TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3875 - صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 11 in this chapter
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
۔ (۳۸۷۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَصُوْمُوْا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَحْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۱۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صرف جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔
3875
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۷۵) تخر یـج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۶۱۵)

Related Chapters

776
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast On Friday Alone
باب: خاص کر صرف جمعہ کو روزہ رکھنے کی کراہیت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Friday
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
5
شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی ممانعت اور اس کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
6
Chapter: The prohibition of fasting on the two days of 'Id
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دنوں میں روزہ رکھنے کی ممانعت
Sahih Muslim
7
Chapter: It is disliked to single out Friday for fasting, unless it coincides with a day that one customarily fasts
صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا ناپسندیدہ ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
9
رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
10
باب: ماہ رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
باب: شک والے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
باب: عرفہ کے دن (حاجی کے لیے) روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: [What Has Been Related] About One Who Catches A Rak'ah Of The Friday Prayer
باب: جسے جمعہ کی صرف ایک رکعت ملی اس کو جمعہ مل گیا
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day OF Doubt
باب: شک کے دن روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About: Fasting And Breaking Fast Are Based Upon The Sighting (Of The Crescent)
باب: چاند دیکھ کر روزہ رکھنے اور دیکھ کر روزہ بند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Fasting Based Upon Testimony
باب: چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Fast While Traveling
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The Pregnant And Breast-Feeding Women To Break The Fast
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Saturday
باب: ہفتہ (سنیچر) کے دن کے روزہ کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Monday And Thursday
باب: سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Fast The Day Of Ashura
باب: عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Not Fast The Day Of Ashura
باب: یوم عاشوراء کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Fasting Consecutive Days
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About It Being Dislike To Fast On The Day Of Fitr And The Day Of Nahr
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Breaking Fast At The Time Of Fighting
باب: لڑائی کے وقت روزہ نہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
38
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
روزہ رکھنے اور ترک کرنے کے بارے میں چاند کی رؤیت کے سلسلے میں کیسے افراد کی گواہی پر اکتفا کیا جائے؟
Musnad Ahmad
40
سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان
Musnad Ahmad
41
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
داود علیہ السلام کے روزوں یعنی ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
45
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
Musnad Ahmad
46
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
Musnad Ahmad
47
(85) CHAPTER. Fasting on the Day of Arafa (at Arafat).
عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان
Sahih Bukhari
48
(47) CHAPTER. Saum (fasting) of boys (children etc.)
بچوں کے روزہ رکھنے کا بیان
Sahih Bukhari
49
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
Sahih Bukhari
50
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

136
Musnad Ahmad
814
