TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مشروبات کا بیان - مشروبات کا بیان - Book 133 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 133 of Musnad Ahmad, with 23 chapters and 144 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

144 Hadith · 23 Chapters
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں وفات پا گئیں اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری ماں وفات پا چکی ہے، کیا میں اس کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانی سے سیراب کرنا افضل صدقہ ہے۔ پس انہوںنے ایک کنواں کھدوا دیا، جو مدینہ میں آل سعد کے نام سے مشہور تھا۔
Takhreej
(۷۴۳۴) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین غیر صحابیہ سعد بن عبادۃ، أخرجہ النسائی: ۶/۲۵۵، وابن ماجہ: ۳۶۸۴، وأخرجہ دون قصۃ ام سعد ابوداود: ۱۶۸۰(انظر: ۲۳۸۴۵)
7434
Sahih
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا:میں پانی کھینچ کر اپنے حوض میں ڈالتا ہوں اور اپنے گھر والوں کے لیے اس کو بھرتا ہوں، لیکن کسی دوسرے کے اونٹ آتے ہیں اور میں انہیں پلا دیتا ہوں، کیا مجھے اس کا اجر و ثواب ملے گا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ایک جگر والے یعنی ہر جاندار کو پانی پلانے کا اجر ملتاہے۔
Takhreej
(۷۴۳۵) تخریج: صحیح (انظر: ۷۰۷۵)
7435
Sahih
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس بیماری میں گیا، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوالات پوچھنے شروع کئے، یہاں تک کہ مجھے اب یاد نہیں کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا کیا پوچھتا رہا، ایک نے کہا: کوئی سوال تو یاد کرو اور ہمیں بتائو، انھوں نے کہا:میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول! ایک گم شدہ جانور میرے اُس حوض پر آتا ہے، جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے بھر رکھا ہوتا ہے، اگر میں اسے پانی سیراب کرتا ہوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں! ہر پیاس سے جلنے والے جگر کی پیاس بجھانے سے اجر ملتا ہے۔
Takhreej
(۷۴۳۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۸۶(انظر: ۱۷۵۸۷)
Explanation
فوائد:… انسان توبہت اعلیٰ ہے، اسے سیراب کرنا تو مغفرت اور اجر کا باعث ہے ہی، لیکن یہ مغفرت اور اجر اور ثواب حیوانوں سے حسن سلوک کرتے ہوئے انہیں پانی پلائیں تو تب بھی حاصل ہوتا ہے۔
7436
Sahih
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔
۔ بہیسہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میرے باپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ان کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دی، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہو گئے اور ساتھ چمٹ گئے، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا جائز نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانی۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے، جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نمک ہے۔ پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وہ کیا چیز ہے جسے روکنا حلال نہیں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے لیے یہی بہتر ہے کہ تو بھلائی والا کام کرے۔ اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات تو پانی اور نمک تک محدود رہی، لیکن اس کے بعد وہ آدمی کبھی کسی چیز کو دینے سے انکار نہ کرتا تھا، اگرچہ وہ معمولی سی بھی ہوتی۔
Takhreej
(۷۴۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، مسلسل بالمجاھیل، سیار بن منظور مجھول، وابوہ لایعرف، وبھیسۃ الفزاریۃ لا تعرف، وقد وقع الاضطراب فی اسناد ھذا الحدیث، أخرجہ ابوداود: ۱۶۶۹، ۳۴۷۶(انظر: ۱۵۹۴۷)
Explanation
فوائد:… یہ پانی وغیرہ اشیاء اگر ضرورت کے مطابق ہوں، تو روکنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اگر ضرورت سے زائد ہوں تو ان کو روکنا منع ہے، ضرورت مند کو دینی چاہئیں، اس سے بہت بڑا اجر حاصل ہوتاہے، باقی کسی بھی ضرورت مند کی مقدور بھر ضرورت پوری کرنا خیر ہے اور خیر میں زیادہ سے زیادہ محنت کرنی چاہیے۔
7437
Zaeef
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو زائد پانی اور زائد گھاس روکے گا، اللہ تعالی روز قیامت اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
Takhreej
(۷۴۳۸) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۶۶۷۳)
Explanation
فوائد:… شریعت ِ مطہرہ میں اجتماعی فائدے کو سامنے رکھا جاتا ہے، نہ کہ فردِ واحد کے فائدے کو۔ اس حدیث میں یہی قانون بیان کیا گیا ہے۔ پانی اور گھاس اللہ تعالی کے ایسے عطیے ہیں، کہ جن کے حصول میں کسی کی قابلیت کو کوئی دخل حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا سب لوگوں کو ان کے استعمال کا حق حاصل ہے۔
