TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا

Chapter 21 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 22 · 11 Hadith
۔ (۴۲۹۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ): ((صَیْدُ الْبَرِّ لَکُمْ حَلَالٌ، قَالَ سَعِیْدٌ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَالَمْ تَصِیْدُوہُ أَوْ یُصَدْلَکُمْ)) (مسند احمد: ۱۴۹۵۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم احرام کی حالت میں ہو تو تمہارے لیے خشکی کا شکار اس صورت میں حلال ہو گا کہ نہ تو تم خود وہ شکار کرو اور نہ تمہاری خاطر کیا جائے۔
Takhreej
(۴۲۹۵) صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۵۱، والترمذی: ۸۴۶، والنسائی: ۵/ ۱۸۷(انظر: ۱۴۸۹۴)
Explanation
فوائد: …محرِم کے لیے خشکی کے کون سے شکار کا گوشت جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ اس معاملے میں اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک امتیازی قانون بیان کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں دوسری احادیث کے عموم کو خاص کیا جائے گا۔ پچھلے باب کی جن احادیث کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شکار کا گوشت نہیں کھایا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شکار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھلانے کے لیے کیا گیا تھا۔
4295
Sahih
۔ (۴۲۹۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَ: أَحْرَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَّۃِ وَلَمْ یُحْرِمْ أَبُوْ قَتَادَۃَ، قَالَ: وَحُدِّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ عَدُوًّا بِغَیْقَۃَ، فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَبَیْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِی فَضَحِکَ بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ۔ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَاسْتَعَنْتُہُمْ فَأَبَوْا أَنْ یُعِیْنُوْنِی، فَحَمَلْتُ عَلَیْہِ فَاَثْبَتُّہُ فَأَکَلْنَا مِنْ لَحْمِہِ وَخَشِیْنَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ فَرَسِیْ شَأْواً وَأَسِیْرُ شَأْواً، وَلَقِیْتُ رَجُلاً مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَقُلْتُ أَیْنَ تَرَکْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: تَرَکْتُہُ وَہُوَ بِتِعْہِنَ، وَہُوَ مِمَّا یَلِیْ السُّقْیَا، فَأَدْرَکْتُہُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَصْحَابَکَ یُقْرِئُونَکَ السَّلَامَ وَرَحْمَۃَ اللَّٰہِ، وَقَدْ خَشُوْا أَنْ یُقْتَطَعُوْا دُوْنَکَ فَانْتَظِرْہُمْ، قَالَ: فَانْتَظَرَہُمْ، قُلْتُ وَقَدْ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِی مِنْہُ فَاضِلَۃٌ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ((کُلُوْا وَہُمْ مُحْرِمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۳۷)
۔ سیدناعبداللہ بن ابی قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے سال احرام باندھا اور ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ دشمن غیقہ کے مقام پر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روانہ ہوئے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے، جب میں بھی ادھر متوجہ ہوا تو میری نظر ایک جنگلی گدھے پر پڑی، میں نے ان سے مدد چاہی، لیکن انہوں نے شکار کرنے میں میری مدد کرنے سے انکار دیا، بہرحال میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے مار گرایا، ہم نے اس کا گوشت کھایا، لیکن ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم اچک لیے جائیں (یعنی ہماری تعداد تھوڑی ہونے کی وجہ سے دشمن ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے) ، اس لیے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا، میں اپنے گھوڑے کو کچھ دور تک دوڑاتا اور کچھ فاصلے تک آہستہ چلتا، رات کو میری ملاقات بنو غفار کے ایک آدمی سے ہوئی، میں نے اس سے پوچھا: آپ کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کس مقام پر ملاقات ہوئی تھی؟ اس نے بتایا کہ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سقیا کے قریب تَعْھِن کے مقام پر چھوڑا تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس مقام پر پا لیا اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے رفقاء آپ کو سلام اور اللہ کی رحمت پیش کرتے تھے، انہیں اندیشہ تھا کہ دشمن ان پر حملہ نہ کر دے، لہٰذا آپ یہیں ان کا انتظار کریں، چنانچہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں ان کا انتظار کیا اور میں نے عرض کیا: میں نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا تھا، میرے پاس اس کا ایک عضو باقی بچا ہوا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھالو۔ جبکہ وہ محرم تھے۔
