چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۵۳) عَنْ إِسْمَاعِیْلَ السُّدِّیِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قُلْتُ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلَی ابْنِہِ إِبْرَاہِیْمَ قَالَ: لَا أَدْرِی، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ لَوْ عَاشَ کَانَ صَدِّیْقًا نَبِیًّا۔ (مسند احمد: ۱۴۰۳۰)
اسمٰعیل سدی کہتے ہیں میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرزند ابراہیمؓ کی نماز جنازہ پڑھی تھی؟ انہوں کہا، مجھے معلوم نہیں۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، وہ اگر زندہ رہتا تو صدیق نبی ہوتا۔
Takhreej
(۳۱۵۳) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن سعد: ۱/ ۱۴۰ (انظر: ۱۳۹۸۵)
Explanation
فوائد: …اس موضوع کی موقوف روایات کو بھی مرفوع کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ ان کا رائے اور اجتہاد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن ابی اوفیbسے پوچھا کہ کیا اس نے آپaکے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے۔ انھوں نے کہا: وہ چھوٹی عمر میں ہی فوت گئے تھے، اگر یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا کہ محمدaکے بعد
3153
Sahih