7438
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سب سے پسندیدہ مشروب وہ تھا جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔
Takhreej
(۷۴۳۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۱۸۹۵(انظر: ۲۴۱۰۰)
7439
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے بیوت سقیا ء سے پینے کے لیے پانی لایاجاتا تھا۔
Takhreej
(۷۴۴۰) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ ابوداود: ۳۷۳۵(انظر: ۲۴۶۹۳)
Explanation
فوائد:… بیوت سقیاء مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے، یہ ایک میٹھا چشمہ تھا، مدینہ کے اکثر کنوئوں کا پانی کڑوا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میٹھا پانی پسند فرماتے تھے، اس لیے وہاں سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے پانی لایا جاتا تھا۔
7440
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا مشروب زیادہ پسندیدہ اور لذیذ ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو میٹھا اور ٹھنڈاہو۔
Takhreej
(۷۴۴۱) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۳۱۲۹)
Explanation
فوائد:… ہر انسان طبعی طور پر میٹھی اور ٹھنڈی چیز کو پسند کرتا ہے۔
7441
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: برتنوں کو ڈھانپ کر اورمشکوں کے منہ باندھ کر رکھا کرو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے کہ اس میں ایک وبا اترتی ہے اور وہ ہر اس برتن میں داخل ہو جاتی ہے، جو ڈھانپا ہوا نہ ہو اور ہر اس مشک میں اتر جاتی ہے جس کامنہ نہ باندھا ہو۔
Takhreej
(۷۴۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۱۴(انظر: ۱۴۸۲۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں حکم کی ایک وجہ بھی بیان کر دی گئی ہے، برتن اور مشکیزے کو نہ ڈھانپنے کے مزید نقصانات بھی ہو سکتے ہیں، مثلا کسی زہریلے جانور سے متاثر ہو جانا، کوئی چیز گرنے سے پانی اور مشروب کا خراب ہو جانا، وغیرہ وغیرہ۔
7442
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے ایک دن سیدنا ابو حمید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دودھ کا ایک برتن لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقیع میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اسے ڈھانپ لینا تھا، اگرچہ اس پر کوئی لکڑی رکھ کر ہی ڈھانپ لیتا۔
Takhreej
(۷۴۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۰۵، ومسلم: ۲۰۱۱(انظر: ۱۴۱۳۷)
7443
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو حمید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ وہ نقیع مقام سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دودھ کا پیالہ لائے، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوںنہیں، اگرچہ اس پر ایک لکڑی رکھ لاتا۔ ابو حمید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا ہے کہ مشکوں کے منہ پر تسمہ باندھا جائے اور رات کے وقت دروازے بند رکھے جائیں، زکریا راوی نے رات کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
Takhreej
(۷۴۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۱۰ (انظر: ۲۳۶۰۸)
7444
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے پانی طلب کیا، ایک آدمی نے کہا: جی میں آپ کو نبیذ پلائوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں۔ وہ دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا، اس میں نبیذ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے اسے ڈھانپا کیوں نہیں، اگرچہ اس پر ایک لکڑی رکھ لیتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پی لیا۔
Takhreej
(۷۴۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۰۵، ومسلم: ۲۰۱۱(انظر: ۱۴۳۶۷)
7445
Sahih
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم صرف ان مشکوں سے پیو، جن کے منہ باندھے گئے ہوں۔
Takhreej
(۷۴۴۶) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۴۴۳۳)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں برتن ڈھانپنے کی خصوصی تربیت کی گئی ہے اس کے بہت سے فوائد ہیں۔ ایک یہ کہ شیطان سے حفاظت رہتی ہے، کیونکہ شیطان ڈھانکا ہوا برتن نہیں کھولتا، دوسرا یہ ہے کہ اس طرح وباء سے حفاظت رہتی ہے، تیسرا فائدہ یہ ہے کہ نجاست اور گندگی سے حفاظت رہتی ہے، چوتھا فائدہ ہے کہ کیڑے مکوڑوں سے حفاظت رہتی ہے، بعض اوقات کوئی زہریلی چیز پانی میں گر جاتی ہے، جس سے پانی متاثر ہو جاتا ہے۔
7446
Sahih
مومن کم پیتا ہے
