TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے

Chapter 37 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 37 of 43 · 5 Hadith
۔ (۱۳۰۲۳)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا ہُشَیْمٌ اَنَا الْعَوَّامُ عَنْ جَبْلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ عَنْ مُؤَثِّرِ بْنِ عَفَازَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَقِیْتُ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ اِبْرَاہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی قَالَ: فَتَذَاکَرُوْا اَمْرَ السَّاعَۃِ فَرَدُّوْا اَمْرَھُمْ اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِہَا فَرَدُّوْا الْاَمْرَ اِلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِہَا، فَرَدُّوْا الْاَمْرَ اِلٰی عِیْسٰی، فَقَالَ: اَمَّا وَجَبَتُہَا فَلَایَعْلَمُہَا اَحَدٌ اِلَّا اللّٰہُ ذٰلِکَ وَفِیْمَا عَہِدَ اِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ: وَمَعِیْ قَضِیْبَانِ، فَاِذَا رَآنِیْ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الرَّصَّاصُ قَالَ: فَیُہْلِکُہُ اللّٰہُ حَتّٰی اَنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَیَقُوْلُ: یَا مُسْلِمُ! اِنَّ تَحْتِیْ کَافِرًا، فَتَعَالَ فَاقْتُلْہُ، قَالَ: فَیُہْلِکُہُمُ اللّٰہُ ثُمَّ یَرْجِعُ النَّاسُ اِلٰی بِلَادِھِمْ وَاَوْطَانِہِمْ قَالَ: فَعِنْدَ ذٰلِکَ یَخْرُجُیَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَھُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُوْنَ، فَیَطَئُوْنَ بِلَادَھُمْ وَھُمْ لَا یَاْتُوْنَ عَلٰی شَیْئٍ اِلَّا اَھْلَکُوْہُ وَلَایَمُرُّوْنَ عَلٰی مَائٍ اِلَّا شَرِبُوْہُ ثُمَّ یَرْجِعُ النَّاسُ اِلَیَّ فَیَشْکُوْنَہُمْ، فَاَدْعُوْ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ فَیُہْلِکُہُمُ اللّٰہُ وَیُمِیْتُہُمْ حَتّٰی تَجْوَی الْاَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِیْحِہِمْ، قَالَ: فَیُنْزِلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْمَطَرَ فَتَجْرِفُ اَجْسَادَھُمْ حَتّٰییَقْذِفَہُمْ فِی الْبَحْرِ۔)) قَالَ اَبِیْ: ذَھَبَ عَلَیَّ ھٰہُنَا شَیْئٌ لَمْ اَفْہَمْہُ، کَاَدِیْمٍ وَقَالَ یَزِیْدُ: یَعْنِی ابْنَ ھٰرُوْنَ: ثُمَّ تَنْسِفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الْاَرْضُ مَدَّ الْاَدِیْمِ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی حَدِیْثِ ہُشَیْمٍ قَالَ: فَفِیْمَا ((عَہِدَ اِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اِنَّ ذٰلِکَ اِذَا کَانَ کَذٰلِکَ فَاِنَّ السَّاعَۃَ کَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِیْ لاَ یَدْرِیْ اَھْلُہَا مَتٰی تَفْجَؤُھُمْ بِوِلَادِھَا لَیْلًا اَوْ نَہَارًا۔)) (مسند احمد: ۳۵۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰR سے میری ملاقات ہوئی، جب انہوں نے قیامت کا ذکر کیا تو سب نے بات کو ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹایا، لیکن انہوں نے فرمایا: مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں ہے،پھر انھوں نے بات کو موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا، لیکن انہوں نے بھی فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں ہے، اور انہوں نے اس معاملے کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ڈال دیا، انہوں نے کہا: جہاں تک قیامت کے واقع ہونے کی بات ہے، تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ میرے ربّ نے مجھے بتایا تھا کہ قیامت سے پہلے دجال کا ظہور ہوگا، (جب میں عیسی کا نزول ہو گا تو) میرے پاس دو لاٹھیاں (یا تلواریں) ہوں گی، وہ جب مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا، جیسے تانبا پگھلتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دے گا، یہاں تک ہر پتھر اور درخت بول کر کہے گے: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ کافر چھپا ہوا ہے،آکر اسے قتل کر دو، اس طرح اللہ تعالیٰ انہیں نیست و نابود کر دے گا، اس کے بعد لوگ اپنے اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے، بعد ازاں یا جوج و ماجوج کا ظہور ہوگا اور وہ ہر بلندی کی طرف سے نکل آئیں گے اور آکر لوگوں کے شہروں پر چھا جائیں گے، وہ جس چیز پر بھی پہنچیں گے، اسے ختم کر دیں گے، وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے، اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ ان کی شکایت کرنے کے لیے میرے پاس آئیں گے، میں اللہ تعالیٰ سے ان پر بد دعا کروں گا، پس اللہ تعالیٰ ان کو ختم کر دے گا اور ان کے اجسام کی بو سے پوری روئے زمین بدبودار ہوجائے گی، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو ان کے اجسام کو بہا کر سمندر میں جا ڈال دے گی۔ امام احمد کہتے ہیں: یہاں حدیث کا بعض حصہ مجھے سمجھ نہ آ سکا، ابن ہارون نے یوں بیان کی: پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ ہشیم کی روایت کی طرف لوٹ آئے او رکہا: (عیسیٰ علیہ السلام کہیں کے کہ) میرے رب نے مجھ سے جو کچھ کہا اس میں یہ بھی ہے کہ جب اس قسم کے حالات پیدا ہوجائیں گے تو قیامت کسی بھی وقت آسکتی ہے، بالکل اس طرح جیسے مدت پوری کر لینے والی حاملہ خاتون کی ہوتی ہے کہ اس کے گھر والوں کو کوئی علم نہیں ہوتا کہ دن یا رات کے کس وقت میں وہ اچانک بچہ پیدا کر دے گی۔
Takhreej
(۱۳۰۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، مؤثر بن عفازۃ لم یوثقہ غیر ابن حبان والعجلی، فھو فی عداد المجاھیل، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۸۱(انظر: ۳۵۵۶)
13023
Zaeef
۔ (۱۳۰۲۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ لَیَحْفِرَنَّ السَّدَّ کُلَّ یَوْمٍ حَتّٰی اِذَا کَادُوْایَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ: اِرْجِعُوْا فَسَتَحْفِرُوْنَہُ غَدًا، فَیَعُوْدُوْنَ اِلَیْہِ کَاَشَدِّ مَاکَانَ، حَتّٰی اِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُہُمْ وَاَرَادَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اَنْ یَبْعَثَہُمْ اِلٰی النَّاسِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: عَلٰی النَّاسِ) حَفَرُوْاحَتّٰی اِذَا کَادُوْا یَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِیْ عَلَیْہِمْ: اِرْجِعُوْا فَسَتَحْفِرُوْنَہُ غَدًا اِنْ شَائَ اللّٰہُ وَیَسْتَثْنِیْ فَیَعُوْدُوْنَ اِلَیْہِ وَھُوَ کَہَیْئَتِہِ حِیْنَ تَرَکُوْہُ، فَیَحْفِرُوْنَہُ وَیَخْرُجُوْنَ عَلٰی النَّاسِ فَیَنْشِفُوْنَ الْمِیَاہَ وَیَتَحَصَّنَ النَّاسُ مِنْہُمْ فِیْ حُصُوْنِہِمْ، فَیَرْمُوْنَ بِسِہَامِہِمْ اِلٰی السَّمَائِ فَتَرْجِعُ وَعَلَیْہَا کَہَیْئَۃِ الدَّمِّ، فَیَقُوْلُوْنَ: قَہَرْنَا اَھْلَ الْاَرْضِ وَعَلَوْنَا اَھْلَ السَّمَائِ، فَیَبْعَثُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ نَغَفًا فِیْ اَقْفَائِہِمْ فَیَقْتُلُہُمْ بِہَا۔))فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ! اِنَّ دَوَابَّ الْاَرْضِ لَتَسْمَنُ (وَتَشْکَرُ) شَکَرًا مِنْ لُحُوْمِہِمْ وَدِمَائِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۴۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج روزانہ دیوار کو کھودتے ہیں، جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا امیر کہتا ہے: واپس چلو، کل تم اسے کھود لو گے، لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو وہ دیوارپہلے سے بھی زیادہ سخت ہوچکی ہوتی ہے، (ہر روز یہی کچھ ہوتا ہے) حتی تک جب ان کا مقررہ وقت پورا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کر لے گا کہ وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں، تو اسی طرح کھودنا شروع کریں گے، جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوگا تو اس بار ان کا امیر ان سے کہے گا: واپس چلو، اگر اللہ نے چاہا تو باقی کل کھود لیں گے، اس دفعہ وہ ان شاء اللہ کہے گا، دوسرے دن