TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز جنازہ کے ابواب - نماز جنازہ کے ابواب - Book 60 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 60 of Musnad Ahmad, with 20 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 20 Chapters
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
۔ (۳۱۷۳) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ شُعْبَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ الشَّیْبَانِیَّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ قَالَ: أَخْبَرَنِی مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُوْلِ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَبْرٍ مَنْبُوْذٍ، فَأَمَّہُمْ وَصَفُّوْا خَلْفَہُ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَمْرٍو! وَمَنْ حَدَّثَکَ؟ قَالَ: اِبْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۳۱۳۴)
(دوسری سند) امام شعبیkکہتے ہیں: مجھے ایک ایسے آدمی نے خبر دی جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کی امامت کرائی اور انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں۔ سلیمان شیبانی نے کہا: اے ابو عمرو! آپ کو یہ واقعہ کس نے بیان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے۔
Takhreej
(۳۱۷۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …ان احادیث سے ثابت ہوا کہ دفن کر دی جانے والی میت پر بھی نماز جنازہ ادا کی جا سکتی ہے، اگرچہ اس کی نماز جنازہ پہلے پڑھی جا چکی ہو، کیونکہ درج بالا صورتوں میں صحابہ کرام نے نماز جنازہ پڑھ کر ہی ان لوگوںکو دفنایا تھا، اس ضمن میں مخصوص قیدوں کی شرط لگانا باطل ہے، مثلا: تدفین سے تیسرے دن تک نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے، یا ایک ماہ تک، یا جب تک کہ جسم تر نہ ہو جائے، یا جب تک جسم مٹی نہ بن جائے۔ اسی طرح نماز جنازہ کی اس صورت کو آپa کے ساتھ خاص کر دینا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اس خصوصیت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
3173
Sahih
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
۔ (۳۱۷۴) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَعٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّجَاشِیَّ لِأَصْحَابِہِ وَہُوَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّوْا خَلْفَہُ وَصَلَّی عَلَیْہِ وَکَبَّرَ أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۷۷۶۳)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کو نجاشی کی وفات کی خبر دی، پھر صحابہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نمازِ جنازہ ادا کی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیرات کہیں۔
Takhreej
(۳۱۷۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۳۲۷، ۱۳۲۸، ومسلم: ۹۵۱ (انظر: ۷۷۷۶)
3174
Sahih
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
۔ (۳۱۷۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَبِّرُوْا عَلٰی مََوْتَاکُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ أَرْبَعَ تَکْبِیَراتِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۷۲)
سیّدنا جابر بن عبدا للہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دن ہو یا رات، تم اپنے مردوں پر نماز پڑھتے ہوئے چار تکبیرات کہا کرو۔
Takhreej
(۳۱۷۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ (انظر: ۱۴۶۱۷)
Explanation
فوائد: …یہ حدیث تو ضعیف ہے، تاہم نبی کریم aکے فعل سے چارتکبیرات ثابت ہیں۔
3175
Zaeef
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
۔ (۳۱۷۶) عَنْ أَبِی سُلَیْمَانَ الْمُؤَذِّنِ قَالَ: تُوُفِّیَ أَبُوْسَرِیْحَۃَ، فَصَلّٰی عَلَیْہِ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا، وَقَالَ: کَذَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۱۶)
ابو سلمان موذن سے روایت ہے کہ ابوسریحہ( حذیفہ بن اسید)فوت ہو گئے اور سیّدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور اس میں چار تکبیرات کہیں اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۳۱۷۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی، وجھالۃ حال أبی سلمان المؤذن أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۴۹۹۵، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱/ ۴۹۴ (انظر: ۱۹۳۰۱)
Explanation
فوائد: …یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی مزید وضاحت اگلی حدیث سے ہو گی، بہرحال نبی کریم aکے فعل سے چار تکبیرات ثابت ہیں۔
3176
Zaeef
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
۔ (۳۱۷۷) عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلٰی أَنَّ زَیْدَ بْنَ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کَانَ یُکَبِّرُ عَلٰی جَنَائِزِناَ أَرْبَعًا وَإِنَّہُ کَبَّرَ عَلٰی جَنَازَۃٍ خَمْسًا فَسَأَلُوْہُ ، فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُہَا أَوْکَبَّرَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۴۸۷)
