TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان - باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان - کتاب الفضائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 14 of کتاب الفضائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 14 of 66 · 9 Hadith
۔ (۱۲۵۴۷)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِلْقُرَشِیِّ مِثْلَیْ قُوَّۃِ الرَّجُلِ مِنْ غَیْرِ قُرَیْشٍ۔)) فَقِیلَ لِلزُّہْرِیِّ: مَا عَنٰی بِذٰلِکَ؟ قَالَ: نُبْلَ الرَّأْیِ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۶۳)
سیدناجبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک قریشی کو غیر قریشی سے دوگنا زیادہ قوت حاصل ہے۔ زہری سے پوچھا گیا: اس حدیث سے مراد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: اصابت رائے۔
Takhreej
(۱۲۵۴۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، اخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۱۶۸، والطیالسی: ۹۵۱، والبزار: ۲۷۸۵، والطبرانی فی الکبیر : ۱۴۹۰(انظر: ۱۶۷۴۲)
Explanation
فوائد:… اس میں قریشی خاندان کے لوگوں کی بصیرت و بصارت اور فہم و فراست کا بیان ہے
12547
Sahih
۔ (۱۲۵۴۸)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَائً قُرَیْشٌ، وَیُوشِکُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَۃُ بِالنَّعْلِ، فَتَقُولَ: إِنَّ ہٰذَا نَعْلُ قُرَشِیٍّ۔)) (مسند احمد: ۸۴۱۸)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عرب کے قبائل میں سب سے جلدی ہلاک ہونے والا قبیلہ قریش کاہے، قریب ہے کہ ایک عورت ایک جوتے کے پاس سے گزرے اور کہے: یہ کسی قریشی آدمی کا جوتا ہے۔
Takhreej
(۱۲۵۴۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، اخرجہ البزار: ۲۷۸۸، وابن حبان: ۶۸۵۳ (انظر: ۸۴۳۷)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ جوتے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود قریشیوں کی کوئی علامت یا نشان ہو۔ اس نبوی ارشاد کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ قَوْمُکِ أَسْرَعُ أُمَّتِی بِیْ لِحَاقاً۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَائَ کَ لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُوْلُ کَلَاماً ذَعَّرَنِیْ۔ قَالَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: تَزْعَمُ أَنَّ قَوْمِیْ أَسْرَعُ أُمَّتِکَ بِکَ لِحَاقاً، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: وَمِمَّ ذَاکَ؟ قَالَ: ((تَسْتَحْلِیْھِمُ الْمَنَایَا، وَتَنْفِسُ عَلَیْھِمْ أُمَّتُھُمْ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَکَیْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَوْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((دَبًی تَأْکُلُ شِدَادُہٗ ضِعَافَہٗ حَتّٰی تَقُوْمُ عَلَیْھِمُ السَّاعَۃُ۔)) (الصحیحۃ:۱۹۵۳)… اے عائشہ! میری امت میں سے تیری قوم سب سے پہلے مجھے ملنے والی ہے۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے‘ آپ تشریف لائے اور ایسی بات کہی ہے جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کون سی بات؟ انھوں نے کہا: آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کی امت میں سے میری قوم سب سے پہلے آپ سے ملنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: ایسے کیوں ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موتیں ان کو میٹھا محسوس کریں گی اور ان کی قوم ان پر حسد کرے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کے بعد یا اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ٹڈیوں کی طرح زور دار کمزوروں کو کھا جائیں گے (اور کوئی انصاف کرنے والا نہ رہے گا)، انہی لوگوں پر قیامت برپا ہو جائے گی۔ (مسند احمد: ۶/ ۸۱ ، ۹۰، صحیحہ: ۱۹۵۳)
12548
Sahih
۔ (۱۲۵۴۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : یَا عَائِشَۃُ! إِنَّ أَوَّلَ مَنْ یَہْلِکُ مِنْ النَّاسِ قَوْمُکِ۔)) قَالَتْ: قُلْتُ: جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَائَکَ أَبَنِی تَیْمٍ؟ قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ ہٰذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ، تَسْتَحْلِیہِمُ الْمَنَایَا وَتَنَفَّسُ عَنْہُمْ أَوَّلَ النَّاسِ ہَلَاکًا۔)) قُلْتُ: فَمَا بَقَائُ النَّاسِ بَعْدَہُمْ؟ قَالَ: ((ہُمْ صُلْبُ النَّاسِ فَإِذَا ہَلَکُوا ہَلَکَ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۶۱)
سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ!لوگوں میں سے پہلے جو لوگ فنا ہوں گے، وہ تیری قوم کے لوگ ہوں گے۔ سیدہ نے کہا: میں نے کہا: اللہ مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا کرے، کیا اس سے بنو تیم مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، میری مراد یہ قریش ہیں، موتیں ان کو میٹھا سمجھیں گی اور ان کو برگشتہ کریں گی اور یہ سب سے پہلے تباہ ہوں گے۔ میں نے کہا: ان کے بعد باقی رہنے والے کیسے ہوں گے؟ فرمایا: وہ مضبوط لوگ ہوںگے، جب یہ ہلاک ہوجائیں گے توباقی لوگ بھی ہلاک ہو جائیں گے۔
Takhreej
(۱۲۵۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن المؤمل، اخرجہ البزار: ۲۷۸۹ (انظر: ۲۴۴۵۷)
12549
Zaeef
۔ (۱۲۵۵۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُیَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((لَا یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْیَوْمِ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ) وَلَمْیُدْرِکْ الْإِسْلَامُ أَحَدًا مِنْ عُصَاۃِ قُرَیْشٍ غَیْرَ مُطِیعٍ، وَکَانَ اسْمُہُ عَاصِی فَسَمَّاہُ مُطِیعًایَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۲۲)
سیدنامطیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہیںکیا جائے گا۔ قریش کے عُصَاۃ یعنی عاص نامی افراد میں سے اس مطیع کے سوا کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا اور اس صحابی کانام بھی عاصی تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا۔
