TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7372 - Chapter: Ad-Dajjal - The book of tribulations and protents of the last hour - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 12 of 14 in this chapter
Chapter: Ad-Dajjal
مسیح دجال کابیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ الدَّجَّالِ حَدِيثًا مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ وَإِنِّي أَنْذَرْتُكُمْ بِهِ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: May I not inform you about the Dajjal what no Apostle of Allah narrated to his people? He would be blind and he would bring along with him an Image of Paradise and Hell-Fire and what he would call as Paradise that would be Hell-Fire and I warn you as Noah warned his people.
ابو سلمہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی ۔ وہ یقینی طور پر کانا ہو گا ۔ اس کے ساتھ جنت اور جہنم کے مانند ( وہ جگہیں سامنے ) آئیں گی ۔ جس کے بارے میں وہ ہے ۔ کہ جنت ہے وہ ( اصل میں ) جہنم ہوگی ۔ میں نے اسی طرح تمھیں اس سے خبر دار کر دیا ہے ۔ جس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے بارے میں اپنی قوم کو خبردار کیاتھا ۔
7372
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

103
1
Chapter: Mentioning Al-Masih Son of Mariam and Al-Masih ad-Dajjal
مسیح ابن مریم اور مسیح دجال (جھوٹےمسیح) کا تذکرہ
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About The Dajjal
باب: دجال کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Signs of the Dajjal
باب: دجال کی نشانیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Where The Dajjal Comes From
باب: دجال کہاں سے نکلے گا؟
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Signs of the Coming of The Dajjal
باب: خروج دجال کی نشانیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Turmoil Of The Dajjal
باب: دجال کے فتنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Dajjal
باب: دجال کے حلیہ کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About 'The Dajjal Will Not Enter Al-Madinah'
باب: مدینہ میں دجال داخل نہ ہو سکے گا
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About 'Eisa Bin Maryam killing the Dajjal
باب: عیسیٰ بن مریم کا دجال کو قتل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(9) CHAPTER. Ad-Dajjal will not be able to enter Al-Madina.
دجال مدینہ میں نہیں آ سکے گا
Sahih Bukhari
11
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
Sahih Bukhari
12
(27) CHAPTER. Ad-Dajjal will not be able to enter Al-Madina.
دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا
Sahih Bukhari
13
Chapter: Al-Madinah is protected against the plague and the Dajjal entering it
مدینہ منورہ طاعون اور دجال کے داخلے سے محفوظ ہے
Sahih Muslim
14
Chapter: The Conquest Of Constantinople, The Emergence Of The Dajjal And The Descent Of 'Eisa bin Mariam
قسطنطنیہ کی فتح ،دجال کا ظہور اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول
Sahih Muslim
15
Chapter: Fighting The Byzantines, And A Great Deal Of Killing When Ad-Dajjal Emerges
دجال کے ظہور سے پہلے سخت خونریزی کے عالم میں رومیوں (عیسائیوں)کی چڑھائی
Sahih Muslim
16
Chapter: Conquests Of The Muslims Before The Appearance Of Ad-Dajjal
دجال سے پہلے حاصل ہونے والی مسلمانوں کی فتوحات
Sahih Muslim
17
Chapter: Description Of Ad-Dajjal; Al-Madinah Is Forbidden To Him; He Will Kill A Believer And Bring Him Back To Life
دجال کا حال مدینہ میں اس کا داخلہ حرام ہونا اور مومن کو قتل کرنا اور اسے زندہ کرنا
Sahih Muslim
18
Chapter: Ad-Dajjal Is Very Insignificant Before Allah
دجال اللہ کے نزدیک انتہائی حقیرہے
Sahih Muslim
19
Chapter: The Emergence Of Ad-Dajjal And His Stay On Earth, And The Descent Of 'Eisa Who Will Kill Him. The Death Of The People Of Goodness And Faith, And The Survival Of The Worst Of People, And Their Idol-Worship. The Trumpet Blast, And The Resurrection Of Those Who Are In Their Graves
دجال نکل کر زمین میں رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر کر اسے قتل کریں گے بھلائی اور ایمان والے لوگ رخصت ہو جا ئیں گے۔بدترین لوگ اور شیطان کی پوجا کرنے والے باقی رہ جائیں گے۔ اور صورپھونکا جائے گا اور جوقبروں میں ہیں انھیں اٹھا دیا جائے گا
Sahih Muslim
20
Chapter: The Rest Of The Ahadith About Ad-Dajjal
دجال کے متعلق بقیہ احادیث
Sahih Muslim
21
CHAPTER: The appearance of the Dajjal.
