TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1239 سنن ابن ماجہ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 4 in this chapter
امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; if he prays standing, then pray standing, and if he prays sitting down then pray sitting down.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد‏» کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
1239
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 5, Hadith 1239 Arabic reference : Book 5, Hadith 1297
Conclusion
تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۹۸۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ۸۲ (۷۳۴)، تقصیر الصلاة ۱۷ (۱۱۱۴)، صحیح مسلم/الصلاة ۱۹ (۴۱۴)، سنن ابی داود/الصلاة ۶۹ (۶۰۳)، مسند احمد (۲/۳۱۴،۲۳۰،۴۱۱،۴۳۸،۴۷۵)، سنن الدارمی/الصلاة ۷۱ (۱۳۵۰)

Related Chapters

1,086
1
(51) CHAPTER. The Imam is appointed to be followed.
امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں
Sahih Bukhari
2
Chapter: If The Imam Experiences An Excuse, From Illness, Or Travelling, Etc. He May Appoint Someone Else To Lead The People In Prayer; The One Who Offers Prayer Behind The Imam Sitting Because He Is Unable To Stand Must Stand If He Is Able To Do So; And The Abrogation Of Sitting Behind A Sitting Imam For Those Who Are Able To Stand
۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں (خلیفہ) مقرر کرنا ا
Sahih Muslim
3
(43) CHAPTER. When the Imam is called for As-Salat (the prayer) while he has in his hands something to eat.
جب امام کو نماز کے لیے بلایا جائے اور اس کے ہاتھ میں کھانے کی چیز ہو تو وہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
4
Chapter: The Congregation Appointing Someone To Lead Them If The Imam Is Delayed And If There Is No Fear Of Negative Repercussions
جب امام کی آمد میں تاخیر ہو جائے اور کسی دوسرے کو آگے کرنے میں فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی کو جماعت کے لیے آگے کر دینا (جائز ہے)
Sahih Muslim
5
Chapter: Give The Shares Of Inheritance To Those Who Are Entitled To Them, And Whatever Is Left Goes To The Closest Male Relative
مقررہ حصے والوں کو انم کے حصےے دو اور جو بچ جائے وہ سب سے قریبی رشتہ رکھنے والے مرد کے لیے ہے
Sahih Muslim
6
امامت کے لیے رعایا میں سے کوئی آگے بڑھ جائے، پھر حاکم آ جائے تو کیا وہ پیچھے ہٹ جائے ؟
Sunnan Nisai
7
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Imam To Specify Himself With Supplications
باب: امام کا دعا کو اپنے لیے خاص کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else About That
باب: امام کی پیروی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Imam Getting Up Forgetfully After Two Rak'ah
باب: امام دو رکعت کے بعد بیٹھنے کے بجائے بھول کر کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About a Man Who Died Before Stipulating The Dowry For Her
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Who Is Placed In Charge During War
باب: جنگ کے لیے امیر مقرر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی ضرورت سے اٹھ کر جائے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Supplicating When One Goes To His Bed
باب: آدمی جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کیا دعا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
14
بَابُ مَا عَلَى الْمَأْمُومِ مِنَ الْمُتَابَعَةِ وَحُكْمِ الْمَسْبُوق
مقتدی کے لیے امام کی متابعت اور مسبوق کے حکم کا بیان
Mishkat
15
تیمم کے لیے وقت کے داخل ہونے کی شرط اور ان چیزوں کا بیان، جن سے تیمم کیا جائے گا
Musnad Ahmad
16
جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے
Musnad Ahmad
17
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
Musnad Ahmad
18
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
Musnad Ahmad
19
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
Musnad Ahmad
20
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
21
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
22
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
23
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
24
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
25
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
26
اس بات کا بیان کہ جب ایک علاقے میں چاند نظر آ جائے اور دوسرے میں نہ آئے تو کیا دوسرے علاقے والوں کے لیے روزہ رکھنا لازم ہو گا یا نہیں؟
Musnad Ahmad
27
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
Musnad Ahmad
28
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
Musnad Ahmad
29
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
Musnad Ahmad
30
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
31
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
Musnad Ahmad
32
لعان کرنے والے میاں بیوی ہمیشہ کے لیے جداہو جاتے ہیں اور مہر عورت کو دیا جائے گا
Musnad Ahmad
33
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
34
(12) CHAPTER. Whoever fixed a special day for giving (a religious talk) to the students.
اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے ) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے ۔
Sahih Bukhari
35
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
36
(35) CHAPTER. Should a day be fixed for women in order to teach them religion (apart from men)?
اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
37
(43) CHAPTER. Receiving an invitation to dinner in the mosque and accepting it.
جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اسے قبول کر لے
Sahih Bukhari
38
(45) CHAPTER. If someone enters a house, should he offer prayers where he likes, or as he is told? And he should not look out to seek information about the place or do spying.
اس بارے میں کہ جب کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو تو کیا جس جگہ وہ چاہے وہاں نماز پڑھ لے یا جہاں اسے نماز پڑھنے کے لیے کہا جائے ( وہاں پڑھے ) اور فالتو سوال و جواب نہ کرے ۔
Sahih Bukhari
39
(46) CHAPTER. About (taking) the mosques in the houses.
اس بیان میں ( کہ بوقت ضرورت ) گھروں میں جائے نماز ( مقرر کر لینا جائز ہے )
Sahih Bukhari
40
(74) CHAPTER. Servants for the mosque.
مسجد کے لیے خادم مقرر کرنا
Sahih Bukhari
41
(48) CHAPTER. If somebody is leading the Salat (prayer) and (in the meanwhile) the first (usual) Imam comes, the Salat is valid whether the former retreats or does not retreat.
ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص ( مقتدیوں میں ملنے کے لیے ) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا ، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے
Sahih Bukhari
42
(69) CHAPTER. Can the Imam depend on the people's saying if he is in doubt (about a certain matter)?
اس بارے میں کہ اگر امام کو شک ہو جائے تو کیا مقتدیوں کی بات پر عمل کر سکتا ہے ؟
Sahih Bukhari
43
(77) CHAPTER. If a person stands by the left side of the Imam, and the Imam draws him to the right from behind, his Salat (prayer) is correct.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی
Sahih Bukhari
44
(95) CHAPTER. Recitation of the Quran (Surat Al-Fatiha) is compulsory for the Imam and the followers, at home and on journey, in all As-Salat (the prayers) whether the recitation is done silently or aloud.
امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا ، حضر اور سفر ہر حالت میں ، سری اور جہری سب نمازوں میں
Sahih Bukhari
45
(158) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) and remembered an urgent matter or necessity and had to pass over the people (to carry out that).
اگر امام لوگوں کو نماز پڑھا کر کسی کام کا خیال کرے اور ٹھہرے نہیں بلکہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا چلا جائے تو کیا ہے
Sahih Bukhari
46
(22) CHAPTER. One Muadh-dhin on Friday.
جمعہ کے لیے ایک مؤذن مقرر کرنا
Sahih Bukhari
47
(38) CHAPTER. If some people leave the Imam during the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer), then the Salat (prayer) of the remaining people and the Imam is permissible.
اگر جمعہ کی نماز میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر چلے جائیں تو امام اور باقی نمازیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی
Sahih Bukhari
48
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: Then when the (Jumuah) Salat (prayer) is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah...” (V.62:10)
اللہ عزوجل کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو اپنے کام کاج کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل ( روزی ، رزق یا علم ) کو ڈھونڈو
Sahih Bukhari
49
(3) CHAPTER. Request of the people to the Imam to offer the Istisqa prayer and invoke Allah for rain during drought.
قحط کے وقت لوگ امام سے پانی کی دعا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں
Sahih Bukhari
50
(22) CHAPTER. The raising of both hands by the Imam during Istisqa while invoking Allah for rain.
امام کا استسقاء میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

15
Sahih Muslim
935
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying: The Imam is appointed to be followed. So recite takbir when he recites it, and bow down when he bows down and when he utters: Allah listens to him who praises Him, say O Allah, our Lord, for Thee be the praise. And when he prays, standing, you should pray standing. And when he prays sitting, all of you should pray sitting.
