TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان - سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 13 · 19 Hadith
۔ (۱۷۱۶) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُ کُمْ فَلاَ یَبْرُکْ کَمَا یَبْرُکُ الْجَمَلُ، وَلْیَضَعْیَدَیْہِ ثُمَّ رَکْبَتَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۲)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے اور پھر گھٹنوں کو۔
Takhreej
(۱۷۱۶) تخریج: اسنادہ قوی۔ أخرجہ ابوداود: ۸۴۰، والنسائی: ۲/ ۲۰۷، والترمذی: ۲۶۹ والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۸۲، وفی شرح معانی الآثار : ۱/ ۲۵۴، والبیھقی: ۲/۹۹ (انظر: ۸۹۵۵)
Explanation
فوائد:… شرح میں سنن کی وائل بن حجرکی سند کو حسن لغیرہ کہا، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فعل پہلے گھٹنے رکھنا ہے۔ ترمذی نے کہا یہ روایت شریک کے واسطہ سے مروی ہے۔ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: شریک حافظہ کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے۔ دارقطنی نے کہا: شریک اس کے ساتھ منفرد ہے اور شریک کی متفرد روایت قوی نہیں ہوتی۔
1716
Sahih
۔ (۱۷۱۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَفَعَہُ قَالَ: إِنَّ الْیَدَیْنِیَسْجُدَانَ کَمَا یَسْجُدُ الْوَجْہُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُ کُمْ وَجْہَہُ فَلْیَضَعْیَدَیْہِ وَإِذَا رَفَعَہُ فَلْیَرْ فَعْھُمَا۔ (مسند احمد: ۴۵۰۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ہاتھ بھی چہرے کی طرح سجدہ کرتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کے لیے اپنا چہرہ رکھے تو اپنے ہاتھ بھی رکھ دے اور جب اسے اٹھائے تو ان کو بھی اٹھا لے۔
Takhreej
(۱۷۱۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابوداود: ۸۹۲، والنسائی: ۲/ ۲۰۷ (انظر: ۴۵۰۱)
1717
Sahih
۔ (۱۷۱۸) عَنِ ابْنِ بُحَیْنَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ یُجَنِّحُ فِیْ سُجُوْدِہِ حَتّٰییُرٰی وَضَحُ إِبْطَیْہِ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰی فَرَّجَ حَتّٰییَبْدُوَ بَیَاضُ إِبْطَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۱۱)
سیدناابن بحینہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے تو بازو پہلو سے اتنا دور رکھتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔
Takhreej
(۱۷۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۶۴، ومسلم: ۴۹۵ (انظر: ۲۲۹۲۳، ۲۲۹۲۵)
1718
Sahih
۔ (۱۷۱۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا صَلّٰی فَرَّجَ حَتّٰییَبْدُوَ بَیَاضُ إِبْطَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۳۱۳)
۔ (دوسری سند) سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز پڑھتے تو بازو پہلو سے الگ کرتے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔
Takhreej
(۱۷۱۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
1719
Sahih
۔ (۱۷۲۰) عَنْ أَبِیْ حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ ھَوٰی سَاجِدًا وَقَالَ ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ)) ثُمَّ جَافَی وَفَتَحَ عَضُدَیْہِ عَنْ بَطْنِہِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَیْہِ ثُمَّ ثَنٰی رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَقَعَدَ عَلَیْہَا وَاعْتَدَلَ حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ فِیْ مَوْضِعِہِ۔ الحدیث۔ (مسند احمد: ۲۳۹۹۷)
سیدناابو حمیدساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسو ل اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز(کا طریقہ) بیان کرتے ہیں فرمایا:پھر آپ سجد ہ کرتے ہوئے نیچے جھکے اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہاپھر کشادگی ا ختیارکی اور اپنے بازو اپنے پیٹ سے کھول کر رکھے اور اپنے پاؤں کی انگلیاں موڑ کر (قبلے کی طرف) رکھیں، (پھر اٹھے اور)اپنا (بایاں) پاؤں موڑ کر رکھا اور اس پر بیٹھ گئے اور برا بر ہوگئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ آئی،… ۔
Takhreej
(۱۷۲۰) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۸۲۸، وابوداود: ۷۳۰، ۹۶۳، وابن ماجہ: ۸۶۲، والترمذی: ۳۰۴، والنسائی: ۲/ ۱۸۷ (انظر: ۲۳۵۹۹)
1720
Sahih
۔ (۱۷۲۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِعْتَدِلُوْا فِیْ سُجُوْدِکُمْ وَلاَیَفْتَرِشْ أَحَدُکُمْ ذِرَاعَیْہِ اِفْتِرَاشَ الْکَلْبِ، أَتِمُّوْا الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَوَاللّٰہِ إِنِّیْ لَأَرَاکُمْ مِنْ بَعْدِیْ أَوْمِنْ بَعْدِ ظَہْرِیْ إِذَارَکَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۰۱۸)
سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال اختیار کرو،کوئی آدمی اپنے بازو کتے کی طرح مت بچھائے، رکوع وسجود کو پورا کرو، اللہ کی قسم! جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تومیں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
Takhreej
(۱۷۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۲۲، ومسلم: ۴۹۳ (انظر: ۱۲۱۴۹، ۱۲۸۱۲)
1721
Sahih
۔ (۱۷۲۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُ کُمْ فَلْیَعْتَدِلْ وَلاَ یَفْتَرِشْ ذِرَاعَیْہِ اِفْتِرَاشَ الْکَلْبِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۳۷)
سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اعتدال کرے اور کتے کی طرح اپنے بازو مت بچھائے۔
Takhreej
(۱۷۲۲) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۸۹۱، والترمذی: ۲۷۵ (انظر: ۱۴۳۸۴)
Explanation
فوائد:… اس مقام پر اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ سجدے میں اپنے بازوؤں کو نہ زمین پر بچھائے اور نہ اپنے جسم کے ساتھ بند کر لے، بلکہ درمیان میں رکھے اور ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے اور کہنیوں کو زمین اور پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کیونکہ اس صورت میں زیادہ عاجزی ہے اور بندہ سستی سے دور رہتا ہے اور پیشانی اچھی طرح زمین پر ٹک جاتی ہے۔
1722
Sahih
۔ (۱۷۲۳) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ مَوْلاَکَ إِذَا سَحَدَ وَضَعَ جَبْہَتَہُ وَذِرَاعَیْہِ وَصَدْرَہُ بِا لأَرْضِ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَایَحْمِلُکَ عَلٰی مَاتَصْنَعُ؟ قَالَ: التَّوَاضُعُ، قَالَ: ھٰکَذَا رِبْضَۃُ الْکَلْبِ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ رُؤِیَ بَیَاضُ إِبْطَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۹۳۳)
شعبہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: آپ کا غلام جب سجدہ کرتا ہے تو اپنی پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر لگا دیتا ہے۔ انھوںنے اس سے پوچھا: کون سی چیز تجھے اس طرح کرنے پر ابھارتی ہے؟ اس نے کہا: تواضع (کی خاطر ایسا کرتا ہوں)۔سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تو کتے کی ہیئت ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی۔
Takhreej
(۱۷۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف، والمرفوع منہ صحیح لغیرہ، شعبۃ بن دینار مولی ابن عباس سیء الحفظ۔ أخرج المرفوع منہ الطیالسی: ۲۷۲۷، والطبرانی: ۱۲۲۱۹ (انظر: ۲۰۷۳، ۲۹۳۳)
Explanation
فوائد:… سجدہ کی حالت میں سینے کو زمین پر نہیں رکھا جا سکتا ہے، اس حدیث کے شروع والے حصے میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی پیشانی اور بازوؤں کو زمین پر رکھتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اگلا حصہ زمین پر پڑا ہے۔
1723
Zaeef
۔ (۱۷۲۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تَدَبَّرْتُ صَلاَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَأَیْتُہُ مُخَوِّیًا فَرَأَیْتُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کو غور سے دیکھا،پس میں نے دیکھا کہ آپ زمین سے پیٹ کو اٹھا کر رکھتے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھی۔
Takhreej
(۱۷۲۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۹۹ (انظر: ۲۴۰۵)
1724
Sahih
۔ (۱۷۲۵) عَنِ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ رَأَیْتُ بَیَاضَ کَشْحِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ سَاجِدٌ ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۲۹)
سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوکھ کی سفیدی دیکھی، جب کہ آپ سجدہ کررہے تھے۔
Takhreej
(۱۷۲۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ (انظر: ۱۱۱۱۳)
Explanation
فوائد:… یعنی بازوؤں کو پیٹ سے دور رکھنے کی وجہ سے کوکھ کی سفیدی نظر آنے لگی۔
1725
Sahih
۔ (۱۷۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ رُؤِیَ أَوْ رَأَیْتُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۸۸)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
Takhreej
(۱۷۲۶) تخریج: صحیح لغیرہ، (انظر: ۱۲۷۵۸)
1726
Sahih
۔ (۱۷۲۷) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ أَقْرَمَ الْخُزَاعِیِّ عَنْ أَبِیِہِ قَالَ: کُنْتُ مَعَ أَبِیْ أَقْرَمَ بِالْقَاعِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَۃَ) قَالَ: فَمَرَّ بِنَا رَکْبٌ فَأَنَاخُوْا بِنَاحِیَۃِ الطَّرِیِقِ فَقَالَ لِیْ أَبِیْ: أَیْ بُنَیَّ! کُنْ فِیْ بَہْمِکَ حَتّٰی آتِیَ ھٰؤُلاَئِ الْقَوْمَ وَأُسَائِلَہُمْ، قَالَ: فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ فِیْ أَثَرِہِ فَإِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ فَکُنْتُ أَنْظُرُ إِلٰی عُفْرَتَیْ إِبْطَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُلَّمَا سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۶۵۱۶)
عبد اللہ بن اقرم کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا، ہمارے پاس سے ایک قافلہ گزرا ، پھر انہوںنے راستہ کی ایک طرف اونٹ بٹھا دیئے، میرے باپ نے مجھ سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اپنے جانوروں میں ہی رہ، میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے سوال جواب کرتا ہوں، سو وہ چلے گئے اور میں بھی ان کے پیچھے نکل پڑا، وہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیااور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ کرتے تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بغلوں کی غیر خالص سفیدی کو دیکھتا تھا۔
Takhreej
(۱۷۲۷) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۸۸۱، والترمذی: ۲۷۴، والنسائی: ۲/ ۲۱۳ (انظر: ۱۶۴۰۱)
1727
Sahih
۔ (۱۷۲۸) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنِ البَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ وَصَفَ السُّجُوْدَ قَالَ: فَبَسَطَ کَفَّیْہِ وَرَفَعَ َعَجِیْزَتَہُ وَخَوّٰی وَقَالَ ھٰکَذَا سَجَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۰۵)