باب: دجال کے نکلنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
Chapter: The tribulation of Dajjal, the emergence of 'Esa bin Maryam and the emergence of Gog and Magog
فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
باب: جہنم کے عذاب اور مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
Chapter: The Hadith Of Tamim Ad-Dari About The Dajjal
باب: جساسہ کا بیان
Jam e Tirmazi
25
بَابُ الْعَلَامَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَذِكْرِ الدَّجَّالِ
قبل از قیامت علامتوں اور دجال کے ذکر کا بیان
Mishkat
26
قبیلۂ قیس سے سیدنا ابن منتفقؓ کی آمد کابیان
Musnad Ahmad
27
علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
28
جماعت کے بارے میں تاکید اور اس پر آمادہ کرنے کابیان
Musnad Ahmad
29
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
Musnad Ahmad
30
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
Musnad Ahmad
31
بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
Musnad Ahmad
32
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
Musnad Ahmad
33
بیوقوفوں پر پابندی لگانے کا اور ان لوگوں کابیان، جن پر پابندی لگائی جائے گی
Musnad Ahmad
34
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
Musnad Ahmad
35
مچھلی اور ٹڈی کابیان
Musnad Ahmad
36
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
Musnad Ahmad
37
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
38
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
39
ذبح پر بسم اللہ پڑھنے اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کابیان
Musnad Ahmad
40
سورۂ منافقون سورۂ منافقون کے شانِ نزول اور سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کابیان
Musnad Ahmad
41
سورۂ ملک سورۂ ملک کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
42
سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
43
ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان
Musnad Ahmad
44
قناعت اور عفت کی ترغیب دلانے کابیان
Musnad Ahmad
45
اس چیز کی ترغیب دینے اور اس کی فضیلت اور ایسا کرنے والے کے ثواب کابیان
Musnad Ahmad
46
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
Musnad Ahmad
47
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
Musnad Ahmad
48
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
Musnad Ahmad
49
مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کابیان
Musnad Ahmad
50
یہود اور منافقینِ مدینہ کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عداوت ومخالفت کابیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

68
Jam e Tirmazi
2263
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى أُنَاسٍ جُلُوسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَسَكَتُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) came across some people who were sitting, so he said: 'Shall I not inform you of the best of you from your worst?' He said: They became silent, so he said that three times, then a man said: 'Of course, O Messenger of Allah! Inform us of the best among us from our worst.' He said: 'The best of you is the one whose goodness is hoped for, and people are safe from his evil. And the worst of you is he whose goodness is not hoped for, and people are not safe from his evil.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر ٹھہرے اور فرمایا: ”کیا میں تمہارے اچھے لوگوں کو تمہارے برے لوگوں میں سے نہ بتا دوں؟“ لوگ خاموش رہے، آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ آپ ہمارے اچھے لوگوں کو برے لوگوں میں سے بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم میں بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) رہا جائے اور تم میں سے برا وہ ہے جس سے خیر کی امید نہ رکھی جائے اور جس کے شر سے مامون ( بےخوف ) نہ رہا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Mishkat
5333
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟» فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ فَيُصَلِّيَ فَيَزِيدَ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رجلٍ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم مسیح دجال کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق نہ بتاؤں جس کا مجھے ، تمہارے متعلق ، مسیح دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شرک خفی ، وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ (اسے دکھانے کے لیے) اپنی نماز لمبی کر دیتا ہے (آہستہ آہستہ لمبی قراءت کے ساتھ زیادہ وقت لگاتا ہے) ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Sahih Bukhari
5627
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ لَنَا عِكْرِمَةُ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ قِصَارٍ ، حَدَّثَنَا بِهَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فَمِ الْقِرْبَةِ أَوِ السِّقَاءِ ، وَأَنْ يَمْنَعَ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي دَارِهِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle forbade drinking directly from the mouth of a water skin or other leather containers. and forbade preventing one's neighbor from fixing a peg in (the wall of) one's house.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا کہ ہم سے عکرمہ نے کہا، تمہیں میں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتا دوں جنہیں ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت کی تھی اور ( اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ ) کوئی شخص اپنے پڑوس کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے روکے۔