جب وہ وہاں آئیں گے تو اسے اسی حالت میں پائیں گے، جس میں چھوڑ کر گئے ہیں، چنانچہ وہ اسے کھود لیں گے اور لوگوں کی طرف نکل جائیں گے، وہ سارے پانیوں کو چوس جائیں گے اور لوگ ان سے ڈر کر اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے،(زمین پر قبضہ جما لینے کے بعد) یاجوج ماجوج آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے، وہ تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں گے، یہ دیکھ کروہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی اور آسمان والوں پر بھی غالب آگئے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، جس کی وجہ سے وہ مر جائیں گے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کے گوشت اور خون کھا کھا کر زمین کے جانور خوب موٹے تازے ہوجائیںگے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۳۱۵۳،و ابن ماجہ: ۴۰۸۰(انظر: ۱۰۶۳۲)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ لکھتے ہیں: حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث ذو القرنین اور یاجوج و ماجوج کے قصے میں اس آیت کے ضمن میں ذکر کی ہے: {فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ یَّظْہَرُوْہُ وَ مَااسْتَطَاعُوْالَہٗ نَقْبًا} (سورۂ کہف: ۹۷)… پس نہ تو ان (یاجوج ماجوج) میں اس دیوار پر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔ پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔ میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶)… یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
13024
Sahih
۔ (۱۳۰۲۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا وُھَیْبٌ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ طَاؤُوْسٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فُتِحَ الْیَوْمُ مِنْ رَدْمِ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ مِثْلُ ہٰذَا۔)) وَعَقَدَ وُھَیْبٌ تِسْعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۸۴۸۲)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے۔ وضاحت کرنے کے لیے حدیث کے راوی وہیب نے نوے (۹۰) کی گرہ لگائی۔
Takhreej
(۱۳۰۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۴۷، ۷۱۳۶، ومسلم: ۳۸۸۱ (انظر: ۸۵۰۱)
Explanation
فوائد:… عربوں کے ہاں نوے (۹۰) کی گرہ یہ ہے: انگشتِ شہادت کا سرا انگوٹھے کی جڑ پر رکھیں پھر انگوٹھے کو انگلی کے ساتھ ملا دیں ( کہ اندر گول دائرے کا سوراخ بن جائے)۔اگر دوسری روایات کو دیکھا جائے تو اس سوراخ سے مراد ان کے فتنے کا قریب ہونا ہے۔
13025
Sahih
۔ (۱۳۰۲۶)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُفْتَحُیَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ، یَخْرُجُوْنَ عَلٰی النَّاسِ کَمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} فَیُغَشُّوْنَ الْاَرْضَ وَیَنْحَازُ الْمُسْلِمُوْنَ عَنْہُمْ اِلٰی مَدَائِنِہِمْ وَحُصُوْنِہِمْ وَیَضُمُّوْنَ اِلَیْہِمْ مَوَاشِیَہُمْ وَیَشْرَبُوْنَ مِیَاہَ الْاَرْضِ، حَتّٰی اِنَّ بَعْضَہُمْ لَیَمُرُّ بِالنَّہْرِ فَیَشْرَبُوْا مَا فِیْہِ حَتّٰییَتْرُکُوْہُیَبَسًا، حَتّٰی اِنَّ مَنْ بَعْدَھُمْ لَیَمُرُّ بِذٰلِکَ النَّہْرِ، فَیَقُوْلُ: قَدْ کَانَ ہٰہُنَا مَائٌ مَرَّۃً حَتّٰی اِذَا لَمْ یَبْقَ مِنَ النَّاسِ اِلَّا اَحَدٌ فِیْ حِصْنٍ اَوْ مَدِیْنَۃٍ، قَالَ قَائِلُہُمْ: ھٰؤُلَائِ اَھْلُ الْاَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْھُمْ، بَقِیَ اَھْلُ السَّمَائِ قَالَ: ثُمَّ یَہُزُّ اَحَدُھُمْ حَرْبَتَہُ ثُمَّ یَرْمِیْ بِہَا اِلٰی السَّمَائِ، فَتَرْجِعُ مُخْتَضِبَۃً دَمًا لِلْبَلَائِ وَالْفِتْنَۃِ، فَبَیْنَاھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ اِذْ بَعَثَ اللّٰہُ دُوْدًا فِیْ اَعْنَاقِہِمْ کَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِیْیَخْرُجُ فِیْ اَعْنَاقِہِمْ، فَیُصْبِحُوْنَ مَوْتٰی لَایُسْمَعُ لَھُمْ حِسٌّ، فَیَقُوْلُ الْمُسْلِمُوْنَ: اَلَارَجُلٌ یَشْرِیْ نَفْسَہُ فَیَنْظُرُ مَا فَعَلَ ہٰذَا الْعَدُوُّ، قَالَ: فَیَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْہُمْ لِذٰلِکَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِہِ قَدْ اَظَنَّہَا عَلٰی اَنَّہُ مَقْتُوْلٌ فَیَنْزِلُ فَیَجِدُھُمْ مَوْتٰی، بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ، فَیُنَادِیْ: یَامَعْشَرَ الْمُسْلِمین! اَلَا اَبْشِرُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ کَفَاکُمْ عَدُوَّکُمْ فَیَخْرُجُوْنَ مِنْ مَدَائِنِہِمْ وَحُصُوْنِہِمْ وَیَسْرَحُوْنَ مَوَاشِیَہُمْ فَمَا یَکُوْنُ لَھَا رَعًی اِلَّا لُحُوْمُہُمْ فَتَشْکَرُ عَنْہُ کَاَحْسَنِ مَا تَشْکرُ عَنْ شَیْئٍ مِنَ النَّبَاتِ اَصَابَتْہُ قَطُّ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۵۴)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالآخر یاجوج ماجوج کے لیے دیوار کھول دی جائے گی اور وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (سورۂ انبیائ: ۹۶) (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)، وہ زمین پر چھا جائیں گے، مسلمان ان کے شر اور فتنوں سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور قلعوں میں بند ہوجائیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے، یاجوج ماجوج زمین سے اس قدر پانی پئیں گے کہ جب ان میں سے بعض افراد پانی کی نہرکے پاس سے گزریں گے، تو اس طرح پانی پی جائیں گے کہ نہر خشک ہو جائے گی، ان کے بعد گزرنے والے اس نہر کے بارے میں یہ کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی ہوتا تھا،جب ہر آدمی اپنے قلعے یا شہر میں بند ہو جائے گا (اور زمین پر ان کا مکمل قبضہ ہو جائے گا تو) وہ یاجوج ماجوج میں سے ایک فرد کہے گا: ہم اہل زمین سے تو فارغ ہوگئے ہیں، البتہ آسمان والے باقی ہیں، پھر ان میں سے ایک اپنے نیزے کو حرکت دے کر آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ نیزہ ان کے امتحان و آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر واپس گرے گا۔ ( یہ دیکھ کر وہ کہیں گے کہ ہم آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے ہیں)۔ وہ اسی قسم کی کیفیات میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کردے گا، جیسے ٹڈی دل کا لاروا ان کی گردنوں میں ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ سارے اس طرح مر جائیں گے کہ ان کی حرکت تک بھی سنائی نہیں دے گی، مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا کوئی ایسا فرد ہے جو اپنے آپ کو قربان کرے اور یہ خبر لائے کہ یاجوج ماجوج کا کیا بنا ہے، ایک مسلمان دشمن کے حالات کو دیکھنے کے لیے اس خیال سے جائے گا کہ وہ وہاں قتل ہوجائے گا، لیکن جب وہ ان کے درمیان پہنچے گا تو دیکھے گا کہ وہ تو سب ایک دوسرے کے اوپر گرے مرے پڑے ہیں، وہ مسلمانوں کو آواز دے گا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کا صفایا کر دیا ہے، پھر مسلمان اپنے شہروں ور قلعوں سے باہر نکل آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیں گے، ان مویشیوں کی خوراک یاجوج ماجوج کا گوشت ہوگا، وہ اس سے پہلے کبھی گھاس کھا کھا کر اس قدر سیر نہیں ہوئے ہوں گے، جس قدر ان کا گوشت کھا کر سیر ہوں گے۔
Takhreej
(۱۳۰۲۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۷۹ (انظر: ۱۱۷۳۱)
13026
Sahih
۔ (۱۳۰۲۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیُحَجَّنَّ الْبَیْتُ وَلَیُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوْجِ یَاْجُوْجَ وَمَاْجُوْجَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کے ظہور کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۹۳(انظر: ۱۱۲۱۷)
13027
Sahih

Chapters

43
01
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان
10 Hadith
02
امت ِ محمدیہ کا فرقوں میں تقسیم ہوجانے کا بیان
9 Hadith
03
مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کا بیان
