TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1726 - سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان - رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 19 in this chapter
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
۔ (۱۷۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا سَجَدَ رُؤِیَ أَوْ رَأَیْتُ بَیَاضَ إِبْطَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۸۸)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
1726
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۷۲۶) تخریج: صحیح لغیرہ، (انظر: ۱۲۷۵۸)

Related Chapters

113
1
کسوف کے لیے نماز کی مشروعیت اور اس کے لیے بلانے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
2
نمازِ استسقاء کی کیفیت، اس کے لیے خطبے اور اس میں جہری قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
3
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
4
Chapter: The salam to exit the prayer when one has finished and how it is done
نماز ختم کے لیے اس سے فارغ ہوتے وقت سلام پھیرنے اور اس کی کیفیت
Sahih Muslim
5
Chapter: Supplication At Times Of Distress
کرب (شدید تکلیف دہ مصیب کی کیفیت) کے لیے دعا
Sahih Muslim
6
سجدے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih While Bowing And Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں تسبیح کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About One Who Does Not Bring His Back To Rest While Bowing and Prostrating
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Placing The Knees (On The Ground) Before The Hands For Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ سے پہلے دونوں گھٹنے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Something Else About That
باب: سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Holding The Forearms Away From The Sides During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے جدا رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Being Balanced During Prostration
باب: سجدے میں اعتدال کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Placing The Hands and Planting The Feet During Prostration
باب: سجدے میں دونوں ہاتھ زمین پر رکھنے اور دونوں پاؤں کھڑے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Bringing The Backs To Rest When Raising One's Head From The Prostration And Bowing Positions
باب: رکوع اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت پیٹھ سیدھی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Supporting Oneself During Prostration
باب: سجدے میں ٹیک لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: [What Has Been Related About] How To Get Up From The Prostration
باب: سجدے سے کیسے اٹھا جائے؟
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations (Of Recitation) In: When The Heaven If Split Asunder And: Read! In The Name Of Your Lord Who Has Created
باب: سورۃ اقرأ اور سورۃ الانشقاق کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Prostration In (Surat) An-Najm
باب: سورۃ النجم کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The One Who Did Not Prostrate For It
باب: جو لوگ سورۃ النجم میں سجدے کے قائل نہیں
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Prostration In (Surat) Sad
باب: سورۃ ”ص“ کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: (What Has Been Related) About The Prostration In (Surat) Al-Hajj
باب: سورۃ الحج کے سجدے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What has been related about the severe warning regarding the one who raises his head before the Imam
باب: اپنا سر امام سے پہلے سجدے سے اٹھانے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Mentioned About A Man Who Catches Up With The Imam (While He Is) In Prostration, What Should He Do?
باب: آدمی امام کو سجدے میں پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Mentioned Of The Mark Of This Nation From The Traces Of Prostrations And Purification On The Day Of Resurrection
باب: قیامت کے دن امت محمدیہ کی پہچان سجدے اور وضو کے نشانات ہوں گے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About How To Perform Tawaf
باب: طواف کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
لکڑی سے مسواک کرنے کی کیفیت اور کلی کرتے وقت وضو کرنے والے آدمی کا اپنی انگلی سے مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
سیدنا عثمان بن عفانؓسے مروی کیفیت
Musnad Ahmad
30
پاؤں کو دھونے کی کیفیت
Musnad Ahmad
31
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
32
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
حیض اور نفاس والی عورت کے غسل کی کیفیت
Musnad Ahmad
34
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
35
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
36
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
Musnad Ahmad
37
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
Musnad Ahmad
38
سلام کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس کے دو مرتبہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
بھول جس قسم کی بھی ہو، اس کے لئے سلام کے بعد سجدے کرنا
Musnad Ahmad
40
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
Musnad Ahmad
41
امام اور لوگوں کا دعا کے دوران اپنی اپنی چادریں تبدیل کرنے اور ان کی کیفیت اور وقت کا بیان
Musnad Ahmad
42
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
43
مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان ، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
45
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
Musnad Ahmad
47
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
48
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
توبہ کی کیفیت اور اس چیز کا بیان کہ توبہ کا ارادہ کرنے والا کیا کرے
Musnad Ahmad
50
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

