TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مساجد کا بیان - مساجد کا بیان - Book 23 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 23 of Musnad Ahmad, with 12 chapters and 69 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

69 Hadith · 12 Chapters
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ وَسُلَیْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاھِیْمَ الْتَّیمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کُنْتُ أَعْرِضُ عَلَیْہِ وَیَعْرِضُ عَلَیَّ وَقَالَ أَبُو عَوَانَۃَ: کُنْتُ أَقْرَأُ عَلَیْہِ وَیَقْرَأُ عَلَیَّ فِی السِّکَّۃِ فَیَمُرُّ بِالسَّجْدَۃِ فَیَسْجُدُ قَالَ: قُلْتُ: أَتَسْجُدُ فِی السِّکَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبَاذَرٍّ یَقُوْلُ سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِی الْأَرْضِ أَوَّلاً؟ قَالَ: ((الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَیٌّ؟ قَال: ((ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَ قْصٰی۔)) قَالَ: قُلْتُ: کَمْ بَیْنَہُمَا؟ قَالَ: ((أَرْبَعُوْنَ سَنَۃً۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَیْنَمَا أَدْرَ کَتْکَ الصَّلَاۃُ فَصَلِّ فَہُوَ مَسْجِدٌ، وَفِیْ رَوِایَۃٍ فَکُلُّہَا مَسْجِدٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۱۱)
ابو عوانہ کہتے ہیں: گلی میں (چلتے چلتے) میں ابراہیم تیمی پر اور وہ مجھ پر قرآن پڑھتے، جب ابراہیم سجدے والی آیت کی تلاوت کرتے تو سجدہ کرتے۔ میں نے کہا: آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ہاں! میں نے سیّدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا تھا ، انھوں نے کہا: میںنے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا:اے اللہ کے رسول! زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد حرام ۔ میں نے کہا: پھر کون سی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر مسجد اقصی ۔ میں نے کہا : دونوں کے درمیان کتنی مدت تھی ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چالیس سال۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاں بھی نماز تجھے پالے، وہاں نماز پڑھ لیا کر، وہی مسجد ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: زمین ساری کی ساری مسجد ہے۔
Takhreej
(۱۳۱۶) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابو عوانۃ الاسفرائنی: ۱۱۶۱، وأخرجہ البخاری: ۳۳۶۶، ۳۵۲۵، ومسلم: ۵۲۰ من قولہ: سالت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم … الی آخرہ (انظر: ۲۱۳۳۳، ۲۱۳۸۳)
Explanation
فوائد:… مسجد حرام اور مسجد اقصی کے پہلے بانی کون تھے؟ جواب ملاحظہ فرمائیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ} (سورۂ آل عمران: ۹۶) یعنی: اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے۔ عام نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام مسجد حرام کے اور سلیمان علیہ السلام مسجد اقصی کے بانی ہیں۔ علم تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو ہستیوں میں ایک ہزار سے زائد برسوں کا فاصلہ ہے، لیکن اس حدیث میں ان دو مسجدوں کی درمیانی مدت چالیس سال بتلائی گئی ہے۔ یہ ایک اہم اشکال ہے، جس کا جواب درج ذیل ہے: ابراہیم علیہ السلام مسجد حرام کے اور سلیمان علیہ السلام مسجد اقصی کے بانی ٔ اول نہیں ہیں، جبکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی حدیث میں ان مساجد کی پہلی بِنا کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق آدم علیہ السلام نے کعبہ کی پہلی بار تعمیر کی، پھر ان کی اولاد زمین میں پھیل گئی، ممکن ہے کہ ان میں سے کسی نے مسجد اقصیٰ تعمیر کی ہو، پھر بعد میں ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے ان کی تجدید کی ہو اور اس تجدید کی وجہ سے ان کی تعمیر کو ان کی طرف منسوب کر دیا گیا ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام نے ہییا فرشتوں نے یا سام بن نوح نے یایعقوب علیہ السلام نے مسجد اقصی تعمیر کی۔ ابن ہشام نے کتاب التیجان مین یہ واقعہ ذکر کیا ہے: جب آدم علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ بیت المقدس کی طرف جائیں اوراس کی تعمیر کر کے اس میں قربانی کریں۔ ابن ابی حاتم کی روایت کے مطابق سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: طوفان کے زمانے میں بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا تھا، پھر انبیا حج تو کرتے رہے لیکن ان کو اس کی جگہ کا علم نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو ابراہیم علیہ السلام کے لیے تیار کیا اور ان کو اس کے مقام کی خبر دی۔ امام بیہقی نے الدلائل میں سیّدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ مرفوع روایت بیان کی ہے: اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو آدم علیہ السلام کی طرف بھیجا اور ان کو بیت اللہ بنانے کا حکم دیا، پس آدم علیہ السلام نے اس گھر کی تعمیر کی، پھر ان کو طواف کا حکم دیا گیا اور یہ کہا گیا: تم پہلے انسان ہو اور یہ پہلا گھر ہے، جسے لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا۔ (ملخص از فتح الباری: ۶/ ۵۰۴ ، ۴۹۶) یہ روایات جیسی بھی ہیں، بہرحال معلوم یہی ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے قبل کعبہ کی تعمیر کی گئی تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلا گھر قرار دیا ہے، جبکہ یہ قطعی بات ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے آنے والے انبیا و رسل اور ان کی امتوں کے عبادت خانے ہوتے تھے، اس کا منطقی نتیجہیہ ہے کہ مسجد حرام کی تعمیر پہلے ہوئی ہو گی۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ مزید درج ذیل اثر اور اس سے کیے جانے والا استدلال قابل غور ہے: سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ابراہیم علیہ السلام ، سیدہ ہاجر اور ان کے بیٹے اسماعیل کو لے کر آئے اور ان کو بیت اللہ کے پاس ٹھہرایا اور ان کے پاس ایک تھیلا کھجوروں کا اور ایک مشکیز ہ پانی رکھا اور واپس چل دیئے۔ ام اسماعیل ان کے پیچھے چلیں اور بار بار ان سے کہا: ابراہیم! کہاں جا رہے ہو، کیا ہمیں اس وادی میں چھوڑ چلے ہو، جہاں کوئی انسان اور کوئی چیز نہیں ہے؟ لیکن ابراہیم علیہ السلام نے کوئی توجہ نہ کی۔ پھر ام اسماعیل نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ پھر انھوں نے کہا: تو پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا… جب ابراہیم علیہ السلام ایک ٹیلے کے پاس پہنچے اور ام اسماعیل اور اسماعیل سے اوجھل ہوئے تو بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا مانگی: {رَبَّنَا اِنِّیْ أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ} یعنی: اے ہمارے ربّ! میں اپنی اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس ایسی وادی میں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جہاں کوئی کھیتی نہیں ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۶۴) غور فرمائیں کہ اس واقعہ کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن اس آیت اور واقعہ میں واضح الفاظ میں بیت اللہ کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں پہلے سے اللہ تعالیٰ کا یہ گھر موجود تھا، بعد میں ابراہیم علیہ السلام اس کی تجدید کی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
1316
Sahih
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۱۷) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطِّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً یُذْ کَرُ فِیْہِ اسْمُ اللّٰہِ تَعَالٰی بَنیَ اللّٰہُ لَہُ بِہِ بِیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶)
سیّدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ اس کے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۷) تخر یـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۷۳۵، ۲۷۵۸، وابن حبان: ۱۶۰۸، ۴۶۲۸ (انظر: ۱۲۶)
Explanation
فوائد:… مسجد بنانے والے کا جنت میں گھر اس کی بنائی ہوئی مسجد کی مثل ہو گا۔ اس حدیث میں مثل سے کیا مراد ہے؟ مختلف جوابات دیئے گئے ہیں: ۱۔ شرف، فضل اور توقیر میں مماثلت مراد ہے، یعنی مسجد شرف والا گھر ہے، اسی طرح اس کا بدلہ بھی شرف والا ہو گا۔ ۲۔ گھر کے مسمّی میں مماثلت مراد ہے، یعنی جیسے اس نے اللہ کا گھر بنایا، اسی طرح اللہ بھی اسے ایک گھر عطا کرے گا، رہا مسئلہ نوعیت و کیفیت و کمیّت کا تو جنت اور دنیا کی چیزوں میں کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی، ماسوائے ناموں کے۔ ۳۔مماثلت سے مراد مسجد کی دنیوی گھروں پر فضیلت مراد ہے، یعنی جیسے دنیا میں مسجد تمام دوسرے گھروں سے افضل ہوتی ہے، اسی طرح ایسے شخص کا گھر جنت میں اعلی و افضل ہو گا۔ حافظ ابن حجر نے کہا: لفظ مثل کے دو استعمالات ہیں: (۱) مطلق افراد کے لیے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَقَالُوْا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا} اور(۲) مطابقت کے لیے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أُمَمٌ أَمْثَالُکُمْ} اگر پہلے معنی کو سامنے رکھا جائے تو زیادہ عمارتیں بھی ہو سکتی ہیں، اس سے مِثْلَہ پر وارد ہونے والے دس گناہ نیکی والے اشکال کا جواب بھی مل جاتا ہے … بہترین جواب یہ ہے کہ مثلیّت سے مراد کمیّت ہی ہے، لیکن ظاہر بات ہے کہ کیفیت میں جنت والا گھر بہت بہتر ہو گا، کیونکہ کتنے ہی ایسے گھر موجود ہیں، جو بیسیوں بلکہ سینکڑوں گھروں سے بہتر ہوتے ہیںیا پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مماثلت سے مراد جنسِ عمارت ہے، یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بدلے میں گھر ہی عطا کرے گا۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۱۸)
1317
Sahih
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۱۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً بَنیَ اللّٰہُ لَہُ مِثْلَہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۳۴)
سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ اس کے لیے اس کی مثل جنت میں (گھر) بنائے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۸) تخر یـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ البخاری: ۴۵۰، ومسلم: ۵۳۳، والترمذی: ۳۱۸، وابن ماجہ: ۷۳۶(انظر: ۴۳۴)
1318
Sahih
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۱۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَنَی لِلّٰہِ مَسْجَداً بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ أَوْسَعُ مِنْہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۶)
عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، جنت میں اس کے لیے اس سے وسیع گھر بنایا جائے گا۔
Takhreej
(۱۳۱۹) تخر یـج: …صحیح دون لفظ اوسع ، وھذا اسناد ضعیف۔ الحجاج بن أرطاۃ کثیر الخطأ والتدلیس (انظر: ۷۰۵۶) لکن ورد لفظۃ اوسع فی الحدیث الآتی ایضا، وفی سندہ محمود بن عمرو وفیہ جہالۃ، فھو یشھد لہ ان شاء اللہ تعالی۔
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں اوسع کا لفظ ثابت نہیں ہو رہا، اس لیے اس لفظ کے علاوہ حدیث کو صحیح سمجھا جائے۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ مثلیت یا مماثلت سے مراد یہ نہیں کہ ہر اعتبار سے مسجد اور جنت والے گھر میں برابری ہو گی، تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
1319
Sahih
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۲۰) وَعَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۳۶)
سیدہ اسما بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۰) تخر یـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار : ۱۵۵۴، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۴۶۸، وفی الاوسط : ۸۴۵۴ (انظر: ۲۷۶۱۲)
1320
Sahih
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۲۱) وَعَنْ بِشْرِ بْنِ حَیَّانَ قَالَ: جَائَ وَاثِلَۃُ بْنُ الْأَ سْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَنَحْنُ نَبْنِیْ مَسْجِدَنَا، قَالَ فَوَقَفَ عَلَیْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِداً یُصَلّٰی فِیْہِ بَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ أَفْضَلَ مِنْہُ۔)) قَالَ أَ بُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ ھَیْثَمِ بْنِ خَارِجَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۰۱)
بشر بن حیان نے کہتے ہیں: ہم اپنی مسجد بنا رہے تھے، سیّدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے، سلام کیا اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں نماز پڑھی جاتی ہو، اللہ تعالیٰ جنت میں اُس کے لیے اِس سے بہتر گھربناتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۱) تخر یـج: …حدیث صحیح بالشواھد، وھذا اسناد ضعیف ۔أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۲/ ۷۱، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۲۱۳، وابن عدی فی الکامل : ۲/ ۷۳۶ (انظر: ۱۶۰۰۵)
1321
Sahih
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۲۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَن بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِدًا وَلَوْ کَمَفْحَصِ قَطاَۃٍ لِبَیْضِہَا بَنیَ اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۷)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ، خواہ وہ فاختہ پرندے کے انڈا دینے کے لیے بیٹھنے والے گھونسلے جتنی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔
Takhreej
(۱۳۲۲) تخر یـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۴۰۲، والطیالسی: ۲۶۱۷، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۱۰ (انظر : ۲۱۵۷)
Explanation
فوائد:… سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰہِ کَمَفْحَصِ قَطَاۃٍ اَوْ اَصْغَرَ بَنَی اللّٰہُ لَہٗبَیْتًا فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: جو شخص فاختہ کے انڈے دینے کی جگہ کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ (ابن ماجہ: ۷۳۸) یقینا اتنی جگہ نماز کے لیے ناکافی ہے، اس لیے ان الفاظ کو مبالغہ پر محمول کیا جائے گا، سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ضرب المثل ہو اور اس سے مراد چھوٹی سی مسجد ہو، اس سے بڑی مسجد کے اجر و ثواب کا اندازہ سامعین خود کر لیں گے۔ ایک معنییہ بیان کیا گیا ہے کہ مختلف لوگ ایک مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں اور بعض افراد کا چندہ واقعی اس پرندے کے گھونسلے کی جگہ کی قیمت کے برابر ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اتنی مقدار کی بھی قدر کرتا ہے۔
1322
Sahih
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
۔ (۱۳۲۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَنٰی لِلّٰہِ مَسْجِدًا لِیُذْ کَرَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ، وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَۃً کَانَتْ فِدْیَتَہُ مِنْ جَہَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقَیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۴۹)
سیّدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے اس لیے مسجد بنائی کہ اللہ تعالیٰ کا اس میں ذکر کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو وہ اس کے لیے جہنم کا فدیہ ہوجائے گی اور جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوا تو وہ بڑھاپا اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔
Takhreej
