TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - Book 85 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 85 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 64 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

64 Hadith · 9 Chapters
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان
۔ (۵۴۴۲)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْن سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: عَلِّمْنِی کَلَامًا أَقُولُہُ، قَالَ: ((قُلْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔)) خَمْسًا، قَالَ: ہٰؤُلَاء ِ لِرَبِّی فَمَا لِی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۱)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کھچ کلمات کی تعلیم دیں، تاکہ میں ان کا ورد کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔ یہ پانچ کلمات ہیں، اس نے کہا: یہ کلمات تو میرے ربّ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے لیے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔(اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے رزق دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت دے)۔
Takhreej
(۵۴۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۶(انظر: ۱۵۶۱)
5442
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۴۳)۔ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ قَالَتْ: مَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ کَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ کَمَا قَالَتْ: فَمُرْنِی بِعَمَلٍ أَعْمَلُہُ وَأَنَا جَالِسَۃٌ، قَالَ: ((سَبِّحِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ، فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ رَقَبَۃٍ تُعْتِقِینَہَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ، وَاحْمَدِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَحْمِیدَۃٍ تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ فَرَسٍ مُسْرَجَۃٍ مُلْجَمَۃٍ تَحْمِلِینَ عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَکَبِّرِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَکْبِیرَۃٍ فَإِنَّہَا تَعْدِلُ لَکِ مِائَۃَ بَدَنَۃٍ مُقَلَّدَۃٍ مُتَقَبَّلَۃٍ، وَہَلِّلِی اللّٰہَ مِائَۃَ تَہْلِیلَۃٍ۔)) قَالَ ابْنُ خَلَفٍ: أَحْسِبُہُ قَالَ: ((تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَلَا یُرْفَعُ یَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ یَأْتِیَ بِمِثْلِ مَا أَتَیْتِ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۴۵۰)
۔ سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہوں، اس لیے مجھے کوئی ایسا بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھایا جائے گا، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
Takhreej
(۵۴۴۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی صالح، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۸۱۰(انظر: ۲۶۹۱۱)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَالْبَاقِیَّاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَ خَیْرٌ اَمَلَا} (کہف: ۴۶) … اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ثواب اور (آئندہ کی) اچھی توقع کے، بہت بہتر ہیں۔
5443
Zaeef
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۴۴)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ، عَنْ جُرَیٍّ قَالَ الْتَقَی رَجُلَانِ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سُبْحَانَ اللّٰہِ نِصْفُ الْمِیزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ یَمْلَؤُہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ یَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالْوُضُوئُ نِصْفُ الْإِیمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۴۸۷)
۔ جری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو سلیم کے دو آدمی صحابی تھے، جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سُبْحَانَ اللّٰہِنصف میزان کے برابر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا ثواب ترازو کو بھر دیتا ہے اور اَللّٰہُ أَکْبَر کا ثواب زمین و آسمان کے درمیانے حصہ کو بھرتا ہے، روزہ نصف صبر ہے اور وضو نصف ایمان ہے۔
Takhreej
(۵۴۴۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۵۱۹(انظر: ۲۳۰۹۹)
5444
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۴۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عَلَی الْأَرْضِ رَجُلٌ یَقُولُ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ إِلَّا کُفِّرَتْ عَنْہُ ذُنُوبُہُ، وَلَوْ کَانَتْ أَکْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند أحمد: ۶۴۷۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین پر جو آدمی یہ کلمات ادا کرتا ہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
Takhreej
(۵۴۴۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۴۶۰(انظر: ۶۴۷۹)
5445
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۴۶)۔ عن أَبی الزُّبَیْرِ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ، أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ: کُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَجُلٌ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ الْکَلِمَاتِ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی لَأَنْظُرُ إِلَیْہَا تَصْعَدُ حَتّٰی فُتِحَتْ لَہَا أَبْوَابُ السَّمَائِ۔)) فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا تَرَکْتُہَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، و قَالَ عَوْنٌ: مَا تَرَکْتُہَا مُنْذُ سَمِعْتُہَا مِنِ ابْنِ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔ (مسند أحمد: ۵۷۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی نے یہ ذکر کیا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کس نے کہے؟ اس آدمی نے کہا: جی میں نے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں ان کلمات کی طرف دیکھ رہا تھا، یہ چڑھے جا رہے تھے، یہاں تک کہ اس کے آسمان کے لیے دروازے کھول دیئے گئے۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب سے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ حدیث سنی، اس وقت سے میں نے یہ کلمات ترک نہیں کیے۔ عون راوی نے کہا: جب سے میں نے یہ حدیث سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنی، میں نے بھی ان کلمات کی ادائیگی کو ترک نہیں کیا۔