Takhreej
(۴۲۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۲۱، ۱۸۲۲،۲۵۷۰، ۲۸۵۴، ۴۱۴۹، ۵۴۰۶، ومسلم: ۱۱۹۶(انظر: ۲۲۵۶۹)
4296
Sahih
۔ (۴۲۹۷) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی سِیْفِ الْبَحْرِ، فِیْ بَعْضِ عُمَرِہِ إِلٰی مَکَّۃَ وَوَعَدَنَا أَنْ نَلْقَاہُ بِقُدَیْدٍ فَخَرَجْنَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، قَالَ: فَکُنْتُ حَلَالًا، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَقَالَ فِیْہِ: ہٰذِہِ الْعَضُدُ قَدْ شَوَیْتُہَا وَأَنْضَجْتُہَا وَأَطْیَبْتُہَا، قَالَ: ((فَہَاتِہَا۔)) قَالَ: فَجِئْتُہُ بِہَا فَنَہَسَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ حَرَامٌ حَتّٰی فَرَغَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۷۶)
۔ (دوسری سند) معبد بن کعب سے روایت ہے کہ سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرہ کے ایک سفر میں ہمیں ساحل سمندر کی طرف روانہ کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت مکہ مکرمہ کی طرف جا رہے تھے اور ہم سے وعدہ لیا کہ ہم قدید کے مقام پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جا ملیں، پس ہم نکل پڑے، ہم میں سے بعض لوگ محرم تھے اور بعض غیر محرم، میں بھی غیر محرم تھا، …۔ اس کے بعد ساری حدیث بیان کی اور کہا: یہ اس کی ایک ٹانگ ہے، میں نے اسے خوب بھونا پکایا اور اچھا بنایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ادھر لائو۔ جب میں وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھانا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم محرم تھے۔
Takhreej
(۴۲۹۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4297
Sahih
۔ (۴۲۹۸) (وَمِنْ َطَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنْ نَافِعٍ مَوْلٰی أَبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّہُ کَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی إِذَا کَانَ بِبَعْضِ طُرُقِ مَکَّۃَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَہُ مُحْرِمِیْنَ وَہُوَ غَیْرُ مُحْرمٍ فَرَاٰی حِمَارًا وَحْشِیًّا فَاسْتَوٰی عَلٰی فَرَسِہِ وَسَأَلَ أَصْحَابَہٗأَنْیُنَاوِلُوْہُ سَوْطَہُ فَأَبَوْا فَسَأَلَہُمْ رُمْحَہُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَہُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَہُ فَأَکَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبٰی بَعْضُہُمْ،فَلَمَّا أَدْرَکُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلُوْہُ عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا ہِیَ طُعْمَۃٌ، أَطْعَمَکُمُوْہَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۳۵)
۔ (تیسری سند) سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ کے کسی راستے میں تھے، میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ پیچھے رہ گیا، دوسرے لوگ محرم تھے اور میں محرم نہ تھا، میں ایکجنگلی گدھا دیکھ کر گھوڑے پر سیدھا ہو گیا اور اپنے دوستوں سے کہا: مجھے ذرا میری لاٹھی پکڑا دو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا: مجھے میرا نیزہ پکڑا دو، انہوں نے یہ کام کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ میں نے خود اتر کر نیزہ اٹھا لیا اور اس جنگلی گدھے پر چڑھ دوڑا اور بالآخر اسے شکار کر لیا، بعض صحابہ نے تو اس سے کھا لیا، لیکن بعض نے اسے کھانے سے انکار دیا، جب یہ لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ پوچھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسا کھانا تھا، جو اللہ تعالی نے تمہیں کھلایا۔
Takhreej
(۴۲۹۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4298
Sahih
۔ (۴۲۹۹)(وَمِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ بِنَحْوِہِ (وَفِیْہِ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ہَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِہِ مِنْ شَیْئٍ؟)) (مسند احمد: ۲۲۹۳۶)
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت کا کوئی حصہ باقی ہے؟
Takhreej
(۴۲۹۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4299
Sahih
۔ (۴۳۰۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زَمَنَ الْحُدَیْبِیَّۃِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِی وَلَمْ أُحْرِمْ، فَرَأَیْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَیْہِ فَاْصْطَدْتُّہُ فَذَکَرْتُ شَأْنَہُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَذَکَرْتُ أَنِّی لَمْ أَکُنْ أَحْرَمْتُ وَإِنَّمَا اِصْطَدْتُّہُ لَکَ، فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَصْحَابَہٗ فَأَکَلُوْا وَلَمْ یَأْکُلْ مِنْہُ حِیْنَ أَخْبَرْتُہُ أَنِّی اِصْطَدْتُّہُ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۶۱)
