TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز جنازہ کے ابواب - نماز جنازہ کے ابواب - Book 60 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 60 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 20 Chapters
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۳) عَنْ إِسْمَاعِیْلَ السُّدِّیِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی ابْنِہِ إِبْرَاہِیْمَ قَالَ: لَا أَدْرِی، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ لَوْ عَاشَ کَانَ صَدِّیْقًا نَبِیًّا۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۰)
اسمٰعیل سدی کہتے ہیں میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے فرزند ابراہیمؓ کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں کہا، مجھے معلوم نہیں۔ ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، وہ اگر زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔
Takhreej
(۳۱۵۳) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن سعد: ۱/ ۱۴۰ (انظر: ۱۳۹۸۵)
Explanation
فوائد: …اس موضوع کی موقوف روایات کو بھی مرفوع کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ ان کا رائے اور اجتہاد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن ابی اوفیbسے پوچھا کہ کیا اس نے آپaکے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ چھوٹی عمر میں ہی فوت گئے تھے، اگر یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ محمدaکے بعد
3153
Sahih
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَقَدْ تُوُفِّیَ إِبْرَاہِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِبْنَ ثَمَانِیَۃَ عَشَرَ شَہْرًا فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۳۶)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے سیّدنا ابراہیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اٹھارہ ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔
Takhreej
(۳۱۵۴) تخریـج: …حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۸۷(انظر: ۲۶۳۰۵)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کی نماز جنازہ نہ پڑھنا بھی درست ہے۔
3154
Sahih
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۵) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا َٔنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ تُوُفِّی بِخَیْبَرَ، وَأَنَّہُ ذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ۔)) قَالَ: فَتَغَیَّرَتْ وَجُوْہُ الْقَوْمِ لِذَالِکَ فَلَمَّا رَأَی الَّذِی بِہِمْ قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَکُمْ غَلَّ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) فَفَتَّشْنَا مَتَاعَہُ فَوَجَدْنَا فِیْہِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْیَہُوْدِ مَا یُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۵۶)
سیّدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان خیبر میں فوت ہو گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر صحابہ کے چہرے متغیر ہو گئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان کی پریشانی دیکھی تو فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں (مالِ غنیمت میں سے) خیانت کی ہے۔ پھر ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی ملے، جو دو درہموں کے برابر تھے۔
Takhreej
(۳۱۵۵) تخریـج: …حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۷۱۰، والنسائی: ۴/ن ۶۴، وابن ماجہ: ۲۸۴۸(انظر: ۱۷۰۳۱، ۲۱۶۷۵)
Explanation
فوائد: …بلاشک و شبہ مسلمانوں کو خائن کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے، آپaکا یہ نماز ادا نہ کرنا، اس سے مقصود لوگوں کو زجرو توبیخ کرنا تھا، تاکہ دوسرے لوگ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے سے باز رہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس سنت پر عمل کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ شہر کے مشہور و معروف علمائے دین ایسے مجرموںکے جنازے میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے خائن لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ آپaنے دو درہموں
3155
Sahih
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۶) عَنْ سِمَاکِ (ابْنِ حَرْبٍ) أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: مَاتَ رَجُلٌ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَ فُلَانٌ، قَالَ: ((لَمْ یَمُتْ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیْفَ مَاتَ؟)) قَالَ: نَحَرَ نَفْسَہُ بِمِشْقَصٍ، قَالَ: فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) قَالَ: ((إِذًا لَا أُصَلِّی عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۰۱)
سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ایک آدمی فوت ہو گیا، ایک شخص آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی فوت ہو گیا ہے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فوت نہیں ہوا۔ اس نے دوبارہ اور پھر سہ بارہ آ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہی بات بتلائی۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اسے موت کس طرح آئی ہے؟ اس نے کہا کہ اس نے ایک چوڑے تیر کے ذریعے اپنے آپ کو ذبح کر ڈالا، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھرمیں تو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔
