TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - Book 85 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 85 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 64 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

64 Hadith · 9 Chapters
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۶۲)۔ وَعَنْھَا: خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلّٰی فَجَائَ ہَا فَقَالَتْ: مَا زِلْتُ بَعْدَکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَائِبَۃً، قَالَ: فَقَالَ لَہَا: ((لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَکِ کَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَائَ نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۴)
۔ سیدہ جویریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد کسی کام کے لیے تشریف لے گئے اور پھر ان کے پاس واپس آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے بعد مسلسل ذکر کرتی رہیہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد ایسے کلمات کہے کہ اگر ان کا تیرے ذکر کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ بھاری ہو جائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَائَ نَفْسِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔ (اللہ تعالیٰ پاک ہے اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ تعالیٰ پاک ہے اپنے نفس کی رضامندی کے برابر، اللہ پاک ہے اپنے عرش کے وزن کے برابر، اللہ پاک ہے اپنے کلمات کی سیاہی کے برابر)۔
Takhreej
(۵۴۶۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۴۰(انظر: ۲۳۳۴)
5462
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۶۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَلِمَتَانِ خَفِیفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ، ثَقِیلَتَانِ فِی الْمِیزَانِ، حَبِیبَتَانِ إِلَی الرَّحْمٰنِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۶۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں، ترازو میں بھاری ہیں اور رحمن کو بڑے پیارے ہیں، وہ کلمے یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ۔
Takhreej
(۵۴۶۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۰۶،۶۶۸۲، ومسلم: ۲۶۹۴(انظر: ۷۱۶۷)
5463
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۶۴)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الَّذِینَ یَذْکُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللّٰہِ مِنْ تَسْبِیحِہِ وَتَحْمِیدِہِ وَتَکْبِیرِہِ وَتَہْلِیلِہِ، یَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ، لَہُنَّ دَوِیٌّ کَدَوِیِّ النَّحْلِ، یُذَکِّرُونَ بِصَاحِبِہِنَّ، أَلَا یُحِبُّ أَحَدُکُمْ أَنْ لَا یَزَالَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ شَیْئٌ یُذَکِّرُ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۵۲)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ تسبیح (سُبْحَانَ اللّٰہ)، تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہ)، تکبیر (اَللّٰہُ اَکْبَر) اور تہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ) کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے جلال کا ذکر کرتے ہیں، تو یہ (اذکار) عرش کے اردا گرد عاجزی کرتے ہیں، شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کی آواز ہوتی ہے اور یہ اپنے (ذکر کرنے والے) صاحب کا تذکرہ کرتے ہیں۔ تو اب کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ تمہارا کوئی ایسا عمل ہو جو (عرش کے پاس) تمھاری یاد دلاتا رہے۔
Takhreej
(۵۴۶۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۱/۵۰۰، وابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۲۸۹ (انظر: ۱۸۳۶۲)
Explanation
فوائد:… اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب آدمی اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تہلیلات اور تحمیدات بیان کرتا ہے تو اس کا یہ عمل مخصوص وجود اختیار کرکے عرش کے اردگرد گھومنا شروع کردیتا ہے اور ذکر کرنے والے کا تذکرہ کرتا ہے۔
5464
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۶۵)۔ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی: ((یَا قَبِیصَۃُ! مَا جَائَ بِکَ؟۔)) قُلْتُ: کَبِرَتْ سِنِّی، وَرَقَّ عَظْمِی، فَأَتَیْتُکَ لِتُعَلِّمَنِی مَا یَنْفَعُنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ، قَالَ: ((یَا قَبِیصَۃُ! مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ وَلَا مَدَرٍ إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَکَ یَا قَبِیصَۃُ! إِذَا صَلَّیْتَ الْفَجْرَ فَقُلْ ثَلَاثًا سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ، تُعَافٰی مِنْ الْعَمٰی وَالْجُذَامِ وَالْفَالِجِ، یَا قَبِیصَۃُ! قُلْ اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِمَّا عِنْدَکَ وَأَفِضْ عَلَیَّ مِنْ فَضْلِکَ، وَانْشُرْ عَلَیَّ رَحْمَتَکَ، وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۸۷۸)