(۱۳۲۳) تخر یـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لابھام الراوی عن الصنابحی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۹۶۶ مختصرا والنسائی: ۶/ ۲۷ دون ذکر بناء المسجد (انظر: ۱۷۰۲۰، ۱۷۰۲۴)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کی وضاحت: بوڑھا ہونے سے مراد بالوں کا سفید ہو جانا ہے، فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ((مَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی اْلإِسْلَامِ) کَانَتْ لَہُ نُوْراً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ ذٰلِکَ: فَإِنَّ رِجَالاً یَنْتِفُوْنَ الشَّیْبَ۔ فَقَالَ: ((مَنْ شَائَ فَلْیَنْتَفِ نُوْرَہُ۔)) یعنی: جو اللہ کی راہ میںیا اسلام میں بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز اُس کے لیے روزِ قیامت نور ہوگا۔ اس موقع پر ایک آدمی نے کہا: کئی لوگ تو اپنے سفید بالوں کو اکھاڑ دیتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے اپنا نور اکھاڑتا رہے۔ (مسند احمد: ۶/ ۲۰، صحیحہ: ۳۳۷۱) شیو کرنا ویسے بھی ملعون فعل اور سنگین جرم ہے، بہرحال جب بال سفید ہو جائیں اور عمر بڑی ہو جائے تو اس جرم کی نوعیت میں مزید شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ بالوں کے سفید ہونے میں مسلمان کا اپنا کوئی دخل یا ارادہ نہیں ہوتا، لیکن جو آدمی ان کو اپنا حسن سمجھتا ہے اور ان پر صبر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے روزِ قیامت نور ہوں گے۔ (سبحان اللہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے اس شرف کو قبول نہیں کرتا اور ان کو اکھاڑنا شروع کر دیتا ہے یا ان پر کالا رنگ ملنا شروع کر دیتا ہے، تو وہ اس فضل اور نور کا انکار کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی مطالبے کے عطا کرنا چاہتے ہیں۔ یادرہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفید بالوں کو مہندی وغیرہ سے رنگنے اور کالے رنگ سے اجتناب کرنے کی تعلیم دی ہے، لہٰذا مہندی وغیرہ لگانے سے اس فضیلت میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
1323
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان میرے لیے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے کا بیان
۔ (۱۳۲۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُوْرًا وَمَسْجِداً، فَأَیُّمَا رَجُلِ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ فَلْیُصَلِّ حَیْثُ أَدْرَکَتْہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۴۳۱۴)
سیّدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اورمسجد بنا دیا گیا ہے، لہٰذا جس آدمی کو جہاں بھی نماز پالے،وہ وہیںنماز ادا کرلے۔
Takhreej
(۱۳۲۴) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۳۳۵، ۴۳۸، ۳۱۲۲، ومسلم: ۵۲۱ (انظر: ۱۴۲۶۴)
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ممکنہ صورت میں فرضی نماز مساجد میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، بصورت دیگر چند مخصوص مقامات کے علاوہ ساری زمین کو جائے نماز قرار دیا ہے، جبکہ سابقہ امتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے عبادت خانوں میں ہی پہنچ کر نماز ادا کریں۔ حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے ((اعطیت خمسا لم یعطھن احد قبلی: … وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا…)) پر بحث کرتے ہوئے کہا: زیادہ راجح قول خطابی کا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قبل لوگوں کے لیے صرف مخصوص عبادت خانوں میں نماز ادا کرنا جائز تھا، جیسے کلیسا اور گرجا گھر وغیرہ، اس کی تائید عمرو بن شعیب والی روایت سے ہوتی ہے، جس مین یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ فِیْ کَنَائِسِھِمْ)) اور مجھ سے پہلے والے لوگ اپنے اپنے گرجا گھروں میں نماز پڑھتے تھے اور بزار کی روایت کردہ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((وَلَمْ یَکُنْ مِنَ الْاَنْبِیَائِ اَحَدٌ یُصَلِّیْ حَتّٰییَبْلُغَ مِحْرَابَہٗ۔)) اور (مجھسےقبل) کوئی نبی ایسا نہیں تھا جو اپنے محراب میں پہنچنے سے پہلے نماز پڑھتا ہو۔ (فتح الباری: ۱/ ۵۷۶) اسی طرح تیمم کی رخصت بھی صرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کو دی گئی ہے، اس کی تفصیل کے لیے تیمم والے ابواب دیکھیں۔
1324
Sahih
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۳۲۵) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِیْبَۃِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَی الدَّارِالشَّا سِعَۃِ کَفَضْلِ الْغَازِیْ عَلَی الَقَاعِدِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۷۶)
سیّدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد کے قریبی کی دور والے گھر پر ایسے ہی فضیلت ہے جیسے غزوہ کرنے والے کی بیٹھ رہنے والے پر فضیلت ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۵) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف جدا، ابو عبد الملک علی بن یزید الالھانی واھی الحدیث، ثم ھو لم یسمع من حذیفۃ۔ (انظر: ۲۳۲۸۷)
Explanation
فوائد:… کئی احادیث میں مسجد کی طرف چلنے اور مسجد سے دور گھر والے نمازی کی مختلف انداز میں فضیلت بیان کی گئی ہے، بہرحال قریبی گھر والے لوگ مساجد سے زیادہ فیضیاب ہوتے ہیں، وہ بیماری، بارش اور کسی معقول عذر کے باوجود مسجد میں پہنچ سکتے ہیں اور ان کا زیادہ وقت اللہ کے گھروں میں گزر سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
