TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3429 - Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection - The book of marriage - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 20 of 26 in this chapter
Chapter: Mut'ah Marriage: It was permitted then abrograted, then permitted then abrogated, and it will remain Forbidden until the day of resurrection
نکاح متعہ کا حکم اور اس بات کی وضاحت کہ وہ جائز قرار دیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر دوبارہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور (اب) اس کی حرمت قیامت کے دن تک کے لیے برقرار ہے
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَامَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ: «إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللهُ قُلُوبَهُمْ، كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ»، يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ، فَنَادَاهُ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ، فَلَعَمْرِي، لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ - يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ: «فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ، فَوَاللهِ، لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللهِ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَجُلٍ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ، فَأَمَرَهُ بِهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ: مَهْلًا، قَالَ: مَا هِيَ؟ وَاللهِ، لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ «إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا، كَالْمَيْتَةِ، وَالدَّمِ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ قَالَ: «قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ، ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ»، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ، يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَنَا جَالِسٌ
Urwa b. Zabair reported that 'Abdullah b. Zubair (Allah be pleased with him) stood up (and delivered an address) in Mecca saying: Allah has made blind the hearts of some people as He has deprived them of eyesight that they give religious verdict in favour of temporary marriage, while he was alluding to a person (Ibn 'Abbas). Ibn Abbas called him and said: You are an uncouth person, devoid of sense. By my life, Mut'a was practised during the lifetime of the leader of the pious (he meant Allah's Messenger, may peace be upon him), and Ibn Zubair said to him: just do it yourselves, and by Allah, if you do that I will stone you with your stones. Ibn Shihab said. Khalid b. Muhajir b. Saifullah informed me: While I was sitting in the company of a person, a person came to him and he asked for a religious verdict about Mut'a and he permitted him to do it. Ibn Abu 'Amrah al-Ansari (Allah be pleased with him) said to him: Be gentle. It was permitted in- the early days of Islam, (for one) who was driven to it under the stress of necessity just as (the eating of) carrion and the blood and flesh of swine and then Allah intensified (the commands of) His religion and prohibited it (altogether). Ibn Shihab reported: Rabi' b. Sabra told me that his father (Sabra) said: I contracted temporary marriage with a woman of Banu 'Amir for two cloaks during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ; then he forbade us to do Mut'a. Ibn Shihab said: I heard Rabi' b. Sabra narrating it to Umar b. 'Abd al-'Aziz and I was sitting there.
مجھے یونس نے خبر دی کہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں کھڑے ہوئے ، اور کہا : بلاشبہ کچھ لوگ ہیں ، اللہ نے ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جس طرح ان کی آنکھوں کو اندھا کیا ہے ۔ وہ لوگوں کو متعہ ( کے جواز ) کا فتویٰ دیتے ہیں ، وہ ایک آدمی ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) پر تعریض کر رہے تھے ، اس پر انہوں نے ان کو پکارا اور کہا : تم بے ادب ، کم فہم ہو ، میری عمر قسم! بلاشبہ امام المتقین کے عہد میں ( نکاح ) متعہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ۔ ۔ تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم خود اپنے ساتھ اس کا تجربہ کر ( دیکھو ) ، بخدا! اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہارے ( ہی ان ) پتھروں سے ( جن کے تم مستحق ہو گے ) تمہیں رجم کروں گا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ اس اثنا میں جب وہ ان صاحب ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک آدمی ان کے پاس آیا اور متعہ کے بارے میں ان سے فتویٰ مانگا تو انہوں نے اسے اس ( کے جواز ) کا حکم دیا ۔ اس پر ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ٹھہریے! انہوں نے کہا : کیا ہوا؟ اللہ کی قسم! میں نے امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کیا ہے ۔ ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : بلاشبہ یہ ( ایسا کام ہے کہ ) ابتدائے اسلام میں ایسے شخص ے لئے جو ( حالات کی بنا پر ) اس کے لئے مجبور کر دیا گیا ہو ، اس کی رخصت تھی جس طرح ( مجبوری میں ) مردار ، خون اور سور کے گوشت ( کے لیے ) ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو محکم کیا اور اس سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے ربیع بن سبرہ جہنی نے بتایا کہ ان کے والد نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بنو عامر کی ایک عورت سے دو سرخ ( کی پیش کش ) پر متعہ کیا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں نے ربیع بن سبرہ سے سنا ، وہ یہی حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کر رہے تھے اور میں ( اس مجلس میں ) بیٹھا ہوا تھا ۔
3429
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

127
1
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
2
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
3
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
4
(43) CHAPTER. Good will remain (as a peranent quality) in the forelocks of horses (especially those kept for the purpose of Jihad) till the Day of Resurrection.
قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی ہوئی ہے
Sahih Bukhari
5
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
Sahih Muslim
6
Chapter: What one who has entered Ihram for Hajj or Umrah is permitted to wear, and what is not permissible, and perfume is forbidden for him
حج یا عمرے کا احرام باندھنے والے کے لیے کیا پہننا جائز ہے اور کیا ممنوع ؟نیز اس کےلیے خوشبو کا استعمال ممنوع ہے
Sahih Muslim
7
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else From That (Umrah Has Been Entered Into Hajj Until the Day of Resurrection)
باب: حج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: The Hadith: When The Sword Is Imposed On My Ummah, It Shall Not Be Removed From It Until The Day Of Resurrection.
باب: فتنہ سے متعلق ایک اور پیش گوئی
Jam e Tirmazi
10
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
11
(36) CHAPTER. Whoever heard something (but did not understand it) and then asked again till he understood it completely.
اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے ، یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
12
(3) CHAPTER. The superiority of ablution. And Al-Ghurr-ul-Muhajjalun (the parts of the body of the Muslims washed in ablution will shine on the Day of Resurrection and the angels will call them by that name) from the traces of ablution.
وضو کی فضیلت کے بیان میں ( اور ان لوگوں کی فضیلت میں ) جو ( قیامت کے دن ) وضو کے نشانات سے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں گے
Sahih Bukhari
13
(8) CHAPTER. Az-Zulm (oppression) will be a darkness on the day of resurrection.
ظلم ، قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے
Sahih Bukhari
14
(49) CHAPTER. “...Whereas Allah has permitted trading and forbidden Riba (usury). (V.2:275)
آیت ( ( واحل اللہ البیع وحرم الربا ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
15
(89) CHAPTER. The punishment for picture-makers on the Day of Resurrection.
مورتیں بنانے والوں پر قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ہوگا
Sahih Bukhari
16
(97) CHAPTER. Whoever makes a picture will be asked to put life into it on the Day of Resurrection, but he will not be able to do so.
جو مورت بنائے گا اس پر قیامت کے دن زور ڈالا جائے گا کہ اسے زندہ بھی کرے حالانکہ وہ زندہ نہیں کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
17
(99) CHAPTER. Calling the people by their father's name (on the Day of Resurrection).
لوگوں کو ان کے باپ کانام لے کر قیامت کے دن بلایا جانا
Sahih Bukhari
18
(48) CHAPTER. AI-Qisas (retaliation) on the Day of Resurrection.
