TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4952 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 12 in this chapter
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
۔ (۴۹۵۲)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْیَانِ اِلٰی ثَنِیَّۃِ الْوِدَاعِ، نَتَلَقّٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: اَذْکُرُ مَقْدَمَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ تَبُوْکَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۱۲)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف نکلا، ہم دراصل رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملنے کے لیے گئے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ سفیان راوی نے ایک بار کہا: مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا آنا یاد ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تبوک سے واپس لوٹے تھے۔
4952
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۹۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۸۳، ۴۴۲۶، ۴۴۲۷(انظر: ۱۵۷۲۱)

Related Chapters

190
1
سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
مجاہدین کو امام اور حاکم کی وصیت
Sunnan Ibn e Maja
3
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
5
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
6
CHAPTER: Saying ’Amin Behind The Imam.
باب: امام کے پیچھے آمین کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
8
امام کے نکلنے کے وقت مؤذن کے اقامت کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
امام کے پیچھے آمین کہنے کے حکم۔
Sunnan Nisai
11
امام کے سلام پھیرنے کے بعد تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
(20)Chapter: [What Has Been Related] About The Tasmiyah When Performing Wudu
باب: وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The lqamah Once
باب: اقامت اکہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Iqamah Two Times Each
باب: اقامت دہری کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Adhan With Deliberateness And Slowly
باب: اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کے کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About At-Ta'min
باب: آمین کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tamin
باب: آمین کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For The Bowing And Prostration Positions
باب: رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something Else
باب: رکوع اور سجود کے وقت ”اللہ اکبر“ کہنے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Mentioned About The Tasmiyah When Entering The Area Of Relieving Oneself
باب: پاخانے (بیت الخلاء) میں داخل ہوتے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Permission For The One At War To Break The Fast
باب: مجاہد اور غازی کے لیے روزہ توڑ دینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What has been related about: Your case is up to you
باب: بیوی سے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About One Who Says To Another: O You Effeminate
باب: دوسرے کو مخنث (ہجڑا) کہنے والے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: The Adhan In The Ear Of The Newborn
باب: نومولود کے کان میں اذان کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Making Exceptions In Oath
باب: قسم میں ان شاءاللہ کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prepares A Fighter
باب: مجاہد اور غازی کا سامان تیار کرنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Mujahid, The One Getting Married, And The Mukathib, And Allah's Help For Them
باب: مجاہد، شادی کرنے والے اور مکاتب غلام کے لیے مدد الٰہی کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Meeting The One Who Was Away When He Arrives
باب: آنے والے کے استقبال کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Saying What Is Good
باب: معروف (بھلی بات) کہنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About I Have Been Ordered To Fight The People Until They Say: La Ilaha Illallah
باب: جب تک لوگ لا إلہ الا اللہ کہنے نہ لگ جائیں اس وقت تک مجھے ان سے جہاد کرتے رہنے کا حکم دیا گیا ہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Welcome
باب: مرحبا کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
باب: چھینکنے والے کے «الحمد للہ» کہنے پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا کرنا واجب ہے
Jam e Tirmazi
34
باب: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں“ کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: کسی کو پیار و شفقت سے ”میرے بیٹے“ کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Bidding Farewell To A Person
باب: کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: Something Else: The Supplication: “May Allah Grant You Taqwa As Your Provision”
باب: مسافر کو الوداع کہتے وقت پڑھی جانے والی دعا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
38
بَاب قصَّة حجَّة الْوَدَاع
قصہ حجۃ الوداع
Mishkat
39
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
Musnad Ahmad
41
اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
جمعہ کے لیے، اور بارش والے دن اذان کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
44
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان (نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
Musnad Ahmad
46
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
48
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
