۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھی سیدنا علی کی مانند روایت بیان کرتے ہیں، البتہ اس میں ہے: میں نے تمہیں ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے روکا تھا، اب جیسے چاہو جائز مشروب پی سکتے ہو، البتہ نشہ آور نہ پینا اور جو چاہے کہ اپنی مشک میں گناہ بند کرے بے شک وہ نشہ آور مشروب رکھ لے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی ا للہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا تھا تو میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر تھا اور جب آپ نے رخصت دی تھی، تب بھی میں حاضر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: البتہ نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا۔
Takhreej
(۷۵۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو جعفر الرازی الی الضعف اقرب لسوء حفظہ ولا یحتمل تفردہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۱۱۰، والطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۴/ ۲۲۹ (انظر: ۱۶۸۰۴)
۔ سیدنا صحار عبدی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ بیمار رہنے والا آدمی ہوں، مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے مٹکے میں نبیذ بنا لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
Takhreej
(۷۵۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال عبد الرحمن بن صحار، أخرجہ البزار: ۲۹۱۰، والطبرانی فی الکبیر : ۷۴۰۳(انظر: ۲۰۳۳۹)
۔ عاصم نے بیان کیا کہ جس نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبیذ پینے کی ممانعت کے بعد اس کی اجازت دی تھی، وہ بیان کرنے والے منذر ابو حسان ہیں۔ انہوں نے یہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔
فوائد:… معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حرمت کے موقع پر جن برتنوں کو حرام قرار دیا تھا، ان کی حرمت عارضی طور پر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، جیسا کہ اس باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گندم سے شراب بنتی ہے، کھجور سے شراب ہوتی ہے، جو سے شراب تیار کی جاتی ہے، منقّی سے شراب ہے اور شہد سے شراب تیار کی جاتی ہیں۔
فوائد:… احناف کا مسلک یہ ہے کہ صرف انگور اور کھجور کی شراب حرام ہے، لیکن اس باب کی احادیث ِ مبارکہ سے جمہور کے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے، خواہ وہ انگور یا کھجور کی شراب ہو یا کسی اور چیز کی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر رسول پر دورانِ خطبہ ارشاد فرمایا: اَلْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ … خمر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔ (بخاری، مسلم) اس سلسلے میں ہر آدمی کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے جس چیز کی وجہ سے عقلی توازن برقرار نہ رہ سکے یا جو چیز عقل پر پردہ ڈال دے، وہ جس چیز سے بھی بنائی گئی ہو، اس کا نام جو بھی رکھ دیا جائے،وہ حرام اور ممنوع ہو گی۔
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منقّی، کھجور، گندم، جو اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے۔
Takhreej
(۷۵۳۹) تخریج: حدیث صحیح من قول عمر موقوفا، وھو فی حکم المرفوع، أخرجہ بوداود: ۳۶۷۶، والترمذی: ۱۸۷۲، ۱۸۷۳، وأخرجہ البخاری: ۵۵۸۱، ومسلم: ۳۰۳۲ عن عمر موقوفا (انظر: ۱۸۳۵۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب ان دو درختوں کھجور اور انگور کے پھلوں سے بنائی جاتی ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بتع کے متعلق سوال کیا گیا، بتع شہد سے بنائی گئی نبیذ کو کہتے ہیں اور یمن والے یہ مشروب پیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہے، وہ حرام ہے۔
۔ عیینہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں خراسان کارہنے والا ہوںاور ہماراعلاقہ ٹھنڈا ہے، پھر اس نے مشروبات کی کئی قسمیں بیان کیں، انہوں نے کہا: جو چیز بھی نشہ دے، تو اس سے اجتناب کر، وہ منقّی سے بنی ہو یا کھجورسے ہو یا کوئی بھی ہو۔ اس نے کہا: مٹکے میں بنائی گئی نبیذ کے متعلق کیا خیال ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے میں بنائی گئی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جو چیز نشہ پیدا کرے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اورہر شراب حرام ہے۔
Takhreej
(۷۵۴۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۰۳(انظر: ۴۸۳۰)
Explanation