قیامت کے دن بدلہ لیا جانا
Sahih Bukhari
19
(58) CHAPTER. The Statement of Allah: “And We shall set up Balances of justice on the Day of Resurrection…” (V.21:47)
سورۃ انبیاء میں اللہ کا فرمان اور قیامت کے دن ہم ٹھیک ترازوئیں رکھیں گے ۔
Sahih Bukhari
20
Chapter: Regarding the wind which will come just before the resurrection and take the soul of anyone who has any fath in his heart
وہ ہوا جو قیامت کے قریب چلے گی ، ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں کچھ نہ کچھ ایمان ہو گا
Sahih Muslim
21
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
22
Chapter: It is permissible for a Muhrim to shave his head if there is a problem, but it is obligatory to offer a Fidyah for shaving it, and Clarifying what the Fidyah is
اگر بیماری لاحق ہو تو احرام والے کے لیے سر منڈوانا جائز ہے اور سرمنڈنے کے سبب اس پر فدیہ واجب ہے اور فدیے کی مقدار کی وضاحت
Sahih Muslim
23
Chapter: The command to kill dogs, and its abrogation. The prohibition of keeping dogs, except for hunting, farming, (herding) livestock and the like
کتوں کو مارڈالنے کا حکم (پھر )اس کے منسوخ ہونے کی وضاحت اور اس بات کی وضاحت کہ شکار کےلیے اور کھیتی یا جانور وں کی حفاظت اور اسی طرح کے کسی کام کے سوا انھیں پالنا حرام ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
Sahih Muslim
25
Chapter: The prohibition of making Nabidh in Al-Muzaffat, Ad-Dubba' (Gourds), Al-Hantam and An-Naqir; This has been abrogated and now it is permitted, so long as it does not become intoxicating
روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے
Sahih Muslim
26
Chapter: The Prohibition Of Lying, And What Is Permitted Thereof
باب: جھوٹ کی حرمت اور اس کی جائز صورتوں کا بیان
Sahih Muslim
27
Chapter: The Passing Away Of This World, And The Gathering On The Day Of Resurrection
دنیا کی فنا اور روز قیامت حشر کا بیان
Sahih Muslim
28
Chapter: The Description Of The Day Of Resurrection - May Allah Save Us From Its Terrors
روز قیامت کے احوال اللہ اس کی ہولناکیوں کے سامنے ہماری مدد فرمائے
Sahih Muslim
29
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
Silsila Sahih
30
Chapter: The One Whose Testimony Permitted
جن لوگوں کی گواہی جائز نہیں ہے ان کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
31
(107)Chapter: What Has Been Related [About The Junub Person] When He Wants To Repeat (Sexual Relations) He Should Perform Wudu
باب: بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ کرنے پر جنبی وضو کر لے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: : What Has Been Related About The Congregation In The Masjid Being Held Two Times
باب: جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: [What Has Been Related] About The Abrogation Of Speech During The Salat
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
ایمان، اسلام اور احسان کی وضاحت کا بیان
Musnad Ahmad
35
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
36
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
37
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
Musnad Ahmad
39
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
41
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
42
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
43
گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
Musnad Ahmad
44
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
45
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
46
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
47
نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی
Musnad Ahmad
48
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
Musnad Ahmad
49
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
Musnad Ahmad
50
زنا کا اقرار کرنے والے سے مزید استفسار کرنا اور ایسی وضاحت طلب کرنا کہ جس میں کوئی تردد نہ ہو
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Sahih Muslim
2947
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ، «تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ قَالَ: إِنَّ اللهَ كَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ، فَ {أَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: 196]، كَمَا أَمَرَكُمُ اللهُ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ، فَلَنْ أُوتَى بِرَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ، إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ
Abu Nadra reported: Ibn 'Abbas commanded the performance of Mut'a putting ihram for 'Umra during the months of Dhul-Hijja and after completing it. then putting on Ihram for Hajj), but Ibn Zubair forbade to do it. I made a mention of it to Jabir b. Abdullih and he said: It is through me that this hadith has been circulated. We entered into the state of Ihram as Tamattu' with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). When 'Umar was Installed as Caliph, he said: Verily Allah made permissible for His Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) whatever He liked and as Re liked. And (every command) of the Holy Qur'an has been revealed for every occasion. So accomplish Hajj and Umra for Allah as Allah has commanded you; and confirm by (proper conditions) the marriage of those women (with whom you have performed Mut'a). And any person would come to me with a marriage of appointed duration (Mut'a), I would stone him (to death).
