سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہے، اگر وہ میت نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو کہتی ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے کر جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر مخلوق اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔
فوائد: …اس حدیث کے معنی ومفہوم کو بلاتاویل تسلیم کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس میت میں شعور پیدا کر کے اس کو بولنے کی قوت عطا کرتا ہے، جبکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
عطاء کہتے ہیں:ہم سرف کے مقام پر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کی میت کو اٹھائو تو اسے شدت اور سختی کے ساتھ حرکت نہ دو۔
فوائد: …جب آپ aعمرۂ قضا ادا کر کے مکہ سے واپس لوٹ رہے تھے تو اسی مقام پر سیدہ میمونہcسے شادی کی تھی، سیدنا ابن عباسbکے قول کا مطلب یہ ہے کہ میت کی کرامت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کے ساتھ نرمی کی جائے۔
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنازہ کو لے کر جانے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے کر تیزی سے چلا جائے، لیکن دوڑا نہ جائے، اگر وہ میت نیک ہوا تو وہ بھلائی کی طرف جلدی پہنچے گا اور اگر نیک نہ ہوا تو آگ والوں کے لیے ہلاکت ہے، جنازے کے پیچھے پیچھے چلا جائے، اس کو پیچھے نہ لگایا جائے، جو جنازے کے آگے چلے گا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۹۵) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ أبی ماجد الحنفی، ویحیی بن عبد اللہ بن الحارث التیمی ضعفہ ابن معین وأبوحاتم والنسائی، وقال احمد: لیس بہ بأس، وقال العجلی: یکتب حدیثہ ولیس بالقوی، ووثقہ الترمذی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۸۴، والترمذی: ۱۰۱۱، وابن ماجہ: ۱۴۸۴ (انظر: ۳۵۸۵، ۳۹۳۹)
Explanation
فوائد: …پیدل چلنے والے لوگ جنازے کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے چل سکتے ہیں، آگے اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔
عبدالرحمن بن مہران کہتے ہیں:جب سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا اور میرے جنازے کے ساتھ دھونی دان لے کر نہ جانا اور میرے بارے میں جلدی کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو، لیکن جب گنہگار بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے جا رہے ہو۔
ابن المسیب کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا، راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ انھوں نے مرفوعا ہی بیان کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے جنازوںکے سلسلے میں جلدی کیا کرو، اگر وہ نیک ہوں تو تم انہیں خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے اور اگر وہ برے ہوں گے تو تم (جلدی) راحت پا لو گے اور ان کو اپنے کندھوں سے اتار دو گے۔
عیینہ کے والد عبدالرحمن بن جوشن کہتے ہیں:میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازہ کے ساتھ نکلا اور دیکھا کہ ان کے گھرانے کے بعض لوگ اس جنازے آگے آگے الٹے پائوں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں: (لوگو!) اللہ تم میں برکت کرے، آرام سے چلو۔اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مربد والے راستے سے ہمیں آ ملے، جب ان لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھا تو خچر ان پر چڑھا دیا اور اپنی لاٹھی ان پر لہرائی اور کہا:ہٹ جائو۔ اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی! میں نے اس سلسلہ میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا، قریب ہوتا تھا کہ ہم دوڑ ہی پڑیں۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو فرماتے: اسے لے کر جلدی جلدی چلو اور یہودیوں کی طرح جنازہ لے کر آہستہ آہستہ نہ چلو۔
Takhreej
(۳۱۹۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا، عبد الحکیم قائد سعید بن أبی عروبۃ متروک (انظر: ۸۷۶۰)
سیّدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ کو لے کر بڑی تیزی کے ساتھ گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر سکینت ہونی چاہیے۔
Takhreej
(۳۲۰۰) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۷۹(انظر: ۱۹۶۱۲)
(دوسری سند) سیّدناابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، مشکیزے کی طرح ہل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو۔