Takhreej
(۳۱۵۶) تخریـج: …أخرجہ مطولا ومختصرا مسلم: ۹۷۸ (انظر: ۲۰۸۱۶، ۲۰۸۴۸)
Explanation
فوائد: …سنن ابن ماجہ (۱۵۲۶) اور مسند احمد (۲۰۸۸۳) کی دوسری روایت کے آخر میں راویٔ حدیث کے یہ الفاظ بھی مروی ہیں: کُلُّ ذَالِکَ أَدَبٌ مِنْہُ۔ یعنی: آپaکا اس شخص کا نماز جنازہ نہ پڑھنا ایک تادیبی کاروائی تھی، تاکہ دوسرے عبرت حاصل کریں اور ایسا اقدام کرنے سے باز رہیں۔ خودکشی کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، بہرحال عام مسلمانوں کو اس کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے۔
3156
Sahih
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۷) عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دُعِیَ لِجَنَازَۃٍ سَأَلَ عَنْہَا فَإِنْ أُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرٌ قَامَ فَصَلّٰی عَلَیْہَا، وَإِنْ اُثْنِیَ عَلَیْہَا غَیْرُ ذَالِکَ، قَالَ لِأَہْلِہَا: ((شَأْنُکُمْ بِہَا۔)) وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۲۲)
سیّدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز جنازہ کے لیے بلایا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے بارے میں پوچھتے تھے،اگراس کے حق میں بھلائی کی باتیںکی جاتیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے، لیکن اگر اس کے برعکس باتیں کی جاتیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: تم خود اس کا کچھ کر لو۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔
Takhreej
(۳۱۵۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابن حبان: ۳۰۵۷، وعبد بن حمید: ۱۹۶، والحاکم:۱/ ۳۶۴ (انظر: ۲۲۵۵۵)
Explanation
فوائد: …آپaنے خیانت کرنے والے اور خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اورشروع شروع میں مقروض کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث میں برعکس باتوں سے مراد کون سے نقائص ہیں،
3157
Sahih
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
۔ (۳۱۵۸) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَنْیَۃَ اِعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِزِنًا، وَقَالَتْ: أَنَا حُبْلٰی، فَدَعَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلِیَّہَا، فَقَالَ: ((أَحْسِنْ إِلَیْہَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِی۔)) فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِہَا فَرُجَِمَتْ، ثُمَّ صَلّٰی عَلَیْہَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَجَمْتَھَا، ثُمَّ تُصَلِّی عَلَیْہَا؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِیْنَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ وَہَلْ وَجَدْتَّ شَیْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا للّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ؟)) (مسند احمد: ۲۰۱۰۱)
سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلے کی ایک خاتون نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر زنا کا اقرار کیا اور بتلایا کہ وہ اس وقت حاملہ بھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور اس سے فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک سے رپیش آؤ، جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتلانا۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خاتون کے متعلق حکم دیا، سو اس پر اس کا لباس اچھی طرح باندھ دیا گیا اور پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پہلے تو اسے رجم کیا اور اب اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اس کو تمام اہل مدینہ میں تقسیم کیا جائے تو وہ سب کو کفایت کر جائے گی۔ بھلا کیا تم نے اس سے افضل چیز بھی پائی ہے کہ اس نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دیا ہے۔
Takhreej
(۳۱۵۸) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۱۶۹۶ (انظر: ۱۹۸۶۱، ۱۹۹۰۳)
Explanation
فوائد: …معلوم ہوا کہ جو فرد شرعی حد کی وجہ سے وفات پا جائے، اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیے۔
3158
Sahih
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
۔ (۳۱۵۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتّٰی شَہِدَ عَلٰی نَفْسِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَبِکَ جُنُوْنٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: (((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَ بِالْمُصَلّٰی فَلَمَّا أَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ، فَاُدْرِکَ فَرُجِمَ حَتّٰی مَاتَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَیْرًا وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۶)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو اسلم کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کیا، اس نے پھر اعتراف کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے اوپر چار گواہیاں دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو پاگل ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے عیدگاہ یا جنازہ گاہ میں لے جا کر رجم کیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا،لیکن پھر اسے پا لیا گیا اور اسے مزید پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے، لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