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: سیّدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے جنازوں میں چار تکبیرات کہا کرتے تھے، ایک جنازہ میں انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں، جب لوگوں نے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی طرح تکبیرات کہا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۱۷۷) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۵۷(انظر: ۱۹۲۷۲، ۱۹۳۲۰)
3177
Sahih
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
۔ (۳۱۷۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الأَعْلٰی قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی جَنَازَۃٍ فَکَبَّرَ خَمْسًا، فَقَامَ إِلَیْہِ أَبُوْ عَیْسٰی عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ أَبِی لَیْلٰی، فَأَخَذَ بِیَدِہِ فَقَالَ: نَسِیْتَ؟ قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ صَلَّیْتُ خَلْفَ أَبِی الْقَاسِمِ خَلِیْلِی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَبَّرَ خَمْسًا فَـلَا أَتْرُکُہَا۔ (مسند احمد: ۱۹۵۱۵)
(دوسری سند) عبد الاعلی کہتے ہیں:میں نے سیّدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی،انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، ابو عیسیٰ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ان کی طرف گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا آپ بھول گئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے اپنے خلیل ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی پانچ تکبیرات کہی تھیں، لہٰذا میں اس عمل کو ترک نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۳۱۷۸)تخریـج: …اسنادہ ضعیف، عبد الاعلی بن عامر الثعلبی قد اتفقوا علی ضعفہ أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱… ۴۹۴، والطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۱۸۴۴(انظر:۱۹۳۰۰)
3178
Zaeef
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
۔ (۳۱۷۹) عَنْ یَحْییَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْجَابِرِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عِیْسَی مَوْلًی لِحُذَیْفَۃَ (بْنِ الْیَمَانِ) بِاالْمَدَائِنِ عَلٰی جَنَازَۃٍ فَکَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ: مَا وَہَمْتُ، وَلَا نَسِیْتُ وَلٰکِنْ کَبَّرْتُ کَمَا کَبَّرَ مَوْلَایَ وَوَلِیُّ نِعْمَتِی حُذَیْفَہُ ابْنُ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ وَکَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ: مَا نَسِیْتُ وَلَا وَہَمْتُ وَلٰکِنْ کَبَّرْتُ کَمَا کَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی جَنَازَۃٍ فَکَبَّرَ خَمْسًا۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴۱)
یحییٰ بن عبد اللہ کہتے ہیں:میں نے مدائن میں سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام عیسیٰ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی، انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، پھرہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: مجھے وہم ہوا ہے نہ میں بھولا ہوں، میں نے تو اسی طرح تکبیرات کہی ہیں، جس طرح میرے آقا سیّدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہی تھیں، انہوں نے ایک جنازہ پڑھااور پانچ تکبیرات کہیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا: میں بھولا ہوں نہ مجھے وہم ہوا ہے، بات یہ ہے کہ میں نے اسی طرح تکبیرات کہی ہیں جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں ہیں۔
Takhreej
(۳۱۷۹) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، یحیی بن عبد اللہ التیمی مختلف فیہ، ولم یتابع علی حدیثہ ھذا، وعیسی مولی حذیفۃ البزاز ضعفہ الدارقطنی أخرجہ الخطیب فی ’’تاریخ بغداد‘‘: ۱۱/ ۱۴۲، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱/ ۴۹۴، والدارقطنی: ۲/ ۷۳، و أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۳۰۳ مقتصرا علی فعل حذیفۃ (انظر: ۲۳۴۴۸)
3179
Sahih
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
۔ (۳۱۸۰)عَنْ إِبْرَاہِیْمَ الْہَجْرِیِّ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أَبِی أَوْفٰی قَامَ عَلٰی جَنَازَۃَ بِنْتٍ لَہُ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ ہُنَیَّۃً، فَسَبَّحَ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَکُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّیْ أُکَبِّرُ الْخَامِسَۃَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا کَبَّرَ الرَّابِعَۃَ قَامَ ہُنَیَّۃً فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجَنَازَۃُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۳۷)
