TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7033 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 9 in this chapter
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
۔ (۷۰۳۳)۔ عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ وَلِیْمَۃَ صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیٍّ التَّمْرَ وَالْاَقِطَ وَالسَّمْنَ، قَالَ: فُحِصَتِ الْاَرْضُ أَفَاحِیْصَ، قَالَ: وَجِیْئَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِیْہَا ثُمَّ جِیْئَ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۱۳۶۱۰)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا صفیہ بنت حی کا ولیمہ کھجور، پنیر اور گھی سے کیا تھا، زمین کو کھود کر ہموار کیا گیا، پھر دسترخوان بچھائے گئے اور ان پر پنیر، کھجور اور گھی رکھا گیا، لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔
7033
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۷۰۳۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۲۸(انظر: ۱۳۵۷۵)

Related Chapters

232
1
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
Sahih Muslim
3
Chapter: What Has Been Related About What It Is Recommended To Break The Fast With
باب: کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About One Who Comes To A Banquet Without An Invitation
باب: بغیر دعوت کے ولیمہ میں جانے کا حکم
Jam e Tirmazi
5
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
7
نمازی کے لیے سترے کے مستحب ہونے اور اس کے قریب ہونے کا بیان اور اس کی وضاحت کہ وہ کس چیز کا ہو اور نمازی کی کس طرف ہونا چاہیے؟
Musnad Ahmad
8
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
ادھار کی وجہ سے کسی چیز کو فروخت کرنے اور تنگدست سے کچھ قرضہ معاف کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
10
مزدور اپنی مزدوری کا مستحب کب ٹھہرتا ہے، اس چیز کا اور اس کو پورا حق نہ دینے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
11
تین چیزوں میں مسلمانوں کے شریک ہونے، زائد پانی اور گھاس کو روک لینے سے منع کرنے اور اختلاف کی صورت میں نیچے والی زمین سے پہلے اوپر والی زمین کو سیراب کر لینے کا بیان
Musnad Ahmad
12
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
13
مہر کی قلیل اور کثیر مقدار پر شادی کرنے کے جواز اور معتدل چیز کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
14
اس امر کا بیان کہ جو آدمی مسلمان ہو اور اس کے عقد میں دو بہنیںیا چار سے زائد بیویاں ہوں، نیز آزاد اور غلام کے لیے بیویوں کی جائز تعداد اور اس معاملے میں نبی کریمa کے خاصے کا بیان
Musnad Ahmad
15
اس چیز کا بیان کہ عورتوں کے لئے کون سی زینت مستحب ہے اور کون سی مکروہ
Musnad Ahmad
16
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
Musnad Ahmad
17
لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
Musnad Ahmad
18
(31) CHAPTER. To recite the Quran in a charming voice.
خوشالحانی کے ساتھ تلا وت کرنا مستحب ہے
Sahih Bukhari
19
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
Sahih Bukhari
20
Chapter: It Is Recommended To Raise The Hands Level With The Shoulders When Saying The Opening Takbir, When Bowing And When Rising From Bowing. But That Is Not To Be Done When Rising From The Prostration
تکبیرتحریمہ اور رکوع کی تکبیر کے ساتھ اور رکوع سے اٹھتے وقت کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا مستحب ہےاور یہ کہ جب (نمازی) سجدے سے سر اٹھائے تو رفع الیدین نہ کرے
Sahih Muslim
21
Chapter: It is recommended to come to prayers in a tranquil and dignified manner, and it is forbidden to come in a hasty manner
نماز کے لیے وقار اور سکون کے ساتھ آنا مستحب ہے اور دوڑ کر آنا ممنوع ہے
Sahih Muslim
22
Chapter: It is permissible to fast or not to fast during Ramadan for one who is travelling for no sinful purpose, if his journey is two stages or further. But it is better for the one who is able to fast without suffering any harm to do so, and the one for whom it is difficult may break the fast
اگر سفر گناہ کے لیے نہیں تو رمضان میں مسافر کے لیے جبکہ اس کا سفر دو یادو سے زائد منزلوں کا ہے روزہ رکھنا اور روزہ چھوڑنا دونوں جائز ہیں اور جو آدمی نقصان اٹھائے بغیر روزہ رکھ سکتا ہے ‘