Takhreej
(۳۱۵۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۸۲۰، ومسلم: ۱۶۹۱ (انظر: ۱۴۴۶۲)
Explanation
فوائد: …لیکن صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپaنے اس کے حق میں خیر والی باتیں کہیں اور اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ ان دونوں روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ آپaنے رجم کے فوراً بعد نماز نہیں پڑھی، بلکہ بعد میں ادا کی تھی۔
3159
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۰) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَعٰی لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجَاشِیَّ فِی الْیَوْمِ الَّذِی مَاتَ فِیْہِ فَخَرَجَ إِلَی الْمُصَلّٰی فَصَفَّ أَصْحَابَہُ وَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۹۶۴۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جس روز نجاشی کا انتقال ہوا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی دن ہمیں اس کی وفات کی اطلاع دی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کرام کی صف بند کی اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔
Takhreej
(۳۱۶۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۴۵، ومسلم:۹۵۱ (انظر: ۹۶۴۶)
Explanation
فوائد: …یہ آپaکا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپaکو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجرkنے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپaنجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہ تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں
3160
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاتَ الْیَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبْشِ، ہَلُمَّ فَصُفُّوْا۔)) فَصَفَفْنَا، قَالَ: فَصَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۹۷)
سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج حبشہ کا ایک نیک آدمی فوت ہو گیا ہے، اس لیے آؤ اور صفیں بناؤ۔ پس ہم نے صفیں بنائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ہم نے نماز جنازہ پڑھی۔
Takhreej
(۳۱۶۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۲۰، ۳۸۷۷، ومسلم: ۹۵۲ (انظر: ۱۴۱۵۰، ۱۴۴۳۳)
3161
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۲)(وَعَنْہُ مِنْ طِرَیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَاتَ الْیَوْمَ عَبْدُ اللّٰہِ صَالِحٌ أَصْحَمَۃُ فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا عَلَیْہِ۔)) فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۸۶)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج اللہ کا ایک نیک بندہ اصحمہ فوت ہو گیا ہے، پس تم کھڑے ہو اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور ہماری امامت کرائی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
Takhreej
(۳۱۶۲)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
3162
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۳) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ذَاتَ یَوْمٍ،فَقَالَ: ((صَلُّوْا عَلٰی أَخٍ لَکُمْ مَاتَ بِغَیْرِ أَرْضِکُمْ)) قَالُوْا: مَنْ ہُوَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((صَحْمَۃُ النَّجَاشِیُّ)) فَقَامُوْا فَصَلَّوْا عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۴۷)
سیّدنا حذیفہ بن اسید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اپنے ایک بھائی کی نماز جنازہ پڑھو، جو علاقہ غیر میں فوت ہو گیا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ کون؟ فرمایا: صحمہ نجاشی۔ چنانچہ صحابہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
Takhreej
(۳۱۶۳) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۳۷ (انظر: ۱۶۱۴۶، ۱۶۱۴۷)
Explanation
فوائد: …اس نجاشی کا نام ’’اصحمہ‘‘ تھا، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے، وہ روایات شاذ ہیں، جن میں اس کا نام ’’صحمہ‘‘ یا ’’صمحہ‘‘ بتلایا گیا ہے۔
3163
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۴) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ َٔنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ أَخَاکُمُ النَّجَاشِیَّ قَدْ مَاتَ فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا عَلَیْہِ کَمَا نَصُفُّ عَلَی الْمَیِّتِ وَصَلَّیْنَا عَلَیْہِ کَمَا نُصَلِّی عَلَی الْمَیِّتِ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۸۴)
سیّدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے، پس آئو اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔ چنانچہ ہم کھڑے ہوئے اور اس طرح صفیں بنائیں جیسے ہم میت پر صفیں بناتے ہیں اوراس طرح نماز جنازہ پڑھی، جس طرح ہم حاضر میت کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں۔
Takhreej