۔ سیدنا قبیصہ بن مخارق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: قبیصہ! کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: میری عمر بڑی ہو گئی ہے اور ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں، اس لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ میں آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دے دیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قبیصہ! تو جس پتھر، درخت اور کچی اینٹ کے پاس سے گزرا، اس نے تیرے لیے بخشش طلب کی، اے قبیصہ! جب تو نمازِ فجر ادا کر لے تو تین بار یہ کلمہ کہہ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیمِ وَبِحَمْدِہِ، تجھے اندھے پن، کوڑھ اور فالج سے عافیت مل جائے گی، اے قبیصہ! یہ دعا کیا کرو: اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِمَّا عِنْدَکَ…… وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھے سے ان چیز وں کا سوال کرتا ہوں، جو تیرے پاس ہیں، تو مجھ پر اپنا فضل ڈال دے، مجھ پر اپنی رحمت نچھاور کر دے اور مجھ پر اپنی برکات نازل کر دے)۔
Takhreej
(۵۴۶۵) اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن قبیصۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر :۱۸/۹۴۰ (انظر: ۲۰۶۰۲)
5465
Zaeef
تحمید اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۶۶)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فِی الْحَلْقَۃِ، إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْقَوْمِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، فَرَدَّ النَّبِیُّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ عَلَیْہِ: ((وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ۔)) فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ یُحْمَدَ وَیَنْبَغِی لَہُ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کَیْفَ قُلْتَ؟)) فَرَدَّ عَلَیْہِ کَمَا قَالَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدِ ابْتَدَرَہَا عَشَرَۃُ أَمْلَاکٍ، کُلُّہُمْ حَرِیصٌ عَلٰی أَنْ یَکْتُبَہَا، فَمَا دَرَوْا کَیْفَ یَکْتُبُوہَا حَتَّی رَفَعُوہَا إِلٰی ذِی الْعِزَّۃِ، فَقَالَ: اُکْتُبُوہَا کَمَا قَالَ عَبْدِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۳۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آیا اور اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دوسرے لوگوں کو سلام کہتے ہوئے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں اس کا جواب دیا: وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ۔ جب وہ آدمی بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ یُحْمَدَ وَیَنْبَغِی لَہُ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت کی ہوئی تعریف، جیسا ہمارا ربّ چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور جیسے اس کے لائق ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے کہا؟ اس نے دوہرا کر وہ کلمات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دس فرشتے ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے، ہر ایک اس بات کا حریص تھا کہ وہ ان کو لکھے، لیکن پھر ان کو یہ سمجھ نہ آ سکی کہ وہ ان کو لکھیں کیسے، پھر وہ یہ کلمات ایسے ہی لے کر عزت والے ربّ کے پاس پہنچ گئے، اور اللہ تعالیٰ نے کہا: تم اسی طرح لکھ دو،جیسے میرے بندے نے کہا ہے۔
Takhreej
(۵۴۶۶) تخریج: اسنادہ قوی، لکن المحفوظ ان الرجل قال ما قالہ من الحمد اثنا الصلاۃ، أخرجہ ابن حبان: ۸۴۵، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۳۴۱(انظر: ۱۲۶۱۲)
5466
Zaeef
تحمید اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۶۷)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانٍِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّی إِذْ سَمِعْتُ مُتَکَلِّمًا یَقُولُ: اللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِی، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّی، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَلَکٌ أَتَاکَ یُعَلِّمُکَ تَحْمِیدَ رَبِّکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو یہ کلمات ادا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضَی مِنْ ذَنْبِی، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضَی بِہِ عَنِّی۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، ساری بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری خیر و بھلائی تیرے لیے ہے، سارا معاملہ تیرے طرف لوٹے گا، وہ اعلانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میرے وہ گناہ بخش دے، جو گزر چکے ہیں اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے زیادہ ثواب والا ایسا عمل عطا کر کہ جس کے ذریعے تو راضی ہو جائے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو فرشتہ تھا جو تیرے پاس آیا اور اس نے تجھے اپنے ربّ کی تحمید کی تعلیم دی۔
Takhreej
(۵۴۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن حذیفۃ (انظر: ۲۳۳۵۵)
5467
Zaeef
تحمید اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۶۸)۔ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا خَلَقَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا أَحْصٰی کِتَابُہُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا أَحْصَی کِتَابُہُ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ کُلِّ شَیْئٍ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ کُلِّ شَیْئٍ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ مِثْلَہَا فَأَعْظَمَ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۹۶)