۔ سیدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں حدیبیہ والے سال سفر میں روانہ ہوا، میرے رفقاء نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا،میں نے دوران سفر ایک جنگلی گدھا دیکھ کر اس پر حملہ کر دیا اور اس کو شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ میں احرام کی حالت میں نہیں تھا اور میں نے اس کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاطر شکار کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم کھالو۔ پس صحابہ نے تو کھا لیا، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہ کھایا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے آپ کو بتلا دیا تھا کہ میں نے یہ شکار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاطر کیا تھا۔
Takhreej
(۴۳۰۰) حدیث صحیح دون قولہ: ’’انما اصطدتہ لک‘‘ ودون قولہ: ’’ولم یأکل منہ حین اخبرتہ انی اصطدتہ لہ‘‘۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۹۳، وأخرجہ البخاری: ۱۸۲۳، ومسلم: ۱۱۹۶ مختصرا (انظر: ۲۲۵۹۰)
4300
Sahih
۔ (۴۳۰۱) عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَلَمَۃَ الضَّمْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّبِالْعَرْجِ، فَإِذَا ہُوَ بِحِمَارٍ عَقِیْرٍ، فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَہْزٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَذِہِ رَمْیَتِی فَشَاْنُکُمْ بِہَا، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَقَسَّمَہُ بَیْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ سَارَ حَتّٰی أَتٰی عُقْبَۃَ أُثَایَۃَ، فَإِذَا ہُوَ بِظَبْیٍ فِیْہِ سَہْمٌ وَہُوَ حَاقِفٌ فِی ظِلِّ صَخْرَۃٍ، فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِہِ فَقَالَ: ((قِفْ ہَاہُنَا حَتّٰییَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا یَرْمِیْہِ أَحَدٌ بِشَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۲۹)
۔ سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرج کے مقام پر تھے کہ وہاں ایک شکار کیا ہوا جنگلی گدھا پڑا تھا، تھوڑی دیر کے بعد بنو بہز کا ایک آدمی وہاں آ گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر تیر چلایا تھا، یہیہاں آ کر گر گیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے کھائیں، چنانچہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اس کا گوشت رفقائے سفر میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے کو روانہ ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اثایہ کی گھاٹی پر پہنچے تو وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہرن دیکھا، اس کو تیر لگا ہوا تھا اور وہ ایک پتھر کے سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ایک ساتھی سے فرمایا: تم یہاں کھڑے رہو تاکہ لوگ گزر جائیں اوران میں سے کوئی بھی اس کی طرف کوئی چیز نہ پھینکے۔
Takhreej
(۴۳۰۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۲۰۵(انظر: ۱۵۴۵۰)
Explanation
فوائد: …آخری جملے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصد یہ تھا کہ کوئی آدمی نہ اس جانور کو چھوئے، نہ اس کو حرکت دے اور نہ اس کو جوش دلائے۔
4301
Sahih
۔ (۴۳۰۲) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: کُنَّا مَعَ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُہْدِیَ لَہُ طَیْرٌ وَطَلْحَۃُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَکَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَزَّعَ فَلَمْ یَأْکُلْ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ طَلْحَۃُ وَفَّقَ مَنْ أَکَلَہُ وَقَالَ: أَکَلْنَاہُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ۔ (مسنداحمد: ۱۳۸۳)
۔ عبد الرحمن بن عثمان کہتے ہیں: ہم سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ احرام کی حالت میں جا رہے تھے، ان کی خدمت میں شکار کیا ہوا ایک پرندہ بطورِ ہدیہ پیش کیا گیا، سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس وقت سوئے ہوئے تھے، ہم میں سے بعض نے تو اس کو کھا لیا اور بعض نے اپنا حصہ تقسیم کر دیا اور اسے نہ کھایا، جب سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیدار ہوئے تو انہوںنے اس شکار کو کھانے والوں کو درست قرار دیا اور کہا: ہم نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایسے شکار کا گوشت کھایا تھا۔
Takhreej
