TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان - ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان - نمازوں کے اوقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of نمازوں کے اوقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 23 · 5 Hadith
۔ (۱۱۹۶)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَؓ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((اِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَاَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَاِذَا طَلَعَتْ فَلَا تُصَلِّ حَتّٰی تَرْتَفِعَ فَاِنَّہَا تَطْلُعُ حِیْنَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ وَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ فَاِذَا ارْتَفَعَتْ قِیْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْہُوْدَۃٌ مَحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی یَعْنِیْ یَسْتَقِلَّ الرُّمْحُ بِالظِّلِّ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ فَاِنَّہَا حِیْنَئِذٍ تُسْجَرُ جَہَنَّمُ، فَاِذَا فَائَ الْفَیْئُ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَشْہُوْدَۃٌ مَحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ فَاِذَا صَلَّیْتَ الْعَصْرَ فَاَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَاِنَّہَا تَغْرُبُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ فَحِیْنَئِذٍ یَسْجُدُ لَہَا الْکُفَّارُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۳۹)
سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو علم عطا کیا ہے، اس میں سے مجھے بھی سکھلا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو نماز فجر ادا کر لے تو مزید نماز سے رک جا، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے، پس جس وقت وہ طلوع ہو رہا ہو تو اس کے بلند ہونے تک نماز نہ پڑھ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوںکے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں، پس جب وہ ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، جب نیزہ اپنے سائے پر کھڑا ہو جائے تو نماز سے رک جا، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، پس جب سایہ (مغرب کی جانب سے مشرق کی جانب) لوٹ آئے تو پھر نماز پڑھ، اِس وقت کی نماز بھی حاضر کی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تو نمازِ عصر ادا کر لے، پس جب تو عصر کی نماز ادا کر لے تو مزید نماز پڑھنے سے رک جا، حتی کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں۔
Takhreej
(۱۱۹۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۳۲(انظر: ۱۷۰۱۴)
1196
Sahih
۔ (۱۱۹۷)۔عَنْ کَعْبِ بْنِ مُرَّۃَ الْبَہْزِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ اللَّیْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: ((جَوْفُ اللَّیْلِ الْآخِرُ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((ثُمَّ الصَّلَاۃُ مَقْبُوْلَۃٌ حَتّٰی یُصَلَّی الْفَجْرُ، ثُمَّ لَا صَلَاۃَ حَتّٰی تَکُوْنَ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ، ثُمَّ الصَّلَاۃُ مَقْبُوْلَۃٌ حَتّٰی یَقُوْمَ الظِّلُّ قِیَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاۃَ حَتّٰی تَزُوْلَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاۃُ مَقْبُوْلَۃٌ حَتّٰی تَکُوْنَ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَیْنِ، ثُمَّ لَا صَلَاۃَ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ؛ قَالَ: وَاِذَا غَسَلْتَ وَجْہَکَ خَرَجَتْ خَطَایَاکَ مِنْ وَجْہِکَ، وَاِذَا غَسَلْتَ یَدَیْکَ خَرَجَتْ خَطَایَاکَ مِنْ یَدَیْکَ، وَاِذَا غَسَلْتَ رِجْلَیْکَ خَرَجَتْ خَطَایَاکَ مِنْ رِجْلَیْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۱۰۴)
سیدنا کعب بن مرہ بہزی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! رات کے کون سے حصے میں دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر قبول ہونے والی نماز ہے، یہاں تک کہ نمازِ فجر پڑھ لی جائے، اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک ایک یا دو نیزوں کے بقدر سورج بلند ہو جائے، اس کے بعد قبول ہونے والی نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے ساتھ کھڑا ہو جائے، پھر کوئی نماز نہیں، یہاں تک سورج ڈھل جائے، پھر مقبول نماز کا وقت ہے، یہاں تک کہ سورج ایک یا دو نیزوں کے بقدر بلند رہ جائے، پھر اس کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں۔ مزید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو (وضو میں) اپنے چہرہ دھوئے گا تو تیری چہرے سے غلطیاں نکل جائیں گی، جب تو اپنے بازو دھوئے گا تو تیرے بازوؤں سے گناہ نکل جائیں گے اور جب تو اپنے پاؤں کو دھوئے گا تو تیرے پاؤں سے تیرے گناہ نکل جائیں گے۔
Takhreej
(۱۱۹۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ مختصرا عبد الرزاق: ۳۹۴۹ (انظر: ۱۸۸۹۷)
1197
Sahih
۔ (۱۱۹۸)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ الصُّنَابِحِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ، فَاِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَہَا فَاِذَا کَانَتْ فِیْ وَسْطِ السَّمَائِ قَارَنَہَا، فَاِذَا دَلَکَتْ أَوْ قَالَ: زَالَتْ فَارَقَہَا، فَاِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوْبِ قَارَنَہَا فَاِذَا غَرَبَتْ فَارَقَہَا، فَلَا تُصَلُّوْا ہٰذِہِ الثَّلَاثَ سَاعَاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۲۷۳)
