TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب - نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب - Book 136 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 136 of Musnad Ahmad, with 19 chapters and 120 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

120 Hadith · 19 Chapters
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
۔
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بدشگونی اور بیماری کے متعدی ہونے کے بارے میں کچھ فرمایا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ہر آدمی کا شگون اس کی گردن میں ہے۔
Takhreej
(۷۷۶۹) تخریج: صحیح، قال الالبانی (انظر: ۱۴۷۶۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا ایک سیاق یہ ہے:
7769
Sahih
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
۔
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان چیزوں کے متعلق بتائیں جو ہم جاہلیت میں کیا کرتے تھے، مثلا ہم بد شگون لیا کرتے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تم دل میں محسوس کرو گے، لیکن یہ تمہارے لئے رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ میں نے کہا: ایک چیز یہ بھی تھی کہ ہم کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جاتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو۔
Takhreej
(۷۷۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۵۳۷(انظر: ۱۵۶۶۳)
7770
Sahih
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
۔
۔ سیدہ ام کرزکعبیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں ہی ٹھہرنے دیا کرو۔
Takhreej
(۷۷۷۱) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۲۸۳۵ (انظر: ۲۷۱۳۹)
7771
Sahih
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو یہ وہم لاحق ہوسکتا ہے، لیکن اللہ تعالی اس کو توکل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۷۷۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۹۱۰، وابن ماجہ: ۳۵۳۸(انظر: ۳۶۸۷)
7772
Sahih
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
۔
۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک دن باہر نکلا تو اچانک ایک ہرن نمودار ہوا اور وہ بائیں جانب مائل ہوا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چمٹ کرکہنے لگا: اے اللہ کے رسول!آپ نے براشگون لیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی وہ ہے، جو کام کرنے پر آمادہ کرے یا واپس لوٹا دے۔
Takhreej
(۷۷۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن علاثۃ، قال البخاری: فی حدیثہ نظر، وقال ابو حاتم: یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ، ثم ھو لم یدرک الفضل بن عباس (انظر: ۱۸۲۴)
Explanation
فوائد:… جب کوئی چیز بائیں سے دائیں طرف کو جاتی تو عرب اس سے نیک شگون لیتے تھے، لیکن اگر کوئی چیز دائیں سے بائیں سمت کو چلی جاتی تو وہ اس سے برا شگون لیتے تھے۔
7773
Zaeef
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
۔
۔ سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ الو کی نحوست ہے، نہ بیماری متعدی ہے اور نہ بدشگونی ہے، اگر نحوست ہوتی تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہوتی۔
Takhreej
(۷۷۷۴) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ ابوداود: ۳۹۲۱ (انظر: ۱۵۰۲)
7774
Sahih
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں۔ سفیان کہتے ہیں: بدشگونی کا لفظ ہم نے صرف سالم سے محفوظ کیا ہے، دوسرے راویوں سے نہیں۔
Takhreej
(۷۷۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۸۵۸، ومسلم: ۲۲۲۵، وانظر الحدیثین الآتیین (انظر: ۴۵۴۴)
7775
Sahih
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی کسی چیز میں ثابت ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتی۔
Takhreej
(۷۷۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۹۴، ومسلم: ۲۲۲۵ (انظر: ۵۵۷۵)
Explanation
فوائد:… علامہ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ قمطراز ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ کسی چیز میں نحوست، بے برکتی اور بد شگونی نہیں ہوتی، کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں یہ نحوست ہوتی تو ان تین چیزوں میں ضرور ہوتی، لیکن وہ تو سرے سے کسی چیز میں نہیں پائی جاتی ہے۔ بعض روایات کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ تین چیزوں میں نحوست ہے یا بے برکتی تو صرف تین چیزوں میں ہے ۔ در اصل یہ بعض راویوں کا اختصار او رتصرف ہے۔ (صحیحہ: ۴۴۲)
7776
Sahih
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ بیماری متعدی ہے، نہ کوئی شگون برا ہے، بس بدشگونی تو تین چیزوں میں ہے: عورت، گھر اور جانور۔
Takhreej
(۷۷۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۵۳، ومسلم: ۲۲۲۵(انظر: ۶۴۰۵)
7777
Sahih
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
۔
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بدشگونی ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور رہائشگاہ میں ہوتی۔
Takhreej
(۷۷۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری ۲۸۵۹، ۵۰۹۵، ومسلم: ۲۲۲۶(انظر: ۲۲۸۳۶)
7778
Sahih
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی بدشگونی نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ گھر، گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔
Takhreej
(۷۷۷۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۲۷(انظر: ۱۴۵۷۴)
7779
Sahih
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
۔
