۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ شراب کو اس طرح حلال تصور کر لے گا کہ وہ اس کا نام تبدیل کر لے گا۔
Takhreej
(۷۴۹۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۳۸۵(انظر: ۲۲۷۰۹)
۔ ابن محیریز ، ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ اس طرح شراب پئیں گے کہ اس کا نام تبدیل کر دیں گے۔
فوائد:… اسلام نے جن چیزوں کو جن صفات کی وجہ سے حرام قرار دیا، وہ ایسے مسلّم قوانین ہیں کہ مرورِزمانہ یا حوادثات ِ زمانہ ان کو متاثر نہیں کر سکتا۔ پہلے خمر (شراب) کی تعریف گزر چکی ہے کہ جس چیز سے عقلی توازن برقرار نہ رہ سکے یا جو چیز عقل پر پردہ ڈال دے، اس کا نام جو بھی رکھ دیا جائے، وہ حرام اور ممنوع ہو گی۔
۔ ابو عبد اللہ جسری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مشروب کے متعلق دریافت کیا،انہوں نے کہا: اس وقت کی بات ہے جب ہم مدینہ میں تھے، وہاں کھجوریں بہت زیادہ ہوتی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے وہ مشروب حرام قرار دیا تھا، جو کھجوروں سے تیار ہوتا تھا جسے فضیخ کہتے تھے، معقل کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے سوال کیا کہ میری بوڑھی ماں ہے، وہ بہت عمر رسیدہ ہے، وہ کھانا نہیں کھا سکتی، کیا ہم اسے نبیذ پلا سکتے ہیں؟ سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے اسے منع کر دیا۔
۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا مٹکے میں بنایا گیا نبیذ پینے سے منع کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: لوگوں کا خیال تویہی ہے، میں نے کہا: یہ کس کا خیال ہے؟ کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا: لوگوں کا خیال یہی ہے، اس دن اللہ تعالی نے ان کو مجھ سے در گزر کروا دیا، وگرنہ جب کوئی ان سے یہ کہتا کہ آیا تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے تو وہ غضبناک ہو جاتے تھے اورکہنے والے کو سخت جھنجھوڑا کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۴۹۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن بی شیبۃ: ۸/ ۱۲۶ (انظر: ۵۰۷۴)
Explanation
فوائد:… اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں تردّد ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے یا نہیں، لیکن صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ رَجُلٌ لِاِبْنِ عُمَرَ: اَنَھٰی نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَیْضَا عَنْ نَبِیْذِ الْجَرِّ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ … ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا اللہ کے نبی نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
۔ سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مٹکے میں بنایا ہوا نبیذ لے کر آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے مجھے منع فرما دیا تو میں نے سرے سے وہ مٹکا ہی توڑ دیا۔
Takhreej
(۷۴۹۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، ان صح ان ھلالا المازنی ھو ہلال بن یزید، فالاسناد ضعیف لجھالۃ حال ابی حمزۃ الراوی عنہ، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۶۴، والبیھقی: ۸/ ۳۰۲، وابن ابی شیبۃ: ۸/ ۱۲۳(انظر: ۲۳۷۴۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے، ثابت کہتے ہیں: میں نے کہا: سفید مٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے اس بارے معلوم نہیں ہے۔
Takhreej
(۷۵۰۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البخاری: ۵۵۹۶، وفیہ: قلت: أنشرب فی الأبیض؟ قال: لا (انظر: ۱۹۱۰۳)
۔ امام قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مٹکے میں بنائے گئے نبیذ کے بارے دریافت کیا، انہوں نے کہا: اس بارے میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ نہیں سنا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا انس اسے ناپسند کرتے تھے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے۔ مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجور اور منقی دونوں کو اکٹھے ملا کر نبیذ نہ بنائو، کچی کھجور اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنائو، البتہ ان میں سے ہر ایک کا علیحدہ علیحدہ نبیذ بنا لیا کرو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی کجھور اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے اور منقّی اور کجھور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور یمن والوں کو لکھا کہ وہ منقی اور کھجور کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کریں۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکا میں نبیذ بنانے اور کجھور اور انگور کو ملا کر نبیذ بنانے اور کچی اور پختہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۵۰۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۱۸۷۷، والنھی عن الانتباذ بالجر وعن الخلط بین التمر والزبیب والبسسر والتمر أخرجہ مسلم: ۱۹۹۶، ۱۹۸۷(انظر: ۱۱۰۶۵)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسر کھجور کی نبیذ سے منع فرمایا، یہ وہ کھجور ہے، جو پکنے کے بعد سرخ یا زرد ہو اجاتی ہے۔
Takhreej
(۷۵۰۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۶/ ۲۵۷، وابن حبان: ۴۹۵۵ (انظر: ۲۴۷۴۱)
۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تر کھجور اور کچی کھجور اور خشک کھجور اور منقی کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو، بلکہ ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بنایا کرو۔ یحییٰ بن کثیر کہتے ہیں: میں نے اس بارے میں عبد اللہ بن ابی قتادہ سے سوال کیا،انہوں نے اس کے متعلق مجھے اپنے باپ سے بیان کیا۔
۔ سیدہ کبشہ بنت مریم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ مجھے وہ بات بتائو جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو منع کیا تھا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں گٹھلیاں پکا کر کھانے سے اور منقّی اور کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایاہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کدو سے بنے ہوئے برتن، مٹکا، تارکول والے برتن اور تنا کرید کربنائے ہوئے برتن سے منع فرمایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی اور پختہ کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایسے آدمی کو لایا گیا، جو نشے میں تھا، اس نے کہا: میں نے تو منقی اور کھجور ملا کر نبیذ بنا کر پیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حد لگائی اور ان دونوںکو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبرد ارمزات حرام ہے۔ اور مزات یہ ہے کہ خشک کھجور اور پکی ہوئی تازہ کھجور ملا کر نبیذ بنایا جائے۔
Takhreej
(۷۵۱۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ خالد بن الفزر، أخرجہ ابویعلی: ۴۰۴۷، والبیھقی: ۸/ ۳۰۷ (انظر: ۱۲۵۷۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے تنہا بسر کھجور سے نبیذ بنانے کو بھی مکروہ سمجھا ہے اور انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزات سے منع فرمایا ہے، پس میں صرف بسر کی نبیذ کو بھی ناپسند کرتا ہوں۔
۔ زاذان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں وہ برتن بتائو، جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، چونکہ ہماری اورتمہاری زبان میں فرق ہے، اس لیے ہماری لغت میں وضاحت کرنا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے حَنْتَم سے منع فرمایا، جسے مٹکا کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُزَفّت سے منع فرمایا، یہ برتن تار کول لگایا ہوا ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبّائ سے منع فرمایا، یہ کدو سے بنایا جاتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نَقِیر سے منع فرمایا ہے، یہ برتن کھجور کا تنا کرید کر بنایا جاتا ہے،میں نے کہا: پھر ہم کس چیز میں مشروب پئیں؟ انھوں نے کہا: مشکوں میں سے، محمد بن جعفر راوی کے الفاظ یہ ہیں: اور ہمیں حکم دیا کہ ہم مشکوں میں نبیذ بنایا کریں۔