Takhreej
(۳۲۰۱)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …جنازہ اٹھانا مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہے، لیکن اس تعاون کی شکل یہ نہیں ہونی
ابو اسحاق ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں:میں سیّدناعبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازہ میں شریک ہوا، وہ خود اپنے سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے، عورتوں نے ان کے کوچوان سے کہا : ان کو جنازہ سے آگے لے چلو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: جنازہ کہاں ہے؟ کوچوان نے بتایا کہ وہ تو پیچھے ہے، انہوں نے ایک دو مرتبہ یہ سوال کر کے کہا: کیامیں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ تو مجھے جنازے سے آگے لے آئے۔ اتنے میں انھوں نے ایک عورت کو چہرہ پیٹتے ہوئے سنا، ایک روایت میں مرثیہ پڑھنے اور ایک روایت میں رونے کا ذکر ہے، بہرحال انھوں نے کہا: چپ ہو جاؤ،کیا میں نے تمہیں اس کام سے روکا نہیں تھا؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرثیوں سے منع کیا ہے،ہاں تم جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ آگے بڑھے اور چار تکبیرات کہیں، اس کے بعد کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، کچھ لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چوتھی تکبیر کہتے تو اسی طرح تھوڑی دیر ٹھہر جاتے تھے۔ پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اس وقت ان سے پالتو گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا: خیبر کے موقع پر ہم نے بستی سے باہر کچھ گدھے پائے اور ان کو ذبح کر دیا، ابھی ہنڈیوں میں کچھ گوشت ابلنے ہی لگا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: ان کو بہا دو، پس ہم نے ان کو بہا دیا۔ اس دن میں نے سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر ایک اونی چادر دیکھی جس کے کناروں پر ریشم کی کڑھائی تھی۔
Takhreej
(۳۲۰۲) تخریـج: …النھی عن لحوم الحمر الأھلیۃ منہ صحیح وھذا اسناد ضعیف لضعف علی بن بن عاصم والواسطی أخرج عبد الرزاق: ۸۷۲۲، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۴/ ۲۰۵ النھی عن لحوم الحمر الاھلیۃ۔ (انظر: ۱۹۴۱۷)
سیّدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ سیّدنا ثابت بن دحدحہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، اس کا منہ اور چاروں پائوں سفید تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے کوئی زین وغیرہ بھی نہیں تھی، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد چل رہے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتر کر نماز جنازہ پڑھائی اور بیٹھے رہے یہاں تک کہ تدفین سے فارغ ہوگئے،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھوڑا پر سوار ہو کر چلنے لگے، جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد چل رہے تھے۔
Takhreej
(۳۲۰۳) تخریـج: …ھذا الحدیث باطل بھذا السیاق لان عمر بن موسی کان یضع الحدیث و أخرجہ مسلم: ۹۶۵ بلفظ قریب منہ (انظر: ۲۰۸۳۴، ۲۰۹۴۴)
Explanation
فوائد: …صحیح مسلم اور مسند احمد کی دوسری روایات کے مطابق آپ aسیّدنا ثابت بن دحداحہbکی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعدگھوڑے پر سوار ہوئے، لیکن اس روایت میں ہے کہ آپ aجاتے وقت بھی سوار ہو کر گئے تھے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، جبکہ درج ذیل روایت سے بھی جاتے وقت پیدل چلنا ہی ثابت ہوتا ہے:
(دوسری سند) سیّدناجابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سیّدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شریک تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، جو اچھلتا ہوا جا رہا تھا اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد دوڑرہے تھے۔
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل آدمی جہاں مرضی چلے اور بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوارجنازے کے پیچھے چلے اور پیدل آدمی اس کے سامنے اور دائیں بائیں قریب قریب چل سکتا ہے اور نامکمل مردہ پیدا ہو جانے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔
سالم بن عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جنازے کے آگے آگے چلتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان بھی جنازے کے آگے آگے چلتے تھے۔
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدناابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔
عبداللہ بن یسارکہتے ہیں: سیّدنا عمرو بن حدیث رضی اللہ عنہ ، سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حسن کی عیادت کے لیے آئے ہیں، جب کہ آپ کے دل میں ا ن کے خلاف جذبات ہیں۔ یہ سن کر سیّدناعمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میرے رب نہیں کہ میرے دل کو جدھر چاہیں پھیر سکیں۔سیّدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: بہرحال یہ چیز آپ کو نصیحت کی بات کہنے سے مانع نہیں بن سکتی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بھی اپنے کسی بھائی کی تیمارداری کے لیے جائے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو اس کے لیے رحمت کی دعا کرنے کے لیے بھیجتا ہے، اگر یہ عمل دن کے کسی وقت میں ہو تو یہ فرشتے شام تک اور اگر رات کو ہو تو صبح تک دعا کرتے رہتے ہیں۔ پھر سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا: جنازہ کے آگے یا پیچھے چلنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جنازہ کے پیچھے چلنے والے کو آگے چلنے والے پر اس طرح فوقیت حاصل ہے، جیسے باجماعت نماز پڑھنے والے کو اکیلے پڑھنے والے پر ہے۔ یہ سن کر سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کو جنازہ کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا:چونکہ انہوں نے (ایک جہت میں ہی رہ کر) لوگوں کو مشقت میں ڈالنا اچھا نہ سمجھا، (اس لیے ایسے کیا تھا)۔
Takhreej
(۳۲۰۹) تخریـج: …حسن لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ عبد اللہ بن یسار أخرجہ ابوداود: ۳۰۹۹، وابن ماجہ: ۱۴۴۲ دون ذکر فضل المشی (انظر: ۶۱۲، ۷۵۴)
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنازہ کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنازے کے پیچھے رہا جائے، اس کو اپنے پیچھے نہ کیا جائے۔
Takhreej
(۳۲۱۰) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ أبی ماجد الحنفی، ویحیی بن عبد اللہ بن الحارث التیمی ضعفہ ابن معین وأبوحاتم والنسائی، وقال احمد: لیس بہ بأس، وقال العجلی: یکتب حدیثہ ولیس بالقوی، ووثقہ الترمذی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۸۴، والترمذی: ۱۰۱۱، وابن ماجہ: ۱۴۸۴ (انظر: ۳۵۸۵، ۳۹۳۹)۔ أخرجہ (انظر: )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ آواز اور آگ کو جنازے کے پیچھے لگایا جائے اور نہ اس کے آگے چلا جائے۔
Takhreej
(۳۲۱۱) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرجل من اھل المدینۃ و ابیہ، وباب بن عمیر الحنفی جھلہ الدارقطنی فی ’’الضعفائ:‘‘۱۳۵ وقال عن حدیثہ ھذا فی ’’سؤالات البرقانی‘‘: یترک ھذا الحدیث، وقال ابن حجر: مقبول أخرجہ ابوداود: ۳۱۷۱ (انظر: ۱۰۸۳۱)
Explanation
فوائد: …اس باب کی احادیث ِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جنازے کے ساتھ پیدل جانا چاہیے، بہرحال سوار ہو کر جانا بھی جائز ہے، جنازے کے ساتھ والے پیدل لوگ جنازے کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کہیں بھی چل سکتے ہیں، افضل یہی ہے کہ پیچھے چلا جائے، کیونکہ عام احادیث کا بھی یہی تقاضا ہے اور سیّدنا علیbکا قول بھی بڑا واضح ہے، سوار لوگوں کو پیچھے ہی رہنا چاہیے، واپسی پر بلا کراہت سوار ہونا جائز ہے۔
مجاہد سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا، پھر انھوں نے کہا: اگر تم بھی کھڑے ہو اور (ہمارے ساتھ چلو)۔ پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کو سختی سے پکڑا، جب ہم قبرستان کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے پیچھے ایک عورت کے چیخنے کی آواز سنی، جبکہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے مجھے گھمایا اور اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ہے، جس کے ساتھ رونے کی آواز ہو۔
Takhreej
(۳۲۱۲) تخریـج: …حسن بمجموع طرقہ و شواہدہ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۳۴۹۸، ورواہ ابن ماجہ: ۱۵۸۳ مختصرۃ بالمرفوع فقط (انظر: ۵۶۶۸)
Explanation
فوائد: …ابن ماجہ کی روایت میں ’’رَانَّۃٌ‘‘ (رونے والی خاتون)کے الفاظ ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کے لیے ان کی بے صبری کی وجہ سے جنازوں کے ساتھ چلنا مکروہ ہے۔ بہرحال اگر نماز جنازہ مسجد یا گھر کے اندر ہی پڑھا جا رہا ہو تو عورتوں کو شرکت کرنی چاہیے، جیسا کہ گزر جانے والے چوتھے باب ’’مسجد میں نماز جنازہ کا بیان‘‘ میں مذکورہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