TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3417 - Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection - The book of marriage - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 26 in this chapter
Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection
نکاح متعہ کا حکم اور اس بات کی وضاحت کہ وہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر دوبارہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور (اب) اس کی حرمت قیامت کے دن تک کے لیے برقرار ہے
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَأَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ، فَقَالَ جَابِرٌ: «فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا
Abu Nadra reported: While I was in the company of Jabir b. Abdullah, a person came to him and said that Ibn 'Abbas and Ibn Zubair differed on the two types of Mut'as (Tamattu' of Hajj 1846 and Tamattu' with women), whereupon Jabir said: We used to do these two during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Umar then forbade us to do them, and so we did not revert to them.
ابونضرہ سے روایت ہے ، کہا : میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے پاس ایک آنے والا ( ملاقاتی ) آیا اور کہنے لگا : حضرت ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے دونوں متعتوں ( حج تمتع اور نکاح متعہ ) کے بارے میں اختلاف کیا ہے ۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وہ دونوں کام کیے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے منع کر دیا ، پھر ہم نے دوبارہ ان کا رخ نہیں کیا
3417
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

127
1
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
2
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
4
(43) CHAPTER. Good will remain (as a peranent quality) in the forelocks of horses (especially those kept for the purpose of Jihad) till the Day of Resurrection.
قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے
Sahih Bukhari
5
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
Sahih Muslim
6
Chapter: What one who has entered Ihram for Hajj or Umrah is permitted to wear, and what is not permissible, and perfume is forbidden for him
حج یا عمرے کا احرام باندھنے والے کے لیے کیا پہننا جائز ہے اور کیا ممنوع ؟نیز اس کےلیے خوشبو کا استعمال ممنوع ہے
Sahih Muslim
7
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else From That (Umrah Has Been Entered Into Hajj Until the Day of Resurrection)
باب: حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: The Hadith: When The Sword Is Imposed On My Ummah, It Shall Not Be Removed From It Until The Day Of Resurrection.
باب: فتنہ سے متعلق ایک اور پیش گوئی
Jam e Tirmazi
10
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
11
(36) CHAPTER. Whoever heard something (but did not understand it) and then asked again till he understood it completely.
اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے ، یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
12
(3) CHAPTER. The superiority of ablution. And Al-Ghurr-ul-Muhajjalun (the parts of the body of the Muslims washed in ablution will shine on the Day of Resurrection and the angels will call them by that name) from the traces of ablution.
وضو کی فضیلت کے بیان میں ( اور ان لوگوں کی فضیلت میں ) جو ( قیامت کے دن ) وضو کے نشانات سے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں گے
Sahih Bukhari
13
(8) CHAPTER. Az-Zulm (oppression) will be a darkness on the day of resurrection.
ظلم ، قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے
Sahih Bukhari
14
(49) CHAPTER. “...Whereas Allah has permitted trading and forbidden Riba (usury). (V.2:275)
آیت ( ( واحل اللہ البیع وحرم الربا ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
15
(89) CHAPTER. The punishment for picture-makers on the Day of Resurrection.
مورتیں بنانے والوں پر قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ہوگا
Sahih Bukhari
16
(97) CHAPTER. Whoever makes a picture will be asked to put life into it on the Day of Resurrection, but he will not be able to do so.
جو مورت بنائے گا اس پر قیامت کے دن زور ڈالا جائے گا کہ اسے زندہ بھی کرے حالانکہ وہ زندہ نہیں کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
17
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
Sahih Bukhari
18
(48) CHAPTER. AI-Qisas (retaliation) on the Day of Resurrection.
