ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۳)۔ عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جَعَلَ وَلِیْمَۃَ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ التَّمْرَ وَالْاَقِطَ وَالسَّمْنَ، قَالَ: فُحِصَتِ الْاَرْضُ أَفَاحِیْصَ، قَالَ: وَجِیْئَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِیْہَا ثُمَّ جِیْئَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۱۰)
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا صفیہ بنت حی کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا تھا، زمین کو کھود کر ہموار کیا گیا، پھر دسترخوان بچھائے گئے اور ان پر پنیر، کھجور اور گھی رکھا گیا، لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔
7033
Sahih