فوائد:… ہمارے ہاں احادیث میںمذکورہ لفظ خَمْر کا معنی شراب کیا جاتا ہے، جبکہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر نشہ آور چیز خَمْر ہے اور ہر خَمْر حرام ہے۔ نیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ۔ (بخاری، مسلم) … خَمْر ا س چیز کو کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔اس اعتبار سے سگریٹ اور حقہ وغیرہ کی شکل میں تمباکو نوشی، نسوار، بیڑہ وغیرہ کی نوعیت کی تمام چیزیں خَمْر میں داخل ہیں۔شراب اور نشہ آور چیز کا استعمال اتنا سنگین جر م ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مُدْمِنُ خَمْرٍ کَعَابِدِ وَثْنٍ۔)) (ابن ماجہ: ۳۳۷۵) … ہمیشہ شراب پینے والا بت کی عبادت کرنے والے کی طرح ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرتی ہے، اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کا ایک فرق نشہ پیدا کر دے، اس سے ایک لپ بھر پینا بھی حرام ہو گا۔
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز اور ہرفتور پیدا کرنے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۵۴۸) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ دون قولہ: ومفتِر وھذا اسناد ضعیف لضعف شھر بن حوشب، أخرجہ ابوداود: ۳۶۸۶ (انظر: ۲۶۶۳۴)
۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے برتنوں میں مشروب پینے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تارکول والے برتن سے منع کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا کچ اور شیشے کے برتن کے متعلق کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کہا: کچھ لوگ انہیں ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے، اسے اس وقت تک چھوڑ دو، جب تک کہ شک ختم نہ ہو جائے اور بے شک ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ میں نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں کہ نشہ آور چیز حرام ہے، لیکن کھانے کے بعد اگر ایک دو گھونٹ پی لیں تو؟ انہوں نے کہا: جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کر دے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے، شراب انگور سے ہوتی ہے، کھجور سے ہوتی ہے، شہد سے ہوتی ہے، گندم سے ہوتی ہے، جو سے ہوتی ہے، مکئی سے ہوتی ہے، ان میں سے جو بھی تو شراب بنائے گا، یہ وہ شراب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں نماز، سنتوں اور فرضوں کی تعلیم دی، انھوں نے کہا: ہمارا ایک مشروب ہے، جسے ہم گندم اور جو سے تیار کرتے ہیں، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے غبیراء کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہ کھانا۔ دو دن کے بعد پھر انہوں نے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی غبیرائ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو استعمال نہیں کرنا۔ جب یہ لوگ جانے لگے تو انھوں نے اس کے متعلق پھر سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غبیرائ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نہیں کھانا۔ وہ کہنے لگے: وہ لوگ تو اس کو نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس کو نہ چھوڑے، اس کی گردن اڑا دینا۔
۔ قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے رب نے میرے اوپر شراب، ڈھولک بجانا اور رومیوں والا جوا کھیلنا حرام کیا ہے اور غبیراء سے بچو، (یہ غبیراء جو گندم اور جو سے تیار کی جاتی ہے) یہ پوری دنیا کی شرابوں کا ایک تہائی حصہ ہے۔
Takhreej
(۷۵۵۱) تخریج: حسن لغیر دون قولہ: فانھا ثلث خمر العالم وھذ اسناد ضعیف، بکر بن سوادۃ لم یدرک قیس بن سعد، وعبید اللہ بن زحر الضمری مختلف فیہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/۱۹۷، والبیھقی: ۱۰/ ۲۲۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۸۹۷(انظر: ۱۵۴۸۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِجْتَنِبُوْا الخَمْرَ، فَإِنَّھَا مِفْتَاحُ کُلِّ شَرٍّ۔)) … شراب سے بچو، کیونکہ یہ ہر برائی کی بنیاد ہے۔ (حاکم: ۴/ ۱۴۵، صحیحہ: ۲۷۹۸)
۔ سیدنا ویلم حمیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہماری سر زمین ٹھنڈک والی ہے اور ہماری محنت بہت سخت ہے، ہم گندم سے ایک شراب تیار کرتے ہیں، جس کے ذریعہ ہم قوت حاصل کرتے ہیں تاکہ عملی مشقت اور علاقے کی ٹھنڈک پر قابو پائیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے کہا: جی وہ نشہ آور تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے اجتناب کرو اور اسے نہ پیو۔ میں سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہی سوال دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ دیتی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے بچو۔ میں نے کہا: لوگ تو اسے نہیں چھوڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جیشان کا ایک آدمی آیا، جیشان یمن کا علاقہ ہے، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شراب کے متعلق دریافت کیا، جسے وہ پیتے تھے، وہ ان کے ہاں تیار کی جاتی تھی، اس کا نام مزر تھا، وہ مکئی سے تیار کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور یہ اللہ تعالی کا عہد ہے کہ جونشہ آور چیز پئے گا، وہ اسے طینہ الخبال سے پلائے گا۔ لوگوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں کا پسینہ ہے یا ان کے زخموں سے بہنے والا مادہ ہے۔