۔ سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا پڑھی: ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کی مخلوق کے بھرنے کے بقدر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق کی تعداد کے برابر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس چیزوں کے بھراؤ کے بقدر جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کو اس کی کتاب نے شمار کیا،ساری تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے، ان چیزوں کے بھراؤ کے بقدر، جن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نے شمار کیا، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہر چیز کی تعداد کے برابر اور ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہر چیز کے بھراؤ کے بقدر، پھر اسی طرح سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے، تو اس کو بڑا اجر ملے گا۔
Takhreej
(۵۴۶۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر :۷۹۸۷، والحاکم: ۱/ ۵۱۳، و النسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۱۶۶، وابن خزیمۃ: ۷۵۴(انظر: ۲۲۱۴۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے یہ ذکر ثابت ہوتا ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا
5468
Sahih
تحمید اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۶۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَلْقٰی رَجُلًا فَیَقُولُ: ((یَا فُلَانُ کَیْفَ أَنْتَ؟)) فَیَقُولُ: بِخَیْرٍ أَحْمَدُ اللّٰہَ فَیَقُولُ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَعَلَکَ اللّٰہُ بِخَیْرٍ۔)) فَلَقِیَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((کَیْفَ أَنْتَ یَا فُلَانُ؟۔)) فَقَالَ: بِخَیْرٍ إِنْ شَکَرْتُ، قَالَ: فَسَکَتَ عَنْہُ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنَّکَ کُنْتَ تَسْأَلُنِی فَتَقُولُ: جَعَلَکَ اللّٰہُ بِخَیْرٍ، وَإِنَّکَ الْیَوْمَ سَکَتَّ عَنِّی، فَقَالَ لَہُ: ((إِنِّی کُنْتُ أَسْأَلُکَ فَتَقُولُ: بِخَیْرٍ أَحْمَدُ اللّٰہَ، فَأَقُولُ: جَعَلَکَ اللّٰہُ بِخَیْرٍ، وَإِنَّکَ الْیَوْمَ قُلْتَ: إِنْ شَکَرْتُ، فَشَکَکْتَ فَسَکَتُّ عَنْکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۵۷۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کو ملتے اور اس سے پوچھتے: اے فلاں! تم کیسے ہو؟وہ کہتا: خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو جواب دیتے: اللہ تعالیٰ تجھے خیریت کے ساتھ ہی رکھے۔ پھر ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ملے اور اس سے پوچھا: کیسے ہو؟ اس نے کہا: اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت ہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جواباً خاموش رہے، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلے جب بھی آپ مجھ سے سوال کرتے تو آپ مجھے یہ دعا دیتے کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیر کے ساتھ ہی رکھے، لیکن آج آپ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلے جب میں تجھ سے سوال کرتا تھا تو تو کہتا تھا کہ خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں اور میں جواباً کہتا کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیریت سے ہی رکھے، لیکن آج تو نے کہا ہے کہ اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت سے ہوں، تو تو نے شک کا اظہار کیا، سو میں خاموش رہا۔
Takhreej
(۵۴۶۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لسوء حفظ مؤمل بن اسماعیل، والصحیح انہ مرسل، أخرجہ البیھقی فی الشعب : ۴۴۴۹(انظر: ۱۳۵۳۷)
Explanation
فوائد:… بندے سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے اس کی حمد بیان کرے، وہ خوشحال ہو یا تنگ دست، مسرور ہویا غم زدہ، کیونکہ حمد و شکر، خیر و بھلائی کا سبب بنتے ہیں۔
5469
Zaeef
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۰)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا اَنَّ اَبَاہٗ دَفَعَہٗ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْدُمُہٗ قَالَ: فَاَتٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ صَلَیَّتُ رَکْعَتَیْنَ، فَقَالَ: ((اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی بَابٍ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ؟)) قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۵۹)
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سپرد کر دیا، تاکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کر سکوں، ایک دن وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور میں نے دو رکعت نماز پڑھی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر تیری رہنمائی کروں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)۔
Takhreej
(۵۴۷۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۵۸۱(انظر: ۱۵۴۸۰)
5470
Sahih
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۱)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہُ: ((أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ؟)) قَال:َ وَمَا ہُوَ:؟ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۹۳)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر تیری رہنمائی کروں؟ انھوں نے کہا: وہ کون سا ہے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)۔
Takhreej
(۵۴۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۱۰، ومسلم: ۲۷۰۴(انظر: ۱۹۷۵۵)
5471
Sahih
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۲)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا ذَرٍّ! أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ؟ قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۲۳)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا میں تیری جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر رہنمائی نہ کروں، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ کہا کرو۔