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ ابو نضرہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع کا حکم دیا کر تے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے تھے ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا ، انھوں نے فرمایا : " میرے ہی ذریعے سے ( حج کی ) یہ حدیث پھیلی ہے ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جاکر ) حج تمتع کیا تھا ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خلیفہ بن کر ) کھڑے ہوئے ( بحیثیت خلیفہ خطبہ دیا ) توا نھوں نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو چیز جس ذریعے سے چاہتا حلال کردیتاتھا اور بلا شبہ قرآن نے جہاں جہاں ( جس جس معاملے میں ) اترناتھا ، اتر چکا ، لہذا تم اللہ کے لئے حج کو اور عمرے کو مکمل کرو ، جس طرح ( الگ الگ نام لے کر ) اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے ۔ اوران عورتوں سے حتمی طور پرنکاح کیا کرو ( جز وقتی نہیں ) ، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایاگیا جس نے کسی عورت سے کسی خاص مدت تک کے لئے نکاح کیا ہوگا تو میں اسے پتھروں سے رجم کروں گا ۔
Sahih Muslim
2961
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ، وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ»
Abu Musa, (Allah be pleased with him) reported that he used to deliver religious verdict in favor of Hajj Tamattu'. A person said to him: Exercise restraint in delivering some of your religious verdicts, for you do not know what the Commander of Believers has introduced in the rites (of Hajj) after you (when you were away in Yemen). He (Abu Musa, ) met him (Hadrat Umar) subsequently and asked him (about it), whereupon 'Umar said: I know that Allah's Apostle (May peace be upon him) and also his Companions did that (observed Tamattu'), but I do not approve that the married persons should have intercourse with their wives under the shade of the trees, and then set out for Hajj with water trickling down from their heads.
ابراہیم بن ابی موسیٰ نے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ حج تمتع ( کرنے ) کافتویٰ دیاکرتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کہا : اپنےبعض فتووں میں زرا رک جاؤ ، تم نہیں جانتے کہ اب امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مناسک ( حج ) کے متعلق کیا نیا فرمان جاری کیا ہے ۔ بعد میں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے دریافت کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( حکم صادر ) کیا ، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اس پرعمل ) کیا ، لیکن مجھے یہ بات ناگوارمعلوم ہوئی کہ لوگ عرفات کے پاس وادی عرفہ کے قریب اراک مقام میں ( یا پیلو کے درختوں کی اوٹ میں ) اپنی عورتوں کےساتھ لطف اندوز ہوتے رہیں ۔ پھر جب وہ ( آٹھ ذوالحجہ یوم الترویہ کی ) صبح حج کے لئے چلیں تو ( غسل جنابت کریں اور ) ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو
Sahih Muslim
3419
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ: مَا تُعْطِي؟ فَقُلْتُ: رِدَائِي، وَقَالَ صَاحِبِي: رِدَائِي، وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا، وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي، فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ الَّتِي يَتَمَتَّعُ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا
Sabra Juhanni reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) permitted temporary marriage for us. So I and another person went out and saw a woman of Bana 'Amir, who was like a young long-necked she-camel. We presented ourselves to her (for contracting temporary marriage), whereupon she said: What dower would you give me? I said: My cloak. And my companion also said: My cloak. And the cloak of-my companion was superior to my cloak, but I was younger than he. So when she looked at the cloak of my companion she liked it, and when she cast a glance at me I looked more attractive to her. She then said: Well, you and your cloak are sufficient for me. I remained with her for three nights, and then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who has any such woman with whom he had contracted temporary marriage, he should let her off.