6 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو فتنوں کے دور میں ان سے اجتناب کرنے کی وصیت کرنے اور اس وقت کی خیر والی چیز کی رہنمائی کرنے کا بیان
18 Hadith
05
اس جہت کا ذکر جدھر سے فتنے آئیں گے، نیز خوارج‘ حروریہ اور روافض کا بیان
5 Hadith
06
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
4 Hadith
07
روافض کا بیان
1 Hadith
08
قیامت سے پہلے تیس جھوٹوں کے ظہور کا بیان، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، ان میں سے ایک مسیلمہ کذاب ہے
3 Hadith
09
قیامت کے قائم ہونے تک پے درپے آنے والے ان فتنوں کا بیان، جن کے باقاعدہ نام رکھے گئے ہیں
20 Hadith
10
ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
19 Hadith
11
ذِمِّی لوگوں کا جزیہ کی ادائیگی بند کر دینے کا بیان
3 Hadith
12
فتنوں سے متعلقہ سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایات
8 Hadith
13
وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
15 Hadith
14
اس سلسلے میں سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی احادیث
4 Hadith
15
اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
10 Hadith
16
قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
4 Hadith
17
امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
8 Hadith
18
امام مہدی کی بیعت اور ان کے مخالفین کا زمین میں دھنسنے کا بیان
6 Hadith
19
جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
9 Hadith
20
ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
4 Hadith
21
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
2 Hadith
22
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
4 Hadith
23
دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
2 Hadith
24
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
25
ابن صیاد کی جرأت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس کو قتل کرنے کے ارادہ کرنے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کو اس سے منع کر دینے کا بیان
4 Hadith
26
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
3 Hadith
27
ابن صیاد کی چالاکی اور اس بات کا انکار کہ وہ دجال ہے
2 Hadith
28
ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
5 Hadith
29
دجال کے ظہور سے تین سال پہلے لوگوں پر پڑنے والی مشکلات اور اس کے ظہور کے بعد ان کے ساتھ اس کے سلوک کا بیان
2 Hadith
30
فتنہ دجال کے بڑے ہونے اور اس کے ظہور کی علامتوں کا بیان
5 Hadith
31
دجال کے مقام کے تعین اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے سے اس کے موجود ہونے کا بیان
2 Hadith
32
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
24 Hadith
33
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
6 Hadith
34
دجال کے ظہور کے بعد اس کی زمین پر قیام کی مدت، اس کا خضر نامی مومن کو قتل کر کے پھر زندہ کرنے اور اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے پر اس قسم کا تسلط نہ ہونے اور اس کے ہلاک ہو جانے کا بیان
4 Hadith
35
ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
4 Hadith
36
اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونے، دجال کو قتل کرنے ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کرنے ، زمین میں چالیس برس تک قیام کرنے، پھر ان کے وفات پانے اور مسلمانوں کا ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
7 Hadith
37
یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
5 Hadith
38
یاجوج و ماجوج کے حلیے کا بیان
1 Hadith
39
سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
9 Hadith
40
چوپائے کا ظہور
3 Hadith
41
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
3 Hadith
42
کعبہ کا منہدم ہونااور جشیوں کے ہاتھوں اس کے خزانوں کو نکالا جانا
5 Hadith
43
لوگوں کا زمین میں دھنسا یا جانا اور لوگوں کاکثرت سے بے ہوش ہونا
10 Hadith
No chapter matched that.