(۳۱۶۴) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۱۰۳۹، والنسائی: ۴/ ۷۰(انظر: ۱۹۹۴۲)
Explanation
فوائد: …صفوں، تکبیروں اور دعاؤں وغیرہ کا سلسلہ اسی طرح کا تھا، جیسے حاضر میت کا ہوتا ہے۔
3164
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۵) عَنْ جَرِیْرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ أَخَاکُمُ النَّجَاشِیَّ قَدْ مَاتَ فَاسْتَغْفِرُوا لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۳۵)
سیّدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی نجاشی فوت ہو گیا ہے، اس کی بخشش کی دعا کرو۔
Takhreej
(۳۱۶۵) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۶۳، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳۴۶، ولفظ الطبرانی: ((فصلوا علیہ)) (انظر: ۱۹۱۸۶)
3165
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۶) وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۷۱۴۷)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۱۶۶) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۴۵، ۱۳۳۳، ومسلم: ۹۵۱ (انظر: ۹۶۴۶)
3166
Sahih
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۶۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلَی النَّجَاشِیِّ۔ (مسند احمد: ۲۲۹۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
Takhreej
(۳۱۶۷) تخریـج:… صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن زید بن جدعان، ولجھالۃ الراوی عن ابن عباس (انظر: ۲۲۹۲)
Explanation
فوائد: …یہ احادیث غائبانہ نماز جنازہ کی قوی دلیل ہیں۔ اس مسئلہ سے ہٹ کر اس حدیث کی مزید کوئی تاویل کرنا بلا دلیل ہے۔سیّدنا عقبہ بن عامرb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِV عَلٰی قَتْلٰی اُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِی سِنِیْنَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْیَائِ وَالْاَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: … (صحیح بخاری: ۴۰۴۲)
3167
Sahih
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۶۸)حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ إِنْسَانًا کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ، مَاتَ أَوْ مَاتَتْ، فَفَقَدَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا فَعَلَ اْلإِنْسَانُ الَّذِی کَانَ یَقُمُّ الْمَسْجِدَ؟)) قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: مَاتَ، قَالَ: ((فَہَلَّا آذْنْتُمُوْنِی بِہِ؟)) فَقَالُوْا: بِاَنَّہُ کَانَ لَیْلًا، قَالَ: ((فَدُلُّوْنِیْ عَلٰی قَبْرِہَا)) قَالَ: فَأَتَی الْقَبْرَ فَصَلّٰی عَلَیْہَا۔ قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَالِکَ أَوْ فِی حَدِیْثٍ آخَرَ، ((إِنَّ ہٰذِہِ الْقُبُوْرَ مَمْلُوْئَ ۃٌ ظُلْمَۃً عَلٰی أَہْلِہَا وَ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنَوِّرُہَا بِصَلَاتِی عَلَیْہِمْ)) (مسند احمد: ۹۰۲۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مسجد میں جھاڑ و دینے والا ایک سیاہ فام آدمی تھا یا عورت تھی، وہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وہ نظر نہ آیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: مسجد کی صفائی کرنے والے کا کیا بنا؟ کسی نے کہا کہ وہ تو فوت ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے کہا: یہ رات کا واقعہ تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر پر تشریف لے گئے اور نمازجنازہ ادا کی۔ اس حدیث کے راوی ثابت نے یہ یا کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، میری اس نماز کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منور کر دیا ہے۔
Takhreej
(۳۱۶۸)تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۴۵۸، ۴۶۰، ۱۳۳۷، ومسلم: ۹۵۶ (انظر: ۸۶۳۴، ۹۰۳۷)
3168
Sahih
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۶۹) عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ أَسْوَدَ کَانَ یُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ، فَدُفِنَ لَیْلًا وَاَتَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأُخْبِرَ فَقَالَ: ((اِنْطَلَقُوْا إِلٰی قَبْرِہِ۔)) فَانْطَلَقُوْا إِلٰی قَبْرِہِ، فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ الْقُبُوْرَ مُمْتَلِئَۃٌ عَلٰی أَہْلِہَا ظُلْمَۃً، وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنَوِّرُہَا بِصَلَاتِی عَلَیْہَا۔)) فَأَتَی الْقَبْرَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الأَنْصَارِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَخِی مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَأَیْنَ قَبْرُہُ؟ فَأَخْبَرَہُ فَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ اْلأَنْصَارِیِّ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۴۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، وہ رات کو فوت ہو گیا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چلو اس کی قبر کی طرف، یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ان پر میری نماز کی وجہ سے روشن کر دیتا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قبر کے پاس آئے اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ ایک انصاری صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بھائی فوت ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس کی قبر کہاں ہے؟ اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔
Takhreej
(۳۱۶۹) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الدارقطنی: ۲/ ۷۷، والطیالسی: ۲۴۴۶۔ وأخرجہ مختصرا مسلم: ۹۵۵ بلفظ: ان النبیV صلی علی قبر۔ (انظر: ۱۲۳۱۸، ۱۲۵۱۷)
3169
Sahih
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۷۰) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی قَبْرِ امْرَأَۃٍ قَدْ دُفِنَتْ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۴۳)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دفن کر دی جانے والی ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی تھی۔
Takhreej
(۳۱۷۰) تخریـج: …انظر الحدیث السابق ۱۷۷
3170
Sahih
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۷۱) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِیْعَ إِذَا ہُوَ بَقِبْرٍ جَدِیْدٍ، فَسَأَلَ عَنْہُ، فَقِیْلَ فُلَانَۃٌ، فَعَرَفَہَا، فَقَالَ: ((أَلَا آذنْتُمُوْنِی بِہَا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَکَرِہْنَا أَنْ نُؤْذِنَکَ، فَقَالَ: ((لَا یَمُوْتَنَّ فِیْکُمْ مَیِّتٌ مَا کُنْتُ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ إِلَّا آذْنْتُمُوْنِی بِہِ فَإِنَّ صَلَاتِی عَلَیْہِ لَہُ رَحْمَۃٌ؟)) قَالَ: ثُمَّ أَتَی الْقَبْرَ فََصَفَّنَا خَلْفَہُ وَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۱۹۶۸۱)
سیّدنا یزید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ نکلے، جب ہم بقیع میں پہنچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں ایک نئی قبر دیکھ کر اس کے متعلق پوچھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا گیا کہ یہ فلاں عورت کی قبر ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پہچان لیا اور پھر پوچھا: تم نے مجھے اس کے بارے میں بتلایا کیوں نہیں تھا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ روزے کی حالت میں تھے اور قیلولہ کر رہے تھے، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اطلاع دینا مناسب نہ سمجھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ایسے نہ کیا کرو،) جب بھی تم میں سے کوئی فوت ہو جائے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو مجھے ضرور اطلاع دیا کرو، کیونکہ کسی میت پر میرا نماز جنازہ ادا کرنا اس کے لیے باعث ِ رحمت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں اپنے پیچھے صفوں میں کھڑا کیا اور چار تکبیرات کہیں۔
Takhreej
(۳۱۷۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح اِن ثبت سماع خارجۃ بن زید من عمہ یزید بن ثابت، والا فمنقطع أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۲۸، والنسائی: ۴/ ۸۴ (انظر: ۱۹۴۵۲)
Explanation
فوائد: …اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اس طرح قبر پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا مسنون عمل ہے، نیز یہ بھی پتہ چلا کہ ایک آدمی ایک سے زائد دفعہ بھی نماز جنازہ ادا کر سکتا ہے، کیونکہ جن صحابہ نے آپaکے ساتھ نماز جنازہ پڑھی، یقینا وہ پہلے پڑھ چکے ہوںگے، کیونکہ وہی اس میت کو دفنانے والے تھے۔
3171
Sahih
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۷۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی صَاحِبِ قَبْرٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قبر والے پر اس کی تدفین کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
Takhreej
(۳۱۷۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۲۴۷، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ۱۳۲۲، ۱۳۲۶، ۱۳۴۰، ومسلم: ۹۵۴ (انظر: ۱۹۶۲، ۳۱۳۶)
3172
Sahih

Chapters

20
01
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
02
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
5 Hadith
03
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
3 Hadith
04
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
3 Hadith
05
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
4 Hadith
06
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
2 Hadith
07
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
8 Hadith
08
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
09
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
7 Hadith
10
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
12
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
3 Hadith
13
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
9 Hadith
14
جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
10 Hadith
15
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
4 Hadith
16
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
7 Hadith
17
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
8 Hadith
18
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
6 Hadith
19
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
8 Hadith
20
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.