ابراہیم ہجری کہتے ہیں کہ سیّدناعبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیٹی کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیرات کہیں، پھر کچھ دیر کے لیے کھڑے رہے۔ جب بعض مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا تو انہوں نے سلام پھیر کر کہا: کیا تمہارا یہ خیال تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہنے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چوتھی تکبیر کہہ لیتے تو کچھ دیر اسی حالت میں کھڑے رہتے، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی اس کے پاس بیٹھ گئے۔
Takhreej
(۳۱۸۰)تخریـج: …ضعیف لضعف علی بن عاصم والواسطی (انظر: ۱۹۴۱۷)
Explanation
فوائد: …امام احمدkنے تکبیرات کی مختلف تعداد پر مشتمل روایات کا احاطہ نہیں کیا، اس موضوع کی تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں کم از کم تکبیرات کی تعداد چار ہے اور زیادہ سے زیادہ نو ہے، زیادہ تر احادیث میں چار تکبیرات کا ہی ذکر ہے۔چار اور پانچ تکبیرات کے دلائل تو اوپر گزر چکے ہیں، باقی تعداد درج ذیل مرفوع اور موقوف روایات سے ثابت ہوتی ہے۔سیّدنا عبد اللہ بن زبیرbکہتے ہیں: نبی کریمaنے سیّدنا حمزہbکی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں نو تکبیرات کہیں۔ (معانی الآثار للطحاوی: ۱/ ۲۹۰)
3180
Zaeef
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۳۱۸۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَقَدْ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُصَلِّی عَلٰی جَنَازَۃٍ قَالَ: سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((أَنْتَ خَلَقْتَہَا وَأَنْتَ رَزَقْتَہَا، وَأَنْتَ ہَدَیْتَہَا لِلإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَہاَ، تَعْلَمُ سِرَّہَا وَعَلَانِیَتَہَا، جِئْنَا شُفْعَائَ فَاغْفِرْلَہَا۔)) (مسند احمد: ۷۴۷۱)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک میت پر نماز جنازہ میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا: أَنْتَ خَلَقْتَہَا وَأَنْتَ رَزَقْتَہَا، وَأَنْتَ ہَدَیْتَہَا لِلإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوْحَہاَ، تَعْلَمُ سِرَّہَا وَعَلَانِیَتَہَا، جِئْنَا شُفْعَائَ فَاغْفِرْلَہَا۔ (تونے اسے پیدا کیا، تو نے اس کو رزق دیا،تونے اسے اسلام کی طرف ہدایت دی، تونے اس کی روح کو قبض کیا اور تو ہی اس کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے، ہم اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں، پس تو اس کو بخش دے)۔
Takhreej
(۳۱۸۱) تخریـج: …ضعیف، فیہ ثلاث علل:(۱) اضطراب وقع فی اسنادہ، و(۲) جہالۃ بعض رواتہ و (۳) روایۃ بعضھم موقوفا علی أبی ھریرۃ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۹۲، ۱۰/ ۴۱۰، والبیھقی: ۴/ ۴۲، والنسائی فی ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘: ۱۰۷۶، والطبرانی: ۱۱۸۲(انظر: ۷۴۷۷)
3181
Zaeef
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۳۱۸۲) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلّٰی عَلَی الْجَنَازََۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَ ذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا، اَللّٰہُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَہُ مِنَّا فَأَحْیِہٖ عَلَی الإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی الْإِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی کی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَ ذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا، اَللّٰہُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَہُ مِنَّا فَأَحْیِہٖ عَلَی الإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی الْإِیْمَانِ۔ (اے اللہ! تو ہمارے زندوں اور فوت شدگان کو، حاضرین اور غائبین کو، چھوٹوں اور بڑوں کو اور ہمارے مردوں اور عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھنا چاہے، اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو فوت کرنا چاہے، اس کو ایمان پر فوت کر)۔
Takhreej
(۳۱۸۲) تخریـج: …حدیث صحیح بطرقہ و شواہدہ، وھذا اسناد ضعیف لضعف ایوب بن عتبۃ أخرجہ ابوداود: ۳۲۰۱، والترمذی: ۱۰۲۴، وابن ماجہ: ۱۴۹۸(انظر: ۸۸۰۹)
3182
Sahih
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۳۱۸۳) وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۸۸)
سیّدناابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۱۸۳) تخریـج: …رجال اسناد ثقات رجال الشیخین، لکن اختلف فیہ علی یحیی بن ابی کثیر أخرجہ الطبرانی فی ’’الدعائ‘‘: ۱۱۷۱، والنسائی فی ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘: ۱۰۸۶، والبیھقی: ۴/ ۴۱ (انظر: ۱۷۵۴۶)
3183
Sahih
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۳۱۸۴) وَعَنْ اَبِیْ إِبْرَاہِیْمَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ ۔ (مسند احمد: ۱۷۶۸۴)
