TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مساجد کا بیان - مساجد کا بیان - Book 23 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 23 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 69 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

69 Hadith · 12 Chapters
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إَِذا مَرَّ أَحَدُ کُمْ بِسُوقٍ أَوْ مَجْلِسٍ أَوْ مَسْجِدٍ وَمَعَہُ نَبْلٌ فَلْیَقْبِضْ عَلَی نِصَالَھَا فَلْیَقْبِضْ عَلَی نِصَا لِھَا۔)) ثَـلَاثًا قَالَ أَبُو مُوسی: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَائُ حَتّٰی سَدَّدَ بِہَا بَعْضُنَا فِی وُجُوہِ بَعْضٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۹۲
سیّدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دفعہ فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بازار یا کسی مجلس یا کسی مسجد سے اس حالت میں گزرے کہ اس کے پاس تیر ہوں تو وہ ان کے پھلوں سے پکڑ لیا کرے۔ ابو موسی فرماتے ہیں: ہم پر ہمیشہآزمائش آتی رہییہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے یہ تیر بعض کے چہروں میں سیدھے کردیے۔
Takhreej
(۱۳۳۶) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۲۶۱۵، وانظر الحدیث بالطرق الاول (انظر: ۱۹۵۷۷، ۱۹۷۵۴)
1336
Sahih
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سَفُیْانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسَمِعْتَ جَابِراً یَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِی الْمَسْجِدِ مَعَہُ سِھاَمٌ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمْسِکْ بِنِصَالِھَا۔))؟ فَقَالَ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۶۱)
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمروبن دینارسے پوچھا کہ کیا آپ نے سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد سے تیر سمیت گزرا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ان کے پھلوں سے پکڑ۔ ؟ تو عمر و کہنے لگے: جی ہاں! میں نے سنا ہے ۔
Takhreej
(۱۳۳۷) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۴۵۱، ۷۰۷۳، ومسلم: ۲۶۱۴ (انظر: ۱۴۳۱۰)
1337
Sahih
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۸) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُوْسٰی ثَنَا ابْنُ لَھِیْعَۃَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّۃَ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلَی قَوْمٍ فِی الْمَسْجِدِ أَوْ فِی الْمَجْلِسِ یَسُلُّوْنَ سَیْفًا بَیْنَہُمْیَتَعَا طَوْنَہُ بَیْنَہُمْ غَیْرَ مَغْمُوْدٍ، فَقَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ یَفْعَلُ ذٰلِکَ، أَوَ لَمْ أَزْجُرْکُمْ عَنْ ھٰذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّیْفَ فَلْیَغْمِدْہُ الرَّجُلُ ثُمَّ لِیُعْطِہِ کَذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۰۱)
دوسری سند سے مروی ہے کہ جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیّدنا بنّہ جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میںیا کسی مجلس میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بغیر نیام کے تلوار سونت کر ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرے ، کیا میں نے تمہیں اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم تلوار نکالو توآدمی اسے نیام میں رکھے، پھر وہ اسی طرح آگے دے دے۔
Takhreej
(۱۳۳۸) تخر یـج: …اسنادہ حسن، روی عن ابن لھیعۃ عبد اللہ بن وھب۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۱۹۰، وفی الاوسط : ۲۵۹۱، والبزار: ۳۳۳۵ (انظر: ۱۴۷۴۲، ۱۴۹۸۰)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کو کتنا ناپسند ہے۔ عصر حاضر میں اس نقطے پر غور و فکر کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔
1338
Sahih
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۹) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا کَانَ فِی الْمَسْجِدِ جَائَ الشَّیْطَانُ فأَبَسَّ بِہِ کَمَا یُبِسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِہِ فَإِذَا سَکَنَ لَہُ زَنَقَہُ أَوْ أَلْجَمَہُ۔)) قَالَ أَبُوھُرَیْرَۃَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِکَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاہُ مَائِلًا کَذَا لَایَذْکُرُ اللّٰہَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاہُ لَایَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۸۳۵۲)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جب وہ اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے تو وہ اسے جھکا لیتا ہے یا لگام ڈال لیتا ہے ۔ سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: تم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو، جسے جھکا لیا جاتا ہے تو تم اسے ایسے جھکا ہوا ہی دیکھتے ہو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور جسے لگام ڈال لی جاتی ہے، تو وہ اپنا منہ کھول لیتا ہے اور اس طرح اللہ کا ذکر نہیں کرتا۔