( ابو علقمہ کے بجائے ) ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے سنا کہ آپﷺ نے فرمایا : ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ، اور جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی سب کے سب بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Sunnan Ibn e Maja
846
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَجْلَانِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا:‏‏‏‏ آمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Imam has been appointed to be followed, so when he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar, when he recites, then listen attentively; when he says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray,[1:7] then say Amin; when he bows then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), then say Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, to You is the praise);” when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then all of you pray sitting down.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «ألله أكبر» کہے تو تم بھی«ألله أكبر» کہو، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو ۱؎، اور «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو آمین کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۲؎۔
Jam e Tirmazi
361
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجُحِشَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا ثُمَّ انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْإِمَامُ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ . حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ جَابِر بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ أَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا لَمْ يُصَلِّ مَنْ خَلْفَهُ إِلَّا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا لَمْ تُجْزِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ.
Anas bin Malik narrated: Allah's Messenger fell from a horse and got injured, so he led Salat sitting and we also offered Salat sitting. When he completed the Salat he said: The Imam is appointed to be followed; when he says the Takbir then say the Takbir, when he bows, then bow, and when he raises his head, then raise your heads. When he says: Sami' Allahu liman hamidah (Allah listens to those who praise him) then say: Rabbana wa lakal-hamd. (O our Lord! And all praise is Yours.) and when he prostrates, then prostrate, and when he performs Salat sitting, then pray sitting altogether.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کو خراش آ گئی ۱؎ تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ہماری طرف پلٹ کر فرمایا: ”امام ہوتا ہی اس لیے ہے یا امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب وہ رکوع کرے، تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم «ربنا لك الحمد‏» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، جابر، ابن عمر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض صحابہ کرام جن میں میں جابر بن عبداللہ، اسید بن حضیر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم وغیرہ ہیں اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ۴- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں، اگر انہوں نے بیٹھ کر پڑھی تو یہ نماز انہیں کافی نہ ہو گی، یہ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ۲؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1238
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَضَرَتَ الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، ‏‏‏‏‏‏فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ .
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) fell from his horse and he suffered some lacerations on his right side. We went to visit him and the time for prayer came. He led us in prayer sitting down, and we prayed behind him sitting down. When he finished the prayer he said: “The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then pray sitting down.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده‏» کہے، تو تم لوگ «ربنا ولك الحمد‏» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
Sahih Muslim
921
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ
Anas b. Malik reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell down from a horse and his right side was grazed. We went to him to inquire after his health when the time of prayer came. He led us in prayer in a sitting posture and we said prayer behind him sitting, and when he finished the prayer hesaid: The Imam is appointed only to be followed; so when he recites takbir, you should also recite that; when he prostrates, you should also prostrate; when he rises up, you should also rise up, and when he said God listens to him who praises Him, you should say: Our Lord, to Thee be the praise, and when he prays sitting, all of you should pray sitting.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر گئے تو آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ، ہم آپ کے ہاں آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، چنانچھ ہم نے ( آپ کے اشارے پر ، حدیث 926 ۔ 928 ) آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، پھر جب آپ نے نماز پوری کی تو فرمایا : ’’امام اسی لیے بنایا گیا کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ، جب وہ ( سر ) اٹھائے تو تم ( سر ) اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده ( اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ) کہے تو تم ربنا لك الحمد ( اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے ) کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
930
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The Imam is appointed, so that he should be followed, so don't be at variance with him. Recite takbir when he recites it; bow down when he bows down and when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the Praise. And when he (the Imam) prostrates, you should also prostrate, and when he says prayer sitting, you should all observe prayer sitting.
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’امام اقتدا ہی کے لیے بنایا گیا ہے ، اس لیے اس کی مخالفت نہ کرو ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده كہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
601
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ .
Anas bin Malik said; The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم rode a horse and was thrown off it and his right was grazed. He then prayed one of the prayers sitting and we prayed one of the prayers sitting, and when he finished he said: the Imam is appointed only to be followed ; so when he prays standing, pray standing, and when he bows, bow; when he raises himself, raise yourselves; when he says “Allah listen to him who praises Him”, “Our Lord! to Thee be the praise”: and when he prays sitting all of you pray sitting.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے پھر اس سے گر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو میں خراش آ گئی جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ نماز آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکو ع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔
Sahih Muslim
932
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ خَشْرَمٍ قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا يَقُولُ: لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ: وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) while teaching us (the principles of faith), said: Do not try to go ahead of the Imam, recite takbir when he recites it. and when he says: Nor of those who err, you should say Amin, bow down when lie bows down, and when he says: Allah listens to him who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be the praise .