ابوابراہیم انصاری نے بھی اپنے باپ کے واسطے سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۳۱۸۴) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، ابوابراہیم وابوہ لا یعرفان، وقد اختلف فیہ علی یحیی بن ابی کثیر أخرجہ الترمذی: ۱۰۲۴(انظر:۱۷۵۴۳ )
3184
Sahih
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۳۱۸۵) عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِی ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جِوَارِکَ، فَقِہِ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَہْلُ الْوَفَائِ وَالْحَقِّ، اَللّٰہُمَّ فَاغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۱۴)
سیّدنا واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (ایک جنازے میں) یہ دعا کرتے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِی ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جِوَارِکَ، فَقِہِ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ، أَنْتَ أَہْلُ الْوَفَائِ وَالْحَقِّ، اَللّٰہُمَّ فَاغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری حفاظت اور عہد و امان میں ہے، پس اسے قبر کے فتنے اور آگ کے عذاب سے بچا،تو وفا والا اور حق والا ہے، اے اللہ! پس اس کو بخش دے ور اس پر رحم فرما، پس بیشک تو بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے)۔
Takhreej
(۳۱۸۵) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۲۰۲، وابن ماجہ: ۱۴۹۹(انظر: ۱۶۰۱۸)
Explanation
فوائد: …مسند احمد کی روایت میں ’’اَللّٰھُمَّ‘‘ کی جگہ پر ’’اَلَا‘‘ کے الفاظ ہیں، اس سے مراد میت کے لیے دعا کرنا ہے۔
3185
Sahih
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
۔ (۳۱۸۶) عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ(الأَشْجَعِیِّ الأَنْصَارِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی مَیِّتٍ فَفَہِمْتُ مِنْ صَلَاتِہِ عَلَیْہِ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ وَعَافِہِ واعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہُ وَ وَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّہِ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الْثَوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِنْ دَارِہِ وَأَہْلًا خَیْرًا مِنْ أَہْلِہِ وَزَوْجًا خَیْرًا مِنْ زَوْجِہِ وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَنَجِّہِ مِنَ النَّارِ وَقِہِ عَذَابَ الْقَبْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۷۵)
سیّدنا عوف بن مالک اشجعی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک میت کی نماز جنازہ پڑھتے دیکھا، میں نے سمجھ لیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ وَارْحَمْہُ وَعَافِہِ واعْفُ عَنْہُ وَأَکْرِمْ نُزُلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِالْمَائِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّہِ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا نَقَّیْتَ الْثَوْبَ الْأَبْیَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِنْ دَارِہِ وَأَہْلًا خَیْرًا مِنْ أَہْلِہِ وَزَوْجًا خَیْرًا مِنْ زَوْجِہِ وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَنَجِّہِ مِنَ النَّارِ وَقِہِ عَذَابَ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! اس کو بخش دے، اس پر رحم کر، اسے عافیت دے، اس کو معاف کر دے،اس کی قیام گاہ کو عزت والا بنا، اس کے داخل ہونے کی جگہ کو وسیع کر دے، اس کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اس کو گناہوں سے یوں پاک کر دے، جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا، تو اس کے گھر کی بہ نسبت اچھا گھر، اہل کی بہ نسبت اچھے اہل اور بیوی کی بہ نسبت اچھی بیوی عطا فرما، اس کو جنت میں داخل کر دے اور اس کو آگ سے نجات عطا فرما اور قبر کے عذاب سے بچا لے)۔
Takhreej
(۳۱۸۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۹۶۳(انظر: ۲۳۹۷۵)
3186
Sahih
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
۔ (۳۱۸۷) عَنْ أَبِی غَالِبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أُتِیَ بِجَنَازَۃِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِیْرِ، ثُمَّ أُتِیَ بِجَنَازَۃِ امْرَأَۃٍ ، فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَالِکَ حِذَائَ السَّرِیْرِ، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ لَہُ الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! أَہٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْمُ مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَۃِ نَحْوًا مِمَّا رَأَیْتُکَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا الْعَلَائُ بْنُ زِیَادٍ فَقَالَ: اِحْفَظُوْا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۰۴)