لیث نے ہمیں ربیع بن سبرہ جہنی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سبرہ ( بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نکاح ) متعہ کی اجازت دی ۔ میں اور ایک آدمی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے ، وہ جوان اور لمبی گردن والی خوبصورت اونٹنی جیسی تھی ، ہم نے خود کو اس کے سامنے پیش کیا تو اس نے کہا : کیا دو گے؟ میں نے کہا : اپنی چادر ۔ اور میرے ساتھی نے بھی کہا : اپنی چادر ۔ میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے بہتر تھی ، اور میں اس سے زیادہ جوان تھا ۔ جب وہ میرے ساتھی کی چادر کی طرف دیکھتی تو وہ اسے اچھی لگتی اور جب وہ میری طرف دیکھتی تو میں اس کے دل کو بھاتا ، پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا : تم اور تمہاری چادر ہی میرے لیے کافی ہے ۔ اس کے بعد میں تین دن اس کے ساتھ رہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی کے پاس ان عورتوں میں سے ، جن سے وہ متعہ کرتا ہے ، کوئی ( عورت ) ہو ، تو وہ اس کا راستہ چھوڑ دے
Sunnan Ibn e Maja
3936
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عُقَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ،‏‏‏‏ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ،‏‏‏‏ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ،‏‏‏‏ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ،‏‏‏‏ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The adulterer, at the time he is committing adultery, is not a believer; (the wine drinker) at the time he is drinking, is not a believer; the thief, at the time he is stealing, is not a believer; the plunderer, at the time he is plundering with the people looking on, is not a believer.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب شرابی شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جب لوٹ مار کرنے والا لوگوں کی نظروں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ۔
Sunnan Nisai
2736
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:‏‏‏‏ رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى لَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ .
It was narrated that Abu Musa said that: he used to issue Fatwas concerning Tamattu' Then a man said to him: Withhold some of your Fatwas ,for you do not know what the commander of the Believers introduced into the rites subsequently. Then when I met him, I asked him. 'Umar said: I know that the Messenger of Allah and his companions did it, but I did not like that people should lay with their wives in the shade of the Arak trees, and then go out for Hajj with their heads dripping.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتاوے کو ملتوی رکھیں ۱؎ آپ کو امیر المؤمنین ( عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ) نے اس کے بعد حج کے سلسلے میں جو نیا حکم جاری کیا ہے وہ معلوم نہیں، یہاں تک کہ میں ان سے ملا، اور میں نے ان سے پوچھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے، لیکن میں یہ اچھا نہیں سمجھتا کہ لوگ «اراک» میں اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں، پھر وہ صبح ہی حج کے لیے اس حال میں نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
Sunnan Nisai
3370
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُتْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا تُعْطِينِي ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ رِدَائِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ صَاحِبِي:‏‏‏‏ رِدَائِي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا نَظَرَتْ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي أَعْجَبَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا نَظَرَتْ إِلَيَّ أَعْجَبْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ يَكْفِينِي، ‏‏‏‏‏‏فَمَكَثْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَتَمَتَّعُ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا .
It was narrated from Ar-Rabi' bin Sabrah Al-Juhani that his father said: The Messenger of Allah gave permission for Mut'ah, so I and another man went to a woman from Bani 'Amir and offered ourselves to her (for Mut'ah). She said: 'What will you give me?' I said: 'My Rida' (upper garment).' My companion also said: 'My Rida'.' My companion's Rida' was finer than mine, but I was younger than him. When she looked at my companion's Rida' she liked it, but when she looked at me, she liked me. Then she said: 'You and your Rida' are sufficient for me.' I stayed with her for three (days), then the Messenger of Allah said: 'Whoever has any of these women whom he married temporarily should let them go.'
سبرہ جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے کی اجازت دی تو میں اور ایک اور شخص ( دونوں ) بنی عامر قبیلے کی ایک عورت کے پاس گئے اور ہم اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے کہا: تم مجھے کیا دو گے؟ میں نے کہا: میں تم کو اپنی چادر دے دوں گا، میرے ساتھی نے بھی یہی کہا اور میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، ( لیکن ) میں اس سے زیادہ جوان ( تگڑا ) تھا، وہ جب میرے ساتھی کی چادر دیکھتی تو وہ اسے بڑی اچھی لگتی ( اس کی طرف لپکتی ) اور جب مجھے دیکھتی تو میں اسے بہت پسند آتا تھا۔ پھر اس نے ( مجھ سے ) کہا: تم اور تمہاری چادر میرے لیے کافی ہے۔ تو میں اس کے ساتھ تین دن رہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے چھوڑ دے“۔