1325
Zaeef
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۳۲۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا، اَلْمَلَئِکَۃُ جُلَسَائُ ھُمْ إِنْ غَابُوْا یَفْتَـقِدُوْنَہُمْ، وَإِنْ مَرِضُوْا عَادُوْھُمْ ، وَإِ نْ کَانُوْا فِیْ حَاجَۃٍ اَعَانُوْھُمْ۔)) وَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَلِیْسُ الْمَسْجِدِ عَلَی ثَـلَاثِ خِصَالٍ، أَخٌ مُسْتَفَادٌ أَوْ کَلِمَۃٌ مُحْکَمَۃٌ أَوْ رَحْمَۃٌ مُنْتَظَرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۴۱۴)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ میخوں کی طرح مسجدوں میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کے ہم مجلس فرشتے ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو وہ ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اگر وہ کسی کام میں مصروف ہوں تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا تین خصلتوں پر ہوتا ہے: ایسا بھائی جس سے فائدہ حاصل ہو، یا کوئی محکم بات یا ایسی رحمت جس کا انتظار ہو۔
Takhreej
(۱۳۲۶) تخریـج:… اسنادھما ضعیف، ابن لھیعۃ سیء الحفظ، امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کو (صحیحہ: ۳۴۰۱) میں ذکر کیا اور کہا: جن لوگوں نے اس حدیث کو عبد اللہ بن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا، ان کے ذہن میںیہ نکتہ نہ آسکا کہ اس مقام پر اس سے روایت کرنے والے قتیبہ بن سعید مصری ہیں اور ان کی روایت عبادلہ کی طرح صحیح ہوتی ہے، اور اس حدیث کا ایک شاہد بھی سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے موقوفا مروی ہے، جو کہ مرفوع کے حکم میں ہے اور اس میں ((جَلِیْسُ الْمَسْجِدِ …)) کے الفاظ نہیں ہیں۔
Explanation
فوائد:… آخری جملے کی وجہ یہ ہے کہ مسجد اسلامی بھائیوں کی گزرگاہ ہوتی ہے اور شرعی علوم کے ذکر اور رحمت کے نزول کا محل ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص مسجد میں بیٹھنے کا التزام کرتا ہے، تو وہاں سے گزرنے والے اس سے مستفید ہوتے ہیں، پھر تعلیم و تعلّم اور افتاء و استفتاء کے بہانے حکمت بھری باتیں ہوتی ہیں۔ نوری مخلوق بھی خاکی مخلوق کی خادم بن سکتی ہے، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی جائے۔ اس سے بڑھ کر کیا کہا جائے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، مومنوں کی سجدہ گاہ ہے، وہ کتنی مبارک و مقدس جگہ ہو گی، جہاں برس ہا برس سے اللہ تعالیٰ کی تہلیلات، تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جہاں سالہا سال سے اس کے کلام پاک کی کثرت سے تلاوتیں کی جا رہی ہیں، شیطانوں سے بچنے کے لیے مضبوط قلعہ مسجد ہے۔ جو مسجد سے محبت کرے گا، جو مسجد کو آباد کرنے میں حصہ ڈالے گا، جس کو وہاں سکون نصیب ہو گا، وہ کتنا سعادت مند اور خوش نصیب ہو گا۔ لیکن صد افسوس! امت ِ مسلمہ کی کثرت اس منصب سے کوسوں دور ہے اورنمازیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دو چار چار روپے جمع کر کے روایتی ڈیوٹی سر انجام دینے والے بطورِ ملازم ایک امام اور ایک خادم کا اہتمام کر لیا جائے، مسجد کے تقاضے پورے ہو جائیں۔ ایسا کرنے کے بعد کسی نمازی مین یہ رغبت نہیں رہتی کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر دے، پہلے پہنچ کر اذان دے دے، نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دے، وضو کے لیے پانی بھر دے … اس کے خام دماغ نے فیصلہ کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ ماہوار پچاس روپے مسجد فنڈ دینے سے وہ بریء الذمہ ہو گیا ہے۔ قارئین کرام! اپنی روز مرہ مصروفیات کا جائزہ لیں اور منصبِ انسانیت اور منصبِ مومنیت کی روشنی میں اپنی حرکات و سکنات کو پرکھیں۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((سَبْعَۃٌیُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ…وَرَجُلٌقَلْبُہٗمُعَلَّقٌبِالْمَسْجِدِاِذَاخَرَجَمِنْہُحَتّٰییَعُوْدَ اِلَیْہِ …۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یعنی: اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (ان میں سے ایک قسم یہ ہے:) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو اس کا دل مسجد کے ساتھ ہی معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد میں آ جائے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے میں تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی ہم سے شکوہ کناں ہوں۔
1326
Zaeef
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۳۲۷) وَعَنْہُ أَیْضاً عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہٗقَالَ: ((لَا یُوْطِنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاۃِ وَالذِّکْرِ إِلاَّ تَبَشْبَشَ اللّٰہُ بِہِ یَعْنِیْ حِیْنَیَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ کَمَا یَتَبَشْبَشُ أَھْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِہِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند احمد: ۹۸۴۰)
سیّدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان آدمی نماز اور ذکر کے لیے مساجد کو اپنا ٹھکانہ نہیں بناتا مگر جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایسے خوش ہوتے ہیں کہ غائب آدمی کے گھر والے اس کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۷) تخر یـج: …رجالہ ثقات رجال الشیخین ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۸۰۰، والطیالسی: ۲۳۳۴، وابن خزیمۃ: ۱۵۰۳، وابن حبان: ۱۶۰۷، والحاکم: ۱/ ۲۱۳ (انظر: ۸۳۵۰، ۹۸۴۱)