۔ ابو حسان اعرج بیان کرتے ہیں کہ بنو عامر میں سے دو آدمی، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی اگر ہے تو وہ عورت، جانور اور گھر میں ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا غضب ناک ہوگئیں اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر قرآن اتارا ہے، آپ نے اس طرح نہیں فرمایا تھا، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ تو یہ تھے: جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ بدشگونی عورت، گھر اور جانور میں ہے۔ پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ آیت پڑھی: {مَا أَصَابَ مِنْ مُصِیبَۃٍ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی أَنْفُسِکُمْ إِلَّا فِی کِتَابٍ مِّنْْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَأَھَا اِنَّ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔} … نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے، نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ کام اللہ تعالی پر بالکل آسان ہے۔
Takhreej
(۷۷۸۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۷۹، والبیھقی: ۸/ ۱۴۰ (انظر: ۲۶۰۸۸)
Explanation
فوائد:… حضرت مخمربن معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا: ((لَاشُؤْمَ، وَقَدْ یَکُوْنُ الْیُمْنُ فِي ثَلَاثَۃٍ: فِي الْمَرْاَۃِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ۔)) کوئی نحوست نہیں، البتہ تین چیزوں میں خیر و برکت ہوتی ہے، یعنی بیوی، گھوڑے اور گھر میں۔ (ابن ماجہ: ۱/۶۱۴، ترمذی: ۲/ ۱۳۵،صحیحہ:۱۹۳۰)
7780
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، البتہ سب سے بہتر نیک فال ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فال کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سن لے۔
Takhreej
(۷۷۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۵۵، ومسلم: ۲۲۲۳(انظر: ۷۶۱۸)
7781
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! بدشگونی کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھی بات نیک فال ہے۔
Takhreej
(۷۷۸۲) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۹۰۲۱)
7782
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچھی فال کو پسند کرتے تھے اور بدشگونی ناپسند کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۷۸۳) تخریج: صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۵۳۶(انظر: ۸۳۹۳)
7783
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نیک فال پکڑتے تھے، بدشگونی نہیں لیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھا نام پسند تھا۔
Takhreej
(۷۷۸۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۲۶۹۰، والطبرانی: ۱۱۲۹۴، وابن حبان: ۵۸۲۵ (انظر: ۲۷۶۷)
7784
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اگر اچھی آواز سنتے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پسند آتی تو آواز دینے والے کو کہتے: ہم نے تیرے منہ سے نکلی آواز سے اچھی فال لی ہے۔
Takhreej
(۷۷۸۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۳۹۱۷(انظر: ۹۰۴۰)
7785
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بدشگونی کچھ نہیں ہے اور مجھے نیک فال پسند ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیک فال سے مراد اچھا کلمہ ہے۔
Takhreej
(۷۷۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۵۶ (انظر: ۱۲۱۷۹)
7786
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدشگونی نہیں لیتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بستی میں آنے کا ارادہ فرماتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ کے چہرے پر مسرت نظر آتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے نظر آتی اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی آدمی کو عامل بنا کر بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر مسرت دکھائی دیتی اور اگر اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کی کراہت بھی آپ کے چہرے پر نظر آتی۔
Takhreej
(۷۷۸۷) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۹۲۰ (انظر: ۲۲۹۴۶)
Explanation
فوائد:… برے شگون سے آدمی طبعی طور پر متاثر تو ہو سکتاہے، لیکن شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عملی طور پر اس سے متاثر نہ ہو اور ارادے کے مطابق اقدام کر دے۔
7787
Sahih
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے اماں! مجھے وہ حدیث بتائو جو تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پرندہ تقدیر الٰہی کے مطابق اڑتا ہے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اچھی فال لینا پسند تھی۔
Takhreej
(۷۷۸۸) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۱۶۱، وابن حبان: ۵۸۲۴ (انظر: ۲۵۹۸۲)
Explanation
فوائد:… اچھی فال سے انسان کا حوصلہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اقدام پر مطمئن ہو جاتاہے، حدیث نمبر (۷۷۷۳) کے فوائد میں اچھی فال کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
7788
Sahih

Chapters

19
01
عجوہ کھجور، کھمبی اور کلونجی اور ان کے فوائد کا بیان
16 Hadith
02
پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
7 Hadith
03
اس چیز کا بیان جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرق نساء بیماری کے لیے تجویز کی
2 Hadith
04
زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
3 Hadith
05
سنابوٹی اور گائے کے دودھ سے علاج کا بیان
2 Hadith
06
صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
4 Hadith
07
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
10 Hadith
08
پھنسی کا دم کرنے کا بیان
2 Hadith
09
دم کے الفاظ کا بیان
17 Hadith
10
قرآن مجید کے ذریعے دم کرنے کا بیان
4 Hadith
11
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
7 Hadith
12
نظر اور اس کے سچ ہونے کا بیان
4 Hadith
13
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
3 Hadith
14
نظر لگنے سے دم کرنے کا بیان
4 Hadith
15
بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
8 Hadith
16
متعدی بیماری کے ثبوت کا بیان
5 Hadith
17
نحوست کا بیان، جس کو بدشگونی کہا جاتا ہے
7 Hadith
18
اگر برے شگون اور نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو وہ عورت، گھوڑے اور گھر میں ہوتا
7 Hadith
19
نیک فال اور نیک شگون کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.