Sahih Bukhari
6329
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ ، قَالَ : كَيْفَ ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّوْا كَمَا صَلَّيْنَا ، وَجَاهَدُوا كَمَا جَاهَدْنَا ، وَأَنْفَقُوا مِنْ فُضُولِ أَمْوَالِهِمْ وَلَيْسَتْ لَنَا أَمْوَالٌ ، قَالَ : أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ تُدْرِكُونَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَتَسْبِقُونَ مَنْ جَاءَ بَعْدَكُمْ ، وَلَا يَأْتِي أَحَدٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتُمْ بِهِ ، إِلَّا مَنْ جَاءَ بِمِثْلِهِ ، تُسَبِّحُونَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا ، وَتَحْمَدُونَ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرُونَ عَشْرًا ، تَابَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، وَرَوَاهُ ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، وَرَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَرَوَاهُ سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Huraira: The people said, O Allah's Apostle! The rich people have got the highest degrees of prestige and the permanent pleasures (in this life and the life to come in the Hereafter). He said, How is that? They said, The rich pray as we pray, and strive in Allah's Cause as we do, and spend from their surplus wealth in charity, while we have no wealth (to spend likewise). He said, Shall I not tell you a thing, by doing which, you will catch up with those who are ahead of you and supersede those who will come after you; and nobody will be able to do such a good deed as you do except the one who does the same (deed as you do). That deed is to recite 'Subhan Allah ten times, and 'Al-Hamduli l-lah ten times, and 'AllahuAkbar' ten times after every prayer.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو زید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو ورقاء نے خبر دی، انہیں سمی نے، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت کی نعمتوں کو حاصل کر لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیسے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جس طرح ہم جہاد کرتے ہیں وہ بھی جہاد کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ اپنا زائد مال بھی ( اللہ کے راستہ میں ) خرچ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتلاؤں جس سے تم اپنے آگے کے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ اور اپنے پیچھے آنے والوں سے آگے نکل جاؤ اور کوئی شخص اتنا ثواب نہ حاصل کر سکے جتنا تم نے کیا ہو، سوا اس صورت کے جب کہ وہ بھی وہی عمل کرے جو تم کرو گے ( اور وہ عمل یہ ہے ) کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ «سبحان الله» پڑھا کرو، دس مرتبہ «الحمد الله» پڑھا کرو اور دس مرتبہ «الله اكبر» پڑھا کرو۔ اس کی روایت عبیداللہ بن عمر نے سمی اور رجاء بن حیوہ سے کی اور اس کی روایت جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے کی، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے۔ اور اس کی روایت سہیل نے اپنے والد سے کی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
Sahih Muslim
6399
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُسْمِعُنِي ذَلِكَ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: يَقُولُونَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَكْثَرَ، وَاللهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ: مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ لَا يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ؟ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: إِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ، وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَكُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: «أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ، فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا، ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ» فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ، وَلَوْلَا آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللهُ فِي كِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا: {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى} [البقرة: 159] إِلَى آخِرِ الْآيَتَيْنِ
A'isha reported: Don't you feel surprised at Abu Huraira? He came (one day) and sat beside the nook of my apartment and began to narrate (the hadith of Allah's Apostle). I was hearing while I was engaged in extolling Allah (reciting Subhan Allah) constantly. He stood up before I finished my repetition of Subhan Allah. if I were to meet him I would have warned him in stern words that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did not speak so quickly as you talk.