Explanation
فوائد:… یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ بندہ اپنے فائدے کے لیے مسجد کا رخ کرتا ہے، لیکن اس کی آمد پر اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے۔
1327
Sahih
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۳۲۸) وَعَنْہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ وَ رَاحَ أَعَدَّ اللّٰہُ لَہُ الْجَنَّۃَ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا وَرَاحَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۱۶)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان فرمایا : جو شخص مسجد کی طرف آتا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے میزبانی (کا سامان) تیار کرتے ہیں، جب بھی وہ آتا جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۳۲۸) تخر یـج: …أخرجہ البخاری: ۶۶۲، ومسلم: ۶۶۹ (انظر: ۱۰۶۰۸)
Explanation
فوائد:… اصل میں صبح کے وقت جانے کے غَدَا اور زوال کے بعد جانے کو رَاحَ کہتے ہیں، لیکن بعد میں ان کے معانی میں وسعت پیدا کر دی گئی اور ان کا اطلاق ہر جانے اور آنے پر ہونے لگا۔ اور اس حدیث کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد مسجد کی طرف جانا اور پھر واپس آنا ہے۔ لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ گھر میں آنے والے کی ضیافت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا گھر مسجد ہے، جو اس میں رات اور دن کی کسی گھڑی میں داخل ہو گا، اللہ تعالیٰ جنت کی صورت میں اس کی میزبانی کرے گا، وہ اکرم الاکرمین ہے اور نیکوکاروں کا اجر ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ جو آدمی ہر نماز پر حاضر ہوتا ہے، اس کی میزبانی کتنی اعلی ہو گی۔
1328
Sahih
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۳۲۹) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ اَلْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْہَدُوْا عَلَیْہِ بِالإِْیْمَانِ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {إِنَّمَا َیعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ}۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۷۴
سیّدناابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو مسجد میں آنے جا نے کا عادی ہے تو اس پر ایمان کے شاہدبن جا ئو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اللہ کی مسا جد کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آ خرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۲۹) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف لضعف دراج بن سمعان فی روایتہ عن ابی الھیثم۔ أخرجہ الترمذی: ۲۶۱۷، ۳۰۹۳، وابن ماجہ: ۸۰۲، وابن خزیمۃ: ۱۵۰۲، وابن حبان: ۱۷۲۱
Explanation
فوائد:… پوری آیتیوں ہے: {اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَاَقَامَ الصَّلَاۃَ وَآتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ} (سورۂ توبہ: ۱۸) یعنی: اللہ کی مسجدوں کی رونق کو آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوۃ دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقینا ہدایتیافتہ ہیں۔ مساجد کی انتظامیہ، ائمہ، خطباء اور خُدام کو اپنے منصب پر غور کرنا چاہیے اور مسجد کی آبادی کو اپنی سعادت سمجھ کر عجز و انکساری کے ساتھ اس تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے۔
1329
Zaeef
مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۳۳۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عاَمِرٍ الْأَلْھَانِیِّ قاَلَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ حاَبِسُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ السَّحَرِ وَقَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَأَی النَّاسَ یُصَلُّوْنَ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مُرَاؤُوْنَ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ! اَرْعِبُوْھُمْ فَمَنْ أَرْعَبَہُمْ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ۔ فَأَتَا ھُمُ النَّاسُ فَأَخْرَجُوْھُمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِکَۃَیُصَلُّوْنَ مِنَ السَّحَرِ فِی مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۲۷)
عبداللہ بن عامر ألھانی کہتے ہیں: سیّدنا حابس بن سعید طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جنھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا، سحری کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصہ میں نماز پڑھ رہے ہیں،یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! یہ لوگ ریاکار ہیں، انہیں ڈراؤ، جس نے انہیں ڈرایا، اس نے اللہ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کی۔ یہ سن کر لوگ ان کے پاس گئے اور انہیں باہر نکال دیا، پھر سیّدنا حابس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سحری کے وقت مسجد کے اگلے حصہ میں فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔
Takhreej
(۱۳۳۰) تخر یـج:… اثر صحیح الی حابس بن سعد۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۵۶۴ (انظر: ۱۶۹۷۲، ۱۷۰۰۲)
Explanation
فوائد:… شرعی نصوص سے اس قسم کی پابندی ثابت نہیں ہوتی کہ سحری کے وقت اگلی صفوں میں نماز نہ پڑھی جائے، ممکن ہے کہ سیّدنا حابس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کچھ قرائن کی بنا پر یہ ظنِّ غالب ہو گیا ہو کہ واقعییہ لوگ ریاکاری کر رہے ہیں، اس لیے ان کو وہاں سے بھگا دینا مناسب سمجھا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب
1330
Sahih
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۱) عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیْدٍ بْنِ سُوَیْدٍ أَلْأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَاحُمَیْدٍ وَأَبَا أُسَیْدٍیَقُوْلَانِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَ إِذَا خَرَجَ فَلْیَقُلْ اللّٰہُمَّ إِنَّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (مسند احمد: ۱۶۱۵۴)
عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا ابو حمید اور سیّدناابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما دونوں سے سنا ، وہ یہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، اے اللہ! تو اپنی رحمت اور جب مسجد سے نکلے تو یہ پڑھے: أَللّٰھُمّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۱۳۳۱) تخر یـج: …أخرجہ مسلم: ۷۱۳،والنسائی: ۲/ ۵۳، وأخرجہ ابوداود: ۴۶۵ و زاد: ((فلیسلم او لیصل علی النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )) (انظر: ۱۶۰۵۷)
Explanation
فوائد:… چونکہ مسجد آخرت کی تجارت کا محل ہے، اس لیے اس میں داخل ہوتے وقت خصوصیت کے ساتھ رحمت کا سوال کیا جاتا ہے اور عام طور پر مومن رزق کی تلاش کے لیے مسجد سے نکلتا ہے، اس لیے اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل کا سوال کیا جاتا ہے۔
1331
Sahih
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۲) عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَضِیَ اللَّہٗعَنْھَاوَأَرْضَاھَاقَالَتْ: کَانَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ))) وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔)) وَإِذَا خَرَجَ صَلَّی عَلَی مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ)) ثُمَّ قَالَ: ((اللَّہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أَبْوَابَ فَضْلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۹۵۱)
سیدۃ فاطمہ بنت رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وارضاھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے: یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ (اللہ کے نام کے ساتھ، اور رسول اللہ پر سلامتی ہو) اور پھر یہ پڑھتے: اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلتے تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے)۔
Takhreej
(۱۳۳۲) تخر یـج: …صحیح لغیرہ، دون قولہ: ((اللھم اغفر لی ذنوبی)) فحسن۔ أخرجہ الترمذی: ۳۱۴، وابن ماجہ: ۷۷۱ (انظر: ۲۶۴۱۶، ۲۶۴۱۹)
Explanation
فوائد:… مسجد میں داخل ہوتے وقت یا خارج ہوتے وقت کی دعاؤں پر دلالت کرنے والی مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ مزید روایات درج ذیل ہیں ، آخر میں خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (میں عظمت والے اللہ، اس کے کرم والے چہرے اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمییہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ شخص سارا دن یا دن کے باقی حصے میں مجھ سے محفوظ ہو گیا۔ (ابوداود: ۴۶۶) سیّدنا ابو حمیدیا ابو اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب نکلے تو کہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں) (صحیح مسلم: ۷۱۳) لیکن ابوداود (۴۶۵) کی روایت میں شروع مین یہ اضافہ ہے: جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر اَللّٰھُمَّ افْتَحْ… کہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر یہ دعا پڑے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ اور جب نکلے تو پھر نبی پر سلامتی بھیجے اور یہ پڑے: اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (ابن ماجہ: ۷۷۳) خلاصۂ کلام: …ان احادیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت کی مندرجہ ذیل مختلف دعائیں ثابت ہوئیں: ٭ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ ٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ ٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ مسجدسے نکلتے وقت کی مختلف دعائیں: ٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ۔ ٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ ٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
1332
Sahih
