TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟

Chapter 39 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 39 of 40 · 1 Hadith
۔ (۴۵۷۹) عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ الْحَضْرَمِیِّ إِنْ شَائَ اللّٰہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَمْکُثُ الْمُہَاجِرُ بِمَکَّۃَ َبعْدَ َقضَائِ نُسُکِہِ، ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۱۹۱۹۴)
۔ سائب بن یزید سے روایت ہے وہ علاء بن خضرمی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مکہ سے ہجرت کرکے جانے والا آدمی مناسک حج کی ادائیگی کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرسکتا ہے۔
Takhreej
(۴۵۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۳۳، ومسلم: ۱۳۵۲(انظر: ۱۸۹۸۵)
Explanation
فوائد: …صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یُقِیْمُ الْمُھَاجِرُ بِمَکَّۃَ، بَعْدَ قَضَائِ نُسُکِہٖ،ثَـلَاثًا۔)) کَأَنَّہٗیَقُوْلُ: لَایَزِیْدُ عَلَیْھَا)) … مہاجر لوگ مناسک ِ حج ادا کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتے ہیں۔ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ فرمانا چاہتے تھے کہ مہاجر اس مقدار سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتے۔ اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ جو لوگ فتح مکہ سے قبل مکہ سے ہجرت کر کے چلے گئے تھے، ان کے لیے مکہ میں اقامت اختیار کرنا حرام تھا، البتہ حج اور عمرہ کے ارادے سے آ سکتے تھے، لیکن ان کو بھی فراغت کے بعد صرف تین دنوں تک اس شہر میں رہنے کی رخصت تھی، اس سے زیادہ وہ نہیں رہ سکتے تھے۔ ہمارا مقصود یہ ہے کہ یہی مہاجرین حجۃ الوداع کے موقع پر دس دنوں تک مکہ مکرمہ میں رہے، اگر منی، عرفات اور مزدلفہ وغیرہ کو علیحدہ سفر تسلیم کیا جائے تو وہ چار ذوالحجہ سے آٹھ ذوالحجہ تک تو مکہ مکرمہ میں ہی رہے اور قصر کرتے رہے، لیکن ان کا مقصد ادائیگی ٔ حج تھا ، جو ابھی تک ادا نہیں ہوا تھا، اس لیے ان کو مسافر ہی سمجھا گیا، اور یہی صحابہ کرام فتح مکہ کے موقع پر انیس دنوں کے لیے اسی شہر میں رہے، لیکن ان کے لیے اتنی مدت رہنا بھی ضروری تھا۔ جب وہ مناسک ِ حج سے فارغ ہو گئے اور رہنے یا جانے کا اختیار مل گیا تو ان کو صرف تین دنوں کی مہلت دی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اس مدت سے زیادہ مکہ مکرمہ میں رہے تو وہ اس کے مقیم بن جائیں گے اور ان کی ہجرت کالعدم ہو جائے گی۔ اس کا مفہومیہ ہوا کہ کسی عذر یا مجبوری کی بنا پر کسی علاقے میں ٹھہرنا اور بات ہے اور اختیاری طور پر قیام کرنا اور بات ہے، اِ ن دونوں حالتوں پرمختلف احکام مرتّب ہوں گے۔ مہاجر صحابی سیّدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حجۃ الوداع کے موقع پر بیمار ہو گئے اور ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ فوت ہو جائیں گے، … …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِیْ ھِجْرَتَھُمْ، وَلَا تَرُدَّھُمْ عَلٰی أَعْقَابِھِمْ، لٰکِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔)) یَرْثِیْ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تُوُفِّیَ بِمَکَّۃَ)) … اے اللہ! میرے صحابہ کے لیے ان کی ہجرت کو جاری کر دے اور ان کو ان کی ایڑھیوں کے بل نہ لوٹا دے، لیکن بے چارہ سعد بن خولہ۔ (آخری جملے میں) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وجہ سے غم کا اظہار کر رہے ہیں کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔ اس حدیث کا حکم صرف ان صحابہ کے لیے تھا، جو اللہ تعالی کے لیے مکہ مکرمہ کو چھوڑ گئے تھے، فتح مکہ کے بعد تو اس شہر سے ہجرت کر جانے کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ ایک مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی شہر سے اسی طرح ہجرت کرتا ہے، جیسے صحابۂ کرام نے مکہ مکرمہ سے کی تھی اور پھر وہی شہر دار الاسلام بن جاتا ہے تو کیا وہ شخص اس شہر میں اقامت اختیار کر سکتا ہے؟ ظاہر بات تو یہی ہے کہ جو آدمی اللہ تعالی کے لیے کسی شہر سے ہجرت کر جائے، اس کو دوبارہ وہاں بسیرا نہیں کرنا چاہیے، واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید کرنا درست ہے کہ اگر کوئی آدمی گھر سے دور کسی مقام پر اختیاری طور پر تین سے زیادہ دنوں تک قیام کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مقیم سمجھے اور پوری نماز پڑھے، واللہ اعلم بالصواب۔اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر (۲۳۷۶) اور اس کے فوائد دیکھیں۔
4579
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.