Takhreej
(۱۳۳۹) تخر یـج: …اسنادہ قوی (انظر: ۸۳۷۰)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! کیا سچ فرمایا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے! موجودہ زمانے کے لوگ اس حدیث کا سب سے بڑھ کر مصداق بنے ہوئے ہیں۔ فرضی نمازوں کے علاوہ تو مسجد میں آنا ہی درکنار، ان فرائض کی ادائیگی کے لیے مسجد میں آنے والوں کی کثیر تعداد مفقود ہو چکی ہے اور جو آتے ہیںوہ آنے میں تاخیر اور جانے میں تعجیل کرتے ہیں۔ اب پتہ چلا کہ ان بیچاروں کے سینوں میں شیطان گھس جاتا ہے اور ان کے سینوں سے تسکین غصب کر کے ان کو مسجد سے بھگا دیتا ہے۔ مانا کہ بعض لوگ مجبور ہوتے ہوں گے، لیکنیہ کلیہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسجد میں نماز عشاء کی ادائیگی کے لیے نمازیوں کی کل تین صفیں بن گئیں، ابتدائے نماز کے وقت آدھی صف موجود تھی اور ڈیڑھ صف کے پاس تو نماز کے بعد مختصر سا درس سننے کا وقت بھی نہیں تھا کہ سلام کے بعد فورا انھوں نے مسجد سے نکلنا شروع کر دیا۔
1339
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۰) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُ کُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَلْیُغَیِّبْ نُخَامَتَہُ أَنْ تُصِیْبَ جِلْدَ مُؤْمِنٍ أَوْ ثَوْبَہُ فَتُؤْذِیَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۳)
سیّدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں کھنکارپھینکے تو وہ اسے چھپا دیا کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی مومن کے جسم یا کپڑے پر لگ جائے اور اس طرح اسے تکلیف ہو۔
Takhreej
(۱۳۴۰) تخر یـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ البزار: ۱۱۲۷، وابو یعلی: ۸۰۸، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۳۶۷، وابن خزیمۃ: ۱۳۱۱، والبیھقی فی شعب الایمان : ۱۱۱۷۹ (انظر: ۱۵۴۳)
1340
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ فَرَأَی فِی الْقِبْلَۃِ نُخَامَۃً، فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((إِنَّ أَحَدَ کُمْ إِذَا صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ فَإِنَّہُ یُنَاجِیْ رَبَّہٗوَإِنَّاللّٰہَتَبَارَکَوَتَعَالٰییَسْتَقْبِلُہُ بِوَجْہِہِ فَـلَا یَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْقِبْلَۃِ وَلَاعَنْ یَمِیِنِہ۔)) ثُمَّ دَعَا بِعُودٍ فَحَکَّہُ ثُمَّ دَعَا بِخَلُوقٍ فَحَضَبَہُ۔ (مسند احمد: ۴۹۰۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجدمیں نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قبلہ کی سمت میں ایک کھنکار نظر آیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجا ت کر تا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے سامنے ہو تا ہے، اس لیے تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی طر ف اور نہ ہی اپنی دائیں طر ف کھنکار پھینکا کرے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لکڑی منگوا کر اسے کھرچ دیا اور خوشبو منگوا کر وہاں لگا دی۔
Takhreej
(۱۳۴۱) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۱۳، ۶۱۱۱، ومسلم: ۵۴۷، وابوداود: ۴۷۹ (انظر: ۴۵۰۹، ۴۹۰۸)
1341
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۲) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا بَزَقَ أَحَدُکُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَلْیَدْفِنْہُ فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلْیَبْزُقْ فِیْ ثَوْبِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۲۲)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میںسے کوئی آدمی مسجد میں تھوکے تو اسے دفن کردیا کرے ، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تواپنے کپڑے میں تھوکا کرے۔
Takhreej
(۱۳۴۲) تخر یـج: …اسنادہ حسن۔ أخرج بنحوہ ابوداود: ۴۷۷، وأخرج مسلم: ۵۵۰ مطوّلا منہ (انظر: ۷۴۰۵، ۷۵۳۱)
1342
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۳) عَنْ أَبِیْ سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَآی نُخَامَۃً فِیْ قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَحَکَّہَا بِحَصَاۃٍ ثُمَّ نَھٰی أَنْ یَبْصُقَ الرَّجُلُ بَیْنَیَدَیْہِ وَعَنْ یَمِیْنِہ، وَقَالَ: ((لِیَبْصُقْ عَنْ یَسَارِہِ أَوْتَحْتَ قَدَمِہِ الْیُسْرٰی۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۳۹)
ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کے قبلہ میں ایک کھنکار دیکھااور اسے کنکری سے کھرچ دیا، پھر آدمی کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوکا کرے۔