ابو اسحاق کہتے ہیں: سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے (سجدہ کیا اور) اپنی ہتھیلیوں کو بچھایا، پچھلے حصے کو اٹھایا اور اپنے پیٹ کو بھی زمین سے بلند رکھا اور پھر کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح سجدہ کیا تھا۔
Takhreej
(۱۷۲۸) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابوداود: ۸۹۶، والنسائی: ۲/ ۲۱۲ (انظر: ۱۸۷۰۱)
1728
Sahih
۔ (۱۷۲۹) عَنِ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ جَافٰی حَتّٰییَرٰی مَنْ خَلْفَہُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۶۸)
زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے تو اتنی کشادگی کرتے کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔
Takhreej
(۱۷۲۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۹۷ (انظر: ۲۶۸۱۸)
1729
Sahih
۔ (۱۷۳۰) عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ وَارْفَعْ مِرْفَقَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۰۰)
سیدنابراء بن عازب ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو سجدہ کرے تو اپنی ہتھیلیوں کونیچے رکھ دے اورکہنیوں کو اٹھا لے۔
Takhreej
(۱۷۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۹۴ (انظر: ۱۸۴۹۱)
1730
Sahih
۔ (۱۷۳۱) عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْجُدُ عَلٰی أَنْفِہِ مَعَ جَبْہَتِہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۶۲)
سیدناوائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی پیشانی سمیت ناک پر سجدہ کرتے تھے۔
1731
Sahih
۔ (۱۷۳۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ)قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ وَضَعَ أَنْفَہُ عَلَی الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۴۵)
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنی ناک زمین پر لگاتے۔
Takhreej
(۱۷۳۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۲۶۲، والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۶۶، ولہ شواھد (انظر: ۱۸۸۳۹)
1732
Sahih
۔ (۱۷۳۳) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْجُدُ بَیْنَ کَفَّیْہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) وَیَدَاہُ قَرِیْبَتَانِ مِنْ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۵۰، ۱۹۰۵۱)
سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھاآپ اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کرتے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے ہاتھ آپ کے کانوں کے قریب ہوتے تھے ۔
Takhreej
(۱۷۳۳) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شبیۃ: ۱/ ۲۶۰، والبیھقی: ۲/ ۱۱۲،والطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۷۵، ۹۳ (انظر: ۱۸۸۴۴، ۱۸۸۴۵)
1733
Sahih
۔ (۱۷۳۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ: ((وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْکِنْ جَبْہَتَکَ مِنَ الْأَرْضِ حَتّٰی تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۴)
سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جب تو سجدہ کرے توزمین پر اپنے ماتھے کو اس طرح جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔
Takhreej
(۱۷۳۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۴۷، والترمذی: ۳۹ (انظر: ۲۶۰۴)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۱۶۸۱)میں اِس حدیث کے آخری جملے کا مفہوم بیان کیا جا چکا ہے۔ ان تمام احادیث کا تعلق سجدہ کی کیفیت اور ہیئت کے ساتھ ہے، اِن اور دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے، مسند احمد کا حوالہ نہیں دیا گیا: (۱) سجدے میں گرتے وقت گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھیں۔ (ابو داود: ۸۴۰، نسائی: ۱۰۹۰) اس عنوان سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان میں اس مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ (۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰) (۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴) (۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸) (۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲) (۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)
1734
Sahih

Chapters

13
01
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
5 Hadith
02
رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
6 Hadith
03
جس نے رکوع وسجود پورا نہ کیا، اس کی نماز کے باطل ہونے کا بیان
2 Hadith
04
رکوع میں ذکر کا بیان
8 Hadith
05
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
06
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
6 Hadith
07
رکوع سے اٹھ کر اذکار (کرنے) کا بیان
9 Hadith
08
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
19 Hadith
09
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
10
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
6 Hadith
11
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
5 Hadith
12
دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
3 Hadith
13
جلسہ استراحت کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.