فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل - فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل - Book 107 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 107 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 41 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی آپس کا ایک جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عمرو!ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس امر کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ میں ہوں۔ میں نے کہا: اگر میں ان کے ما بین فیصلہ کروں تومجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے فیصلہ کیا اور درست صورت تک پہنچ گئے تو دس نیکیاں ملیں گی اوراگر اجتہاد میں خطا اور غلطی ہو گئی تو ایک نیکی ملے گی۔
Takhreej
(۶۳۸۶) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، الفرج بن فضالۃ ضعیف، محمد بن عبد الاعلی و أبوہ لا یعرفان۔ أخرجہ الدارقطنی: ۴/ ۲۰۳(انظر: ۱۷۸۲۴)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۳۸۹)، اس باب کی پہلی تین احادیث سے کفایت کرتی ہے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اجتہاد کیا اور فیصلہ درست کر لیا تو دس اجر ملیں گے اور اگر تم نے اجتہاد کیا اور خطا ہو گئی تو ایک اجر ملے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انھوں نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، وہ ناراض ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: جب قاضی فیصلہ کرتا ہے اور پوری جد وجہد کرتا ہے اور درست فیصلہ کر لیتا ہے تو اسے دس اجر ملتے ہیں اور اگر پوری محنت کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو اس کو ایکیا دو اجر پھر بھی ملتے ہیں۔
Takhreej
(۶۳۸۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، وجھالۃ سلمۃ بن اکسوم۔ أخرجہ الحاکم: ۴/۸۸، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘ (انظر: ۶۷۵۵)
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم پوری محنت کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور درستی کو پہنچ جاتا ہے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جب پوری محنت کے باوجود اس سے خطا ہو جاتی ہے تو اس کو ایک اجر ملتا ہے۔ یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
فوائد:… حاکم، شرعی علم و فہم میں اتنا بلند مقام رکھتا ہو کہ اس میں اجتہاد کرنے کی صلاحیت ہو، جس آدمی میں اجتہاد کرنے کی صلاحیت نہ ہو، اس کو حاکم بننے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، ایسا شخص خود بھی گمراہ ہو گا اور دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرے گا، ایسے شخص کی قرآن و حدیث کی نصوص میں سخت مذمت کی گئی ہے، مثال کے طور پرسیدنا ابو ہریرہb سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((مَنْ أُفْتِیَ بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ إِثْمُہُ عَلٰی مَنْ أَفْتَاہُ ))… ’’جس آدمی کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا، اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہو گا۔‘‘ (ابوداود: ۳۶۵۷)
ہمارے معاشرے میں جہاں دینی و شرعی علم کی قدر بہت کم ہوئی ہے، وہاں اس علم کے حاملین بھی بے وقعت ہو کر رہ گئے ہیں، اللہ تعالی گواہ ہے کہ اب خاندانوں اور بازاروں کے فیصلے کرنے والی پنچائتیں ایسے ایسے افراد پر مشتمل ہوتی ہیں، جو بے نماز اور بد کردار ہوتے ہیں اور کوئی ایک سورت یا حدیث ترجمہ کے ساتھ سنانے پر بھی قادر نہیں ہوتے، صرف وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ سرمایہ دار ہوتے ہیںیا رہ چکے ہوتے ہیں، ایسی پنچائتوں کے چند فیصلےیہ ہیں:
ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں، صاحبوں نے عدت کے اندر ہی اسی خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کر دیا، جبکہ ایسا کرنے والے لوگ حنفی تھے، جن کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں، ان لوگوں نے ایک ظلم تو یہ کیا کہ تین طلاقوں کے بعد اسی خاوند سے نکاح کر دیا، جبکہ ایسا نکاح قبول ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے اور دوسرا ظلم یہ کیا کہ عدت کے اندر نکاح کر دیا، جبکہ عدت کے اندر خاتون کا نکاح نہیں کیا جا سکتا۔
اس سے زیادہ قابل افسوس فیصلہ کہ ایک اور خاوند نے اپنی بیوی کو اسی طرح تین طلاقیں دے دیں، بیوی اور اس کے سسرال والے بیوی کے والدین کو اس وقوعہ کی اطلاع نہیں دینا چاہتے تھے، سو جاہلوں نے اس کا حل کیا نکالا کہ سسر نے اپنی اس بہو سے کہا: تم مجھے ولی تسلیم کر لو، میں اپنے بیٹے کے ساتھ تمہارا دوبارہ نکاح کرا دیتا ہوں، پس ایسے ہی ہوا، اوپر والی مثال والے دو مظالم بھی تھے اور تیسرا ظلم یہ بھی تھا کہ ولی کے بغیررسمِ نکاح رچا دی گئی۔
