TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2973 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
قارن کے طواف کا بیان
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَشْعَثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏طَافَ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ طَوَافًا وَاحِدًا .
It was narrated from Jabir that the Prophet (ﷺ) performed one Tawaf for Hajj and ‘Umrah.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی طواف کیا۔
2973
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 25, Hadith 2973 Arabic reference : Book 25, Hadith 3087
Conclusion
تخریج
«تفردبہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۶۶۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۸۷)

Related Chapters

111
1
Chapter: What Has Been Related About: The Qarin Performs One Tawaf
باب: قارن کے ایک ہی طواف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
باب: قارن کے طواف کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
Chapter: What Has Been Related About How To Perform Tawaf
باب: طواف کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Prophet While Performed Tawaf Mudtabi'an
باب: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Riding For Tawaf
باب: سواری پر طواف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Tawaf
باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Salat After Asr (And After Subh) Regarding One Who Performed Tawaf
باب: طواف کے بعد کی دو رکعت کو عصر کے بعد اور فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About What It To Be Recited During The Two Rak'ah (After) Tawaf
باب: طواف کی دو رکعت میں کون سی سورت پڑھے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Perform Tawaf While Naked
باب: ننگے طواف کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Using Perfume When Ending Ihram Before The Visiting
باب: طواف زیارت سے پہلے احرام کھولتے وقت خوشبو لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Visiting Tawaf During The Night
باب: طواف زیارت رات میں کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About A Woman Whose Menses Begin After Al-Ifadah
باب: طواف افاضہ کے بعد عورت کو حیض آ جائے تو کیا ہو گا؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Whoever Performs Hajj Or Umrah Them Let The Last Of His Acts Be At The House
باب: حج یا عمرہ کرنے والے کا آخری کام بیت اللہ (کعبہ) کا طواف ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Talking During Tawaf
باب: طواف کرتے وقت بات چیت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
بَاب دُخُول مَكَّة وَالطّواف
مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کے آداب کا بیان
Mishkat
16
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
Musnad Ahmad
17
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
Musnad Ahmad
18
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
Musnad Ahmad
19
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
20
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
Musnad Ahmad
21
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
22
حج افراد کرنے والے کا طواف
Musnad Ahmad
23
حج قران کرنے والے کا طواف
Musnad Ahmad
24
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
Musnad Ahmad
25
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
27
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
Musnad Ahmad
28
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
29
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
Musnad Ahmad
30
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
31
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
Musnad Ahmad
32
(7) CHAPTER. A menstruating woman should perform all the ceremonies of Hajj except the Tawaf around the Kabah.
اس بارے میں کہ حائضہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج کے باقی ارکان پورا کرے گی
Sahih Bukhari
33
(27) CHAPTER. If a woman gets her menses after Tawaf-al-Ifada.
جو عورت ( حج میں ) طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو ( اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
34
(56) CHAPTER. The touching (and kissing) of the Black Stone on reaching Makkah during the first round of Tawaf of the Kabah, and doing Ramal in the first three rounds (of Tawaf).
جب کوئی مکہ میں آئے تو پہلے حجراسود کو چومے طواف شروع کرتے وقت اور تین پھیروں میں رمل کرے
Sahih Bukhari
35
(63) CHAPTER. Whoever performed Tawaf of the Kabah on reaching Makkah before going to his house then offered two Raka and then went towards As-Safa.
جو شخص ( حج یا عمرہ کی نیت سے ) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے
Sahih Bukhari
36
(64) CHAPTER. The Tawaf of women and men.
عورتیں بھی مردوں کے ساتھ طواف کریں
Sahih Bukhari
37
(65) CHAPTER. The permissibility of talking during the Tawaf of the Kabah.
طواف میں باتیں کرنا
Sahih Bukhari
38
(66) CHAPTER. Whoever saw a string or something like that during the Tawaf and disliked it and cut it.
جب طواف میں کسی کو باندھا دیکھے یا کوئی اور مکروہ چیز تو اس کو کاٹ سکتا ہے
Sahih Bukhari
39
(67) CHAPTER. It is neither permissible for a naked person to perform Tawaf of the Kabah nor for a Mushrik [polytheist, pagan, idolater, and disbeliever in the Oneness of Allah and in His Messenger Muhammad ] to perform Hajj.
بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا آدمی نہیں کر سکتا اور نہ کوئی مشرک حج کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
40
(69) CHAPTER. The Prophet offered a two Raka prayer after his seven round (of Tawaf of the Kabah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کے ساتھ چکروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنا
Sahih Bukhari
41
(70) CHAPTER. Whoever did not go near the Kabah and did not perform Tawaf of the Kabah after the first Tawaf performed on entering Makkah to till he proceeded to Arafat and returned.