Takhreej
(۱۳۴۳) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۴۱۴، ومسلم: ۵۴۸ (انظر: ۱۱۰۲۵)
1343
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یَحْیٰ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعْجِبُہُ الْعَرَاجِیْنُ أَنْ یُمْسِکَہَا بِیَدِہِ،فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ذَاتَ یَوْمٍ وَفِییَدِہِ وَاحِدٌ مِنْہَا فَرَآی نُخَامَاتٍ فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ فَحَتَّہُنَّ بِہِ حَتّٰی أَنْقَاھُنَّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ مُغْضِبًا فَقَالَ: ((أَیُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ یَسْتَقْبِلَہٗ رَجُلٌ فَیَبْصُقَ فِی وَجْہِہِ؟ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ فَإِنَّمَایَسْتَقْبِلُ رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَکُ عَنْ یَمِیْنِہِ، فَـلَا یَبْصُقْ بَیْنَیَدَیْہِ وَلَا عَنْ یَّمِیْنِہِ، وَلْیَبْصُقْ تَحْتَ قَدَمِہِ الْیُسْرٰی أَوْعَنْ یَسَارِہِ، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِہِ بَادِرَۃٌ فَلْیَقُلْ ھٰکَذَا۔)) وَرَدَّ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ وَتَفَلَ یَحَيٰ فِیْ ثَوْبِہِ وَدَلَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۰۳)
سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے ہاتھ میں کھجور کی ٹہنیاں رکھنا پسند تھا، ایک دن آپ کے ہاتھ میں یہی ایک ٹہنی تھی کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کے قبلہ میں کچھ کھنکار دیکھ کر انہیں کھرچا حتی کہ انہیں صاف کر دیا، پھر غصہ کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: کیا تم سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی آدمی آئے اوراس کے چہرے میں تھوک دے؟ (غور کرو کہ) جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ربّ اس کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں جانب، (اس لیے) وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ وہ اپنے بائیں قدم کے نیچےیا اپنی بائیں طرف تھوکے، اگر اس کو کوئی جلدی پڑ جائے تو وہ اس طرح کرلے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کپڑے کے بعض حصے کو بعض پر مل دیا۔ اور راویٔ حدیثیحییٰ نے (اس تمثیل کی وضاحت کرتے ہوئے) اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دیا۔
Takhreej
(۱۳۴۴) تخر یـج: …اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابوداود: ۴۸۰، وابن حبان: ۲۲۷۱، وابن خزیمۃ: ۹۲۶ (انظر: ۱۱۱۸۵) وقد سلف مختصرا برقم: ۳۲۴
1344
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلنُّخَامَۃُ فِی الْمَسْجِدِ خَطِیْئَۃٌ وَکَفَّارَتُہَا دَفْنُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۸۴)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے۔
Takhreej
(۱۳۴۵) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ البخاری: ۴۱۵، مسلم: ۵۵۲، وابوداود: ۴۷۵ (انظر: ۱۲۰۶۲، ۱۲۷۷۵، ۱۳۴۵۰)
1345
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۶) وَعَنْہُ أیْضًا أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ فِی الصَّلَاۃِ فَإِنَّہُ مُنَاجٍ رَبَّہُ، فَـلَا یَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِّنْکُمْ عَنْ یَمِیْنِہِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرِ: فَـلَا یَتْفُلْ أَمَامَہُ وَلَا عَنْ یَمِیْنِہِ، وَلٰکِنْ عَنْ بَسَارِہِ أَوْتَحْتَ قَدَمَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۸۶)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرے۔ ابن جعفر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے اور اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک لے۔
Takhreej
(۱۳۴۶) تخر یـج: … أخرجہ البخاری: ۵۳۱، ومسلم: ۵۵۱ (انظر: ۱۲۰۶۳، ۱۲۸۰۹)
1346
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۷) عَنْ أَبِیْ غَالِبٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَۃَیَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((التَّفْلُ فِی الْمَسْجِدِ سَیِّئَۃٌ وَدَفْنُہٗ حَسَنَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۹۸)
سیّدنا ابو امامۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا برائی ہے اور اسے دفن کرنا نیکی ہے۔
Takhreej
(۱۳۴۷) تخر یـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۳۶۵، والطبرانی فی الکبیر : ۸۰۹۱ (انظر: ۲۲۲۴۳)
1347