قیامت کے دن بدلہ لیا جانا
Sahih Bukhari
19
(58) CHAPTER. The Statement of Allah: “And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection…” (V.21:47)
سورۃ انبیاء میں اللہ کا فرمان اور قیامت کے دن ہم ٹھیک ترازوئیں رکھیں گے ۔
Sahih Bukhari
20
Chapter: Regarding the wind which will come just before the resurrection and take the soul of anyone who has any fath in his heart
وہ ہوا جو قیامت کے قریب چلے گی ، ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں کچھ نہ کچھ ایمان ہو گا
Sahih Muslim
21
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
22
Chapter: It is permissible for a Muhrim to shave his head if there is a problem, but it is obligatory to offer a Fidyah for shaving it, and Clarifying what the Fidyah is
اگر بیماری لاحق ہو تو احرام والے کے لیے سر منڈوانا جائز ہے اور سرمنڈنے کے سبب اس پر فدیہ واجب ہے اور فدیے کی مقدار کی وضاحت
Sahih Muslim
23
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
Sahih Muslim
25
Chapter: The prohibition of making Nabidh in Al-Muzaffat, Ad-Dubba' (Gourds), Al-Hantam and An-Naqir; This has been abrogated and now it is permitted, so long as it does not become intoxicating
روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے
Sahih Muslim
26
Chapter: The Prohibition Of Lying, And What Is Permitted Thereof
باب: جھوٹ کی حرمت اور اس کی جائز صورتوں کا بیان
Sahih Muslim
27
Chapter: The Passing Away Of This World, And The Gathering On The Day Of Resurrection
دنیا کی فنا اور روز قیامت حشر کا بیان
Sahih Muslim
28
Chapter: The Description Of The Day Of Resurrection - May Allah Save Us From Its Terrors
روز قیامت کے احوال اللہ اس کی ہولناکیوں کے سامنے ہماری مدد فرمائے
Sahih Muslim
29
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
Silsila Sahih
30
Chapter: The One Whose Testimony Permitted
جن لوگوں کی گواہی جائز نہیں ہے ان کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
31
(107)Chapter: What Has Been Related [About The Junub Person] When He Wants To Repeat (Sexual Relations) He Should Perform Wudu
باب: بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: : What Has Been Related About The Congregation In The Masjid Being Held Two Times
باب: جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: [What Has Been Related] About The Abrogation Of Speech During The Salat
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
Musnad Ahmad
35
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
36
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
37
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
Musnad Ahmad
39
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
41
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
42
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
43
گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
Musnad Ahmad
44
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
45
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
46
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
47
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
Musnad Ahmad
48
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
Musnad Ahmad
49
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
Musnad Ahmad
50
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Sahih Muslim
3025
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فَأَتَاهُ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ، فَقَالَ جَابِرٌ: فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا
Abd Nadra reported: While I was in the company of Jibir, a person came and said: There is difference of opinion amomg Ibn Abbas and Ibn Zubair about two Mut'as (benefits, Tamattul in Hajj and temporary marriage with women), whereupon jibir said: We have been doing this during the lifetime of Allah's Messenger (way peace be upon him), and then 'Umar forbade us to do so, and we never resorted to them.
ابو نضر ہ سے روایت ہے کہا : میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں متعوں ( حج تمتع اور عورتوں سے متعہ ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبار ہ ہم نے دونوں نہیں کیے ۔
Sahih Muslim
4944
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ: قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: بِالطَّاعُونِ، قَالَتْ: فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ»،
It has been narrated on the authority of Hafsa daughter of Sirin who said: Anas b. Malik asked me the cause of death of Yahya b. 'Abu 'Amra. I said: (He died) of plague. He said: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said that death by plague is martyrdom for a Muslim.
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں عاصم نے حفصہ بنت سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : یحییٰ بن ابی عمرہ کس بیماری سے فوت ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : طاعون سے ۔ انہوں نے کہا : تو انہوں ( انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " طاعون ( سے موت ) ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے ۔ "
Sahih Muslim
643
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ».
Abu Huraira said: When anyone amongst you wakes up from sleep, he must not put his hand in the utensil till he has washed it three times, for he does not know where his hand was during the night.
عبد اللہ بن شقیق نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اس وقت تک اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے تین دفعہ دھو نہ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں ( کہاں ) رہا ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
1057
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ حَامِدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ فَرَكْعَتَهُ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُكُوعِهِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، فَسَجْدَتَهُ، فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ، قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ
Al-Bara' b. 'Azib reported: I noticed the prayer of Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and saw his Qiyam (standing), his bowing, and then going back to the standing posture after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between salutation and going away, all these were nearly equal to one another.
ہلال بن ابی حمید نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ میں نے محمدﷺ کی معیت میں ( پڑھی جانے والی ) نماز کو غور سے دیکھا تو میں نے آپ کے قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد اعتدال اور آپ کے سجدے ، دونوں سجدوں کے درمیان جلسے ( بیٹھنا ) اور آپ کے دوسرے سجدے اور اس کے بعد سلام اور رخ پھیرنے کے درمیان وقفے کو تقریبا برابر پایا ۔
Sahih Muslim
1341
وَحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ وَرَّادٍ، كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ، إِلَى الْمُغِيرَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ
Warrad, the scribe of Mughira b. Shu'ba, reported: Mu'awiya wrote to Mughira (the contents) of the hadith as transmitted by Mansur and A'mash.