(۴۳۰۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۹۷(انظر: ۱۳۸۳)
4302
Sahih
۔ (۴۳۰۳)عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: أُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَحْمِ صَیْدٍ وَہُوَ مُحْرِمًٌ فَلَمْ یَأْکُلْہُ۔ (مسند احمد: ۸۳۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے نہ کھایا۔
Takhreej
(۴۳۰۳) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۹۱ (انظر: )
Explanation
فوائد: …اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ محرِم شکار کا گوشت اس وقت کھا سکتا ہے جب نہ تو اس نے خود شکار کیا گیا ہو اور نہ اس کو کھلانے کی نیت سے کیا گیا ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کسی غیر محرِم آدمی نے اپنے لیےیا دوسرے غیر محرِم افراد کے لیے شکار کیا ہو، لیکن اتفاقی طور پر محرِم تک بھی وہ گوشت پہنچ گیا تو اسے چاہیے کہ وہ کھا لے۔ جَزَائُ الصَّیْدِ وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ…الاٰیۃ} شکار کا متبادل اور اس آیت ِ کریمہ کی تفسیر:{یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا … اَنْتُمْ حُرُمٌ}
4303
Sahih
۔ (۴۳۰۴) عَنْ مُعَاوِیَہَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا أَوْطَأَ بَعِیْرَہُ أُدْحِیَّ نَعَامٍ وَھُوَ مُحْرِمٌ فَکَسَرَ بَیْضَہاَ، فَانْطَلَقَ إِلٰی عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلُہُ عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: عَلَیْکَ بِکُلِّ بَیْضَۃٍ جَنِیْنُ نَاقِۃٍ أَوْ ضِرَابُ نَاقَۃٍ، فَانْطَلَقَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذَالِکَ لَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَدْ قَالَ عَلِیٌّ بِمَا سَمِعْتَ، وَلٰکِنْ ہَلُمَّ إِلٰی الرُّخْصَۃِ عَلَیْکَ بِکُلِّ بَیْضَۃٍ صَوْمٌ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْکِیْنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۵۸)
۔ ایک انصاری آدمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کے اونٹ نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے، جبکہ اس پر سوار آدمی احرام کی حالت میں تھا، وہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: تو ہر انڈے کے عوض اونٹنی کا ایک جنین (یعنی بچہ) بطور فدیہ ادا کر، اس کے بعد وہ آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور سارا واقعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیان کیا،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم علی کی بات تو سن چکے ہو، لیکن اب رخصت اور آسانی کی طرف آؤ اور وہ یہ کہ تم ہر انڈے کے بدلے ایک روزہ رکھ لو یا ایک مسکین کو کھانا کھلاؤ۔
Takhreej
(۴۳۰۴) اسنادہ ضعیف، مطر بن طھمان الوراق کثیر الخطأ لیس بذاک القوی، وقد اضطرب فی اسنادہ۔ أخرجہ ابوداود فی ’’المراسیل‘‘: ۱۳۹، والبیھقی: ۵/ ۲۰۷، والدار قطنی: ۲/ ۲۴۸(انظر: ۲۰۵۸۲)
Explanation
فوائد: …ارشادِ باری تعالی ہے: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَہٗمِنْکُمْمُّّتَعَمِّدًافَجَزَآئٌمِّثْلُمَاقَتَلَمِنَالنَّعَمِیَحْکُمُ بِہٖذَوَاعَدْلٍمِّنْکُمْھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذَالِکَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ}…’’اےایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت ِ احرام میں ہو، اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہو گا، جو کہ مساوی ہو گا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کر دیں، خواہ وہ فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواہ کفارہ مساکین کو دے دیا جائے اور خواہ اس کے برابر روزے رکھ لیے جائیں تاکہ اپنے کیے کی شامت کا مزہ چکھے۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۹۵) سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ’’ضَبُع‘‘ کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((ھُوَ صَیْدٌ وَیُجْعَلُ فِیْہِ کَبْشٌ اِذَا صَادَہُ الْمُحْرِمُ۔)) … یہ واقعی شکا ر ہے اور جب محرِم اس کا شکار کرے گا تو اس میں (بطورِ فدیہ) دنبے کا فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘ (ابو داود: ۳۸۰۱، ترمذی: ۸۵۱، نسائی: ۲۸۳۶، ابن ماجہ: ۳۰۸۵)’’ضَبُع‘‘ کو فارسی میں کفتار کہتے ہیں،یہ وہ جانور ہے جو تازہ قبریں اکھاڑتا ہے، کیونکہیہ بندوں کا گوشت کھانے کا بڑا شوقین ہوتا ہے، اگر تصویر والی لغت دیکھ لی جائے تو بہتر ہو گا۔