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی عروہ بن زبیر نے انھیں حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کیا تمھیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( ایسا کرتے ہوئے ) اچھے نہیں لگتے کہ وہ آئے میرے حجرے کے ساتھ بیٹھ گئےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرنے لگے وہ مجھے ( یہ ) احادیث سنا رہے تھے ۔ میں نفل پڑھ رہی تھی تو وہ میرے نوافل ختم کرنے سے پہلے اٹھ گئے ۔ اگر میں ( نوافل ختم کرنے کے بعد ) انھیں مو جو د پا تی تو میں ان کو جواب میں یہ کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح تسلسل سے ایک کے بعد دوسری بات ارشاد نہیں فر ما تےتھے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا : حضرت سعید بن مسیب نے روایت کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لو گ کہتے ہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں اور پیشی اللہ کے سامنے ہو نی ہے نیز وہ کہتے ہیں ، کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے ؟ میں تم کو اس کے بارے میں بتا تا ہوں ۔ میرے انصاری بھا ئیوں کو ان کی زمینوں کاکام مشغول رکھتا تھا اور میرے مہاجر بھا ئیوں کو بازار کی خریدو فروخت مصروف رکھتی تھی اور میں پیٹ بھرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگا رہتا تھا ، جب دوسرے لو گ غائب ہو تے تو میں حاضر رہتا تھا اور جن باتوں کو وہ بھول جا تے تھے میں ان کو یا د رکھتا تھا ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ن شخص اپنا کپڑا بچھائے گا ۔ تا کہ میری یہ بات ( حدیث ) سنے پھر اس ( کپڑے ) کو اپنے سینے سے لگا لے تو اس نے جو کچھ سنا ہو گا اس میں سے کو ئی چیز نہیں بھولے گا ۔ "" میں نے ایک چادر جو میرے کندھوں پر تھی پھیلا دی یہاں تک کہ آپ اپنی بات سے فارغ ہوئے تو میں نے اس چادر کو اپنے سینے کے ساتھ اکٹھا کر لیا تو اس دن کے بعد کبھی کو ئی ایسی چیز نہیں بھولا جو آپ نے مجھ سے بیان فر ما ئی ۔ اگر دو آیتیں نہ ہو تیں ، جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل فر ما ئی ہیں تو میں کبھی کوئی چیز بیان نہ کرتا ( وہ آیتیں یہ ہیں ) "" وہ لو گ جو ہماری اتاری ہو ئی کھلی باتوں اور ہدایت کو چھپا تے ہیں ۔ ۔ ۔ دونوں آیتوں کے آخر تک ۔
Sunnan Ibn e Maja
4204
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ،‏‏‏‏ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ بَلَى،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ،‏‏‏‏ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ .
It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us when we were discussing Dajjal (False Christ) and said: ‘Shall I not tell you of that which I fear more for you than Dajjal?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘Hidden polytheism, when a man stands to pray and makes it look good because he sees a man looking at him.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے، ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پوشیدہ شرک ہے جو یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنی نماز کو صرف اس وجہ سے خوبصورتی سے ادا کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے ۱؎۔
Sunnan Nisai
143
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ:‏‏‏‏ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، ‏‏‏‏‏‏وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، ‏‏‏‏‏‏فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Shall I not tell you of that by means of which Allah erases sins and raises (people) in status? Doing Wudu' properly [1] even when it is inconvenient, taking a lot of steps to the Masjid, and waiting for one Salah after another. That is the Ribat for you, that is the Ribat for you, that is the Ribat for you. [1] Isbagh Al-Wudu'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1652
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ ؟ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَتْلُوهُ ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ ؟ رَجُلٌ يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: Shall I not inform you of the best of the people ? A man who takes hold of the reins of his horse in Allah's cause. Shall I not inform you of the one who comes after him ? The man who secludes himself from the people with a small group of sheep of his, thereby fulfilling Allah's right. Shall I not inform you about the worst of the people ? A man who is asked by (the Name of) Allah, but not given by Him. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib from this route. This Hadith has been reported through other routes from Ibn 'Abbas, from the Prophet (ﷺ).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں؟ یہ وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے رہے، کیا میں تم لوگوں کو اس آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں جو مرتبہ میں اس کے بعد ہے؟ یہ وہ آدمی ہے جو لوگوں سے الگ ہو کر اپنی بکریوں کے درمیان رہ کر اللہ کا حق ادا کرتا رہے، کیا میں تم کو بدترین آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں؟ یہ وہ آدمی ہے جس سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا جائے اور وہ نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
Jam e Tirmazi
2253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَضَحِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيّ حَدَّثَنِي بِحَدِيثٍ فَفَرِحْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ فَجَالَتْ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى قَذَفَتْهُمْ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لَبَّاسَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا أَنْتِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ أَنَا الْجَسَّاسَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَأَخْبِرِينَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَا أُخْبِرُكُمْ وَلَا أَسْتَخْبِرُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ائْتُوا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِنَّ ثَمَّ مَنْ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ بِسِلْسِلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَلْأَى تَدْفُقُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنِ الْبُحَيْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَلْأَى تَدْفُقُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ الَّذِي بَيْنَ الْأُرْدُنِّ وَفِلَسْطِينَ هَلْ أَطْعَمَ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ هَلْ بُعِثَ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبِرُونِي كَيْفَ النَّاسُ إِلَيْهِ ؟ قُلْنَا:‏‏‏‏ سِرَاعٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَزَّى نَزْوَةً حَتَّى كَادَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ فَمَا أَنْتَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ الدَّجَّالُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ يَدْخُلُ الْأَمْصَارَ كُلَّهَا إِلَّا طَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَطَيْبَةُ:‏‏‏‏ الْمَدِينَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ.
