TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب - Book 136 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 136 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 120 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

120 Hadith · 19 Chapters
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
۔
۔ سیدنا عمیر مولیٰ ابی الحم کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ایک دم پیش کیا، جو میں جاہلیت میں دم کیا کرتا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں سے فلاں فلاں حصے اور جملے نکال دو اور پھر جو کلام بچ جائے، اس کے ذریعے دم کیا کرو۔ محمد بن زید کہتے ہیں: میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اس دم کے ذریعے پاگل لوگوں کو دم کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۷۰۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ مقطعا الطبرانی: ۱۷/ ۱۳۳، ۱۳۵(انظر: ۲۴۹۴۱)
7709
Sahih
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
۔
۔ سیدنا طلق بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بچھو نے مجھے ڈس لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دم کیا اور ہاتھ پھیرا۔
Takhreej
(۷۷۱۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۴۱۶، وابن حبان: ۶۰۹۳، والطبرانی فی الکبیر : ۸۲۶۳(انظر: ۱۶۲۹۸)
7710
Sahih
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو زہریلی چیز کے ڈسنے سے دم کرنے کی اجازت دی تھی۔
Takhreej
(۷۷۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۴۱، ومسلم: ۲۱۹۳(انظر: ۲۴۰۱۸)
7711
Sahih
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
۔
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : دم تو صرف نظر اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے ہے۔
Takhreej
(۷۷۱۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۰۵، ومسلم: ۲۲۰(انظر: ۱۹۹۳۰)
Explanation
فوائد:… ہر بیماری سے دم کرنا درست ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۷۷۰۸) اور اس باب کے شروع میں پیش کیا گیا کلام۔
7712
Sahih
پھنسی کا دم کرنے کا بیان
۔
۔ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک عورت موجود تھی،اسے شفاء کہتے تھے، وہ پھوڑے پھنسی کا دم کرتی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تم یہ دم حفصہ کو بھی سکھادو۔
Takhreej
(۷۷۱۳) تخریج:رجالہ ثقات رجال الشیخین، وانظر الحدیث الآتی، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۹۷۶۸(انظر: ۲۶۴۴۹)
7713
Sahih
پھنسی کا دم کرنے کا بیان
۔
۔ سیدہ شفاء بنت عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے شفائ! حفصہ کو پھوڑے پھنسی کا دم بھی سکھا دو، جس طرح تم نے ان کو کتابت کی تعلیم دی تھی۔
Takhreej
(۷۷۱۴) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۳۸۸۷ (انظر: ۲۷۰۹۵)
Explanation
فوائد:… یہ شفاء قریشی خاتون تھی، ان کا نام لیلیٰ تھا، لیکن شفاء نام سے مشہور ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں دوپہر کے وقت آرام بھی کیا کرتے تھے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کی رائے کو بہت ترجیح دیا کرتے تھے، یہ بڑی دانا عورت تھیں۔
7714
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کے لئے حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اتنی سخت تکلیف تھی کہ اس کی شدت کا اندازہ صرف اللہ تعالی کو ہے، جب میں پچھلے پہر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں حاضر ہوا تو آپ اچھی طرح تندرست ہوچکے تھے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کی: میں صبح کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اس وقت تو آپ کو اتنی شدید تکلیف تھی کہ بس اللہ ہی جانتا تھا کہ وہ تکلیف کیسی تھی، اب میں آپ کے پاس پچھلے پہر حاضر ہوا ہوں تو آپ صحت یاب ہوچکے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے صامت کے بیٹے! جبریل علیہ السلام نے مجھے دم کیا ہے، یہ ایسا دم تھا کہ میں صحت یاب ہوگیا ہوں، کیا میں تجھے وہ دم سکھا دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دم کی تعلیم دی: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیکَ، مِنْ حَسَدِ کُلِّ حَاسِدٍ وَعَیْنٍ، بِسْمِ اللّٰہِ یَشْفِیکَ (اللہ کے نام کے ساتھ تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو تجھے ایذاء پہنچائے اور ہرحسد والے کے حسد سے اور ہر آنکھ سے، اس اللہ کے نام کے ساتھ جو تجھے شفاء دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: ہر حاسد کے حسدسے اور ہر نظر بد سے اللہ کے نام کے ساتھ دم کرتا ہوں جو تجھے شفاء دیتا ہے۔
Takhreej
(۷۷۱۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵۲۷(انظر: ۲۲۷۵۹)
7715
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیمار ہوتے تو سیدنا جبریل علیہ السلام آپ کو یہ پڑھ کر دم کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ، مِنْ کُلِّ دَائٍ یَشْفِیْکَ، مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ، وَمِنْ کُلِّ ذِیْ عَیْنٍ۔ (اللہ تعالی کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، وہ تجھے ہر بیماری سے شفا دے، حسد کرنے والے کے شرّ سے، جب وہ حسد کرے اور ہر بری نظر والے سے۔)
Takhreej
(۷۷۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۸۵(انظر: ۲۵۲۷۲)
7716