سفیان نے کہا : ہمیں عبدہ بن ابی لبابہ اور عبدالملک بن عمیر نے حدیث سنائی ، انھوں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے کاتب ورّاد سے سنا ، وہ کہتے تھے : حضرت معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو ، تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، جب آپ نماز ختم کر لیتے تو فرماتے : لاإله إلا الله وحده لاشريك له ، له مالملك ولاه الحمد ، وهو علي كل شيء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذالجد منك الجد ’’ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا اور یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، حکومت اور فرمانروائی اسی کی ہے ، وہی شکرو ستائش کا حقدار ہے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو کسی کو دینا چاہے اسے کوئی روک سکنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی شان والے کو اس کی شان کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
2980
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: «نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ، فِي كِتَابِ اللهِ - يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ - وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ» قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ: بَعْدُ، مَا شَاءَ
Imran b. Husain said: There was revealed the verse of Tamattu' in Hajj in the Book of Allah and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded us to perform it. and then no verse was revealed abrogating the Tamattu' (form of Hajj), and the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not forbid to do it till he died. So whatever a person said was his personal opinion.
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہاJ ہمیں عمرا ن بن مسلم نے ابو رجاء سے روایت کی ، کہ عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : متعہ یعنی حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہو ئی ۔ اور اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ، بعد ازیں نہ تو کو ئی آیت نازل ہو ئی جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کیا ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فر ما یا حتی کہ آپ فوت ہو گئے بعد میں ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔
Sahih Muslim
4604
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ، كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا، - وَقَالَ حَامِدٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَنَّ الرَّجُلَ - كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ مِنْ أَرْضِهِ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ، فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ، قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ، وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ، فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي، وَقَالَتْ: وَاللهِ، لَا نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ، اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا»، وَتَقُولُ: كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَجَعَلَ يَقُولُ: كَذَا حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشَرَةِ أَمْثَالِهِ
It has been narrated by Anas that (after his migration to Medina) a person placed at the Prophet's ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) disposal some date-palms growing on his land until the lands of Quraiza and Nadir were conquered. Then he began to return to him whatever he had received. (In this connection) my people told me to approach the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and ask from him what his people had given him or a portion thereof, but the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had bestowed those trees upon Umm Aiman. So I came to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he gave hem (back) to me. Umm Aiman (also) came (at this time). She put the cloth round my neck and said: No, by Allah, we will not give to, you what he has granted to me. The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Umm Aiman, let him have them and for you are such and such trees instead. But she said: By Allah, there is no god besides Him. No, never! The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) continued saying: (You will get) such and such. until he had granted her ten times or nearly ten times more (than the original gift).
ابوبکر بن ابی شیبہ ، حامد بن عمر بکراوی اور محمد بن عبدالاعلیٰ قیسی ، سب نے معتمر سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ۔ ہمیں معتمر بن سلیمان تیمی نے اپنے والد کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ کوئی آدمی ۔ ۔ جبکہ حامد اور عبدالاعلیٰ نے کہا : کوئی مخصوص آدمی ۔ ۔ اپنی زمین سے کھجوروں کے کچھ درخت ( فقرائے مہاجرین کی خبر گیری کے لیے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص کر دیتا تھا ، حتی کہ قریظہ اور بنونضیر آپ کے لیے فتح ہو گئے تو اس کے بعد جو کسی نے آپ کو دیا تھا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرنا شروع کر دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ سے وہ سب یا اس کا کچھ حصہ مانگوں ، جو ان کے گھر والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دیا تھا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے وہ سب کا سب مجھے دے دیا ، اس پر ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں ، میرے گلے میں کپڑا ڈالا اور کہنے لگیں : اللہ کی قسم! ہم وہ ( درخت ) تمہیں نہیں دیں گے ، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہمیں دے چکے ہیں ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام ایمان! اسے چھوڑ دو ، اتنا اتنا تمہارا ہوا وہ کہتی تہیں : ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اور آپ اسی طرح فرماتے رہے حتی کہ آپ نے اسے دس گنا یا تقریبا دس گنا عطا فرما دیا
Sahih Muslim
4663
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَعْلَمُ لِي مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ» بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَقَوْلِ أَبِي مِجْلَزٍ كَمَا ذَكَرَهُ إِسْمَاعِيلُ
A similar tradition has been transmitted by a different chain of narrators, on the same authority with a slight difference In the wording.
ہمیں معتمر نے کہا : میں نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے سنا ، وہ کہ رہے تھے : ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے لیے کون معلوم کرے گا کہ ابوجہل کا کیا ہوا؟ آگے ابن علیہ کی حدیث اور ابومجلز کے قول کے مانند ہے ، جس طرح اسماعیل نے بیان کیا ہے
Sahih Muslim
6242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: «لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا»
Abu 'Uthman reported on one of the days when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was fighting and none remained with him save Talha and Sa'd.
معتمر کے والد سلیمان نے کہا : میں نے حضرت ابو عثمان سے سنا ، کہا : ان ایام میں سے ایک میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا تو جنگ کے دوران میں آپ کے ساتھ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا اور کو ئی باقی نہیں رہا تھا ۔ ( یہ میں ) ان دونوں کی بتا ئی ہو ئی بات سے ( بیان کر رہا ہوںَ )