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کافر مہمان کی میزبانی کی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ایک بکری کا دودھ دوہاجائے، پس اس کا دودھ دوہا گیا، اس کافر نے اس کا دوہا ہوا سارا دودھ پی لیا پھر دوسری کا بھی پی گیا، پھر تیسری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہو گیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، تو اس نے ایک بکری کا دوہا ہوا دودھ پی لیا،پھر آپ نے دوسری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، پس وہ دوسری بکری کا دودھ پورا نہ پی سکا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن ایک انتڑی میں کھاتا ہے اور کافر سات انتڑیوں میں۔
Takhreej
(۷۴۴۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۶۳(انظر: ۸۸۷۹)
Explanation
فوائد:… مراد یہ ہے کہ کافر زیادہ کھاتا ہے اور مومن کم، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن عبادت کے اسباب میں مصروف بھی رہتا ہے اور اس کے وجود کو عبادت کی وجہ سے بھی غذا ملتی ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے کہ کھانے پینے کے معاملے میں گزارہ کیا جائے اور شہوات اور چسقوں کے پیچھے نہ پڑھا جائے، ان امور کی وجہ سے اس کا تھوڑی مقدار والا کھانا بابرکت ثابت ہوتا ہے، جبکہ کافر ان تمام امور سے عاری اور غافل ہوتا ہے، اس کا سب کچھ دنیا ہے، سو وہ اس کی لذتوں میں کھویا ہوا ہوتا ہے۔
7447
Sahih
پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں آئے تو میری عمر دس برس تھی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا، میری ماں اور خالائیں مجھے آپ کی خدمت پر ترغیب دلاتی رہتی تھیں، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر داخل ہوئے تو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اپنی پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھروالے کنوئیں سے اس میں پانی ملایا، ایک دیہاتی آپ کی دائیں جانب تھا اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کی بائیں جانب تھے اور سیدنا عمر ایک کونے میں تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ دودھ پیا، سیدنا عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! بقیہ دودھ سیدنا ابوبکر کو دے دو، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیہاتی کو پکڑا دیا اور فرمایا: دائیں جانب والے مقدم ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۷۴۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۵۲، ومسلم: ۲۰۲۹(انظر: ۱۲۰۷۷)
Explanation
فوائد:… دوسروں کو کوئی چیز دیتے وقت دائیں طرف والوں کو مقدم کیا جائے۔ ہاں اگر کوئی آدمی بائیں طرف والوں کو پہلے پلانا چاہے تو دائیں طرف والوں سے اجازت طلب کرے۔ جیسا کہ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے سے کہا: کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان بزرگوں کو پہلے دے دوں؟ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! آپ کے جوٹھے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔
7448
Sahih
پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بائیں جانب تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی پیااور مجھ سے فرمایا: پانی پینے کی باری تو تمہاری ہے، لیکن اگر تمہاری مرضی ہو تو میں پہلے خالد کو دے دوں؟ میں کہا: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا، پس آپ نے برتن مجھے تھما دیا۔
Takhreej
(۷۴۴۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۷۳۰، والترمذی: ۳۴۵۵، وأخرج بنحوہ ابن ماجہ: ۳۴۲۶(انظر: )۱۹۰۴۔
Explanation
فوائد:… غور فرمائیے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دائیں جانب سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اوربائیں سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طبعی فیصلہ یہ تھا کہ پہلے خالد بن ولید کو مشروب پلایا جائے، لیکن وہ بائیں جانب بیٹھے تھے، اس لیے ابن عباس سے اجازت طلب کی، جب انھوں نے اجازت نہ دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شرعی فیصلے کو ترجیح دی اور مشروب عبد اللہ بن عباس کو تھما دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نہ صرف تقسیم کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دائیں جانب کو مقدم کرے، بلکہ یہ دائیں طرف بیٹھنے والوں کا حق ہے۔
7449
Sahih
پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
۔
۔ سیدنا سعد بن سہل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب بزرگ تھے اور دائیں جانب ایک بچہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بچے سے فرمایا: کیا تو مجھے اجازت دے گا کہ میں ان بزرگوں کو یہ پانی دے دوں؟ لیکن اس بچے نے کہا: اللہ کی قسم! میں اپنے نصیب پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پانی والا برتن اس بچے کے ہاتھ میں دے دیا۔
