TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان

Chapter 25 of کتاب الفضائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 25 of 66 · 12 Hadith
۔ (۱۲۵۸۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا الْوَلِیْدُ الْاَوْزَاعِیُّ ثَنَا یَحْیٰی عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ أَبِی، وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ، حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمَعْنَی قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَکَّۃَ قَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِمْ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ حَبَسَ عَنْ مَکَّۃَ الْفِیلَ، وَسَلَّطَ عَلَیْہَا رَسُولَہُ وَالْمُؤْمِنِینَ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُہَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَہُ قَتِیلٌ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ، إِمَّا أَنْ یَفْدِیَ، وَإِمَّا أَنْ یَقْتُلَ۔)) فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِیُقَالُ لَہُ: أَبُو شَاہٍ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اکْتُبُوا لِی، فَقَالَ: ((اکْتُبُوا لَہُ۔)) فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّہُ لِقُبُورِنَا وَبُیُوتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِیِّ: وَمَا قَوْلُہُ: اکْتُبُوا لِأَبِی شَاہٍ، وَمَا یَکْتُبُوْنَ لَہُ؟ قَالَ: یَقُولُ: اکْتُبُوا لَہُ خُطْبَتَہُ الَّتِی سَمِعَہَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَیْسَیُرْوَی فِی کِتَابَۃِ الْحَدِیثِ شَیْئٌ أَصَحُّ مِنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ، لِأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَہُمْ قَالَ: ((اکْتُبُوْا لِأَبِی شَاہٍ۔)) مَا سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَہُ۔ (مسند احمد: ۷۲۴۱)
سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مکہ مکرمہ فتح کر ادیا تو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیاتھا اور اللہ نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو مکہ پر تسلط دیاہے، میرے لیے دن کے کچھ حصہ کے لیے اس شہر میں لڑائی کی اجازت دی گئی اب یہ قیامت تک کے لیے حرم ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ دھمکایا جائے، یہاں پر گری ہوئی چیزوں کے ملنے پر اس کااٹھانا ناجائزہے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کر سکتا ہو تو وہ اٹھا سکتا ہے اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، وہ یا تو فدیہ قبول کر لے یا قاتل کو قتل کرے۔ ایک یمنی آدمی، جس کا نام ابو شاہ تھا، نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ احکامات میرے لیے لکھوادیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے درخواست کی کہ حددو حرم میں سے اذخر گھا س کے کاٹنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ یہ قبروں اور گھروں کے عام استعمال کی چیز ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔ ولید راوی کہتے ہیں: میںنے اوزاعی سے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد ابو شاہ کے لیے لکھ دو کا کیا مطلب ہے؟ صحابہ نے اس کے لیے کیا لکھا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ کا مقصد تھا کہ جو خطبہ اس آدمی نے سنا ہے، وہ اس کے لیے لکھ دیا جائے، ابو عبدالرحمن نے کہا ہے کہ جواز کتابت حدیث کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی حدیث صحیح نہیں، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ ابو شاہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ لکھا جائے۔
Takhreej
(۱۲۵۸۸) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۲۴۳۴، ومسلم: ۱۳۵۵(انظر: ۷۲۴۲)
12588
Sahih
۔ (۱۲۵۸۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِی، وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِی، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، لَا یُخْتَلٰی خَلَاہَا، وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا، قَالَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۹)
سیدناسیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کوحرم ٹھہرایا ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کے لیے بھی اس کی حدود میں لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی، مجھے بھی دن کے کچھ حصہ میں لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، درخت نہ کاٹے جائیں، شکار کو دھمکا یا نہ جائے اور اعلان کرنے واے کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی یہاں پر گری پڑی چیز کو نہ اٹھائے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اذخر گھاس کی اجازت دیں، کیونکہ سنار لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں اور یہ قبروں میں بھی استعمال ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کی اجازت ہے۔
