۔ (۱۲۷۲۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ
نُفَیْرٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((سَتُفْتَحُ عَلَیْکُمُ الشَّامُ، فَإِذَا خُیِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِیہَا فَعَلَیْکُمْ بِمَدِینَۃٍیُقَالُ لَہَا: دِمَشْقُ، فَإِنَّہَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِینَ مِنَ الْمَلَاحِمِ، وَفُسْطَاطُہَا مِنْہَا بِأَرْضٍ یُقَالُ لَہَا: الْغُوطَۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۰۹)
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم شام کو فتح کروگے، اور جب تمہیں سکونت کے لیے کسی جگہ کے انتخاب کا موقع دیا جائے تو تم دمشق نامی شہر کو منتخب کرنا، خون ریز لڑائیوں میں وہ مسلمانوں کی قرار گاہ ہوگا اور اس کا ایک حصہ شہر غوطہ مسلمانوں کے لیے خیمہ کی مانند جائے امن ہوگا۔
Takhreej
(۱۲۷۲۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۱۷۴۷۰)
Explanation
فوائد:… دمشق کے قریب ایک شہر کا نام غوطہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس زمانے میں شام کی فضیلت بیان کی تھی، اس وقت کا ملک ِ شام مراد ہے، نہ کہ موجودہ، جغرافیائی حدود تبدیل ہو چکی ہیں۔
12729
Sahih