Takhreej
(۵۴۷۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۲۵(انظر: ۲۱۲۹۸)
5472
Sahih
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، فَإِنَّہَا کَنْزٌ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ۔))(مسند أحمد: ۸۳۸۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زیادہ سے زیادہلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
Takhreej
(۵۴۷۳) تخریج: صحیح، أخرجہ البزار: ۳۰۸۶، والحاکم: ۱/ ۲۱(انظر: ۸۴۰۶)
5473
Sahih
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۴)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا اَدُلُّکَ عَلٰی بَابٍ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: وَمَا ھُوَ؟ قَالَ: ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۲۲۴۵۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں جنت کے دروازوں میں ایک دروازے پر تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: وہ کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
Takhreej
(۵۴۷۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۲۰/ ۳۷۱ (انظر: ۲۲۰۹۹)
5474
Sahih
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَخْلٍ لِبَعْضِ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ، فَقَالَ: یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلَکَ الْمُکْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ ہٰکَذَا وَہٰکَذَا وَہٰکَذَا)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَثَا بِکَفِّہِ عَنْ یَمِینِہِ، وَعَنْ یَسَارِہِ وَبَیْنَ یَدَیْہِ وَقَلِیلٌ مَا ہُمْ ثُمَّ مَشٰی سَاعَۃً، فَقَالَ: ((یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کُنُوزِ الْجَنَّۃِ؟۔)) فَقُلْتُ: بَلٰی یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ۔)) ثُمَّ مَشٰی سَاعَۃً فَقَالَ: ((یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلْ تَدْرِی مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَی اللّٰہِ وَمَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی النَّاسِ؟۔)) قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((فَإِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی النَّاسِ أَنْ یَعْبُدُوہُ وَلَا یُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِکَ فَحَقٌّ عَلَیْہِ أَنْ لَا یُعَذِّبَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۷۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے ایک آدمی کے باغ میں چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کثیر مال والے لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، مگر جو ایسے ایسے اور ایسے کرے۔ تین بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے کیا کہ تمثیل پیش کرتے ہوئے ایک چلو دائیں جانب ڈالا، ایک بائیں جانب اور ایک سامنے اور پھر فرمایا: لیکن ایسے مالدار کم ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑے سے چلے اور فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا میں تیری جنت کے خزانوں میں سے ایک پر رہنمائی کر دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ذکر کیا کرو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ۔ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور اللہ تعالیٰ سے بچنے کے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، مگر اسی کی طرف۔) پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھوڑا سا چلے اور فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، جب وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔
Takhreej
(۵۴۷۵) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۳۰۸۹، والحاکم: ۱/ ۵۱۷ (انظر: ۸۰۸۵)
5475
Sahih
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۶)۔ عَنْ أَبِی بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: قَالَ لِی نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلْ أَدُلُّکَ عَلَی کَلِمَۃٍ کَنْزٍ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ تَحْتَ الْعَرْشِ؟۔)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی، قَالَ: ((أَنْ تَقُولَ: لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) قَالَ أَبُو بَلْجٍ: وَأَحْسَبُ أَنَّہُ قَالَ: فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: أَسْلَمَ عَبْدِی وَاسْتَسْلَمَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَمْرٍو: قَالَ أَبُو بَلْجٍ: قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، فَقَالَ لَا إِنَّہَا فِی سُورَۃِ الْکَہْفِ {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَائَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ} [الکھف: ۳۹] (مسند أحمد: ۸۴۰۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا میں ایسے کلمے پر تمہاری رہنمائی کروں، جو عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہار یہ کہنا کہ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ ابو بلج راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں کہتا ہے: میرا بندہ مطیع اور فرمانبردار ہو گیا ہے۔ میں نے عمرو سے کہا: ابو بلج کہتے ہیں کہ عمرو نے کہا: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ کلمہ سورۂ کہف میں ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَائَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ}… اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ (سورۂ کہف: ۳۹)