Takhreej
(۱۲۵۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۳۴۹، ۱۸۳۳، ومسلم: ۱۳۵۳ (انظر: ۲۲۷۹)
12589
Sahih
۔ (۱۲۵۹۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ: ((إِنَّ ہٰذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَہُ اللّٰہُ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَہُوَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِیہِ الْقَتْلُ غَیْرِی، وَلَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِی فِیہِ، حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَۃُ، وَمَا أُحِلَّ لِی فِیہِ إِلَّا سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ، فَہُوَ حَرَامٌ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰی أَنْ تَقُومَ السَّاعَۃُ، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکُہُ، وَلَا یُخْتَلٰی خَلَاہُ، وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُہُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ۔)) قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ: وَکَانَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ قَدْ عَلِمَ الَّذِی لَا بُدَّ لَہُمْ مِنْہُ إِلَّا الْإِذْخِرَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَإِنَّہُ لَا بُدَّ لَہُمْ مِنْہُ، فَإِنَّہُ لِلْقُبُورِ وَالْبُیُوتِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِلَّا الْإِذْخِرَ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَإِنَّہُ لِبُیُوتِہِمْ وَلِقَیْنِہِمْ، فَقَالَ: ((إِلَّا الْإِذْخِرَ، وَلَا ہِجْرَۃَ وَلٰکِنْ جِہَادٌ وَنِیَّۃٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۸۹۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان کی تخلیق کی، اسی دن سے اس نے اسے حرام قرارد یا، یہ قیامت تک حرم ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد قیامت تک ہر ایک کے لیے اب یہ حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرم قرار دیا ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، گھاس نہ اکھاڑی جائے، شکار کو نہ دھمکایا جائے اور یہاں پر گری ہوئی چیز کو کوئی نہ اٹھائے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہو تو وہ اٹھا سکتاہے۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو مکہ کے باشندے تھے اور وہ اہل مکہ کی ضرور ت سے واقف تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول!اذخر گھاس کے کاٹنے کی تو اجازت دے دیں، یہ قبروں اور گھروں کی لازمی ضرورت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں اذخرگھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔ ایک رویت میں ہے: سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ اذخر لوگوں کے گھروںکی ضرورت ہے اور لوہار اور سنار استعمال کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذخر کوکاٹنے کی اجازت ہے۔ نیز فرمایا: اب مکہ سے ہجرت نہیں ہوسکتی، البتہ جہاد اور ہجرت کی نیت باقی ہے،جب بھی ضرورت پڑی تو ہجرت یا جہاد کے لیے نکلیں گے اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو اٹھ کھڑے ہو جانا۔
Takhreej
(۱۲۵۹۰) تخریج: انظر الحدیث بالسند الاول
12590
Sahih
۔ (۱۲۵۹۱)۔ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ، أَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰی مَکَّۃَ: ائْذَنْ لِی أَیُّہَا الْأَمِیرُ! أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِہِ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ، وَوَعَاہُ قَلْبِی، وَأَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حَیْثُ تَکَلَّمَ بِہِ، أَنَّہُ حَمِدَ اللّٰہَ، وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللّٰہُ، وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ، فَلَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا، وَلَا یَعْضِدَ فِیہَا شَجَرَۃً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہَا، فَقُولُوْا إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَذِنَ لِرَسُولِہِ، وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِی فِیہَا سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالْأَمْسِ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۸۶)
سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف اپنے لشکر بھیج رہا تھا تو ابو شریح عدوی نے اس سے کہا: اے امیر! میں تمہیں ایک ایسی بات بتلاتا ہوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن ارشاد فرمائی تھی، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد کیا اور میری آنکھوں نے دیکھا، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلام فرمائی، سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور پھر فرمایا: جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اس شہر میں قتل و غارت کرے اور اس کے درخت کاٹے، اگر کوئی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی لڑائی کو بنیاد بنا کر مکہ میں لڑائی کا جواز پیش کرے تو تم اسے بتلا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی اورمیرے لیے بھی دن کے ایک حصہ میں یعنی تھوڑی دیر کے لیے اجازت دی گئی تھی، آج اس کی حرمت اسی طرح بحال ہے، جیسے کل تھی، جو لوگ موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں، جو یہاں موجود نہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۴، ۱۸۳۲، ومسلم: ۱۳۵۴(انظر: ۱۶۳۷۳)
12591
Sahih
۔ (۱۲۵۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُطِیعِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَخِی بَنِی عَدِیِّ بْنِ کَعْبٍ، عَنْ أَبِیہِ مُطِیعٍ، وَکَانَ اسْمُہُ الْعَاصِ فَسَمَّاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُطِیعًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِینَ أَمَرَ بِقَتْلِ ہٰؤُلَائِ الرَّہْطِ بِمَکَّۃَ،یَقُولُ: ((لَا تُغْزٰی مَکَّۃُ بَعْدَ ہٰذَا الْعَامِ أَبَدًا، وَلَا یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ بَعْدَ ہٰذَا الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۸۴)
ایک جماعت کے افراد کے قتل کا حکم دیا تو فرمایا: آج کے بعد مکہ پر لشکر کشی نہیں کی جائے گی اور آج کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۲۵۹۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۶۹۱، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۵۰۸(انظر: ۱۵۴۰۸)
12592
Sahih
۔ (۱۲۵۹۳)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ابْنَ الزُّبَیْرِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْحِجْرِ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! إِیَّاکَ وَالْإِلْحَادَ فِی حَرَمِ اللّٰہِ، فَإِنِّی أَشْہَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((یُحِلُّہَا، وَیَحُلُّ بِہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُہُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَیْنِ لَوَزَنَتْہَا۔)) قَالَ: فَانْظُرْ أَنْ لَا تَکُونَ ہُوَ یَا ابْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّکَ قَدْ قَرَأْتَ الْکُتُبَ وَصَحِبْتَ الرَّسُولَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَإِنِّی أُشْہِدُکَ أَنَّ ہٰذَا وَجْہِی إِلَی الشَّامِ مُجَاہِدًا۔ (مسند احمد: ۷۰۴۳)
سعید بن عمرو سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، جبکہ وہ حطیم میں تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: اے ابن زبیر! اللہ کے حرم میں قتل و غارت سے بچو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک قریشی آدمی مکہ کی حرمت کو پامال کرے گا، اس کے گناہ اس قدر ہوں گے کہ اگران کا تمام انسانوں اور جنات کے گناہوں سے موازنہ کیا جائے تو اس کے گناہ وزنی ہوں گے۔ سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آگے سے کہا: اے ابن عمرو! خیال کرنا کہ وہ آدمی تم ہی نہ ہو، تم تو کتابیںپڑھے ہوئے ہیں اور تم کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے، انہوں نے کہا: میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تو بغرض جہاد شام کی طرف جارہا ہوں۔
Takhreej
(۱۲۵۹۳) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین، لکن رفعہ کما قال ابن کثیر فی النھایۃ قد یکون غلطا، وانما ھو من کلام عبد اللہ بن عمرو (انظر: ۷۰۴۳)
12593
Sahih
۔ (۱۲۵۹۴)۔ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: أَتَی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! إِیَّاکَ وَالْإِلْحَادَ فِی حَرَمِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّہُ سَیُلْحِدُ فِیہِ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُہُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَیْنِ لَرَجَحَتْ۔)) قَالَ: فَانْظُرْ لَا تَکُونُہُ۔ (مسند احمد: ۶۲۰۰)
سعید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور کہا: اے ابن زبیر! اللہ تعالیٰ کے حرم کے اندر فساد اور قتل و غارت سے بچو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب اس حرم میں ایک قریشی آدمی قتل و غارت کرے گا، وہ اس قدر گنہگارہو گا کہ اگر اس کے گناہوں کا تمام انسانوں اور جنوں کے گناہوں سے موازانہ کیا گیاتو اس کے گناہ بھاری ہوں گے۔ دیکھ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم ہی ہو۔
Takhreej
(۱۲۵۹۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
12594
Sahih
۔ (۱۲۵۹۵)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا تَزَالُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃُ بِخَیْرٍ مَا عَظَّمُوا ہٰذِہِ الْحُرْمَۃَ حَقَّ تَعْظِیمِہَا، فَإِذَا تَرَکُوہَا وَضَیَّعُوْہَا ہَلَکُوْا)) (مسند احمد: ۱۹۲۵۹)