Takhreej
(۷۴۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۵۱، ۲۶۰۲، ومسلم: ۲۰۳۰ (انظر: ۲۲۸۲۴)
Explanation
فوائد:… ان احادیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی کھانے پینے کی یا اس کے علاوہ بھی کوئی چیز ہو تو دائیں جانب سے دینے کا آغاز کیا جائے یا پھر دائیں جانب والے سے اجازت لے لی جائے اگر وہ اجازت دے تو پھر دوسری جانب والے میں سے اجازت شدہ کو دینی جائز ہے، اگر اجازت نہ دے تو پھرجائز نہیں اگرچہ دائیں جانب والا کم درجہ یاچھوٹا ہو۔
7450
Sahih
پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے، پانی موجود نہ تھا، پھر اچانک ہمیں پانی مل گیا، لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پانی پلانا شروع کر دیا، جب بھی وہ آپ کے پاس پانی لاتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار دہرائی، یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پیا تو تب آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیا تھا۔
Takhreej
(۷۴۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو المختار الاسدی مجھول الحال، أخرجہ ابوداود: ۳۷۲۵ (انظر: ۱۹۱۲۱)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ پانی پلانے والا پہلے سب کو پلا ئے گا، پھر آخر میں خود پئے گا۔
7451
Zaeef
پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اورمیری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیں اور کھانا تیار کیا، ہم نے ان کو پانی پلایا، یہاں تک کہ پانی ختم ہو گیا، میں ایک اور پیالہ لے آیا، میں پانی پلانے کی خدمت پر مامور تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیالہ اس تک لے جائو جو آخری ہے، (پھر خود پینا)۔
Takhreej
(۷۴۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن عبد اللہ بن بسر (انظر: ۱۷۶۷۶)
7452
Zaeef
کھڑے ہو کر پانی پینا منع ہے
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کودیکھا کہ وہ کھڑا ہو کر پانی پی رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو قے کردے۔ اس نے کہا: کیوں؟ آپ نے اس سے فرمایا: کیا تجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ تیرے ساتھ بلا پانی پئے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تیرے ساتھ اس نے پانی پیا ہے، جو اس بلے سے بھی بدتر ہے، اور وہ ہے شیطان۔
Takhreej
(۷۴۵۳) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی سلسلتہ الصحیحۃ، أخرجہ الدارمی: ۲۱۲۸، والبزار: ۲۸۹۶(انظر: ۸۰۰۳)
7453
Sahih

Chapters

23
01
پانی پلانے کی فضیلت اور زائد پانی کو روک لینے سے ممانعت اور اس معاملے میں سختی کا بیان
5 Hadith
02
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
8 Hadith
03
مومن کم پیتا ہے
1 Hadith
04
پینے والے والوں کی ترتیب کا، قوم کے شرف والے آدمی سے پینے کا آغاز کا اور اس کے بعد دائیں طرف والے کو مقدم کرنے کا اور اس چیز کا بیان کہ پلانے والا آخر میں پانی پئے گا
5 Hadith
05
کھڑے ہو کر پانی پینا منع ہے
6 Hadith
06
کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان
6 Hadith
07
مشک سے منہ لگاکر پانی پینے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
08
مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کی اجازت کی دلیل
2 Hadith
09
برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے
3 Hadith
10
پانی پینے کے دوران برتن سے باہر تین سانس لینا مستحب ہے
3 Hadith
11
منہ لگا کر پانی پینے کا حکم
2 Hadith
12
دودھ ، اس کو پینے اور اس کو دوہنے وغیرہ کا بیان
4 Hadith
13
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
7 Hadith
14
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
3 Hadith
15
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
11 Hadith
16
دو چیزوں کو ملا کر ان سے بنائے گئے نبیذ کا بیان
10 Hadith
17
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
14 Hadith
18
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
11 Hadith
19
وہ جس سے شراب بنائی جاتی ہے اور شراب کی حرمت کا بیان اور یہ کہ ہر نشہ آور حرام ہے
17 Hadith
20
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
1 Hadith
21
شراب اور اس کے پینے والے پر لعنت اور آخرت کی شراب سے اس کے محروم ہو جانے کا بیان، الا یہ کہ وہ توبہ کر لے
4 Hadith
22
شرابی کی وعید کا بیان،ہم اس سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں
9 Hadith
23
شراب کو بہانے اور اس کے برتنوں کو توڑ دینے کا اور شراب کو سرکہ بنا لینے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.