فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل - فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل - Book 107 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 107 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 41 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس قوم میں سود پھیل جائے، ان پر قحط سالی مسلط کر دی جاتی ہے اور جس قوم میں رشوت عام ہو جائے، وہ خوف اور رعب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
Takhreej
(۶۴۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، عبد اللہ بن لھیعۃ سییء الحفظ، ومحمد بن راشد المرادی مجھول غیر معروف، ویبدو أنہ سقط رجل بین محمد بن راشد وعمرو(انظر: ۱۷۸۲۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا پہلا جملہ شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور ان دونوں کے درمیان دلالی کرنے والے، تینوں پر لعنت کی ہے۔
Takhreej
(۶۴۰۷) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: ’’الرائش …۔‘‘ وھذا اسناد ضعیف، لیث بن أبی سلیم ضعیف، وقد اضطرب فی ھذا الحدیث، وشیخہ ابو الخطاب مجھول، ابوزرعۃ روایتہ عن ثوبان مرسلۃ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۶/ ۵۴۹، والبزار: ۱۳۵۳، والحاکم: ۴/ ۱۰۳ (انظر: ۲۲۳۹۹)
Explanation
فوائد:… رائش (دلال) وہ ہے جو رشوت خور اور رشوت دینے والے میں رشوت میں کمی بیشی کرا کر شریک ہوتا ہے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بطورِ قاضی بھیجا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک جہاندیدہ قوم کی جانب بھیج رہے ہیں، جبکہ میں ابھی نوخیزجوان ہوں اور قضا کا تجربہ بھی نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر رکھا اورفرمایا: اے میرے اللہ! اس کی زبان کو ثابت قدم رکھ اور اس کے دل کو راہ ہدایت دے۔ اے علی! جب جھگڑے والے دو آدمی تیرے پاس آئیں تو پہلے کی طرح دوسرے کی بات سنے بغیر فیصلہ نہ کر، اگر تو اس طرح دونوں کی بات سنے گا تو تیرے لیے فیصلہ کرنا واضح ہو جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد فیصلہ کرتے وقت میں کبھی بھی کسی اختلاف اور اشکال میں نہیں پڑا۔
فوائد:… کسی بھی قاضی اور حاکم کے لیےیہ بہت بڑا اصول ہے کہ جھگڑا سے متعلقہ تمام فریقوں کی باتیں سن کر تحقیق کرے اور صرف پہلے فریق کا دعوی سننے کے بعد کسی کے ظالم یا مظلوم ہونے کا فیصلہ نہ کرے۔
۔ ابن ابی بکرہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے، جو کہ سبجستان کے علاقے میں قاضی تھا، کو یہ خط لکھا: اما بعد! جب تو غصہ کی حالت میں ہو تو دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمییا کوئی حاکم غصے کی حالت میں دو افراد کے مابین فیصلہ نہ کرے۔
Takhreej
(۶۴۰۹) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین (انظر: ۲۰۴۶۷)
Explanation
فوائد:… دو یا زائد افراد یا فریقوں کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے صبر و تحمل کی اشد ضرورت ہے، بلکہ یہ صفت تو قاضی اور حاکم کا زیور ہے، غیظ و غضب کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، ہاں یہ علیحدہ بات ہے کہ ظالم فرد یا فریق کے ظلم کی نوعیت کو دیکھ اس کے سامنے غصے کا اظہار کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، لیکن فیصلہ کرتے وقت حاکم کو غصے کی حالت میں نہیں ہونا چاہیے۔
۔ سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سلطان انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو اس وقت شیطان مسلط ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۶۴۱۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال محمد بن عطیۃ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۷/ ۴۴۴ (انظر: ۱۷۹۸۴)
۔ سیدنا مصعب بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی سیدنا عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ، سعید بن عاص رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، جبکہ سیدنا عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہ چارپائی پر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر سے کہا: یہاں تشریف لے آؤ، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قضا کا طریقہیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اپنائیں گے اور وہ یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بیٹھیں۔