اعمش نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے ، فرماتے تھے : ’’ امام سے آگے نہ بڑھو ، جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ ﴿ولا الضالين﴾ کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سمع الله لمن حمده کہے تو تم اللهم ، ربنا لك الحمد کہو ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
972
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَاهِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْفَتَلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّكَ يَا حِطَّانُ أَنْتَ قُلْتَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا قُلْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ أَنَا قُلْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو مُوسَى:‏‏‏‏ أَمَا تَعْلَمُونَ كَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ ؟ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَّمَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ آمِينَ، ‏‏‏‏‏‏يُحِبُّكُمُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُولُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏يَسْمَعُ اللَّهُ لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَتِلْكَ بِتِلْكَ. فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ‏‏‏‏‏‏السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ وَبَرَكَاتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا قَالَ:‏‏‏‏ وَأَشْهَدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَنَّ مُحَمَّدًا.
Narrated Abu Musa al-Ashari: Hittan ibn Abdullah ar-Ruqashi said: Abu Musa al-Ashari led us in prayer. When he sat at the end of his prayer, one of the people said: Prayer has been established by virtue and purity. When Abu Musa returned (from his prayer or finished his prayer), he gave his attention to the people, and said: Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. Which of you is the speaker of such and such words? The people remained silent. He said: You might have said them, Hittan. He replied: I did not say them. I was afraid you might punish me. One of the people said: I said them and I did not intend by them (anything) except good. Abu Musa said: Do you not know how you utter (them) in your prayer? The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم addressed us, and taught us and explained to us our way of doing and taught us our prayer. He said: When you pray a (congregational) prayer, straighten your rows, then one of you should lead you in prayer. When he says the takbir (Allah is Most Great), say the takbir, and when he recites verses Not of those upon whom is Thy anger, nor of those who err (i. e. the end of Surah i. ), say Amin; Allah will favour you. When he says Allah is most great, and bows, say Allah is most great and bow, for the imam will bow before you, and will raise (his head) before you. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: This is for that. When he says Allah listens to the one who praises Him, say: O Allah, our Lord, to Thee be praise, Allah be praised, Allah will listen to you, for Allah, the Exalted, said by the tongue of His Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم: Allah listens to the one who praises Him. When he says Allah is most great and prostrates, say: Allah is most great and prostrate, for the imam prostrates before you and raises his head before you. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: This is for that. When he sits, each one of you should say The adorations of the tongue, all good things, and acts of worship are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allah's mercy and His blessings. Peace be upon us and upon Allah's upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. This version of Ahmad does not mention the words and His blessings nor the phrase and I testify ; instead, it has the words that Muhammad.
حطان بن عبداللہ رقاشی کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ اخیر نماز میں بیٹھنے لگے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: نماز نیکی اور پاکی کے ساتھ مقرر کی گئی ہے تو جب ابوموسیٰ اشعری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور پوچھا ( ابھی ) تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو لوگ خاموش رہے، پھر انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اس اس طرح کی بات کی ہے؟ راوی کہتے ہیں: لوگ پھر خاموش رہے تو ابوموسیٰ اشعری نے کہا: حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے اور میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ مجھے ہی سزا نہ دے ڈالیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ایک دوسرے شخص نے کہا: میں نے کہی ہے اور میری نیت خیر ہی کی تھی، اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اپنی نماز میں کیا کہو؟ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہم کو سکھایا اور ہمیں ہمارا طریقہ بتایا اور ہمیں ہماری نماز سکھائی اور فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا قصد کرو، تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہاری امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا ۱؎ اور جب وہ «الله أكبر» کہے اور رکوع کرے تو تم بھی «الله أكبر» کہو اور رکوع کرو کیونکہ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو گیا ۲؎ اور جب وہ «سمع الله لمن حمده»کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو، اللہ تمہاری سنے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی ارشاد فرمایا ہے «سمع الله لمن حمده»یعنی اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اور جب تکبیر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ اس کے برابر ہو جائے گا، پھر جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو اس کی سب سے پہلی بات یہ کہے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب، بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ و دعائیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں: «وبركاته» کا لفظ نہیں کہا ہے اور نہ ہی «أشهد» کہا بلکہ «وأن محمدا» کہا ہے۔