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۳) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَوْھِبٍ عَنْ مَوْلًی لِأَبِیْ سَعْیِدٍ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَیْنَمَا أَنَامَعَ أَبِی سَعَیْدٍٍ نِ الْخُدْرِیِّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْ َدخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِیْ وَسْطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِیًا مُشَبِّکاً أَصَابِعَہُ بَعْضَہَا فِی بِعْضٍ، فَأَشَارَ إِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمْ یَفْطِنِ الرَّجُلُ لإِ شَارَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَالْتَفَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَبِیْ سَعَیِدٍ فَقَالَ: ((إِذَا کَانَ أَحَدُ کُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَـلَا یُشَبِّکُنَّ فَإِنَّ الْتَشَّبِیْکَ مِنَ الشَّیْطَانِ، وَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَا یَزَالُ فِیْ صَلَاۃٍ مَادَامَ فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰییَخْرُجَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۰۵)
عبید اللہ بن عبدالرحمن بن موہب، سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صحبت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، ہم مسجد میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد کے درمیان میں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کرگوٹھ مارے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اشارہ فرمایا، مگر وہ آدمی نہ سمجھ پایا، پھرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا ابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف مڑ کر فرمایا: جب تم میںسے کوئی مسجد میں ہو تو وہ انگلیوں میں تشبیک نہ ڈالے، کیونکہ تشبیک شیطان کی طرف سے ہے اور یقینا جب تک کوئی آدمی مسجد میں رہتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل جائے۔
Takhreej
(۱۳۳۳) تخر یـج: …اسنادہ ضعیف علی خطأ فیہ، عبید اللہ بن عبد اللہ بن موھب، قال احمد والشافعی: لایعرف، وقال ابن القطان الفاسی: مجھول الحال، وعبید اللہ بن عبد الرحمن بن موھب لیس بالقوی، ومولی ابی سعید لم نعرفہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۷۵ (انظر: ۱۱۳۸۵، ۱۱۵۱۲)
1333
Zaeef
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۴) عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّکْتُ بَیْنَ أَصَا بِعِیِْ، فَقَالَ لِیْ: ((یَاکَعْبُ! إِذَا کُنْتَ فِی الْمَسْجِدِ فَـلَا تُشَبِّکْ بَیْنَ أَصَابِعِکَ، فَأَنْتَ فِیْ صَلَاۃٍ ماَ انْتَظَرْتَ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۱۰)
سیّدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں میرے پاس اس حالت میں آئے کہ میں نے انگلیوں کے درمیان تشبیک ڈالی ہوئی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے کعب! جب تم مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشیبک نہ ڈالا کرو ،کیونکہ جب تک تم نماز کے انتظار میں رہتے ہو تب تک نماز میں ہی ہوتے ہو۔
Takhreej
(۱۳۳۴) تخریـج:… حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۹۶۷، وابن خزیمۃ: ۴۴۴، وأخرجہ ابوداود بلفظ: ((اذا توضأ أحدکم فأحسن وضوء ہ ثم خرج عامدا … )): ۵۶۲ (انظر: ۱۸۱۰۳، ۱۸۱۱۵، ۱۸۱۳۰)
Explanation
فوائد:… تشبیک: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں مضبوطی کے ساتھ داخل کرنا۔ لیکن ذہن نشین رکھیں کہ تشبیک مطلق طور پر منع نہیں ہے، بلکہ صرف اس وقت منع ہے، جب آدمی نماز کے قصد سے مسجد کی طرف جا رہا ہو، یا نماز کا انتظار کر رہا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو، کیونکہ ایک حدیث میں تشبیک سے منع کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جب آدمی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا ہوتو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ان صورتوں کے علاوہ کئی مقامات پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تشبیک کرنا ثابت ہے، جیسا کہ سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما والی حدیث میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جب کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تشبیک کی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، کہ اس کا بعض اس کے بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بات سمجھانے کے لیے تشبیک کی۔ (صحیح بخاری)
1334
Sahih
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
۔ (۱۳۳۵) عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَ شْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَرْتُمْ بِالسِّہَاِم فِی أَسْوَاقِ الْمُسْلِمِیْنَ أَوْمَسَاجِدِھِمْ فَأَمْسِکُوْا بِالْأَنْصَالِ لَاتَجْرَحُوْا بِہَا أَحَداً۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۲۹)
سیّدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم مسلمانوں کے بازاروں یا ان کی مسجدوں سے تیروں سمیت گزرو تو ان کے پھلوں (تیز دھار حصے) سے پکڑا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے کسی کو زخمی کر بیٹھو۔
Takhreej
(۱۳۳۵) تخر یـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم۔ أخرجہ عبد الرزاق: ۱۷۳۵،أخرج نحوہ الطیالسی: ۵۲۰، وأخرجہ البخاری: ۴۵۲، ۷۰۷۵، ومسلم: ۲۶۱۵، وابوداود: ۲۵۸۷، وابن ماجہ: ۳۷۷۸ بلفظ: ((اذا مر احدکم بالنبل فی مساجدنا او اسواقنا، فلیمسک بیدہ علیمشاقصھا لایعقِر احدا۔)) (انظر: ۱۹۴۸۸، ۱۹۵۰۰، ۱۹۵۴۵ )
1335
Sahih

Chapters

12