place. When Gabriel صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم met him, he said: We do not enter a house which contains a dog or a picture. When the morning came, the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ordered to kill dogs. He ordered to kill the dog which guarded a small orchard, and left the dog which guarded the big orchard.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے ( کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے ) ۔
Sunnan Ibn e Maja
1098
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘This day is an ‘Eid (festival) which Allah has ordained for the Muslims. Whoever comes to Friday (prayer), let him take a bath and if he has perfume then let him put some on. And upon you (I urge to use) is the tooth stick.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو ۱؎۔
Sunnan Nisai
164
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ذَكَرَ مَرْوَانُ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنَّهُ يُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ إِذَا أَفْضَى إِلَيْهِ الرَّجُلُ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَقُلْتُ لَا وُضُوءَ عَلَى مَنْ مَسَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مَرْوَانُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَتْنِيبُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ذَكَرَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَيُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ . قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِي مَرْوَانَ حَتَّى دَعَا رَجُلًا مِنْ حَرَسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا عَمَّا حَدَّثَتْ مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بُسْرَةُ بِمِثْلِ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهَا مَرْوَانُ.
Urwah bin Az-Zubair said: When he was the governor of Al-Madinah, Marwan mentioned that a man should perform Wudu' after touching his penis, if he touches it iwth his hand. I did not like that and I said: 'The one who touches it does not have to perform Wudu'.' Marwan said: 'Busrah bint Safwan told me that she heard the Messenger of Allah (ﷺ) mention the things for which Wudu' should be performed, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Wudu' should be performed after touching the penis.' 'Urwah said: 'I continued to argue with Marwan until he called one of his guards and sent him to Busrah to ask her about what Marwan had narrated, and Busrah sent word saying something like that which Marwan had narrated to me from her.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان نے اپنی مدینہ کی امارت کے دوران ذکر کیا کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو کیا جائے گا، جب اس تک آدمی اپنا ہاتھ لے جائے، تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: جو عضو تناسل چھوئے اس پر وضو نہیں ہے، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اور عضو تناسل چھونے سے  ( بھی )  وضو کیا جائے گا ، عروہ کہتے ہیں: میں مروان سے برابر جھگڑتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور اسے بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، چنانچہ اس نے مروان سے بیان کی ہوئی حدیث کے بارے میں بسرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، تو بسرہ نے اسی طرح کی بات کہلا بھیجی جو مروان نے ان کے واسطے سے مجھ سے بیان کی تھی۔
Sunnan Nisai
1374
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَأَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ،‏‏‏‏ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام،‏‏‏‏ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ،‏‏‏‏ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا .
Abdur-Rahman Al-A'raj narrated that: He heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam, peace be upon him, was created, on this day he was admitted to Paradise, and on this day he was taken out of it.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا  ۱؎۔
Sunnan Nisai
1762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated that Ibn Umar said: Hafsah told me that when dawn glowed, the Prophet (ﷺ) would pray two rak'ahs.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر روشن ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے۔
Sunnan Nisai
1779
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَلِكَ بَعْدَ مَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ .
Ibn Umar said: Hafsah told me that the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two brief rak'ahs before Fajr, and that was after dawn had broken.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ فجر طلوع ہو جانے کے بعد پڑھتے۔
Sunnan Nisai
1780
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَتْنِيحَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ .
It was narrated from Salim that his father said: Hafsah told me that when dawn glowed, the Messenger of Allah (ﷺ) would pray two rak'ahs.
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب فجر روشن ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے تھے۔