۔ (۸۱۴)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَقَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بَنِ عَطَائِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ عَلْقَمَۃَ أَخُو بَنِیْ عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ بَیْتَ مَیْمُونَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِغَدِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ قَالَ: وَکَانَتْ مَیْمُونَۃُ قَدْ أَوْصَتْ لَہُ بِہِ فَکَانَ اِذَا صَلَّی الْجُمُعُۃَ بُسِطَ لَہُ فِیْہِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَیْہِ فَجَلَسَ فِیْہِ لِلنَّاسِ، قَالَ: فَسَأَلَہُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْوُضُوئِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ: فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَدَہُ اِلَی عَیْنَیْہِ وَقَدْ کُفَّ بَصَرُہُ فَقَالَ: بَصُرَ عَیْنَایَ ہَاتَانِ، رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَوَضَّأُ لِصَلَاۃِ الظُّہْرِ فِی بَعْضِ حُجَرِہِ ثُمَّ دَعَاہُ بِلَالٌ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَنَہَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلٰی بَابِ الْحُجْرَۃِ لَقِیَتْہُ ہَدِیَّۃٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِہَا اِلَیْہِ بَعْضُ أَصْحَابِہِ، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ مَعَہُ وَوُضِعَتْ لَہُمْ فِی الْحُجْرَۃِ، قَالَ: فَأَکَلَ وَأَکَلُوْا مَعَہُ، قَالَ: ثُمَّ نَہَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَنْ مَعَہُ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَنْ کَانَ مَعَہُ مَائً، قَالَ: ثُمَّ صَلّٰی بِہِمْ، وَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آخِرَہُ۔ (مسند أحمد: ۲۳۷۷)
محمد بن عمر کہتے ہیں: میں جمعہ کے اگلے دن سیدنا ابن عباسؓ کے پاس گیا، جو سیدہ میمونہؓ کے گھر میں تھے، سیدہ نے ان کے لیے اس گھر کی وصیت کی تھی، جب وہ نمازِ جمعہ ادا کر لیتے تو ان کے لیے اس گھر میں چٹائی وغیرہ بچھا دی جاتی، پس وہ اس گھر کی طرف چلے جاتے اور لوگوں کے لیے بیٹھ جاتے۔ ایک دن ایک بندے نے ان سے آگ پر پکے ہوئے کھانے سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ میں سن رہا تھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، جبکہ اِس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے، اور کہا: میری ان آنکھوں نے دیکھا، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کسی حجرے میں وضو کیا، پھر سیدنا بلالؓ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو نماز کے لیے بلایا اور آپ نکل پڑے، لیکن جب حجرے کے دروازے پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو روٹی اور گوشت کا ہدیہ وصول ہوا، جو کسی صحابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف بھیجا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ساتھ والے صحابہ کے ساتھ واپس لوٹ گئے، حجرے میں یہ کھانا لگایاگیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے صحابہ نے کھایا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے کسی صحابی نے پانی کو چھوا تک نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا ابْنِ عَبَّاسٍؓ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے آخری عمل کو پایا ہے۔
Musnad Ahmad
1647
۔ (۱۶۴۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ {الٓم تَنْزِیْلُ} وَ {ھَلْ أَتٰی}، وَفِی الْجُمُعَۃِ سُورَۃَ الْجُمُعَۃِ وَ {إِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُونَ}۔ (مسند احمد: ۱۹۹۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی اور نماز جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
2735
۔ (۲۷۳۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ عَنِ الْغُسْلِ یَوَمَ الْجُمُعَۃِ أَوَاجِبٌ ھُوَ؟ قَالَ: لَا، وَمَنْ شَائَ اِغْتَسَلَ، وَسَاُحَدِّثُکُمْ عَنْ بَدْئِ الْغُسْلِ، کَانَ النَّاسُ مُحْتَاجِیْنَ وَکَانُوا یَلْبَسُوْنَ الصُّوفَ وَکَانُوا یَسْقُونَ النَّخْلَ عَلٰی ظُہُوْرِھِمْ وَکَانَ مَسْجِدُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَیِّقًا مُتَقَارِبَ السَّقْفِ فَرَاحَ النَّاسُ فِی الصُّوْفِ فَعَرِقُوا وَکَانَ مِنْبَرُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَصِیْرًا، اِنَّمَا ھُوَ ثَـلَاثُ دَرَجَاتٍ فَعَرِقَ النَّاسُ فِی الصُّوفِ فَثَارَتْ أَرْوَاحُہُمْ أَرْوَاحُ الصُّوفِ فَتَأَذَّی بَعْضُہُمْ بِبَعْضٍ حَتّٰی بَلَغَتْ أَرْوَاحُہُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِذَا جِئْتُمُ الْجُمُعَۃَ فَاغْتَسِلُوْا وَلْیَمَسَّ أَحَدُکُمْ مِنْ أَطْیِبِ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی آدمی نے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ واجب ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، لیکن جو چاہتا ہے، وہ غسل کر لے۔ اور میں تجھے غسل کے آغاز کے بارے میں بیان کرتا ہوں، بات یہ ہے کہ لو گ محتاج (اور فقیر) تھے، اون کا لباس پہنتے تھے اور اپنی پشتوں پر( مشکیزے اٹھا اٹھا کر) کھجوروںکو پانی دیا کرتے تھے، جبکہ مسجد نبوی تنگ اور کم بلند چھت والی تھی۔ (ایک دن یوں ہوا کہ) لوگ اسی طرح اونی لباس پہنے آگئے، اس میں ان کو پسینہ آیا، اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا منبر بھی چھوٹا سا تھا، بس تین سیڑھیاں تھیں، جب لوگوں کو اون میں پسینہ آیا تو خوب بو پھیلنے لگی اور ان کو ایک دوسرے سے تکلیف ہونے لگی، ان کی یہ بو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک بھی پہنچی، جبکہ آپ منبر پر تھے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! جب تم جمعہ کے لیے آؤ تو غسل کر لیا کرو اور اگر ہو سکے توبہترین خوشبو استعمال کیا کرو۔