591
Musnad Ahmad
1384
۔ (۱۳۸۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! إِنِّیْ لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ، فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَیْہِ وَبَسَطُوْا لَہُ حَصِیْراً وَنَضَحُوْہٗفَصَلّٰی عَلَیْہِ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ، أَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ الضُّحٰی؟ قَالَ مَارَأَیْتُہُ صَلَّاھَا إِلاَّ یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۴۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
Musnad Ahmad
1470
۔ (۱۴۷۰) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ تَلَقَّیْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حِیْنَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِیْنَاہُ بِعَیْنِ التَّمْرِ وَھُوَ یُصَلِّیْ عَلٰی دَابَّتِہِ لِغَیْرِ الْقِبْلَۃِ، فَقُلْنَا لَہُ: إِنَّکَ تُصَلِّیْ إِلٰی غَیْرِ الْقَبِلَۃِ؟ فَقَالَ: لَوْ لَا أَ نِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ ذٰلِکَ مَافَعَلْتُ۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۴)
انس بن سیرین کہتے ہیں: جب سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام سے آئے،تو ہم انہیں عین التمر مقام پر ملے، ہم نے دیکھا کہ وہ ا پنی سواری پر غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھ رہے تھے، پس ہم نے ان سے کہا: آپ غیر قبلہ کی طرف نمازپڑھتے ہیں؟ انہوںنے جواب دیا:اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میںبھی ایسے نہ کرتا۔
Musnad Ahmad
1684
۔ (۱۶۸۴) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ھٰذَا الغْلُاَمِ یَعْنِیْ عُمَرَ ابْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ،، قَالَ: فَحَزَرْنَا فِی الرُّکَوْعِ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ وَفِی السُّجُودِ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۹۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس نوجوان (یعنی عمر بن عبد العزیز) کی بہ نسبت کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا، جو نماز میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہو۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ہم نے اس نوجوان کے رکوع و سجود میں دس دس دفعہ تسبیحات کا اندازہ لگایا۔
Musnad Ahmad
1956
۔ (۱۹۵۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَسْتَشْرِفُ لِشَیْئٍ وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ،یَنْظُرُ إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۳)
انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ کسی چیز کے لئے نظر اٹھاتے، جبکہ وہ نماز میں ہوتے اور اس کی طرف دیکھ لیتے تھے۔
Musnad Ahmad
1962
۔ (۱۹۶۲) عَنْ مُوسَی بْنِ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُہُ مَوْضُوْعٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: تُصَلِّیْ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی ھٰکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰۵)
ابراہیم بن ابو ربیعہ کہتے ہیں: ہم سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر داخل ہوئے اور وہ ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھ رہے تھے اور ان کی چادر علیحدہ رکھی ہوئی تھی، میں نے کہا: آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں؟ انہوںنے کہا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
2270
۔ (۲۲۷۰) عَنْ أَنْسِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ فَلَوْ أَتَیْتَ مَنْزِلِی فَصَلَّیْتَ فَأَقْتَدِیَ بِکَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِیْرٍ لَھُمْ، فَصَلَّی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ لِأَنَسٍ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ مَا رَأَیْتُہُ صَلَّاھَا اِلَّا یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۵۴)
انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
2272
۔ (۲۲۷۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ صَلّٰی سُبْحَۃَ الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنِّی صَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَغْبَۃٍ وَرَھْبَۃٍ سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ ثَـلَاثاً فَاَعْطَانِی ثِنْتَیْنِ وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَبْتَلِیَ أُمَّتِی بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُ أَنْ لَا یُظْہِرَ عَلَیْہِمْ عَدُوَّھُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَأَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے (اللہ کی رحمت کی) رغبت رکھتے ہوئے اور (اس کے عذابوں سے) ڈرتے ہوئے نماز پڑھی ہے، میںنے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں تو مجھے عطا کردی ہیں، لیکن ایک کو روک دیا ہے، میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ آزمائے، پس اللہ نے اسی طرح کردیا ہے، پھرمیں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے، پس اس نے اسی طرح کردیا، (میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ) وہ اِن کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
Musnad Ahmad
2486
۔ (۲۴۸۶) عَنْ مَوْھُوبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ یُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی ھٰذَا؟ فَقَالَ: اِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی صَلَاۃً مَتٰی تُوَافِقُہَا أُصَلِّیْ مَعَکَ وَمَتٰی تُخَالِفُہَا أُصَلِّی وَأَنْقَلِبُ اِلَی أَھْلِی۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، عمر بن عبد العزیز k (کی نماز سے) پیچھے رہتے تھے، (یعنی وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، ایک دن) عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا: تجھے کون سی چیز ایسا کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب تم اس نماز کی موافقت کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب تم اس کی مخالفت کرتے ہو تو میں (وقت پر) نماز ادا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔
Musnad Ahmad
2519
۔ (۲۵۱۹) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَجَائَ رَجُلٌ یَسْعٰی فَانْتَھٰی وَقَدْ حَفَزَہُ النَّفَسُ أَوِ انْبَھَرَ فَلَمَّا انْتَھٰی اِلَی الصَّفِّ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ قَالَ: ((أَیُّکُمُ الْمُتَکلِّمُ؟)) فَسکَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمُ الْمُتَکَلِّمْ؟ فَاِنَّہُ قَالَ خَیْرًا أَوْ لَمْ یَقُلْ بَأْسًا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا أَسْرَعْتُ الْمَشْیَ فَانْتَہَیْتُ اِلَی الصَّفِّ فَقُلْتُ الَّذِیْ قُلْتُ، قَالَ: ((لَقَدْ رَأَیْتُ اثْنَیْ عَشَرَ مَلَکًا یَبْتَدِرُوْنَہَا أَیُّہُمْ یَرْفَعْہَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلْیَمْشِ عَلٰی ھِیْنَتِہِ فَلْیُصَلِّ مَا أَدْرَکَ وَلْیَقْضِ مَا سَبَقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۵۷)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز کھڑی کردی گئی، ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، جب وہ مسجد میں پہنچا ، تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا، جب وہ صف میں کھڑا ہوا تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بہت زیادہ ، پاکیزہ اور بابرکت تعریف)۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو پوچھا: کون تھا تم میں کلام کرنے والا؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: کون تھا یہ کلام کرنے والا ؟ اس نے اچھی بات ہی کہی ہے، کوئی حرج والی بات نہیں تھی۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تیزی سے چل کر آیا تھا، جب صف میںکھڑا ہوا تو میں نے یہ کلمات کہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتے دیکھے، وہ اس کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کلمات کو (پہلے) اوپر لے کر جائے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کی طرف آئے تو اپنی عادت کے مطابق چل کر آئے، جو نماز پالے اسے پڑھ لے اور جو رہ جائے، اس کو (بعد میں) ادا کر لے۔