حمید نے کسی کا حق دینا تھا، جبکہ وہ انکار پر تلا ہوا تھا، پنچائت نے فیصلہ کیا کہ حمید نے قسم اٹھانی ہے، لیکن حقدار اس کی قسم پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہ تھا، اس نے کہا کہ حمید کی بجائے اس کا بھائی حامد قسم اٹھائے، جبکہ حامد کو اس معاملے کی کوئی خبر نہ تھی، لیکن پنچائت نے یہ فیصلہ دینا چاہا کہ چلو حامد قسم اٹھا لے۔ یہ علم شرعی سے محرومی اور شرعی علوم کے حاملین کی بے وقعی کے نتائج ہیں۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عامل بنا کر یمن کی طرف بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جب کوئی مقدمہ پیش ہو تو تو کس طرح فیصلہ کرے گا؟ انھوں نے کہا: جی میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ا ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ مسئلہ اللہ تعالی کی کتاب میں نہ ہو تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر اللہ کے رسول کی سنت کی روشنی میں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر رسول اللہ کی سنت میں بھی نہ ملے تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر میں اجتہاد کروں گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے سینے پر تھپکی دی اور فرمایا: اس اللہ کے لئے تعریف ہے، جس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس چیز کی توفیق بخشی کہ جس کو اس کا رسول پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۶۳۹۰) اسنادہ ضعیف لابھام اصحاب معاذ وجھالۃ الحارث بن عمرو، لکن مال الی القول بصحتہ غیر واحد من المحققین من اھل العلم۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۹۳، والترمذی: ۱۳۲۸ (انظر: ۲۲۰۰۷)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، اگرچہ شریعت کا سرسری مطالعہ رکھنے والوں کی زبانوں پر بہت مشہور ہے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کا قاضی مقرر کر کے بھیجا، جبکہ میں ابھی نو عمر تھا، اس لیے میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایک ایسی قوم کے ہاں بھیج رہے ہیں، جن کے درمیان نت نئے معاملات جنم لیتے ہیں اور مجھے تو قضا کا علم ہی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تیری زبان کی رہنمائی کرے گا اور تیرے دل میں مضبوطی پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرتے مجھے کبھی کوئی شک و شبہ نہیں ہوا۔
Takhreej
(۶۳۹۱) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۱۰(انظر: ۶۳۶)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریمa کی پیشین گوئی تھی، جو اللہ تعالی نے بطورِ معجزہ پوری کی۔
۔ یزید بن موہب سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں کے ما بین فیصلہ کرو، انھوں نے کہا: میں دوآدمیوں کے مابین قاضی بنوں گا نہ دو آدمیوں کا امام بنوں گا، اے عثمان! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جس نے اللہ تعالی کے ساتھ پناہ مانگی، اس نے بہت بڑی پناہ مانگی۔ ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی، کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر میں اس بات سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے عامل بنائیں، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو معاف کر دیا، لیکن کہا: کسی اور کو یہ حدیث بیان نہ کرنا۔
Takhreej
(۶۳۹۲) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن حبان: ۵۰۵۶(انظر: ۴۷۵)
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ حجاج نے ان کے بیٹے کو بصرہ پر قاضی مقرر کرنا چاہا تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا طلب کیا اور دوسرے کے تعاون سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تو اسے اس عہدے کے سپرد کر دیا جائے گا اور جو آدمی نہ اس کو طلب کرتا ہے اور نہ اس کے حصول کے لئے دوسروں کا تعاون لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے فرشتہ نازل کرے گا، جو درستی کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔
Takhreej
(۶۳۹۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف عبد الاعلی الثعلبی، وضعف بلال بن ابی موسی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۸۷، والترمذی: ۱۳۲۳، وابن ماجہ: ۲۳۰۹(انظر: ۱۳۳۰۲)
۔ (دوسری سند)سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدئہ قضا خود طلب کیا وہ اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور جسے زبردستی دیا گیا، اس پر ایک فرشتہ نازل ہو گا، جو بہتری کی طرف اس کی رہنمائی کرے گا۔
Takhreej
(۶۳۹۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… درج ذیل حدیث سے یہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے:سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ bسے مروی ہے کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ! لَا تَسْأَلِ الْاَمَارَۃَ، فَاِنَّکَ اِنْ اُوْتِیْتَھَا عَنْ مَسْاَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا، وَاِنْ اُوْتِیْتَھَا مِنْ غَیْرِ مَسْاَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا۔)) (صحیح بخاری: ۶۶۲۲، صحیح مسلم: ۱۶۵۲) ’’اے عبد الرحمن بن سمرہ! تو خود امارت کا سوال نہ کر، کیونکہ اگر یہ تجھے سوال کرنے کی بنا پر دی گئی تو تجھے اس کے سپر د کر دیا جائے گا اور اگر یہ تجھے سوال کے بغیر دی گئی تو تیری مدد کی جائے گی۔‘‘
۔ عمران بن حطان کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور ان سے مذاکرہ کرنے لگا، یہاں تک کہ قاضی کے عہدے کا ذکر ہونے لگا، اس موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قاضی پر قیامت کے روز ایک گھڑی ایسی آئے گی کہ وہ یہ آروز کرے گا کہ کاش کہ اس نے دوآدمیوں کے درمیان ایک کھجور کا بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔
Takhreej