Takhreej
(۱۲۵۵۰) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۷۸۲ (انظر: ۱۷۸۶۷)
Explanation
فوائد:… امام نووی نے کہا: اہل علم کا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قریش کے بارے میں یہ خبر دینا چاہتے ہیں کہ وہ سارے کے سارے مشرف باسلام ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی مرتد نہیں ہو گا، جیسا کہ غیر قریشی قبائل کے افراد مرتد ہو گئے تھے اور پھر ان سے لڑائی کی گئی تھی۔ اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ کسی قریشی کو ظلماً قتل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ قریشیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا رہا۔ واللہ اعلم۔ (شرح مسلم نووی: ۱۲/ ۱۳۴) اس حدیث میں لفظ عاص اسم علم ہے، نہ کہ اسم صفت اور اس کی جمع عُصَاۃ ہے، اس روایت کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ دورِ جاہلیت میں کئی لوگوں کا نام عاص تھا، مثلا: عاص بن وائل سہمی، عاص بن ہشام، عاص بن سعید بن عاص، عاص بن ہشام بن مغیرہ، عاص بن منبہ بن حجاج، عاص بن اسود۔ ان عاص نامی افراد میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا، ما سوائے مؤخر الذکر یعنی عاص بن اسودکے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام تبدیل کر کے مطیع رکھا تھا، ویسے عاص کے لفظی معانی نافرمان ہیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس صحابی کا نام مطیع رکھا، جس کا معنی فرمانبردار ہے۔ عاص اور عاصی ایک ہی لفظ ہے، عربی زبان میں بعض تراکیب میں اس کو عاص پڑھا جاتا ہے اور بعض میں عاصی۔
12550
Sahih
۔ (۱۲۵۵۱)۔ عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ إِنَّکَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَیْشٍ نَکَالًا، فَأَذِقْ آخِرَہُمْ نَوَالًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ تو نے قریش کے پہلے لوگوں کو عذاب دئیے، پس اب تو قریش کے بعد والے لوگوںکو نعمتوں سے نواز۔
Takhreej
(۱۲۵۵۱) تخریج: اسنادہ حسن، اخرجہ الترمذی: ۳۹۰۸ (انظر: ۲۱۷۰)
Explanation
فوائد:… قریش کے پہلے لوگ قتل، شکست، رسوائی، قہر، قحط اور مہنگائی جیسی آزمائشوں میں مبتلا رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا قبول ہوئی اور جب یہ مسلمان ہوئے تو خلافت و امارت، عزت و ملوکیت، انعام و تکریم اور فتح جیسی نعمتوں سے مالا مال ہو گئے۔
12551
Sahih
۔ (۱۲۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ ہَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ، نِسَائُ قُرَیْشٍ أَحْنَاہُ عَلَی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ، وَأَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیرًا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا قَوْلَہُ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بَعِیرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہوچکی ہوں اور میری کفالت میں بچے بھی ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ کی سواری کرتی ہیں، وہ قریشی خواتین ہیں، یہ اولاد پر ان کے بچپنے میں ازحد مہربان اور خاوندوں کے اموال کی بہت زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدہ مریم بنت عمران نے اونٹ پر کبھی سواری نہیں کی۔
Takhreej
(۱۲۵۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۶۵، ومسلم: ۲۵۲۷ (انظر: ۷۶۵۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ بیوی کی یہ دو خصوصیات انتہائی اہم ہیں: بچوں کے حق میں شفیق ہونا اور خاوند کی امانتوں کی حفاظت کرنا، اور یہی دو خصوصیات ہیں، جن کی وجہ سے گھر میں امن و امان کا دور آ جاتا ہے اور اس گھر والے بلند مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی دو خصائل ہیں کہ جن کی بنا پر قریشی عورتوںکی مدح سرائی کی گئی۔
12552
Sahih
۔ (۱۲۵۵۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ ہَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَلِیَ عِیَالٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((خَیْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ، نِسَائُ قُرَیْشٍ أَحْنَاہُ عَلَی وَلَدٍ فِی صِغَرِہِ، وَأَرْعَاہُ عَلٰی زَوْجٍ فِی ذَاتِ یَدِہِ۔)) قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِیرًا، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ إِلَّا قَوْلَہُ: وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْیَمُ بَعِیرًا۔ (مسند احمد: ۷۶۳۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی نیک خواتین ہیں، جو اپنی اولاد کے بچپنے میں اس کا بہت خیال رکھنے والی اور اپنے خاوندوں کے مال و منال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۵۳) تخریج: حسن لغیرہ، اخرجہ ابویعلی: ۲۶۸۶، والطبرانی: ۱۳۰۱۴(انظر: ۲۹۲۳)
12553
Sahih
۔ (۱۲۵۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ مَادَّۃً وَإِنَّ مَوَادَّ قُرَیْشٍ مَوَالِیہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۰۱)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر قوم کے کچھ معاون ہوتے ہیں، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۵۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ، اخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۸۴۳۰ (انظر: ۲۴۱۹۷)
12554
Zaeef
۔ (۱۲۵۵۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) ((اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ مَادَّۃً وَاِنَّ مَادَّۃَ قُرَیْشٍ مَوَالِیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۵۴۸)
دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’ہر قوم کا ایک معاون ہوتا ہے، قریش کے معاون ان کے حلیف (یا غلام) ہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
12555
Zaeef

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.