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا فضالہ بن عبید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دم سکھایا اور مجھے حکم دیا کہ میں جسے چاہوں یہ دم کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو رَبَّنَا اللّٰہُ الَّذِی فِی السَّمٰوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ اللّٰھُمَّ کَمَا أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ عَلَیْنَا فِی الْأَرْضِ اللّٰھُمَّ رَبَّ الطَّیِّبِینَ اغْفِرْ لَنَا حُوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَایَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَۃً مِنْ رَحْمَتِکَ وَشِفَائً مِنْ شِفَائِکَ عَلٰی مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَکْوٰی (اے ہمارے وہ رب جو آسمانوں میں ہے، تیرا نام مقدس ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین پر جاری ہے، اے اللہ! جس طرح تیرا حکم آسمان میں ہے، اسی طرح زمین پر ہمارے اوپر اپنی رحمت کردے، اے اللہ! پاکبازوں کے رب! ہمارے گناہ معاف کردے اور ہماری خطائیں بخش دے، اپنی رحمت میں سے کچھ حصہ اور اپنی شفاء میں کچھ حصہ اس بیماری پر نازل فرما دے، جو فلاں کے ساتھ ہے۔ پس وہ شفایاب ہو جاتا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دم تین مرتبہ کرنا ہے اور پھر تین بار سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنی ہیں۔
Takhreej
(۷۷۱۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ بن ابی مریم ولابھام الاشیاخ الذین روی عنھم، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۱۸، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۱۰۳۸(انظر: ۲۳۹۵۷)
7717
Zaeef
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی مریض کے لئے بیماری سے پناہ مانگتے تویہ دعا پڑھتے: أَذْہِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تنگی دور کردے، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء صرف وہی ہے جو تو دے، ایسی شفاء دے کہ جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔)
Takhreej
(۷۷۱۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۵۶۵ (انظر: ۵۶۵)
7718
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ عبدالرحمن بن سائب، جو کہ سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بھتیجے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: اے بھتیجے! کیا میں تجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دم کروں؟انھوں نے کہا: جی ضرور کریں، سیدہ نے اس طرح دم کیا: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیکَ مِنْ کُلِّ دَائٍ فِیکَ أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اللہ تعالی کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتی ہیں، ہر اس بیماری سے، جو تیرے اندر ہے، اے لوگوں کے ربّ! تو بیماری کو دور کر دے اور تو شفا دے، تو ہی شافی ہے، بس کوئی شافی نہیں ہے، مگر تو ہی۔)
Takhreej
(۷۷۱۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۰۸۶۰، وابن حبان: ۶۰۹۵، والطبرانی فی الکبیر : ۲۳/ ۱۰۶۱، وفی الاوسط : ۳۳۱۸ (انظر: ۲۶۸۲۱)
7719
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بعض گھر والوں کو اس دعا کے ساتھ دم کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے تھے: اَذْھِبِ الْبَاْسَ رَبِّ النَّاسِ وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! تنگی کو دور کردے اور شفاء دے، بے شک تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں ہے کوئی شفا، مگر تیری، ایسی شفا دے، جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔
Takhreej
(۷۷۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۴۳، ۵۷۵۰، ومسلم: ۲۱۹۱(انظر: ۲۴۱۷۵)
7720
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دم کیا کرتے اور یہ دعا پڑھتے تھے: اِمْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِکَ الشِّفَائُ لَا یَکْشِفُ الْکَرْبَ إِلَّا أَنْتَ (اے لوگوں کے ربّ! یہ تنگی دور کردے، شفاء صرف تیرے ہاتھ میں ہے، تکلیف کو تیرے سوا کوئی اور دور نہیں کرسکتا۔ ایک روایت میں ہے: بیماری کو ہٹانے والا کوئی نہیں ہے، مگر تو ہی۔
Takhreej
(۷۷۲۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7721
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مریض کو دم کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ بِتُرْبَۃِ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِنَا لِیُشْفٰی سَقِیْمُنَا بِاِذْنِ رَبِّنَا (اللہ تعالی کے نام کے ساتھ، ہماری زمین کی مٹی کے ساتھ اور ہمارے ایک کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارے بیمار کو شفاء ہوئے، ہمارے رب کے حکم کے ساتھ۔)
Takhreej
(۷۷۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۴۵، ومسلم: ۲۱۹۴(انظر: ۲۴۶۱۷)
Explanation
فوائد:… اس کا طریقہ یہ ہے کہ دم کرنے والا اپنی انگشت شہادت پر تھوک لگا کر اس کو زمین سے مس کر مٹی لگا لے اور پھر اس انگلی کو زخم یا مریض پر پھیرے اور ساتھ ساتھ یہ دعا بھی پڑھے۔
7722
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری تیمارداری کے لئے میرے پاس تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ دم کروں، جو جبریل علیہ السلام نے مجھے کیا تھا؟ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیوں نہیں، ضرور کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی: بِاسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَائٍ یُؤْذِیْکَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۔ (اللہ تعالی کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں، اللہ تعالی تجھے ہر بیماری سے شفاء دے، جو تجھے تکلیف دیتی ہے اور جو تجھ میں موجود ہے اور ان کی برائی سے تجھے دم کرتا ہوں جو گرہوں میں جادو کی پھونکیں مارتی ہیں اور حسد کرنے والے کے حسد سے تجھے دم کرتا ہوں، جب وہ حسد کرنے لگے۔)
Takhreej