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ امت جب تک مکہ کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھے گی، خیر و سلامتی کے ساتھ رہے گی اور جب وہ اس حرمت کو چھوڑدیں گے اور ضائع کریں گے تو وہ خود بھی تباہ ہو جائیںگے۔
Takhreej
(۱۲۵۹۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ النخعی، ویزید بن عطائ، ویزید بن ابی زیاد ضعفائ، ثم ان عبد الرحمن بن سابط لم یدرک عیاش بن ابی ربیعۃ، اخرجہ ابن ماجہ: ۳۱۱۰(انظر: ۱۹۰۴۹)
12595
Zaeef
۔ (۱۲۵۹۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمَدِینَۃُ وَمَکَّۃُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِکَۃِ عَلٰی کُلِّ نَقْبٍ مِنْہَا مَلَکٌ، لَا یَدْخُلُہَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۰)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی طرف سے مکہ اور مدینہ کو فرشتوں کے ذریعے گھیر دیا گیا ہے، ان کے ہر راستے پر فرشتہ مقرر ہے، دجال اور طاعون ان دونوں شہروں میں داخل نہیں ہو سکتے۔
Takhreej
(۱۲۵۹۶) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۰۲۶۵)
12596
Sahih
۔ (۱۲۵۹۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: وَقَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْحَزْوَرَۃِ، فَقَالَ: ((عَلِمْتُ أَنَّکِ خَیْرُ أَرْضِ اللّٰہِ، وَأَحَبُّ الْأَرْضِ إِلَی اللّٰہِ، وَلَوْلَا أَنَّ أَہْلَکِ أَخْرَجُونِی مِنْکِ، مَا خَرَجْتُ۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَالْحَزْوَرَۃُ عِنْدَ بَابِ الْحَنَّاطِینَ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲۴)
سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حزورہ کے مقام پر رکے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی سب سے بہتر اور اس کی محبوب ترین زمین ہے، اگر تیرے رہنے والے لو گ مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں از خود کبھی نہ جاتا۔ عبدالرزاق راوی حدیث کہتے ہیں: حزورہ مقام باب الحناطین کے قریب ہے۔
Takhreej
(۱۲۵۹۷) تخریج: حدیث صحیح علی وھم فی اسنادہ، اخرجہ ابویعلی: ۵۹۵۴(انظر: ۱۸۷۱۷ )
12597
Sahih
۔ (۱۲۵۹۸)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنَ عَدِیِّ بْنِ الْحَمْرَائِ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ وَاقِفٌ بِالْحَزْوَرَۃِ مِنْ مَکَّۃَیَقُولُ لِمَکَّۃَ: ((وَاللّٰہِ! إِنَّکِ لَأَخْیَرُ أَرْضِ اللّٰہِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰہِ)) فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۱۸۹۲۳)
سیدناعبداللہ بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ کے حزورہ مقام پر کھڑے ہو کر مکہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور محبوب ترین جگہ ہے، …۔ آگے سابق روایت کی طرح کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۱۲۵۹۸) تخریج: اسنادہ صحیح، اخرجہ الترمذی: ۳۹۲۵ (انظر: ۱۸۷۱۶)
12598
Sahih
۔ (۱۲۵۹۹)۔ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((سَیَخْرُجُ أَہْلُ مَکَّۃَ، ثُمَّ لَا یَعْمُرُوْنَھَا أَوْ لَا تُعْمَرُ إِلَّا قَلِیْلًا، ثُمَّ تَمْتَلِیئُ وَتُبْنٰی، ثُمَّ یَخْرُجُونَ مِنْہَا فَلَا یَعُودُونَ فِیہَا أَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۹۴)
سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب اہل مکہ یہاں سے نکل جائیں گے، پھر اس کے بعد وہ اسے آباد نہیں کرسکیں گے یا یوں فرمایا کہ اس کے بعد وہ آباد نہیں کیا جائے گا، مگر تھوڑا، پھر یہ آباد ہونا شروع ہو گا اور بھر جائے گا اور اس کو تعمیر کیا جائے گا، لیکن اس کے بعد جب لوگ نکل جائیں گے تو وہ کبھی بھی اس کی طرف واپس نہیں آئیں گے۔
Takhreej
(۱۲۵۹۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعۃ، اخرجہ ابن ابی شیبۃ فی تاریخ المدینۃ : ۱/ ۲۸۳، والبزار فی مسندہ : ۲۳۳ (انظر: ۱۴۷۳۵)
12599
Zaeef

Chapters

66
01
باب اول: امت محمدیہ کی فضیلت کا بیان
20 Hadith
02
باب دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
7 Hadith
03
با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
9 Hadith
04
باب چہارم:اس امر کابیان کہ امت محمدیہ میں سے سات لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد حساب اورعذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے
5 Hadith
05
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
4 Hadith
06
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
7 Hadith
07
امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے
2 Hadith
08
باب دوم: دور اول اور دورثانی کی فضیلت
4 Hadith
09
باب سوم: دور اول، دورِ دوم اور دورِ سوم کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
10
باب چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
4 Hadith
11
عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
4 Hadith
12
قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
4 Hadith
13
باب دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
6 Hadith