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۸) عَنْ أَبِیْ سَعْدٍ قَالَ: رَأَیْتُ وَاثِلَۃَ بْنَ الْأَسْقَعِ یُصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِہِ الْیُسْرٰی ثُمَّ عَرَکَہَا بِرِجِلْہِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَبْزُقُ فِی الْمَسْجِدِ؟ قَالَ ھٰکَذَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۰۵)
ابو سعدکہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا وا ثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مسجد ِدمشق میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک کر اسے قدم کیساتھ رگڑ دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ میں سے ہو کر مسجد میں تھوک رہے ہیں؟ تو سیّدنا وا ثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواب دیا کہاس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
Takhreej
(۱۳۴۸) تخر یـج: …حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۸۴، والطیالسی: ۱۰۱۳ (انظر: ۱۶۰۰۹)
1348
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۴۹) عَنْ أَبِیْ سَہْلَۃَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلاً أَمَّ قَوْمًا فَبَسَقَ فِی الْقِبْلَۃِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ فَرَغَ: ((لَایُصَلِّ لَکُمْ۔)) فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِکَ أَنْ یُصَلِّیَ لَھُمْ فَمَنَعُوْہُ وَأَخَبَرُوْہُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ ذَلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((نَعَمْ)) وَحَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: ((آذَیْتَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۷۷)
سیّدناابو سہلہ سائب بن خلاد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے دوران نماز قبلہ کی طرف تھوکا۔ جس وقت وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ شخص آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ بعد میںجب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمان اسے سنا دیا، اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ہے۔
Takhreej
(۱۳۴۹) تخر یـج: …حدیث حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۸۱، وابن حبان: ۱۶۳۶ (انظر: ۱۶۵۶۱)
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت میں ہے: ((اِنَّکَ قَدْ آذَیْتَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ)) تونےاللہاوراسکےرسولکوتکلیف دی ہے۔ یہ بہت بڑی ڈانٹ ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس آدمی نے ایسا کام کیا جس کو اللہ اور اس کا رسول پسند نہیں کرتا ہے۔امامت و خطابت جیسی ذمہ داریاں سنبھالنے والوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے اور اپنے منصب کی قدر کرتے ہوئے تمام آلائشوں سے باز رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
1349
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۵۰) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَیَّ أُمَّتِیْ بِأَعْمَالِھَا حَسَنَۃٍ وَسَیِّئَۃٍ، فَرَأَیْتُ فِیْ مَحَاسِنِ أَعْمَالِھَا إِمَاطَۃَ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَرَأَیْتُ فیِ سَیِّیئِ أَعْمَالِھَا الْنُخَاعَۃَ فِی الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۳)
سیّدناابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت مجھ پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے ساتھ پیش کی گئی، میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور برے اعمال میں مسجد میں غیر مدفون کھنکاردیکھا ہے۔
Takhreej
(۱۳۵۰) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۵۵۳ (انظر: ۲۱۵۴۹، ۲۱۵۵۰)
1350
Sahih
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
۔ (۱۳۵۱) عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِذَا صَلَّیْتَ فَـلَا تَبْصُقْ بَیْنَیَدَیْکَ وَلَاعَنْ یَمِیْنِکَ، وَلٰکِنِ ابْصُقْ تِلْقَائَ شِمَالِکَ إِنْ کَانَ فَارِغًا، وَإِلاَّ فَتَحْتَ قَدَمَیْکَ وَادْلُکْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۶۴)
سیّدناطارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو اپنے آگے اور دائیں طرف نہ تھوک، البتہ اپنی بائیں جانب تھوک لیا کر، بشرطیکہ وہ خالی ہو (یعنی اس طرف کوئی نمازی نماز نہ پڑھ رہا ہو)، وگرنہ اپنا قدم اٹھا اور (اس کے نیچے تھوک کر) اسے مل دے۔
Takhreej
(۱۳۵۱) تخر یـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۵۷۱، والنسائی: ۲/ ۵۲، وابن ماجہ: ۱۰۲۱، وابن خزیمۃ: ۸۷۶، الطیالسی: ۱۲۷۵ (انظر: ۲۷۲۲۱، ۲۷۲۲۲)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا احادیث مین یہ صراحت کردی گئی ہے کہ مسجد میں تھوکنا غلطی ہے، اگر تھوکنا پڑ جائے تو درج ذیل آداب کو مد نظر رکھا جائے: ٭ قبلہ سمت میں نہیں تھوکنا ٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا ٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں ٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا ٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب
1351
Sahih
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
۔ (۱۳۵۲) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ فِیْ خُطْبَۃٍ لَہُ: ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ تَأْکُلُوْنَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لَا أُرَاھُمَا إِلَّا خَبِیْثَتَیْنِ، ھٰذَا الثُّوْمُ وَالْبَصَلُ، وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَقَدْکُنْتُ أَرَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجِدُ رِیْحَہَا مِنَ الرَّجُلِ فَیَأْمُرُ بِہٖفَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ فَیُخْرَجُ بِہِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰییُؤْتٰی بِہِ الْبَقَیْعَ، فَمَنْ أَکَلَہَا لَابُدَّ، فَلْیُمِتْہَا طَبْخًا۔ (مسند احمد: ۱۸۶)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: لوگو! تم دو درخت تھوم اور پیاز کھاتے ہو، میں تو انہیں خبیث (مکروہ) ہی سمجھتا ہوں، اللہ کی قسم! میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتا تھا، جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو محسوس کرتے تو اس کے متعلق ایسا حکم دیتے کہ اس کا ہاتھ پکڑ کراسے مسجدسے باہر نکال دیا جاتا تھا،یہاں تک کہ اسے بقیع مقام پر لایا جاتا۔ اگر کسی شخص نے ان کو کھانا ہی ہے تو پکا کر (ان کی بو کو) ختم کر لیا کرے۔
Takhreej
(۱۳۵۲) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۵۶۷، ۱۶۱۷ (انظر: ۱۸۶)
1352
Sahih
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
۔ (۱۳۵۳) عَنْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ فَـلَا یَأْتِیَنَّ الْمَسَاجِدَ۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۵)
سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ درخت (پیازیا لہسن ) کھالے وہ اللہ تعالیٰ کے گھروں(یعنی مسجدوں) میں نہ آئے۔
Takhreej
(۱۳۵۳) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۸۵۳، مسلم: ۵۶۱ (انظر: ۴۶۱۹)
1353
Sahih
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
۔ (۱۳۵۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِیَعْنِی الثُّومَ فَـلَا یُؤْذِیَنَّا فِی مَسْجِدِنَا۔)) وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ: ((فَـلَا یَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا یُؤْذِیَنَّا ِبرِیِحِ الثُّومِ۔)) (مسند احمد: ۷۵۹۹)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت یعنی تھوم سے کچھ کھا لیا تو وہ ہماری مسجد میںآکر ہرگز ہمیں تکلیف نہ دے۔ ایک دوسرے مقام میں فرمایا: ایسا شخص نہ ہماری مسجدکے قریب آئے اور نہ تھوم کی بو سے ہمیںاذیت پہنچائے۔
Takhreej
(۱۳۵۴) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۵۶۳ (انظر: ۷۶۱۰)
1354
Sahih
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
۔ (۱۳۵۵) عَنْ أَبِیْ سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمْ نَعْدُ أَنْ فُتِحَتْ خَیْبِرُ وَقَعْنَا فِی تِلْکَ الْبَقَلَۃِ فَأَکَلْنَا مِنْہَا أَکْلاً شَدِیْدًا وَنَاسٌ جِیَاعٌ، ثُمَّ رُحْنَا إِلیَ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الرِّیَحَ، فَقَالَ: ((مَنْ أَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْخَبِیْثَۃِ شَیْئًا فَـلَا یَقْرَبَنَّا فِی الْمَسْجِدِ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: حُرِّمَتْ حُرِّمَتْ! فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَیّْہَا النَّاسُ، إِنَّہُ لَیْسَ لِیْ تَحْرِیْمُ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ وَلَکِنَّھَا شَجَرَۃٌ أَکْرَہُ رِیْحَھَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۰۴)
سیّدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم خیبر کی فتح سے آگے نہیں بڑھے تھے کہ سبزی (کھیت) میں گھس گئے، لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی، اس لیے ہم نے اسے خوب کھایا، پھر ہم مسجد میں چلے گئے ، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو شخص اس خبیث (مکروہ) درخت سے کچھ کھا لے تو وہ مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے: یہ حرام ہو گیایہ حرام ہو گیا۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خبر موصول ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! مجھے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کوحرام کرنے کا کوئی اختیار نہیںہے، دراصل یہ ایسا درخت ہے کہ جس کی بو مجھے ناپسند لگتی ہے۔
Takhreej
(۱۳۵۵) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۵۶۵ (انظر: ۱۱۰۸۴، ۱۱۵۸۳)
1355
Sahih

Chapters

12