Musnad Ahmad
49
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

8
Musnad Ahmad
11713
۔ (۱۱۷۱۳)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْیَانِ إِلَی ثَنِیَّۃِ الْوَدَاعِ، نَتَلَقّٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: أَذْکُرُ مَقْدَمَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ تَبُوکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۲)
سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے تو میں دوسرے بچوں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع کی طرف گیا تھا۔سفیان راوی نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا: سائب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کا واقعہ یاد ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تبوک سے واپس آئے تھے۔
Musnad Ahmad
4993
۔ (۴۹۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی فِیْ بَعْضِ مَغَازِیْہِ امْرَاَۃً مَقْتُوْلَۃً فَنَھٰی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ۔ (مسند أحمد: ۵۴۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعض غزووں میں ایک عورت کو قتل شدہ پایا اور پھر عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔
Musnad Ahmad
9416
۔ (۹۴۱۶)۔ عَنْ حَسَّانَ بْنِ کُرَیْبٍ، اَنَّ غُلَامًا مِنْھُمْ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبَوَاہُ اَشَدَّ الْوَجْدِ، فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِیْ مِثْلِ اِبْنِکَ اَنَّ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِہٖکَانَلَہُابْنٌقَدْاَدَّبَاَوْدَبَّوَکَانَیَاْتِیْ مَعَ اَبِیْہِ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اِنَّ اِبْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَہُ عَلَیْہِ اَبُوْہُ قَرِیْبًا مِنْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ لَایَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا اَرٰی فُلَانًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ابْنَہُ تُوُفِّیَ فَوَجَدَ عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا فُلَانُ! اَتُحِبُّ لَوْ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ الْآنَ کَانْشَطِ الصِّبْیَانِ نَشَاطًا؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ اَجْرَاُ الْغِلْمَانِ جَرَائَ ۃً؟ اَتُحِبُّ اَنَّ ابْنَکَ عِنْدَکَ کَھْلًا کَاَفْضَلِ الْکُھُوْلِ اَوْ یُقَالَ لَکَ: اُدْخُلِ الْجَنَّۃَ ثَوَابَ مَا اُخِذَ مِنْکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۳۷)
۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟
Musnad Ahmad
10942
۔ (۱۰۹۴۲)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِکٍ: إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ حَدِیثٍ وَأَنَا أَہَابُکَ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْہُ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ یَا ابْنَ أَخِی! إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِی عِلْمًا فَسَلْنِی عَنْہُ وَلَا تَہَبْنِی، قَالَ: فَقُلْتُ: قَوْلُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعَلِیٍّ حِینَ خَلَّفَہُ بِالْمَدِینَۃِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَقَالَ سَعْدٌ: خَلَّفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلِیًّا بِالْمَدِینَۃِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُخَلِّفُنِی فِی الْخَالِفَۃِ فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ: ((أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسَی؟)) قَالَ: بَلَی،یَارَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: فَأَدْبَرَ عَلِیٌّ مُسْرِعًا کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی غُبَارِ قَدَمَیْہِیَسْطَعُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: فَرَجَعَ عَلِیٌّ مُسْرِعًا۔ (مسند احمد: ۱۴۹۰)
سعید بن مسبب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے پوچھتے ہوئے ڈرتا بھی ہوں۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، جب تم جانتے ہو کہ میرے پاس کسی بات کا علم ہے تو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، پوچھو، میں نے کہا: غزوۂ تبوک کے موقع پر جب اللہ کے رسول نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ میں چھوڑنے کا اظہار فرمایا تو انہوں نے عرض کیا: کیا آپ مجھے یہاں غزوہ سے پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کو تھی؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یوںتیزی سے واپس ہوئے کہ گویا میں ان کے قدموں سے اُڑنے والے غبار کو اب بھی دیکھ رہا ہوں، دوسری روایت میں ہے: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جلدی جلدی واپس لوٹ گئے۔
Musnad Ahmad
11177
۔ (۱۱۱۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّیَ بِالصِّبْیَانِ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ، قَالَ: وَإِنَّہُ قَدِمَ مَرَّۃً مِنْ سَفَرٍ، قَالَ: فَسُبِقَ بِی إِلَیْہِ، قَالَ: فَحَمَلَنِی بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ: ثُمَّ جِیئَ بِأَحَدِ ابْنَیْ فَاطِمَۃَ إِمَّا حَسَنٍ وَإِمَّا حُسَیْنٍ فَأَرْدَفَہُ خَلْفَہُ، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ ثَلَاثَۃً عَلٰی دَابَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۴۳)
سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خاندان کے بچوں کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملایا جاتا، ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس تشریف لائے اور مجھے سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لے جایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سواری پر اپنے آگے بٹھا لیا، پھر سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بیٹے سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سے کسی ایک کو لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنے پیچھے بیٹھا لیا، پھر ہم اس طرح تین آدمی ایک سواری پر سوار ہو کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔
Musnad Ahmad
11802
۔ (۱۱۸۰۲)۔ عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَتَبَ نَجْدَۃُ الْحَرُورِیُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ قَتْلِ الصِّبْیَانِ، وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ ہُوَ؟ وَعَنِ الصَّبِیِّ مَتٰی یَنْقَطِعُ عَنْہُ الْیُتْمُ؟ وَعَنِ النِّسَائِ ہَلْ کَانَ یُخْرَجُ بِہِنَّ أَوْ یَحْضُرْنَ الْقِتَالَ؟ وَعَنِ الْعَبْدِ ہَلْ لَہُ فِی الْمَغْنَمِ نَصِیبٌ؟ قَالَ: فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَمَّا الصِّبْیَانُ فَإِنْ کُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْکَافِرَ مِنَ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْہُمْ، وَأَمَّا الْخُمُسُ فَکُنَّا نَقُولُ: إِنَّہُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّہُ لَیْسَ لَنَا، وَأَمَّا النِّسَائُ فَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ مَعَہُ بِالنِّسَائِ فَیُدَاوِینَ الْمَرْضٰی وَیَقُمْنَ عَلَی الْجَرْحٰی وَلَا یَحْضُرْنَ الْقِتَالَ، وَأَمَّا الصَّبِیُّ فَیَنْقَطِعُ عَنْہُ الْیُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ، وَأَمَّا الْعَبْدُ فَلَیْسَ لَہُ مِنَ الْمَغْنَمِ نَصِیبٌ وَلٰکِنَّہُ قَدْ کَانَ یُرْضَخُ لَہُمََََََََْ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نجدہ حروری نے ان کے نام ایک خط لکھ کر ان سے یہ مسائل دریافت کئے: بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ خمس کے اہل کون لوگ ہیں؟بچے پر سے یتیمی کا اطلاق کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیںیا نہیں؟ کیا مال غنیمت میں غلام کا بھی حصہ ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواباً تحریر کیا: اگر تم خضر ہو اور جانتے ہو کہ بچہ بڑا ہو کر کافر بنے گا تو تم اسے قتل کر سکتے ہو ، رہا مسئلہ خمس کا تو ہم تو اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ہمارا یعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے، اب ہم میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ہمارا حق نہیں۔اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خواتین کو اپنے ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے، وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتیں، مریضوںکی تیمارداری کرتیں، البتہ جنگ میں شامل نہیں ہوتی تھیں۔بچہ جب بالغ ہو جائے تو اس سے یتیمی کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے۔غلام کا مال غنیمتمیں کچھ حصہ نہیں، البتہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ بطور عطیہ دیا جاتا تھا۔
Musnad Ahmad
12312
۔ (۱۲۳۱۲)۔ وَعَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِکٍ: إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ حَدِیثٍ، وَأَنَا أَہَابُکَ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْہُ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ یَا ابْنَ أَخِی! إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِی عِلْمًا فَسَلْنِی عَنْہُ وَلَا تَہَبْنِی، قَالَ: فَقُلْتُ: قَوْلُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ حِینَ خَلَّفَہُ بِالْمَدِینَۃِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَقَالَ سَعْدٌ: خَلَّفَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا بِالْمَدِینَۃِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُخَلِّفُنِی فِی الْخَالِفَۃِ فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ: ((أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسٰی؟)) قَالَ: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: فَأَدْبَرَ عَلِیٌّ مُسْرِعًا کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی غُبَارِ قَدَمَیْہِیَسْطَعُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: فَرَجَعَ عَلِیٌّ مُسْرِعًا۔ (مسند احمد: ۱۴۹۰)
سعید بن مسیب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سعد بن مالک یعنی سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک حدیث کی بابت دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے ہیبت زدہ بھی ہوں،انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، اگر تم جانتے ہو کہ میرے پا س کسی چیز کا علم ہے تو پوچھ لو اور مجھ سے مت ڈرو، میں نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیچھے مدینہ ـمیں چھوڑ گئے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیچھے مدینہ میں چھوڑا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسو ل! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوشی خوشی تیزی سے واپس ہوگئے، گویا کہ اب بھی میں ان کے قدموں سے اڑتا غبار دیکھ رہا ہوں۔ حماد راوی کے الفاظ یہ ہیں:یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تیزی سے واپس ہولیے۔
Musnad Ahmad
12442
۔ (۱۲۴۴۲)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَتَذْکُرُ یَوْمَ اسْتَقْبَلْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَنِی وَتَرَکَکَ؟ وَکَانَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسْتَقْبَلُ بِالصِّبْیَانِ إِذَا جَائَ مِنْ سَفَرٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۲۸)
عرو ہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آئے تھے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی سواری پر سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو بچوں کے ساتھ آپ کا استقبال کیا جاتا تھا۔