Sahih Muslim
23
Chapter: The soundness of Ihram for the woman in Nifas; It is recommended for her to perform Ghusl before entering Ihram, and the same applies to one who is menstruating
نفاس والی عورتیں احرام باندھ سکتی ہیں ‘احرام کے لیے ان کا غسل کرنا مستحب ہے اور حائضہ کا بھی یہی حکم ہے
Sahih Muslim
24
Chapter: It is permissible to lend animals and it is recommended to pay in full, giving something better than that which ts owed
نور ادھار لینا جائز ہے اور جو کسی کے ذمے ہے اس سے بہتر (جانور )دینا مستحب ہے
Sahih Muslim
25
Chapter: It is recommended to mix provisions if they are few, and to share them out
زائد از ضرورت مال سے کسی کی دلداری کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
26
Chapter: What the guest should do if he is accompanied by someone who was not invited by the host; it is recommended for the host to give permission to the one who has accompanied the guest
اگر مہمان کے ساتھ جس کو بلایا گیا،اس کے علاوہ کوئی اور بھی پیچھے چل پڑے تو وہ کیا کرے؟کھلانے والے کی طرف سے،ساتھ آنے والے کے لیے اجازت د ینا مستحب ہے
Sahih Muslim
27
Chapter: It Is Recommended To Wear Sandals et
جوتے اور جوتے کی طرح کی چیزیں(موزے وغیرہ) پہننا مستحب ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: It Is Recommended To Perform Tahnik For The Newborn When He Is Born And To Take Him To A Righteous Man To Perform Tahnik For Him; It Is Permissible To Name Him On The Day He Is Born, And It Is Recommended To Use The Names 'Abdullah, Ibrahim, And The Names Of All Other Prophets, Peace Be Upon Them
نومولود کو ولادت کے وقت گھٹنی دلوانا اوراسے گھٹی دلوانے کے لئے کسی نیک انسان کے پاس اٹھا کر لے جانا مستحب ہے،پیدائش کے دن اس کا نام رکھنا جائز ہے ،اس کانام عبداللہ،ابراہیم یا جملہ انبیائے کرام علیہ السلام کے ناموں....
Sahih Muslim
29
Chapter: It Is Permissible To Say: O My Son To Someone Other Than One's Son, And It Is Recommended To Speak Kindly
کسی اور کے بیٹے کو بیٹا کہنا جائز ہے اور (اگر) شفقت کے اظہار کے لئے ہوتو مستحب ہے
Sahih Muslim
30
Chapter: It Is Recommended To Put Ones Hand On The Site Of The Pain When Supplicating
دعا کے ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ درد کی جگہ رکھنا مستحب ہے
Sahih Muslim
31
Chapter: It Is Recommend To Keep Company With Righteous People And Avoid Bad Company
نیکوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور بُروں کی صحبت سے اجتناب کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
32
Chapter: It Is Recommend To Lower One's Voice When Saying Remembrance, Except In The Cases Where It Is Commanded To Raise The Voice Such As The Talbiyah Etc. It Is Recommend To Say A Great Deal, There Is No Power And No Strength Except With Allah
ذکر میں آواز دھیمی رکھنا مستحب ہے، سوائے ان مقامات کے جہاں شریعت میں اس کے لیے آواز بلند کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، مثلا: تلبیہ (حج) وغیرہ اور لا حول ولا قوة الا بالله کثرت سے کہنا مستحب ہے
Sahih Muslim
33
CHAPTER: Regarding A Man Who Was Married To More Than Four Women, Or To Two Sisters, And Then He Accepts Islam.
باب: قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Regarding What Is Recommended In Armies, Companies, And Expeditions.
باب: چھوٹے بڑے لشکر ، اور ساتھیوں کی کون سی تعداد مستحب و مناسب ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Regarding Selling Food When There Is Surplus For The People In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے علاقہ میں ضرورت سے زائد کھانے کی چیزوں کو بیچنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Regarding the recommendation for holding a wedding feast.
باب: نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: How long should the wedding feast last.
باب: دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding One Who Manumits Slaves Of His That Exceed One Third Of His Property.
باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
39
کن چیزوں سے افطار مستحب ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
40
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended For Shrouding
باب: کس رنگ کا کفن مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About (Al-Walimah) The Banquet
باب: ولیمہ کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Selling Surplus Water
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended To Slaughter
باب: کس قسم کے جانور کی قربانی مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Hour In Which It Is Recommend To Fight
باب: جہاد کے مستحب اوقات کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About What Is Recommended For A Ring's Fass
باب: انگوٹھی کا کیسا نگینہ مستحب ہے؟
Jam e Tirmazi
49
باب: زائد بالوں کا گچھا اپنے بال میں جوڑنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
بَاب الْوَلِيمَة
ولیمہ کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

1
Musnad Ahmad
11459
۔ (۱۱۴۵۹)۔ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کُنْتُ رَدِیفَ أَبِی طَلْحَۃَیَوْمَ خَیْبَرَ، وَقَدَمِی تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَأَتَیْنَاہُمْ حِینَ بَزَغَتِ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِیَہُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِہِمْ وَمَکَاتِلِہِمْ وَمُرُونِہِمْ، فَقَالُوْا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اللّٰہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ۔)) قَالَ: فَہَزَمَہُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: وَوَقَعَتْ فِی سَہْمِ دِحْیَۃَ جَارِیَۃٌ جَمِیلَۃٌ فَاشْتَرَاہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعَۃِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَہَا إِلَی أُمِّ سُلَیْمٍ تُصْلِحُہَا وَتُہَیِّئُہَا وَہِیَ صَفِیَّۃُ ابْنَۃُ حُیَیٍّ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِیمَتَہَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، قَالَ: فُحِصَتِ الْأَرْضُ أَفَاحِیصَ، قَالَ: وَجِیئَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِیہَا، ثُمَّ جِیئََ بِالْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ، قَالَ: وَقَالَ النَّاسُ: مَا نَدْرِی أَتَزَوَّجَہَا أَمْ اتَّخَذَہَا أُمَّ وَلَدٍ، فَقَالُوْا: إِنْ یَحْجُبْہَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ وَإِنْ لَمْ یَحْجُبْہَا فَہِیَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یَرْکَبَ حَجَبَہَا حَتّٰی قَعَدَتْ عَلٰی عَجُزِ الْبَعِیرِ فَعَرَفُوا أَنَّہُ قَدْ تَزَوَّجَہَا، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ دَفَعَ وَدَفَعْنَا، قَالَ: فَعَثَرَتِ النَّاقَۃُ الْعَضْبَائُ، قَالَ: فَنَدَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَدَرَتْ، قَالَ: فَقَامَ فَسَتَرَہَا، قَالَ: وَقَدْ أَشْرَفَتِ النِّسَائُ فَقُلْنَ: أَبْعَدَ اللّٰہُ الْیَہُودِیَّۃَ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! أَوَقَعَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: إِی وَاللّٰہِ لَقَدْ وَقَعَ، وَشَہِدْتُ وَلِیمَۃَ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَکَانَ یَبْعَثُنِی فَأَدْعُو النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُہُ وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِہِمَا الْحَدِیثُ لَمْ یَخْرُجَا، فَجَعَلَ یَمُرُّ بِنِسَائِہِ وَیُسَلِّمُ عَلٰی کُلِّ وَاحِدَۃٍ: ((سَلَامٌ عَلَیْکُمْیَا أَہْلَ الْبَیْتِ کَیْفَ أَصْبَحْتُمْ؟)) فَیَقُولُونَ: بِخَیْرٍیَا رَسُولَ اللّٰہِ کَیْفَ وَجَدْتَ أَہْلَکَ فَیَقُولُ: ((بِخَیْرٍ)) فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَہُ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا ہُوَ بِالرَّجُلَیْنِ قَدِ اسْتَأْنَسَ بِہِمَا الْحَدِیثُ، فَلَمَّا رَأَیَاہُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا، قَالَ: فَوَاللّٰہِ مَا أَدْرِی أَنَا أَخْبَرْتُہُ أَوْ نَزَلَ عَلَیْہِ الْوَحْیُ بِأَنَّہُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَہُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی أُسْکُفَّۃِ الْبَابِ أَرْخَی الْحِجَابَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ، وَأَنْزَلَ اللّٰہُ الْحِجَابَ ہٰذِہِ الْآیَاتِ: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ} حَتّٰی فَرَغَ مِنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۳۶۱۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر کے دن میں سواری پر ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پیچھے بیٹھا تھا اور میر اقدم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم کو لگ رہا تھا، ہم وہاں پہنچے تو آفتاب طلوع ہو چکا تھا، وہ لوگ اپنے جانوروں کو ہانک کر باہر نکلے اور اپنی کلہاڑیاں، ٹوکریاں اور رسیاںلے کر روانہ ہوئے یعنی وہ لوگ بالکل بے خبر تھے اور عام معمول کے مطابق اپنے اپنے کام کو روانہ ہوئے۔ اچانک ہی وہ حیران ہو کر کہنے لگے یہ تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ان کا لشکر ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، اب خیبر کی خیر نہیں، ہم جب کسی قوم کے علاقے میں جا اتریں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے ان یہود کو شکست سے دو چار کیا اور ایک خوبصورت لونڈی دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حصہ میں آئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات غلام دے کر ان سے اسے خرید لیا اور اسے ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے سپرد کیا تاکہ وہ اس کو تیار کرے۔ یہ حیی کی دختر صفیہ تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ولیمہ میں کھجور، پنیر اور گھی پیش کیا۔ زمین میں چھوٹے چھوٹے گڑھے بنا کر ان پر دستر خوان بچھا دیئے گئے پھر پنیر کھجور اور گھی ان پر ڈال دیا گیا۔ لوگوں نے سیر ہو کر کھایا۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ آپ نے اس سے نکاح کیا ہے یا ام ولد (لونڈی) کی حیثیت دی ہے؟ پھر لوگوں نے کہا : اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو پردہ کرایا تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیوی ہیں اور اگر پردہ نہ کرایا تو وہ لونڈی ہیں، جب آپ نے سوار ہونے کا یعنی روانگی کا ارادہ کیا تو ان کو پردہ کرایایہاں تک کہ وہ اونٹ کی پشت پر سوار ہوگئیں۔ لوگ جان گئے کہ آپ نے ان سے نکاح کرکے ان کو بیوی کی حیثیت دی ہے۔ جب لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیز چلے اور ہم بھی تیز تیز چلنے لگے۔ تیز چلنے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عضباء اونٹنی کا پائوں الجھ گیا اور وہ گر گئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ام المؤمنین سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی گر گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اٹھ کر ان پر پردہ کر دیا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:عورتوں نے آکر کہا: اللہ اس یہودی عورت کو ہلاک کرے۔ (کہ اس کی وجہ سے آپ گر گئے ہیں) میں نے یعنی ثابت نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گر گئے تھے؟ انہوں نے کہاں: ہاں ہاں، اللہ کی قسم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گر گئے تھے اور میں ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ولیمہ میں شریک ہوا تھا، آپ نے لوگوںکو گوشت روٹی کھلا کر خوب سیر کیاتھا، آپ مجھے بھیجتے تھے اور میں لوگوں کو بلا کر لاتا تھا،آپ جب کھانا کھلانے سے فارغ ہوئے تو اٹھ کر چل دیئے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ دو آدمی باتیں کرتے کرتے بیٹھے رہے اور وہ پیچھے رہ گئے اور وہ اٹھ کر نہ گئے۔ آپ اپنی ازواج کے ہاں چکر لگانے لگے اور ہر ایک کو ان الفاظ کے ساتھ سلام کہتے: سَلَامٌ عَلَیْکُمْیَا أَہْلَ الْبَیْتِ اے اہل بیت! تم پر سلامتی ہو۔ تمہار کیا حال ہے؟ وہ کہتیں: اے اللہ کے رسول! ہم ٹھیک ہیں اور آپ نے اپنے اہل کو کیسا پایا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی فرماتے تھے: خیر کے ساتھ پایا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا۔ آپ ابھی تک دروازے پر پہنچے تو آپ نے ان دونوں آدمیوں کو دیکھا، وہ ابھی تک سلسلہ کلام جاری رکھے ہوئے تھے، انہوںنے جب دیکھا کہ آپ جا کر واپس آگئے ہیں تو وہ اٹھ کر چلے گئے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں کہ آپ کو میں نے بتلایایا آپ پر وحی نازل ہوئی کہ وہ دونوں جا چکے ہیں۔ آپ واپس آئے۔اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آگیا۔ آپ نے جب اپنا پائوں د روازے کی چوکھت پر رکھا تو اپنے اور میرے درمیان آپ نے پردہ لٹکا دیا۔ اور اللہ نے حجاب کے متعلق یہ آیات نازل کر دیں: {لَا تَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلَّا أَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ إِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نَاظِرِینَ إِنَاہُ} … تم نبی کے گھروں میں بلا اجازت مت جائو، الایہ کہ تمہیں کھانے کے لیے بلایا جائے تو ایسے وقت جائو کہ تمہیں کھانے کے پکنے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ (سورۂ احزاب: ۵۳)