جو شخص پہلے طواف یعنی طواف قدوم کے بعد پھر کعبہ کے نزدیک نہ جائے اور عرفات میں حج کرنے کے لیے جائے
Sahih Bukhari
42
(71) CHAPTER. Whoever offered two Raka prayer of Tawaf outside the mosque.
اس شخص کے بارے میں جس نے طواف کی دو رکعتیں مسجدالحرام سے باہر پڑھیں
Sahih Bukhari
43
(72) CHAPTER. Whoever offered the two Raka (prayer) of Tawaf behind Maqam-Ibrahim (place of Abraham).
اس سے متعلق کہ جس نے طواف کی دو رکعتیں مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھیں
Sahih Bukhari
44
(73) CHAPTER. To perform Tawaf (of the Kabah) after the morning and Asr prayer.
صبح اور عصر کے بعد طواف کرنا
Sahih Bukhari
45
(74) CHAPTER. A sick person may perform Tawaf (of the Kabah) while riding.
مریض آدمی سوار ہو کر طواف کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
46
(77) CHAPTER. Tawaf of AI-Qarin.
قران کرنے والا ایک طواف کرے یا دو کرے
Sahih Bukhari
47
(78) CHAPTER. Tawaf with ablution.
۔ ( کعبہ کا ) طواف وضو کر کے کرنا
Sahih Bukhari
48
(81) CHAPTER. A menstruating woman can perform all the ceremonies of Hajj except Tawaf of the Kabah. (What is said) regarding the performance of Tawaf [Sa'y (going)] between As-Safa and Al-Marwa without ablution?
حیض والی عورت بیت اللہ کے طواف کے سوا تمام ارکان بجا لائے
Sahih Bukhari
49
(129) CHAPTER. The visit [(of the Kabah) to perform Tawaf-al-Ifada] on the Day of Nahr.
دسویں تاریخ میں طواف الزیارۃ کرنا
Sahih Bukhari
50
(143) CHAPTER. To perfume oneself after doing Ramy of the Jimar and to have one's head shaved before Tawaf-al-Ifada.
رمی جمار کے بعد خوشبو لگانا اور طواف الزیارۃ سے پہلے سر منڈانا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,267
Jam e Tirmazi
886
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَبِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَزَادَ فِيهِ بِشْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لَعَلِّي:‏‏‏‏ لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Jabir narrated: The Prophet hurried through Wadi Muhassir. Bishr (one of the narrators) added: He departed from Jam calmly and he ordered them (the people) to be calm. And Abu Nu'aim (one of the narrators) added: And he ordered them to do the stoning with what was similar to pebbles for Al-Khadhf' And he said: Perhaps I will not see you after this year.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی محسر میں تیز چال چلے۔ ( بشر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ) آپ مزدلفہ سے لوٹے، آپ پرسکون یعنی عام رفتار سے چل رہے تھے، لوگوں کو بھی آپ نے سکون و اطمینان سے چلنے کا حکم دیا۔ ( اور ابونعیم کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ نے انہیں ایسی کنکریوں سے رمی کرنے کا حکم دیا جو دو انگلیوں میں پکڑی جا سکیں، اور فرمایا: ”شاید میں اس سال کے بعد تمہیں نہ دیکھ سکوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Sunnan Abu Dawood
281
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا أَمَرَتْ أَسْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَسْمَاءُ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا أَمَرَتْهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ تَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْعُدَ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَقْعُدُ ثُمَّ تَغْتَسِلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ هَذَا فِي حَدِيثِ الْحِفَاظِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مَا ذَكَرَ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى الْحُمَيْدِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ:‏‏‏‏ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَتْ قَمِيرُ بِنْتُ عَمْرٍو زَوْجُ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏الْمُسْتَحَاضَةُ تَتْرُكُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ،‏‏‏‏وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ:‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ،‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شَرِيكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَوْدَةَ اسْتُحِيضَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَتْ أَيَّامُهَا، ‏‏‏‏‏‏اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ قُرْئِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَطَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْقِلٌ الْخَثْعَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَذَلِكَ رَوَى الشَّعْبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطَاء، ‏‏‏‏‏‏وَمَكْحُولٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا.