فوائد:… جب حاکم کسی کو اپنے سامنے بٹھا کر بات سنے گا تو حقیقت تک رسائی حاصل کرنا زیادہ ممکن ہو جائے گا، بہرحال یہ روایت ضعیف ہے، لیکن عام طور پر جب صحابہ کرام f آپ a کے پاس آ کر اپنے جرائم کا اعتراف کرتے تو وہ آپ a کے سامنے کھڑے ہوتے تھے۔
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک بشر ہوں اور تم میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، اس لیے ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسروں کی بہ نسبت دلائل کے نشیب و فراز سے زیادہ واقف ہے اور میں تو اس کے بیان کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، لہذ ا اگر میں کسی کے حق میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کر دوں تو وہ اس کو نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔
فوائد:… حاکم نے گواہوں اور دلیلوں کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حاکم کے فیصلے کا حرام کو حلال کرنے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یعنی اگر وہ کسی چیز کا غیر مستحق آدمی کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے تو اس فیصلے سے وہ چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہو جائے گی، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے، بلکہ وہ حرام ہی رہے گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو علم ہونے کے باوجود ناحق جھگڑا کرے تو وہ اس سے دستبردارہونے تک اللہ تعالی کی ناراضگی میں ہو گا۔
فوائد:… ہمارے ہاں خاندانی اور مذہبی تعصب کی بنا پر ایسی مثالیں موجود ہیں کہ لوگ ظالم کا ساتھ دینے پر تل جاتے ہیں اور عدالتوں اور کچہریوں میں جا کراس کے حق میں جھوٹی گواہیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ تحریر بھیجی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق دیا جائے تو وہ لوگوں کے خونوں اور مالوں کا دعوی کر دیں، لیکن قسم مُدَّعٰی علیہ پر ہو گی۔
فوائد:… یہ شریعت ِ اسلامیہ کا بڑا اہم اور سادہ قانون ہے کہ مدّعی اپنے دعوے پر گواہ پیش کرے، وگرنہ مُدّعٰی علیہ قسم اٹھا کر اس کے دعوے سے بری ہو جائے گا، لیکن اس کو چاہیے کہ وہ جھوٹی قسم سے مکمل اجتناب کرے، وگرنہ اگلی حدیث کا مصداق بن جائے گا، ایسے موقع پر حاکم کو چاہیے کہ وہ وعظ و نصیحت کرے اور آخرت کی اہمیت اور دنیا کی بے ثباتی بیان کرے۔
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان کا زمین کا جھگڑا تھا، ایک امرء القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا مقابل ربیعہ بن عبدان تھا، اول الذکر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے جاہلیت میں میری زمین زبردستی چھین لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندی سے فرمایا: دلیل پیش کرو۔ وہ کہنے لگا: دلیل تو کوئی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مُدّعا علیہ قسم اٹھائے گا۔ اس نے کہا: وہ تو پھر میرا مال ہتھیا لے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تیرے حق میں کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لے گا تو وہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔
۔ سیدنا اشعث بن قیس کہتے ہیں: میرا ایک کنویں تھا اور اس کے معاملے میں میرا اپنے چچا زاد بھائی سے جھگڑا تھا، اس نے یہ کنواں مجھے واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، میںیہ مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: دلیل لاؤ کہ یہ کنواں تمہارا ہے، وگرنہ وہ قسم اٹھا لے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس دلیل تو نہیں ہے اور میرا مقابل فاجر اور فاسق آدمی ہے،اس لیے اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ میرا کنواں ہتھیا لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال نا حق ہتھیائے گا وہ اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔}… بے شک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ تعالی نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا۔ زید بن حباب کہتے ہیں: میں نے سیدنا مالک بن انس سے قسم اور گواہ کے متعلق پوچھا کیایہ طلاق اور غلام کی آزادی میں بھی کافی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،یہ تو صرف خرید و فروخت جیسے معاملات میں ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، عمرو نے کہا: یہ مالوں کے معاملات کے لیے ہے۔