(۶۳۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، صالح بن سرج وعمرو بن العلاء الشنی من رجال التعجیل۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۵۴۶، والبیھقی: ۱۰/ ۹۶ (انظر: ۲۴۴۶۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے لوگوں پر قاضی مقرر کیا گیا، اسے گویا چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا۔
فوائد:… یقینا امت ِ مسلمہ کے لیے قاضی اور حاکم کا ہونا ضروری ہے اور وہ لوگ بڑے خوش بخت اور سعادت مند ہیں جو عہدہ ٔ قضا پر فائز ہونے کے بعد عدل و انصاف کے ترازو کو تھامے رکھتے ہیں، جبکہ ایسے لوگ بہت کم ہیں، حکمرانوں اور قاضیوں کی اکثریت عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکی اور ان کی وجہ سے عوام الناس پر بڑا ظلم و ستم ڈھایا گیا۔
عدل و انصاف والے پہلو کو دیکھ کر شریعت ِ مطہرہ میں اس شعبے کی مدح سرائی کی جاتی ہے اور ظلم و تعدی والے پہلو کو دیکھ کر اس کی مذمت کی جاتی ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایکیا دو مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم اور فیصل لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، قیامت والے دن اسے روک لیا جائے گا اور فرشتہ اسے گردن سے پکڑ کر دوزخ کے بالکل قریب لا کر کھڑا کر دے گا، پھر وہ فرشتہ سر اٹھا کر اللہ تعالی کی جانب دیکھے گا، اگر اللہ تعالییہ کہہ دے گا کہ اس کو پھینک دے تو وہ فرشتہ اسے دوزخ میں پھینک دے گا اوروہ چالیس سال تک گرتا رہے گا۔
Takhreej
(۶۳۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد الھمدانی، وروی مرفوعا و موقوفا، والموقوف اصح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۱۱ (انظر: ۴۰۹۷)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی طرح جب کوئی آدمی مال تقسیم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ (یعنی جب تک وہ انصاف کرتے رہتے ہیں)۔
Takhreej
(۶۳۹۸) اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ سیء الحفظ۔ أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۱۳۲(انظر: ۲۳۵۱۱)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون لوگ ہیں جو روزِ قیامت اللہ تعالی کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے ہوں گے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق ملے تو اسے قبول کرتے ہیںاور جب ان سے حق کا سوال کیا جائے تو وہ اس کو خرچ کرتے ہیں اور جب لوگوں کے لئے فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے فیصلہ کرتے ہیں، جیسے وہ اپنے نفسوں کے لیے کر رہے ہوں۔
Takhreej
(۶۳۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سیء الحفظ (انظر: ۲۴۳۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں انصاف کرنے والے روز قیامت اللہ تعالی کے سامنے موتیوں کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا میںانصاف کیا تھا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاف کرنے والے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، جبکہ اللہ تعالی کے دونوں ہاتھ دائیں ہی ہیں،یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال کے حق میں اور اپنے ما تحت امور اور افراد کے حق میں انصاف کرتے ہوں گے۔
۔ سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے لوگوں کے ما بین کوئی فیصلہ کرنے کا حکم دیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اچھے انداز میںفیصلہ نہیں کر سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہ کرے۔
Takhreej
(۶۴۰۲) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث، وقد کذبہ ابن معین۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۵۳۹ (انظر: ۲۰۳۰۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفیbبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْقَاضِیْ مَا لَمْ یَجُرْ، فَاِذَا جَارَ تَخَلّٰی عَنْہُ وَلَزِمَہُ الشَّیْطَانُ۔))… ’’بیشک اللہ تعالی اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ ظلم نہیںکرتا، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے ہٹ جاتا ہے اور شیطان اس کو چمٹ جاتا ہے۔‘‘ (ترمذی: ۱۳۳۰، ابن ماجہ: ۲۳۱۲)
اس موضوع سے متعلقہ احادیث ِ صحیحہ کا تقاضا یہ ہے کہ حکمرانوں اور حاکموں کو عدل و انصاف کی روش اختیار کرنی چاہیے، جبکہ عدل کے تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا بہت مشکل ہے، مسلم حکمران طبقے کو خلفائے راشدین کے طرزِ خلافت کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اس شعبے کا چودھراہٹ کے اظہار اور دنیوی مال و زر کے حصول کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
فوائد:… رشوت: وہ رقم جو ابطالِ حق یا احقاقِ باطل یا اپنے مفاد کو پورا کرنے کے لیے کسی کو دی جائے، مثال کے طور پر قاتل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جج کو رقم دینا، کسی امتحان میں زیادہ نمبر لگوانے کے لیے ممتحن کو روپیہ پیسہ دینا، رقم لے کر اپنی کمپنی سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرنا، رقم لے کر اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
جو اسباب کسی شخص کو اس کی ذمہ داری اور ڈیوٹی کے تقاضے پورے نہیں کرنے دیتے، ان میں سے ایک بڑا سبب رشوت ہے اور یہ ایسی منحوس بیماری ہے کہ جو غیر محسوس انداز میں اکثر ملازمین میں سرایت کر گئی ہے، خاص طور پر قضا سے متعلقہ عہدوں میں، اللہ تعالی سے عافیت کا سوال ہے۔