Fatimah bint Qais narrated that Allah's Prophet(s.a.w) ascended the Minbar, he laughed, and said: Verily, Tamim Ad-Dari narrated a story to me, and it made me happy, so I wanted to narrate it to you[what he narrated to me]. Some people among the inhabitants of Palestine traveled by boat in the sea, taking them here and there, until it cast them on an island among the islands at sea. There they found a beast, clothed with its hair flowing out. They said: 'What are you?' It said: 'I am Al-Jassasah.' They said: 'Give us some news.' It said: 'I shall not give you any news, nor do I want any of your news. But go to the furthest village, for there is someone who will give you news and seek your news.' So we went to the furthest village, and there was a man fettered with chains. He said: 'Inform me about the spring of Zughar.' We said: ' It is full and flowing.' He said: 'Inform me about Al-Buhairah.' We said,'It is full and flowing.' He said: 'Inform me about the date groves of Baysan which is between Jordan and Palestine, do they produce food?' We said: 'Yes.' He said: 'Inform me about the Prophet, has he been sent?' We said: 'Yes.' He said: 'Inform me how the people came to him.' We said: 'Quickly.' He leaped up to try and escape.' We said: 'What are you?' He said: 'I am the Dajjal.' (The Prophet(s.a.w) said) He will enter all of the lands except At-Taibah, and At-Taibah is Al-Madinah.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، ہنسے پھر فرمایا: ”تمیم داری نے مجھ سے ایک بات بیان کی ہے جس سے میں بےحد خوش ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم سے بھی بیان کروں، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے، وہ کشتی ( طوفان میں پڑنے کی وجہ سے ) کسی اور طرف چلی گئی حتیٰ کہ انہیں سمندر کے کسی جزیرہ میں ڈال دیا، اچانک ان لوگوں نے بہت کپڑے پہنے ایک رینگنے والی چیز کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ان لوگوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ( جاسوسی کرنے والی ) ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمیں ( اپنے بارے میں ) بتاؤ، اس نے کہا: نہ میں تم لوگوں کو کچھ بتاؤں گی اور نہ ہی تم لوگوں سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم لوگ بستی کے آخر میں جاؤ وہاں ایک آدمی ہے، جو تم کو بتائے گا اور تم سے پوچھے گا، چنانچہ ہم لوگ بستی کے آخر میں آئے تو وہاں ایک آدمی زنجیر میں بندھا ہوا تھا اس نے کہا: مجھے زغر ( ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے ) کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے، اس نے کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ جو اردن اور فلسطین کے درمیان ہے، کیا اس میں پھل آیا؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مجھے نبی ( آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں بتاؤ کیا وہ مبعوث ہوئے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: بتاؤ لوگ ان کی طرف کیسے جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: تیزی سے، اس نے زور سے چھلانگ لگائی حتیٰ کہ آزاد ہونے کے قریب ہو گیا، ہم نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ وہ دجال ہے اور طیبہ کے علاوہ تمام شہروں میں داخل ہو گا، طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث شعبہ کے واسطہ سے قتادہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے شعبی کے واسطہ سے فاطمہ بنت قیس سے روایت کیا ہے ۱؎۔