Takhreej
(۶۴۱۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مُدّعی اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرے گا، اگر دو گواہ میسر نہ ہوں تو وہ ایک گواہ پیش کر دے،لیکن اس کے ساتھ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے ایک قسم اٹھائے، آپ a نے ایک گواہ اور ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ دو گواہ ہی ضروری ہے، لیکنیہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر مُدّعی کے پاس ایک گواہ بھی نہ ہو تو پھر اس کو قسم اٹھانے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور مُدّعی علیہ اپنے حق میں قسم اٹھا کر بری ہو جائے گا۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا، جعفر کہتے ہیں: میرے والد صاحب نے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عراق میں اسی طرح فیصلہ کیا تھا۔
Takhreej
(۶۴۲۰) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۶۹،و الترمذی: ۱۳۴۴(انظر: ۱۴۲۷۸)
۔ عمرو بن قیس کہتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تحریروں میںیہ چیز بھی لکھی ہوئی پائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دوآدمی ایک جانور کے بارے میں جھگڑ پڑے، جبکہ کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے پر قرعہ ڈالنے کا حکم دیا،یہ حکم ان کو پسند ہو یا نہ ہو۔
Takhreej
(۶۴۲۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۱۶، ۳۶۱۸، وابن ماجہ: ۲۳۲۹(انظر: ۱۰۳۴۷)
۔ ( دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مدّعِی اور مُدَّعا علیہ دونوں قسم پر مجبور کئے جائیں اور وہ اس کو پسند بھی کریں تو ان میں قسم پر قرعہ ڈالا جائے گا۔
Takhreej
(۶۴۲۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری، نسائی اور بیہقی میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((عَرَضَ النَّبِیُّV عَلٰی قَوْمٍ الْیَمِیْنَ فَاَسْرَعَ الْفَرِیْقَانِ جَمِیْعًا فِیْ الْیَمِیْنِ، فَأَمَرَ النَّبِیُّV اَنْ یُسْھَمَ بَیْنَھُمْ فِیْ الْیَمِیْنِ اَیُّھُمْیَحْلِفُ۔))… ’’نبی کریمa نے ایک قوم پر قسم پیش کی، لیکن جب آپaنے فریقین کو قسم اٹھانے کے لیے جلدی کرتے ہوئے دیکھا تو آپa نے حکم دیا کہ پہلے قسم کے معاملے میںیہ قرعہ ڈالا جائے کہ قسم کون اٹھائے گا۔‘‘ ان احادیث میں بڑا اہم قانون بیان کیا گیا کہ جب مدّعِی اور مُدّعٰی علیہ کا پتہ نہ چل رہا ہو اور دونوں آدمی قسم اٹھانے پر بھی تل جائیں تو دونوں سے قسم نہیں لی جائے گی، بلکہ قرعہ ڈالا جائے گا اور جس کے حق میں قرعہ نکلے گا، صرف وہ قسم اٹھائے گا، اگر اس نے قسم اٹھا لی تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک چوپائے کا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل نہ تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سواری کو ان کے درمیان نصف تقسیم کر دیا۔
Takhreej
(۶۴۲۴) تخریج: حدیث معلول بین اھل الحدیث مع الاختلاف فی اسنادہ علی قتادۃ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۶۱۳، والنسائی: ۸/ ۲۴۸، وابن ماجہ: ۲۳۳۰(انظر: ۱۹۶۰۳)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَائ سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔ رکاز میں پانچویں حصے کافیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ کھجور کے درخت کا پھل اس کاہے جس نے اس کو پیوند لگایا ہے، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت لینے کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ فروخت ہونے والے غلام کا مال بیچنے والے کی ملکیت ہوگا، الا یہ کہ خریدار سودا کرتے وقت اس کی شرط لگا لے۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ اولاد اس کی ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو، اور زانی کیلئے پتھر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین اور گھروں میں حصہ داروں کیلئے شفعہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ سیدنا حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کو اس کی بیوی کی میراث سے حصہ دیا جائے گا، جس کو اس کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹ کے مقتول بچے کی دیت کا فیصلہ دیا کہ ایک لونڈییا غلام دیا جائے اور فرمایا کہ قتل ہونے والی عورت کا خاوند اور اسکے بیٹے وارث ہوں گے اور حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قتل کرنے والی کے باپ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کیسے بھروں، جس نے نہ توآواز نکالی، نہ چیخا، نہ پیا اور نہ کھایا۔