ابو غالب کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس مرد کا جنازہ لایا گا، پس وہ چارپائی (یعنی میت) کے سر کے پاس کھڑے ہوئے، پھر جب عورت کا جنازہ لایا گیا تو وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد نے ان سے کہا: اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی مرد اور عورت کے جنازہ میں اسی طرح کھڑے ہوا کرتے تھے، جس طرح میں نے آپ کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر علاء بن زیاد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: یہ مسئلہ یاد کر لو۔
Takhreej
(۳۱۸۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۹۴، وابن ماجہ: ۱۴۹۴، والترمذی: ۱۰۳۴(انظر: ۱۲۱۸۰)
Explanation
فوائد: …ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِہٖ۔ (اس کے سر کے برابر کھڑے ہوئے) ’’وہ اس سے نیچے چارپائی کے برابر کھڑے ہوئے۔‘‘اس کی وضاحت بھی ابوداود کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے: فَقَامَ عِنْدَ عَجِیْزَتِھَا۔ (پس وہ اس کے سرین کے پاس کھڑے ہوئے)
3187
Sahih
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
۔ (۳۱۸۸) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی عَلٰی أُمِّ فُلَانٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أُمِّ کَعْبٍ) مَاتَتْ فِی نِفَاسِہَا فَقَامَ وَسْطَہَا۔ (مسند احمد: ۲۰۴۲۴)
سیّدناسمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ام فلاں(یعنی سیدہ ام کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) ، جو نفاس کی حالت میں فوت ہوئی تھیں، کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
Takhreej
(۳۱۸۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری:۳۳۲، ۱۳۳۱، ومسلم: ۹۶۴(انظر: ۲۰۱۶۲)
Explanation
فوائد: …ان روایات سے معلوم ہوا کہ امام کو مرد میت کے سر کے سامنے اور عورت میت کے سرین کے سامنے کھڑے ہونا چاہیے،امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے ایک قول کے مطابق امام ہر میت کے سینے کے برابر کھڑا ہو گا، وہ مرد ہو یا عورت، لیکن ان روایات کی روشنی میں پہلا مسلک قوی ہے۔
3188
Sahih
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
۔ (۳۱۸۹) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَاتَ اِبْنٌ لِأَبِی طَلْحَۃَ فَصَلّٰی عَلَیْہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ أَبُوْ طَلْحَۃَ خَلْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أُمُّ سُلَیْمٍ خَلْفَ أَبِی طَلْحَۃَ کَأَنَّہُمْ عُرْفُ دِیْکٍ ، وَأَشَارَ بِیَدِہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۰۳)
سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی،سیّدناابوطلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، ان کے پیچھے کھڑی ہوگئیں، وہ مرغ کی کلغی کی طرح لگ رہے تھے، سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی۔
Takhreej
(۳۱۸۹) تخریـج: …اسنادہ ضیعف لجھالۃ أم یحیی (انظر: ۱۳۲۷۰)
Explanation
فوائد: …مرغ کی کلغی سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے تھے، جیسے مرغ کی کلغی پر ابھرے ہوئے لگاتار نشان ہوتے ہیں۔ سیّدنا انسbکی یہ حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے، دیکھیں باب: ’’نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان‘‘
3189
Zaeef
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۹۰) عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمَا تُوُفِّیَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌وَاُتِیَ بِجَنَازَتِہِ أَمَرَتْ بِہِ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنْ یُمَرَّ بِہِ عَلَیْہَا فَشُقَّ بِہِ فِی الْمَسْجِدِ، فَدَعَتْ لَہُ، فَاُنْکِرَ ذَالِکَ عَلَیْہَا، فَقَالَتْ: مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَی الْقَوْلِ، مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی ابْنِ بَیْضَائَ إِلَّا ِفی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۰۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدناسعد بنی ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا اور ان کی میت کو (قبرستان کی طرف) لے جایا جا رہا تھا تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے حکم دیا کہ ان کی میت کو ان کے پاس سے گزارا جائے، پس اس میت کو مسجد کے وسط میں رکھا گیا اور انھوں نے اس کے لیے دعا کی، لیکن جب لوگوں نے اس طرح کرنے پر انکار کیا تو سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: لوگ عیب نکالنے میں کس قدر جلدی کرتے ہیں، حقیقت ِ حال تو یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیضاء کے بیٹے کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔
Takhreej
(۳۱۹۰) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ مسلم: ۹۷۳ (انظر: ۲۴۴۹۸)
3190
Sahih