Urwah bin al-Zubair said: Fatimah daughter of Abu Hubaish narrated to me that she asked Asma (daughter of Abu Bakr), or Asma narrated to me that Fatimah daughter of Abu Hubaish asked her to question the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He advised her to refrain (from prayer) equal to the period she refrained previously. She then should wash herself. 1 Abu Dawud said: Qatadah narrated it from Urwah bin al-Zubair, from Zainab daughter of Umm Salamah, that Umm Habibah daughter of Jahsh had a prolonged flow of blood. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم commanded her to abandon prayer for the period of her menses. She then should take a bath, and offer prayer. Abu Dawud said: Qatadah did not hear anything from Urwah. 2 And Ibn Uyainah added in the tradition narrated by al-Zuhri from Umrah on the authority of Aishah. Umm Habibah had a prolonged flow of blood. She asked the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He commanded her to abandon prayer during her menstrual period. Abu Dawud said: This is a misunderstanding on the part of Ibn Uyainah. This is not found in the tradition reported by the transmitter from al-Zuhri except that mentioned by Suhail bin Abu Salih. Al-Humaidi also narrated this tradition from Ibn Uyainah, but he did not mention the words she should abandon prayer during her menstrual period. 1 Qumair daughter of Masruq reported on the authority of Aishah: The woman who has prolonged flow of blood should abandon prayer during her menstrual period. 3 Abdur-Rahman bin al-Qasim reported on the authority of his father: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم commanded her to abandon prayers equal (to the length of time) that she has her (usual) menses. 2 Abu Bishr Jafar bin Abi Wahshiyyah reported on the authority of Ikrimah from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم saying: Umm Habibah daughter of Jahsh had a prolonged flow of blood; and he transmitted like that. 1 Sharik narrated from Abu al-Yaqzan from Adi bin Thabit from his father on the authority of his grandfather from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم: The woman suffering from a prolonged flow of blood should abandon prayer during her menstrual period ; she then should was herself and pray. 1 Al-'Ala bin al-Musayyab reported from al-Hakam on the authority of Abu Jafar, saying: Saudah had a prolonged flow of blood. The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم commanded that when he menstruation was finished, she should take bath and pray. 1 Saeed bin Jubair reported from Ali and Ibn Abbas: A woman suffering from a prolonged flow of blood should refrain from prayers during her menstrual period. 1 Ammar, the freed slave of Banu Hashim and Talq bin Habib narrated in a similar way. 1 Similarly, it was reported by Maqil al-Khath'ami from Ali4, al-Shabi also transmitted it in a similar manner from Qumair, the wife of Masruq, on the authority of Aishah. 1 Abu Dawud said: Al-Hasan, Saeed bin al-Musayyab, Ata, Makhul, Ibrahim, Salim and al-Qasim also hold that a woman suffering from a prolonged flow of blood should abandon prayer during her menstrual period. Abu Dawud said: Qatadah did not hear anything from Urwah.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا کو حکم دیا، یا اسماء نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کو فاطمہ بنت ابی حبیش نے حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( استحاضہ کے خون کے بارے میں ) دریافت کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جتنے دن وہ ( حیض کے لیے ) بیٹھتی تھیں بیٹھی رہیں، پھر غسل کر لیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے قتادہ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض میں نماز چھوڑ دیں، پھر غسل کریں، اور نماز پڑھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتادہ نے عروہ سے کچھ نہیں سنا ہے، اور ابن عیینہ نے زہری کی حدیث میں ( جسے انہوں نے عمرہ سے اور عمرہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ) اضافہ کیا ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کی شکایت تھی، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے، کیونکہ زہری سے روایت کرنے والے حفاظ کی روایتوں میں یہ نہیں ہے، اس میں صرف وہی ہے جس کا ذکر سہیل بن ابی صالح نے کیا ہے، حمیدی نے بھی اس حدیث کو ابن عیینہ سے روایت کیا ہے، اس میں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا ذکر نہیں ہے۔ مسروق کی بیوی قمیر ( قمیر بنت عمرو ) نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی۔ عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ
Jam e Tirmazi
10
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ابْنُ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
Abu Qatadah narrated that : he saw the Prophet urinating while facing the Qiblah. Qutaibah narrated that to us, he said: Ibn Lahi'ah informed us. Jabir's Hadlth about the Prophet is more correct than the Hadith of Ibn Lahi'ah. Ibn Lahi'ah is weak according to the scholars of Hadith. He was graded weak by Yahya bin Sa'eed Al-Qattan, and others, [due to his memorization].
عبداللہ بن لہیعہ نے یہ حدیث ابوالزبیر سے اور ابوالزبیر نے جابر رضی الله عنہ سے کہ ابوقتادہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جابر رضی الله عنہ کی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ حدیث ابن لہیعہ کی حدیث ( جس میں جابر کے بعد ابوقتادہ رضی الله عنہ کا واسطہ ہے ) سے زیادہ صحیح ہے، ابن لہیعہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعیدالقطان وغیرہ نے ان کی حفظ کے اعتبار سے تضعیف کی ہے۔
Jam e Tirmazi
98
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ.