(۷۷۲۳) تخریج: المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذ اسناد ضعیف لضعف عصم بن عبید اللہ العمری، وجھالۃ زیاد بن ثویب، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵۲۴(انظر: ۹۷۵۷)
7723
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ! آپ بیمار ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ تو انہوں نے یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ وَ عَیْنٍ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ۔ (اللہ تعالی کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دیتی ہے اور ہر نفس اور نظر کے شرّ سے آپ کو شفاء دے، اللہ تعالی کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں۔)
Takhreej
(۷۷۲۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۸۶(انظر: ۱۱۵۳۴)
7724
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: ہم سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس حاضر ہوئے، سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: میں بیمار ہوں، جواباً سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا دم نہ کروں؟ انہوں نے کہا: جی ضرور کریں، انھوں نے کہا: تو پھر یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْہِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے اللہ! جو لوگوں کا رب ہے! اے تکلیف دور کرنیوالے! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں کوئی شفاء دینے والا مگر تو ہی، شفاء دے ایسی شفاء جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔)
Takhreej
(۷۷۲۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۴۲ (انظر: ۱۲۵۳۲)
7725
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ سیدنا محمد بن حاطب جمحی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ماں سیدہ ام جمیل بنت مجلل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: میں تجھے حبشہ کی سرزمین میں لے گئی، واپس آرہی تھی، جب مدینہ کا سفر ایک دورات کا باقی رہ گیا تو میں نے تیرے لئے کھانا پکایا، ایندھن ختم ہوا تو میں اس کی تلاش میں نکلی، اُدھر تو نے ہنڈیا پکڑی جو تیرے بازو پر الٹ کر گر گئی اور بازہ جل گیا، میں تجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لائی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ محمد بن حاطب ہے، اس کا بازو زخمی ہوگیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرے منہ میں لعاب ڈالا اور تیرے سر پر ہاتھ پھیرا اور تیرے لئے دعا کی اور تیرے ہاتھوں پر بھی تھوک کی پھوہار ڈالی اور فرمایا: أَذْہِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَاؤُکَ شِفَائً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے تو ہی شافی ہے، نہیں ہے شفا، مگر وہ شفاء جو تیری طرف سے ہو، ایسی شفاء عطاء کر جو بیماری نہ چھوڑے۔) میری ماں کہتی ہیں: میں ابھی آپ کے پاس سے تجھے لے کر کھڑی نہیں ہوئی تھی کہ تیرا ہاتھ درست ہوچکا تھا۔
Takhreej
(۷۷۲۶) تخریج: مرفوعہ صحیح، وھذا اسناد ضعیف، عبد الرحمن بن عثمان بن ابراہیم ضعیف الحدیث، أخرجہ ابن حبان: ۲۹۷۷، والحاکم: ۴/ ۶۲، والطیالسی: ۱۱۹۴ (انظر: ۱۵۴۵۳)
7726
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) سیدنا محمد بن حاطب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بازو پر ہنڈیا میں سے کوئی چیز گر گئی، میری ماں مجھے لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھ کر دم کیا: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسْ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی (اس تکلیف کو دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلے ہوئے ہاتھ پر تھوک کی پھوہار سی ڈالتے تھے۔
Takhreej
(۷۷۲۷) تخریج: اسنادہ حسن، وانظر الحدیث بالطریق الاول
7727
Sahih
دم کے الفاظ کا بیان
۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا محمد بن حاطب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے میری ماں وادی ٔ بطحاء میں موجود ایک آدمی کے پاس لے گئی، یہ مکہ کی ایک وادی ہے، اس آدمی نے کچھ پڑھا اور پھوہار سی مار کر دم کیا، جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور خلافت تھا تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا (جس نے مجھے دم کیا تھا)؟ انہوں نے کہا: وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے۔
Takhreej
(۷۷۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی، وانظر الحدیث بالطریق الاول
7728
Zaeef

Chapters

19
01
عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
16 Hadith
02
پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
7 Hadith
03
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
2 Hadith
04
زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
3 Hadith
05
سنابوٹی اور گائے کے دودھ سے علاج کا بیان
2 Hadith
06
صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
4 Hadith
07
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
10 Hadith
08
پھنسی کا دم کرنے کا بیان
2 Hadith
09
دم کے الفاظ کا بیان
17 Hadith
10
قرآن مجید کے ذریعے دم کرنے کا بیان
4 Hadith
11
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
7 Hadith
12
نظر اور اس کے سچ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
3 Hadith
14
نظر لگنے سے دم کرنے کا بیان
4 Hadith
15
بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
8 Hadith
16
متعدی بیماری کے ثبوت کا بیان
5 Hadith
17
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
7 Hadith
18
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
7 Hadith
19
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.