Musnad Ahmad
2744
۔ (۲۷۴۴) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا أَبُو الْیَمانِ ثَنَا شُعَیْبٌ قَالَ سُئِلَ الزُّھْرِیُّ ھَلْ فِی الْجُمُعَۃِ غُسْلٌ وَاجِبٌ؟ فَقَالَ حَدَّثَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ جَائَ مِنْکُمْ الْجُمُعَۃَ فَلْیَغْتَسِلْ۔)) وَقَالَ طَاوُسٌ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: ذَکَرُوا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِغْتَسِلُوا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاغْسِلُوا رُؤُوْسَکُمْ وَاِنْ لَمْ تَکُوْنُوا جُنُبًا وَأَصِیْبُوا مِنَ الطِّیْبِ۔)) فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ، وَأَمَّا الطِّیْبُ فَـلَا أَدْرِی۔ (مسند احمد: ۳۰۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے ۔طاؤس کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہاکہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سروں کو دھوؤ، اگرچہ تم جنبی بھی نہ ہواور خوشبو بھی لگاؤ۔ سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: غسل کا حکم تو ٹھیک ہے، لیکن خوشبو کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
Musnad Ahmad
2788
۔ (۲۷۸۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَائِمًا ثُمَّ یَقْعُدُ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے۔
Musnad Ahmad
2801
۔ (۲۸۰۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَکَلَّمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَخْطُبُ فَہُوَ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا وَالَّذِی یَقُوْلُ لَہُ أَنْصِتْ لَیْسَ لَہُ جُمُعَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے بہت ساری کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو شخص اس کو کہے کہ خاموش ہوجاؤ، اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہو گا۔
Musnad Ahmad
2815
۔ (۲۸۱۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ فِی صَلَاۃِ الصُّبْحِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ {الٓم تَنْزِیْلُ} وَ{ھَلْ أَتٰی}، وَفِی الْجُمُعَۃِ سُوْرَۃَ الْجُمُعَۃِ وَ{اِذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُوْنَ}۔ (مسند احمد: ۱۹۹۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر اور نماز جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
3680
۔ (۳۶۸۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما : عَجِبْتُ مِمَّنْ یَتَقَدَّمُ الشَّہْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ، اَوْ قَالَ: صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۱)
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے کہ: اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو۔
Musnad Ahmad
3698
۔ (۳۶۹۸) عَنْ کُرَیْبٍ اَنَّ اُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْہُ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ بِالشَّامِ قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَیْتُ حَاجَتَہَا وَاسْتُہِلَّ عَلَیَّ رَمَضَانُ وَاَنَا بِالشَّامِ فَرَاَیْنَا الْہِلَالَ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فِی آخِرِ الشَّہْرِ، فَسَاَلَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ثُمَّ ذَکَرَ الْہِلاَلَ فَقَالَ: مَتٰی رَاَیْتُمُوْہُ؟ فَقُلْتُ: رَاَیْنَا لَیْلَۃَ الْجُمْعَۃِ، فَقَالَ: اَنْتَ رَاَیْتَہُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآہُ النَّاسُ وَصَامُوْا وَصَامَ مُعَاوِیَۃُ، فَقَالَ: لٰکِنَّا رَاَیْنَاہُ لَیْلَۃَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُوْمُ حَتّٰی نُکْمِلَ ثَلَاثِیْنَ اَوْ نَرَاہُ فَقُلْتُ: اَوَلَاتَکْتَفِیْ بِرُؤْیَۃِ مُعَاوِیَۃِ وَصِیَامِہِ؟ فَقَالَ: لَا، ہٰکَذَا اَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۹)
۔ کریب کہتے ہیں: سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف شام میں بھیجا، میں وہیں تھا کہ ماہِ رمضان کا چاند نظرآ گیا، ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا، میں اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آ گیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کچھ امور کے بارے میں پوچھا اور پھر چاند کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے مجھ سے کہا: تم نے کب چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انھوں نے کہا: تو نے خود بھی دیکھا تھا، میں نے کہا: جی ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا تھا، پھر سب لوگوں نے اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روزہ رکھا تھا۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: لیکن ہم نے ہفتہ کی شام کو دیکھا تھا، اس لیےہم تو روزہ رکھتے رہیں گے، یہاں تک تیس دن پورے ہو جائیںیا چاند نظر آ جائے، میں نے کہا: کیا آپ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رؤیت اور روزے کو معتبر نہیںسمجھیں گے؟ انھوں نے کہا: یہ بات نہیں ہے، اصل میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