AI-Mughirah bin Shu'bah narrated: I saw the Prophet wiping over the Khuff: on the tops of them.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے ”اوپری حصہ“ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ۲؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
209
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ،‏‏‏‏ عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ آخِرِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُثْمَانَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَأْخُذَ الْمُؤَذِّنُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا وَاسْتَحَبُّوا لِلْمُؤَذِّنِ أَنْ يَحْتَسِبَ فِي أَذَانِهِ.
Uthman bin Abi Al-As narrated: Indeed, amount the last (of orders) Allah's Messenger ordered me with was to employ a Mu'adh-dhin who would not take a wage for his Adhan.
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سب سے آخری وصیت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے یہ کی کہ ”مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، انہوں نے مکروہ جانا ہے کہ مؤذن اذان پر اجرت لے اور مستحب قرار دیا ہے کہ مؤذن اذان اجر و ثواب کی نیت سے دے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
294
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ الْيُمْنَى يَدْعُو بِهَا وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ وَنُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي حُمَيْدٍ،‏‏‏‏ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ يَخْتَارُونَ الْإِشَارَةَ فِي التَّشَهُّدِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَصْحَابِنَا.
Ibn Umar narrated: When the Prophet would sit during the Salat, he would place his right hand on his knee, and raise his finger, the one that is next to the [right] thumb, supplicating with it, and his left hand was spread flat on his left knee.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے ( دائیں ) گھٹنے پر رکھتے اور اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے یعنی اشارہ کرتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے ( بائیں ) گھٹنے پر پھیلائے رکھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن زبیر، نمیر خزاعی، ابوہریرہ، ابوحمید اور وائل بن حجر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اہل علم کا اسی پر عمل تھا، یہ لوگ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کو پسند کرتے اور یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
334
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيطَانِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ:‏‏‏‏ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ قَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الزُّبَيْرِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ تَدْرُسَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الطُّفَيْلِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ.
Mu'adh ibn Jabal narrated: The Prophet liked to perform Salat in Al-Hitan.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باغات میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حیطان سے مراد «بساتین» ”باغات“ ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: معاذ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم حسن بن ابی جعفر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور حسن بن ابی جعفر کو یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
Jam e Tirmazi
554
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا اللُّؤْلُئِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَعْيَنُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ مُعَاذٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ اللَّيْثِ غَيْرَهُ وَحَدِيثُ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثُ مُعَاذٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ . رَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ومالك، ‏‏‏‏‏‏وغير واحد، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ. وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏يقولان:‏‏‏‏ لا بأس أن يجمع بين الصلاتين في السفر في وقت إحداهما
[(Another chain) Qutaibah narrated : this Hadith to us, meaning the Hadith of Mu'adh]
اس سند سے بھی قتیبہ سے یہ حدیث یعنی معاذ رضی الله عنہ کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاذ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- قتیبہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں ہم ان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے لیث سے روایت کیا ہو، ۳- لیث کی حدیث جسے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، اور یزید نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے معاذ سے روایت کی ہے غریب ہے، ۴- اہل علم کے نزدیک معروف معاذ کی ( وہ ) حدیث ہے جسے ابو الزبیر نے ابوالطفیل سے اور ابوالطفیل نے معاذ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۱؎، ۵- اسے قرہ بن خالد، سفیان ثوری، مالک اور دیگر کئی لوگوں نے بھی ابوالزبیر مکی سے روایت کیا ہے، ۶- اور اسی حدیث کے مطابق شافعی کا بھی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ سفر میں دو صلاۃ کو کسی ایک کے وقت میں ملا کر ایک ساتھ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
Jam e Tirmazi
718
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرٍ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ قَوْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏يُصَامُ عَنِ الْمَيِّتِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ عَلَى الْمَيِّتِ نَذْرُ صِيَامٍ يَصُومُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ أَطْعَمَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ سَوَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدٌ هُوَ عِنْدِي ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى.
Ibn Umar narrated that : the Prophet said: Whoever died while he had a month to fast, then a needy person should be fed on his behalf in place of every day.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس حالت میں مرے کہ اس پر ایک ماہ کا روزہ باقی ہو تو اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوف ہے یعنی انہیں کا قول ہے، ۳- اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزے رکھے جائیں گے۔ یہ قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ یہ دونوں کہتے ہیں: جب میت پر نذر والے روزے ہوں تو اس کی طرف سے روزہ رکھا جائے گا، اور جب اس پر رمضان کی قضاء واجب ہو تو اس کی طرف سے مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلایا جائے گا، مالک، سفیان اور شافعی کہتے ہیں کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھے گا۔