TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان - احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 19 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 19 of 22 · 8 Hadith
۔ (۴۲۸۰) عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُحْرِمُ لَا یَنْکِحُ وَلَا یُنْکِحُ وَلَا یَخْطُبُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۴)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ محرم اپنا نکاح کر سکتا ہے، نہ کسی کا کروا سکتا ہے اور نہ نکاح کا پیغام بھیج سکتا ہے۔
Takhreej
(۴۲۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۰۹(انظر: ۵۳۴)
4280
Sahih
۔ (۴۲۸۱)عَنْ نُبَیْہِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ مَعْمَرٍ وَکَانَ یَخْطُبُ بِنْتَ شَیْبَۃَ بْنِ عُثْمَانَ عَلٰی ابْنِہِ، فَأَرْسَلَ إِلٰی أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ وَہُوَ عَلٰی الْمَؤْسِمِ، فَقَالَ: أَلَا أُرَاہُ أَعْرَابِیًا، إِنَّ الْمُحْرِمَ لاَ یَنْکِحُ وَلَا یُنْکِحُ، أَخْبَرَنِی بِذٰلِکَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَدَّثَنِی نُبَیْہٌ عَنْ أَبِیْہِ بِنَحْوِہِ۔ (مسند احمد: ۵۳۵)
۔ نُبَیہ بن وہب کہتے ہیں: عمر بن عبید اللہ اپنے بیٹے (طلحہ) کے لیے شیبہ بن عثمان کی بیٹی کا رشتہ لینا چاہتے تھے، پس انھوں نے ابان بن عثمان کی طرف پیغام بھیجا، جبکہ وہ اس وقت امیرِ حج تھے، انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ شخص بھی بدّو ہی ہے، (جو شرعی احکام سے جاہل ہے)، بات یہ ہے کہ محرم نہ نکاح کر سکتا ہے اور نہ کروا سکتا ہے، مجھے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کی تھی۔
Takhreej
(۴۲۸۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۰۹ (انظر: ۵۳۵)
4281
Sahih
۔ (۴۲۸۲)عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ امْرَأَۃٍ أَرَادَ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ وَہُوَ خَارِجٌ مِنْ مَکَّۃَ، فَأَرَادَ أَنْ یَعْتَمِرَ أَوْ یَحُجَّ، فَقَالَ: لاَ تَتَزَوَّجْہَا وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ، نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۵۹۵۸)
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جبکہ وہ مکہ سے باہر تھے، سے پوچھا کہ ایک آدمی، ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، اب اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ عمرہ اور حج بھی کر لے (اور پھر احرام کی حالت میں شادی بھی کرے) سیدناعبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم احرام کی حالت میں اس سے شادی نہیں کر سکتے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۴۲۸۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الدارقطنی فی ’’السنن‘‘: ۳/ ۲۶۰ (انظر: ۵۹۵۸)
4282
Sahih
۔ (۴۲۸۳) عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ لَا یَرٰی بَأْسًا أَن یَتَزَوْجَ الرَّجُلُ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَیَقُوْلُ إِنَّ نَبِیَّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ مَیْمُوْنَہَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَائٍ یُقَالُ لَہُ سَرِفُ، وَہُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمَّا قَضَینَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَجَّتہُ أَقْبَلَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِذَالِکَ الْمَائِ أَعْرَسَ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۲)
۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ احرام کی حالت میں شادی کر لینے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے، کیونکہ وہ کہتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے احرام کی حالت میں شادی کی تھی، جبکہ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سرف مقام پر پانی کے پاس تھے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا حج پورا کر لیا تو اسی پانی کے پاس آ ئے تو ان کی رخصتی عمل میں آئی۔
Takhreej
(۴۲۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۲۵۸، ۵۱۱۴، ومسلم: ۱۴۱۰ (انظر: ۲۴۹۲)
4283
Sahih
۔ (۴۲۸۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَکَحَ مَیْمُوْنَۃَ وَہُوَ مُحْرِمٌ وَبَنٰی بِہَا حَلَالاً بِسَرِفَ وَمَاتَتْ بِسَرِفَ۔ (مسند احمد: ۳۳۸۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نکاح کیا تھا،لیکن جب سرف مقام پر ان کے ساتھ خلوت اختیار کی تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حلال تھے، پھر سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بعد میں اسی مقامِ سرف پر فوت ہوئی تھیں۔
Takhreej
(۴۲۸۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4284
Sahih
۔ (۴۲۸۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَہُمَا مُحْرِمَانِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۰)
۔ (تیسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب سیدہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نکاح کیا تو وہ دونوں احرام کی حالت میں تھے۔
Takhreej
(۴۲۸۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نکاح کیا،یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا وہم ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام سے پہلے نکاح کیا تھا، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
4285
Sahih
۔ (۴۲۸۶) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَہَا حَلَالاًً، وَبَنٰی بِہَا حَلَالًا وَمَاتَتْ بِسَرِفَ فَدَفَنَّاہَا فِی الظُّلَّۃِ الَّتِی بَنٰی بِہَا فِیْہَا، فَنَزَلْنَا فِی قَبْرِہاَ أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۶۵)
۔ یزید بن اصم سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حلال تھے، اسی طرح جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے خلوت اختیار کی تو اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ بعد میں سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا انتقال بھی سرف کے مقام پر ہوا تھا، ہم نے انہیں اسی سائے میں دفن کیا تھا،جہاںرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ شب باشی کی تھی، میں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ان کی قبر میں اترے تھے۔
Takhreej
(۴۲۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۱۱(انظر: ۲۶۸۲۸)
4286
Sahih
۔ (۴۲۸۷) عَنْ أَبِی رَافِعٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَزَوَّجَ مَیْمُوْنَۃَ حَلَالاً وَبَنٰی بِہَا حَلَالاً وَکُنْتُ الرَّسُوْلَ بَیْنَہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳۹)
۔ مولائے رسول سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نکاح کیا اور جب ان کے ساتھ خلوت اختیار کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حلال تھے یعنی احرام کی حالت میں نہ تھے اور میں ان دونوں کے درمیان قاصد تھا۔
Takhreej
(۴۲۸۷) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ الترمذی: ۸۴۱(انظر: ۲۷۱۹۷)
Explanation
فوائد: …منگنی کا پیغام بھیجنا، نکاح کرنا اور نکاح کروانا، یہ سب امور محرِم کے لیے حرام ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے احرام سے پہلے شادی کی تھی، اس معاملے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو حقیقت ِ حال کا علم نہ ہو سکا تھا اور انھوں نے کسی وہم کی بنا پر یہ سمجھ لیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کی حالت میں نکاح کیا تھا، ممکن ہے کہ جب یہ نکاح مشہور ہوا ہو تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احرام کی حالت میں ہوں اور سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے یہی سمجھ لیا ہو کہ ابھی نکاح ہوا ہے۔سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا صاحب القصہ تھیں اور سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اس نکاح کے قاصد تھے، ان دونوں کا بیانیہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام سے پہلے نکاح کیا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے محرِم کے لیے نکاح کرنے کو حرام بھی قرار دیا ہے، اس لیےیہ قرائن اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ نکاح احرام سے پہلے ہوا تھا۔سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اصل نام بَرّہ تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام میمونہ رکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمرۂ قضا کے موقع پر ذوالحجہ ۷ ھ میں احرام سے پہلے ان سے نکاح کیا تھا اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد حق زوجیت ادا کیا تھا۔
4287
Sahih

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.