سیدنا ابو عبد اللہ صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج آسمان کے درمیان پہنچتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے، پس جب وہ ڈھلتا ہے تو وہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور جب وہ غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے، پھر جب وہ غروب ہو جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے، پس تم ان تین گھڑیوں میں نماز نہ پڑھا کرو۔
Takhreej
(۱۱۹۸) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۲۵۳(انظر: ۱۹۰۶۳)
1198
Sahih
۔ (۱۱۹۹)۔عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّؓ قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ یَنْہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُصَلِّیَ فِیْہِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِیْہِنَّ مَوْتَانَا، حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتّٰی تَرْتَفِعُ وَحِیْنَ یَقُوْمُ قَائِمُ الظَّہِیْرَۃِ حَتّٰی تَمِیْلَ الشَّمْسُ وَحِیْنَ تَضَیَّفُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۱۲)
سیدنا عقبہ بن عامر جہنیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہم کو تین گھڑیوں میں نماز پڑھنے سے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع کرتے تھے، جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، جب دوپہر کے وقت کھڑا ہو جانے والا کھڑا ہو جائے اور جب وہ غروب کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔
Takhreej
(۱۱۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۳۱(انظر: ۱۷۳۷۷)
1199
Sahih
۔ (۱۲۰۰)۔عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِیِّؓ أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اِنِّیْ أَسْأَلُکَ عَمَّا أَنْتَ بِہِ عَالِمٌ وَأَنَا بِہِ جَاہِلٌ، قَالَ: ((وَمَا ہُوَ؟)) قَالَ: ھَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ سَاعَۃٌ تُکْرَہُ فِیْھَا الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((نَعَمْ، اِذَا صَلَّیْتَ الصُّبْحَ فَاَمْسِکْ عَنِ الصَّلَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَاِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَحْضُوْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تَعْتَدِلَ عَلَی رَأْسِکَ مِثْلَ الرُّمْحِ، فَاِذَا اعْتَدَلَتْ عَلَی رَأْسِکَ فَاِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ تُسْجَرُ فِیْھَا جَہَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِیْھَا أَبْوَابُہَا حَتّٰی تَزُوْلَ عَنْ حَاجِبِکَ الْأَیْمَنِ، فَاِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِکَ الْأَیْمَنِ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ مَحْضُوْرَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ)) (مسند أحمد: ۲۲۰۳۸)
سیدنا صفوان بن معطل سلمی ؓ سے مروی ہے، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں، جس کو آپ جانتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیا دن اور رات میں ایسی گھڑیاں بھی ہیں، جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہوتی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، جب تو نمازِ فجرپڑھ لے تو طلوع آفتاب تک مزید نماز پڑھنے سے رک جا، جب سورج طلوع ہو جائے تو نماز پڑھ، پس بیشک وہ نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک سورج نیزے کی طرح تیرے سر کے برابر ہو جائے، پس جب وہ تیرے سر کے برابرہو جاتا یہ تو اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے، پس جب وہ تیرے دائیں پہلو سے ڈھل جائے تو نماز پڑھ، کیونکہ اس وقت کی نماز حاضر کی ہوئی اور قبول کی ہوئی ہے، یہاں تک کہ تو نماز عصر ادا کر لے۔
Takhreej
(۱۲۰۰) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۲۵۲ (انظر: ۲۲۶۶۱)
1200
Sahih

Chapters

23
01
جامع اوقات کا بیان
13 Hadith
02
ظہر کے وقت اور اس کو جلدی ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
03
گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
6 Hadith
04
عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
10 Hadith
05
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
9 Hadith
06
نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان
5 Hadith
07
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
15 Hadith
08
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
15 Hadith
09
نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
8 Hadith
10
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
11
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
2 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ جس نے نماز میں سے ایک رکعت کو پا لیا، پس تحقیق اس نے ساری نماز کو پا لیا
4 Hadith
13
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
5 Hadith
14
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
5 Hadith
15
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
7 Hadith
16
طلوع فجر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
2 Hadith
17
طلوع آفتاب، غروبِ آفتاب اور زوال کے وقت نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
6 Hadith
18
مکہ مکرمہ میں اس کی رخصت کا بیان
1 Hadith
19
اس چیز کا بیان کہ نماز کو بھول جانے کا وقت وہ ہے،جب اس کو یاد آئے
3 Hadith
20
سورج طلوع ہونے تک نمازِ فجر سے سوئے رہنے والے کا بیان
9 Hadith
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
3 Hadith
22
فوت ہونے والی نفلی نماز اور وظیفوں کی قضائی کی مشروعیت کا بیان
4 Hadith
23
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو سننِ رواتب کے فوت جانے کی صورت میں ان کی قضاء نہ دینے کے قائل ہیں
1 Hadith
No chapter matched that.