آیت ِ کریمہ میں مساوی جانور سے مراد خلقت یعنی قد و قامت میں مساوی ہونا ہے، قیمت میں مساوی ہونا نہیں، مثلا اگر ہرن کو قتل کیا ہے تو اس کی مساوی بکری ہے، نیل گائے کی مثل گائے ہے، وغیرہ، ایسے متبادل جانور کو حرم میں لے جا کر ذبح کر کے وہاں کے مسکینوں میں اس کا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔ البتہ جس جانور کا مثل نہ مل سکتا ہو، وہاں اس کی قیمت بطورِ فدیہ لے کر مکہ پہنچا دی جائے گی اور اس سے غلہ خرید کر مکہ کے مساکین میں تقسیم کر دیا جائے گا، یہاں کعبہ اور مکہ سے مراد حرم ہے۔مساکین کو کھانا کھلانا یا اس کے برابر روزے رکھنا، دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرناجائز ہے، مقتول جانور کے حساب سے طعام میں جس طرح کمی بیشی ہو گی، روزوں میں بھی کمی بیشی ہو گی، مثلا محرِم نے ہرن قتل کر دیا، اس کی مثل بکری ہے، یہ فدیہ حرم مکہ میں ذبح کیا جائے گا، اگر یہ نہ ملے تو سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے ایک قول کے مطابق چھ مساکین کو کھانا یا تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے، اگر اس نے بارہ سنگھا، سانبھر یا اس جیسا کوئی جانور قتل کر دیا تو اس کی مثل گائے ہے، اگر یہ دستیاب نہ ہو یا اس کی طاقت نہ ہو تو بیس مسکین کو کھانا یا بیس دن کے روزے رکھنا ہوں گے، یا ایسا جانور (شتر مرغ یا گورخر وغیرہ) قتل کیا ہے، جس کی مثل اونٹ ہے تو اس کی عدم دستیابی کی صورت میں۳۰ مساکین کو کھانا یا۳۰ روزے رکھنے ہوں گے۔ (ابن کثیر) حدیث نمبر (۴۲۷۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جب سیدنا کعب بن عجرہ نے احرام کی حالت میں سر منڈوا لیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو جو فدیہ بتلایا تھا، اس کی تفصیلیہ تھی: وہ تین روزے رکھے یا چھ مساکین کو تین صاع کھانا کھلائے یا ایک بکری ذبح کر دے۔ اس حدیث سے اس حقیقت کا اشارہ سا ملتا ہے کہ ایک صاع کے بدلے ایک روزہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ جَوَازُ اَکْلِ صَیْدِ الْبَحْرِ مُطْلَقًا لِلْمُحْرِمِ وَغَیْرِہٖ وَمَا جَائَ فِیْ الْجَرَادِ، وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ} محرم اور غیر محرم کے لیے مطلق طور پر سمندری شکار کو کھانے کا اور اس سلسلے میں ٹڈی کے حکم اور اللہ تعالی کے اس فرمان {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ} کا بیان
4304
Zaeef
۔ (۴۳۰۵)عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَۃٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُہُنَّ بِعِصِیِّنَا وَسِیَاطِنَا وَنَقْتُلُہُنَّ وَأُسْقِطَ فِی أَیْدِیْنَا، فَقُلْنَا: مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ؟ فَسَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَا بَأْسَ بِصَیْدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۵۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج یا عمرہ کے ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، ٹڈیوں کا ایک لشکر ہمارے سامنے آگیا، ہم اپنی لاٹھیوں اورچھڑیوں کے ساتھ ان کو مارنے لگے اور قتل کرنے لگے، پھر ہمیں اپنے کیے پر ندامت ہوئی اور ہم نے کہا: ہم تو محرم تھے، ہم نے کیا کر دیا ہے؟ پس ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
Takhreej
(۴۳۰۵) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، مؤمل بن اسماعیل سیء الحفظ، وابو المھزم واسمہ یزید ویقال: عبد الرحمن بن سفیان، متروک ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۵۴، وابن ماجہ: ۳۲۲۲، والترمذی: ۸۵۰ (انظر: ۸۷۶۵)
Explanation
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ۔} …’’تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے، تمہارے فائدے کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے، جب تک تم احرام میں رہو اور اللہ تعالی سے ڈرو جس کے پاس جمع کیے جاؤ گے۔‘‘ (سورۂ مائدہ: ۹۶)اس حقیقت پر اہل علم کا اجماع ہے کہ محرِم کے لیے سمندر کا شکار کرنا، اس کو کھانا اور اس کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے اور اس شکار سے مراد وہ جانور ہے جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتا ہے، جیسے مچھلی۔ سمندر کے شکار سے مراد وہ جانور ہے جو صرف پانی میں رہتا ہے، اس لیے اگر محرِم ایسے جانور کو کنووں اور تالابوں وغیرہ میں پا لے تو اس کا شکار کر سکتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلْجَرَادُ مِنْ صَیْدِ الْبَحْرِ۔)) …’’ٹڈی سمندر کے شکار میں سے ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۸۵۳، اسنادہ حسن، میمون بن جابان لاینزل حدیثہ عن درجۃ الحسن) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرِم ٹڈی کا شکار بھی کر سکتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس لحاظ سے اس جانور کو سمندر کا شکار قرار دیا ہو کہ اس کے مردار کا حکم مچھلی کے مردار کی طرح ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
4305
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.