14
باب سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا کا بیان
9 Hadith
15
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
2 Hadith
16
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
17
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
4 Hadith
18
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
7 Hadith
19
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
20
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
3 Hadith
21
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
3 Hadith
22
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
4 Hadith
23
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
2 Hadith
24
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
2 Hadith
25
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
26
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
3 Hadith
27
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
3 Hadith
28
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
1 Hadith
29
باب پنجم: مکہ کے قبرستان اور بیت اللہ کے بالمقابل واقع گھاٹی کا تذکرہ
1 Hadith
30
مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
17 Hadith
31
باب دوم: مدینہ اور اہل مدینہ کی خیرو برکت اور یہاں سے وباؤں کے ٹلنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعاؤں کا تذکرہ
10 Hadith
32
باب سوم: مدینہ منورہ کی سکونت، وہاں کے شدائد پر صبر اور شدائد سے گھبرا کر وہاں سے باہر چلے جانے کی کراہت اور اس امر کابیان کہ مدینہ کی سر زمین برے لوگوں کو خود ہی باہر نکال دیتی ہے
14 Hadith
33
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
6 Hadith
34
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
5 Hadith
35
باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ سے محبت اور آپ کا اس کو طیبہ کا نام دینا اور اس کے یثرب کے نام کو ناپسند کرنا
5 Hadith
36
باب ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
7 Hadith
37
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
7 Hadith
38
فصل دوم: مسجد میں مشرک کے داخل ہونے کا حکم اس امر کا بیان کہ جس مسجد کی بنیاد روزِ اول سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ مسجد نبوی ہے، جو مدینہ منورہ میں واقع ہے
4 Hadith
39
فصل سوم: مسجد نبوی کے پلاٹ اور تعمیر کا بیان
3 Hadith
40
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
2 Hadith
41
فصل پنجم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر اور منبر کے مابین جگہ کی فضیلت اور منبر والی جگہ کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
42
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منبر کی کیفیت اور اس امر کابیان کہ وہ کس چیز سے بنا ہوا تھا
3 Hadith
43
تینوں مساجد یعنی مسجدحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے فضائل
3 Hadith
44
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
5 Hadith
45
باب نہم: بقیع، احد اور حجاز کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
مختلف شہروں اور مقامات و جہات کے فضائل باب اول: جزیرۂ عرب اور حجاز کے فضائل کا بیان
5 Hadith
47
باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
12 Hadith
48
فصل دوم: دمشق اور غوطہ کی فضیلت
3 Hadith
49
فصل سوم: حمص، بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
50
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
1 Hadith
51
باب سوم: یمن اور اہل یمن اور اس کے بعض شہروں اور قبائل کی فضیلت اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر یمن کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
52
فصل دوم: اہل یمن کی فضیلت
8 Hadith
53
فصل سوم: عمان، عدن اور وہاں کے باشندوں کی فضیلت
4 Hadith
54
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
55
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
1 Hadith
56
باب پنجم: اہل فارس اور خراسان کے نواح میں واقع مروشہر کے بارے میں وارد نصوص کا بیان
3 Hadith
57
باب ششم: مصر اور مغرب کی سمت کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
1 Hadith
58
کتاب میں مذکورہ مقامات کے علاوہ دیگر اوقات کے فضائل کے ابواب باب اول: بعض ایام کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
2 Hadith
59
فصل: صبح کے اوقات کی فضیلت
2 Hadith
60
باب دوم: مطلق طور پر راتوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
61
فصل: نصف شعبان کی رات فضیلت
2 Hadith
62
فصل: یوم عرفہ کی فضیلت
1 Hadith
63
خاتمہ: درختوں اور شجر کاری خصوصاً کھجور کی فضیلت
4 Hadith
64
فصل: کھجور اور عجوہ کی فضیلت
5 Hadith
65
نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈالنے کا بیان
1 Hadith
66
فصل: شجر کاری وغیرہ کی فضیلت
2 Hadith
No chapter matched that.