Takhreej
(۵۴۷۶) حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۳۰۸۶، والنسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۱۳(انظر: ۸۴۲۶)
Explanation
فوائد:… اس کلمہ کے ذریعے آدمی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے عجز و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
5476
Sahih
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۷)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، أَخْبَرَنِی أَبُو أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہِ مَرَّ عَلٰی إِبْرَاہِیمَ، فَقَالَ: مَنْ مَعَکَ یَا جِبْرِیلُ؟ قَالَ: ہَذَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہُ إِبْرَاہِیمُ: مُرْ أُمَّتَکَ فَلْیُکْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّۃِ، فَإِنَّ تُرْبَتَہَا طَیِّبَۃٌ وَأَرْضَہَا وَاسِعَۃٌ، قَالَ: ((وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّۃِ؟۔)) قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۴۸)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جس رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسراء (اور معراج) کرایا گیا ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: اے جبریل! تیرے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اپنی امت کو حکم دینا کہ وہ جنت میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، پس بیشک اس کی مٹی پاکیزہ اور زرخیز ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: جنت کے پودے کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
Takhreej
(۵۴۷۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن عبد الرحمن مجھول الحال، أخرجہ ابن حبان: ۸۲۱، والطبرانی فی الکبیر : ۳۸۹۸(انظر: ۲۳۵۵۲)
Explanation
فوائد:… انسان اس ذکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ نیکیوں والے کام کرتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے، تو اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہو رہا ہوتا ہے۔
5477
Zaeef
استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۸)۔ عَن عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَکْثَرَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ، جَعَلَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ کُلِّ ضِیقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کثرت سے استغفار کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو وہم و گمان تک نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۵۴۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحاکم بن مصعب مجھول، أخرجہ ابوداود: ۱۵۱۸، وابن ماجہ: ۳۸۱۹(انظر: ۲۲۳۴)
Explanation
فوائد:… درج ذیل آیات سے ثابت ہوا کہ رزق کا حصول اور غموں سے نجات استغفار کے فوائد میں سے ہیں:
5478
Zaeef
استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۷۹)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ إِبْلِیسَ قَالَ لِرَبِّہِ: بِعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِیْ بَنِیْ آدَمَ مَا دَامَتِ الْأَرْوَاحُ فِیہِمْ، فَقَالَ اللّٰہُ: فَبِعِزَّتِی وَجَلَالِی! لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَہُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِیْ)) (مسند أحمد: ۱۱۲۶۴)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابلیس نے اپنے ربّ سے کہا: تیری عزت اور جلال کی قسم! جب تک بنو آدم میں روحیں موجود رہیں گی، میں ہمیشہ ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے کہا: مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں ان کو بخشتا رہوں گا۔
Takhreej
(۵۴۷۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۹۹، والحاکم: ۴/ ۲۶۱، والطبرانی فی الاوسط : ۸۷۸۳(انظر: ۱۱۲۴۴)
5479
Sahih
استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۸۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِی الْیَوْمِ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعِینَ مَرَّۃً وَأَتُوبُ إِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں ایک دن میں ستر بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۴۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۰۷(انظر: ۷۷۹۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عبدیت کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔ (نَسْأَلُ اللّٰہَ اَنْ یُطَھِّرَنَا مِنَ الذُّنُوبِ وَاَنْ یَسْتُرَ مَا لَنَا مِنَ الْعُیُوْبِ)
5480
Sahih
استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْتُہُ اسْتَغْفَرَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ، أَوْ إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ۔)) (مسند أحمد: ۵۳۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ نے سو دفعہ بخشش طلب کی اور پھر یہ دعا کی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھ پر رجوع کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والارحم کرنے والا ہے)۔ ایک روایت میں آخر میں إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۵۴۸۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ أبوداود: ۱۵۱۶، والترمذی: ۳۴۳۴، وابن ماجہ: ۳۸۱۴ (انظر: ۵۳۵۴)
5481
Sahih