اس قسم کا معاملہ تو باطل اور ہدر ہو جانا چاہیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں کی قافیہ بندی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چبوترے کے بارے میں فیصلہ کیا جو راستے میں تھا اور اس کے مالکوں نے عمارت تعمیر کر نے کا ارادہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سات سات ہاتھ راستہ چھوڑ کر عمارت بنائی جائے۔ اور وہ چلنے کا عام راستہ ہو گا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جب لوگ ایکیا دو یا تین کھجوروں کے درختوں میں اختلاف کریں تو ہر درخت کی ٹہنیوں کی مقدار تک کی جگہ مالک کی ملکیت قرار پائے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ نالوں میں بہتے ہوئے پانی سے کھجوروں کو سیراب کرتے وقت نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین اس طرح سیراب کی جائے کہ پانی ٹخنوں تک آ جائے، پھر اس کو اس سے متصل نیچے والی زمین کی طرف چھوڑا جائے، پھر اسی طریقے سے پانی آگے کی طرف پہنچایا جائے، یہاں تک کہ باغات ختم ہو جائیںیا پانی ختم ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کہ عورت اپنا مال بھی خاوند کی اجازت کے بغیر نہیں دے گی۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ دو جدّات کومیراث سے چھٹا حصہ ملے گا، وہ دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ یہ فیصلہ فرمایا کہ جس نے مشترک غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگراس کے پاس مال ہواتو اسے سارا غلام آزاد کرنا ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ والوں کے درمیان کھجوروں کے بارے میںیہ فیصلہ کیا کہ کنوئیں کا زائد پانی نہ روکا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہات والوں کے درمیانیہ فیصلہ کیا کہ زائد پانی اس لیے نہ روکا جائے کہ زائد گھاس سے لوگوں کو روک دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا دیت ِ کبری میں تیس اونٹنیاں دو دو سالوں کی، تیس تین تین سالوں کی اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہونی چاہئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیت ِ صغری میں فیصلہ کیا کہ تیس دو دو سال کی اونٹنیاں، تیس تین تین سال کی ، بیس ایک ایک سال کی اونٹنیاں اور بیس ایک ایک سال کے اونٹ ہونے چاہئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہوگئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ایک اونٹ کی ایک اوقیہ کے برابر قیمت لگائی، بعد میں پھر جب اونٹ مہنگے ہوئے اور درہم گر گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہر اونٹ کے دو دو اوقیے قیمت لگا کر دو ہزار درہم کی قیمت بڑھا دی، پھر جب تیسری مرتبہ اونٹ مہنگے ہو گئے اور درہم گر گئے تو ہر اونٹ کی تین اوقیے قیمت لگا کر بارہ ہزار درہم کر دی۔ دیت کے ایک تہائی حصے کا اضافہ حرمت والے مہینے میںکیا اور مزید ایک تہائی کا حرمت والے شہر میںکیا، ان دو حرمتوں کی دیت بیس ہزار درہم ہو گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ دیہاتیوں سے ان کے مویشیوں میں سے دیت لی جائے، انہیں سونے اور چاندی کا پابند نہ بنایا جائے، ہر قوم کے مال سے اندازہ لگا کر وہی چیز دیت میں لی جائے، جو ان کے پاس ہے۔
Takhreej
(۶۴۲۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،الفضیل بن سلیمان النمیری لین الحدیث، واسحاق بن یحیی الولید مجھول الحال، ثم روایتہ عن جدہ عبادۃ مرسلۃ، لکن القصص والقضایا التییأتی ذکرھا فیمایلی صحیحۃ بالشواھد: قصۃ المعدن جبار…، قصۃ الرکاز، قصۃ تأبیر النخل وقصۃ مال المملوک، قصۃ الولد للفراش، قصۃ الشفعۃ، قصۃ حمل بن مالک، قصۃ الرحبۃ، قصۃ حیز النخلۃ، قصۃ شرط النخل، قصۃ عطیۃ المرأۃ، قصۃ توریث الجدتین، قصۃ عتق المملوک، لا ضرر ولا ضرار، لیس لعرق ظالم حق، منع فضل المائ،، قصۃ الدیۃ الکبری۔ (انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
فوائد:… ان فیصلوں کی تفصیل ان سے متعلقہ موضوعات میں دیکھیں۔