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۹۱)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہَا أَرْسَلَتْ ہِیَ وَأَ ْزَوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَہْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنْ مُرُّوا بِہِ عَلَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فَصَلّٰی عَلَیْہِ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَنْکَرَ ذَالِکَ النَّاسُ، فَذُکِرَ ذَالِکَ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَتْ: أَلَا تَعْحَبُوْنَ مِنَ النَّاسِ حِیْنَ یُنْکِرُوْنَ ہٰذَا؟ فَوَاللّٰہِ مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَہْلِ بْنِ بِیَضَائَ إِلَّا فِی الْمَسْجِدِ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۷۱)
(دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دوسری بیویوں نے سیّدنا سعد بن ابووقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لواحقین کی طرف طرف پیغام بھیجا کہ وہ اس میت کو ہمارے ہاں مسجد میں لے کر آئیں، پس امہات المومنین نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، لوگوں نے اس صورت پر انکار کیا،جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: کیا تم کو ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اس صورت پر انکار کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا سہل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔
Takhreej
(۳۱۹۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَاللّٰہِ! لَقَدْ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِVعَلَی ابْنَیْ بَیْضَائَ فِیْ الْمَسْجِدِ۔ یعنی: اللہ کی قسم! رسول اللہaنے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ مسجد میں میت رکھنا اور اس کی نماز جنازہ ادا کرنا درست ہے، امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، لیکن امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنا مکروہ ہے، کیونکہ ان کے نزدیک میت نجس اور پلید ہوتی ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث سے اس رائے کا ردّ ہوتا ہے، اسی طرح میت کو پلید قرار دینے کی رائے بھی درست نہیں ہے۔
3191
Sahih
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
۔ (۳۱۹۲)عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ فَلَیْسَ لَہُ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۹۷۲۸)
لیکن یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس صالح سے ابن ابی ذئب کا سماع اس کے اختلاط سے پہلے کا تھا، جیسا کہ شیخ البانی نے وضاحت کی ہے، ملاحظہ ہو: (صحیحہ: ۲۳۵۱۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۹۱، وابن ماجہ: ۱۵۱۷(انظر: ۹۷۳۰)۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۱۹۲)تخریـج: …اسنادہ ضعیف، صالح مولی التوأمۃ کان قد اختلط
Explanation
فوائد:… اگر اس روایت کے لفظ ’’لَہٗ‘‘ میں ’’لام‘‘ کو ’’عَلٰی‘‘ کے معنی میں لیا جائے تو اس روایت کا معنی یہ ہو گا: ’’جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ جبکہ سنن ابوداود کے الفاظ بھی ’’فَـلَا شَیْئَ عَلَیْہِ‘‘ کے ہیں اور قرآن و حدیث نصوص میں ’’لام‘‘ کو ’’عَلٰی‘‘ کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ اَسَأْتُمْ فَلَھَا} یعنی ’’فَعَلَیْھَا‘‘ اگر اس حدیث کا یہ معنی کیا جائے تو اس کا سیدہ عائشہc کی سابقہ روایات سے کوئی تعارض نہیں رہے گا، لیکن اس کا معنی ’’اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے‘‘ ہی کیا جائے تو پھر تعارض پیدا ہو جائے گا۔
3192
Zaeef

Chapters

20
01
نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
10 Hadith
02
نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان
5 Hadith
03
انبیاء کی نماز جنازہ مشروع ہونے اور شہداء کی یہ نماز غیر مشروع ہونے کا بیان
3 Hadith
04
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
3 Hadith
05
وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
4 Hadith
06
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
2 Hadith
07
غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
8 Hadith
08
دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
6 Hadith
09
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
7 Hadith
10
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
3 Hadith
12
مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
3 Hadith
13
جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
9 Hadith
14
جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
10 Hadith
15
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
4 Hadith
16
جنازے کے ساتھ چلنے والے کے جنازے کے رکھے جانے تک نہ بیٹھنے اور جنازے کے گزرتے وقت اس کے لیے کھڑے ہونے کا بیان
7 Hadith
17
کافر کی میت کے لیے کھڑے ہونا
8 Hadith
18
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
6 Hadith
19
لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
8 Hadith
20
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.