Takhreej
(۵۴۴۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۶۰۱(انظر: ۵۷۲۲)
5446
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۴۷)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی لَا أَسْتَطِیعُ أَخْذَ شَیْئٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِی مَا یُجْزِئُنِی، قَالَ: ((قُلْ سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہٰذَا لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لِی؟ قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی۔)) ثُمَّ أَدْبَرَ وَہُوَ مُمْسِکُ کَفَّیْہِ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمَّا ہٰذَا فَقَدْ مَلَأَ یَدَیْہِ مِنْ الْخَیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۳۲۰)
۔ سیدنا ابن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے آپ مجھے ایسے کلمات سکھلا دیں، جو اس سے مجھے کفایت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کلمات تو سارے اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر لیا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَعَافِنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ پھر وہ چلا گیا اور اس نے دونوں ہتھیلیوں کو بند کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو خیر و بھلائی سے بھر لیا ہے۔
Takhreej
(۵۴۴۷) تخریج: حدیث حسن بطرقہ، أخرجہ ابوداود: ۸۳۲(انظر: ۱۹۱۱۰)
5447
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۴۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اسْتَکْثِرُوا مِنَ الْبَاقِیَاتِ الصَّالِحَاتِ۔)) قِیلَ وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْمِلَّۃُ۔)) قِیلَ: وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْمِلَّۃُ۔)) قِیلَ: وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((الْمِلَّۃُ۔)) قِیلَ: وَمَا ہِیَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((التَّکْبِیرُ وَالتَّہْلِیلُ وَالتَّسْبِیحُ وَالتَّحْمِیدُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۱۱۷۳۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: باقیات صالحات کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تکبیر، تہلیل، تسبیح، تحمید اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔
Takhreej
(۵۴۴۸) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۸۴، والطبرانی فی الدعائ : ۱۶۹۶، وابن حبان: ۸۴۰، والحاکم: ۱/ ۵۱۲ (انظر: ۱۱۷۱۳)
Explanation
فوائد:… باقیات سے مراد یہ ہے کہ یہ کلمات کہنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس یہ محفوظ اور ذخیرہ کر لیے جاتے ہیں، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۵۴۴۳)کے فوائد۔
5448
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۴۹)۔ وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی حَدِیْثٍ لَہُ: ((اَلاَ وَاِنَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، ھُنَّ الْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۵۴۳)
۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ یہ اذکار باقیات صالحات ہیں۔
Takhreej
(۵۴۴۹) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۸۳۵۳)
5449
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۵۰)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنَ الْکَلَامِ أَرْبَعًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، فَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ کُتِبَ لَہُ عِشْرُونَ حَسَنَۃً، وَحُطَّتْ عَنْہُ عِشْرُونَ سَیِّئَۃً، وَمَنْ قَالَ: اللّٰہُ أَکْبَرُ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مِثْلُ ذٰلِکَ، وَمَنْ قَالَ: اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ کُتِبَ أَوْ کُتِبَتْ لَہُ ثَلَاثُونَ حَسَنَۃً، وَحُطَّ أَوْ حُطَّتْ عَنْہُ بِہَا ثَلَاثُونَ سَیِّئَۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۲۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے چار کلمات پسند کیے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ جس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا، اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور بیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی، جس نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا، اس کے لیے بھی اتنا ثواب ہو گا، جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہا، اس کے لیے بھی اتنا ہی اجرو ثواب ہو گا اور جس نے اپنے دل سے اَلْحَمْد لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کہا ، اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی اور تیس برائیاں معاف کر دی جائیں گی۔
Takhreej
(۵۴۵۰) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۳۰۷۴، والنسائی فی الیوم واللیلۃ : ۸۴۰ (انظر: ۱۱۳۰۴)
5450
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۵۱)۔ عَنْ اَبِی الصَّالِحِ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَفْضَلُ الْکَلَامِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۲۶)
۔ ابو صالح سے مروی ہے کہ ایک صحابی کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: افضل کلام یہ ہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔
Takhreej
(۵۴۵۱) اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن حبان: ۸۳۶، والنسائی فی الکبری : ۱۰۶۷۷(انظر: ۱۶۴۱۲)
5451
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۵۲)۔ حَدَّثَنَا أَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَخَذَ غُصْنًا فَنَفَضَہُ فَلَمْ یَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَہُ فَلَمْ یَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَہُ فَانْتَفَضَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ تَنْفُضُ الْخَطَایَا کَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۶۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شاخ پکڑی، اس کو ہلایا، لیکن اس سے پتے نہ جھڑے، پھر ہلایا، لیکن پھر بھی پتے نہیں جھڑے، پھر اس کو ہلایا تو اس کے پتے جھڑ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، یہ کلمات غلطیوں کو ایسے زائل کرتے ہیں، جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔
Takhreej
(۵۴۵۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۵۳۳ (انظر: ۱۲۵۳۴)
5452
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۵۳)۔ عَنْ أُمِّہِ حُمَیْضَۃَ بِنْتِ یَاسِرٍ، عَنْ جَدَّتِہَا یُسَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، وَکَانَتْ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا نِسَائَ الْمُؤْمِنَاتِ! عَلَیْکُنَّ بِالتَّہْلِیلِ وَالتَّسْبِیحِ وَالتَّقْدِیسِ، وَلَا تَغْفُلْنَ فَتَنْسَیْنَ الرَّحْمَۃَ، وَاعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ، فَإِنَّہُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۲۹)
۔ سیدہ یسیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ مہاجر خواتین میں سے تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم خواتین سے فرمایا: اے مؤمن خواتین! تم تہلیل، تسبیح اور تقدیس کا لازمی اہتمام کیا کرو، اور ان سے غفلت نہ برتو، وگرنہ رحمت کو بھول جاؤ گی اور انگلیوں کی مدد سے ان کلمات کو شمار کیا کرو، کیونکہ انگلیوں سے سوال کیا جائے گا کیونکہ ان سے پوچھا جائے اور ان کو بلوایا جائے گا۔
Takhreej
(۵۴۵۳) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ ابوداود: ۱۵۰۱، والترمذی ۳۵۸۳ (انظر: ۲۷۰۸۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وَرَاَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْقِدُ التَّسْبِیْحَ، قَالَ ابْنُ قُدَامَہ: بِیَمِیْنِہِ۔ … میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دائیں ہاتھ سے تسبیحات کو شمار کرتے تھے۔ (ابوداود: ۱۵۰۲، ترمذی: ۳۴۱۱)
5453
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۵۴)۔ عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ سَلْمَانَ رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ صَنْعَائَ قَالَ: کُنَّا بِمَکَّۃَ فَجَلَسْنَا اِلٰی عَطَائِ نِ الْخُرَاسَانِیِّ اِلٰی جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَلَمْ نَسْأَلْہٗ وَلَمْ یُحَدِّثْنَا، قَالَ: ثُمَّ جَلَسْنَا اِلَی ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِثْلُ مَجْلِسِکُمْ ھٰذَا، فَلَمْ نَسْأَلْہٗ وَلَمْ یُحَدِّثْنَا، قَالَ: فَقَالَ: مَالَکُمْ لَا تَتَکَلَّمُوْنَ وَلَا تَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ، قُوْلُوْا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، بِوَاحِدَۃٍ عَشْرًا، وَبِعَشْرَۃٍ مِأَۃً مَنْ زَادَ زَادَ اللّٰہُ وَمَنْ سَکَتَ غَفَرَ لَہٗ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند أحمد: ۵۵۴۴)
۔ صنعاء کے ایک آدمی ایوب بن سلمان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں عطاء خراسانی کے پاس مسجد کی دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، نہ ہم نے ان سے سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، پھر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس اس طرح بیٹھ گئے، جیسے تمہارے پاس بیٹھے ہیں، ان سے بھی نہ ہم نے کوئی سوال کیا اور نہ انھوں نے ہمیں کچھ بیان کیا، بالآخر انھوں نے کہا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، نہ تم بات کرتے ہو، نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہو، یہ ذکر کرو: اَللّٰہُ اَکْبَرُ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، اللہ تعالیٰ ایک کلمے کے بدلے دس لکھے گا اور دس کے بدلے سو لکھے گا، جس نے زیادہ ذکر کیا، اللہ تعالیٰ اس کو زیادہ ثواب دے گا اور جو خاموش ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا، …۔
Takhreej
(۵۴۵۴) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ مختصرا ابوداود: ۳۵۹۸، وابن ماجہ: ۲۳۲۰(انظر: ۵۵۴۴)
Explanation
فوائد:… آخری جملہ وضاحت طلب ہے، جو خاموش ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا اس مقام پر ان الفاظ کا معنی و مفہوم سمجھ نہیں آ رہا، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خاموشی کی فضیلت بیان کر رہے ہوں، جامع ترمذی کی مرفوع روایت کے الفاظ یہ ہیں: وَمَنِ اسْتَغْفَرَ غَفَرَ اللّٰہُ لَہ (جس نے بخشش طلب کی، اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا)۔
5454
Sahih
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ… کی فضیلت کا اور ان کے باقیات صالحات ہونے کا بیان
۔ (۵۴۵۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفْضَلُ الْکَلَامِ بَعْدَ الْقُرْآنِ أَرْبَعٌ وَہِیَ مِنَ الْقُرْآنِ،لَا یَضُرُّکَ بِأَیِّہِنَّ بَدَأْتَ سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۸۶)
۔ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کے بعد چار کلمات افضل کلام ہیں اور یہ بھی قرآن کریم سے ہی ہیں، تو جس کلمہ سے مرضی شروع کردے، اس سے کوئی فرق نہیںپڑے گا، وہ چار کلمات یہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ۔
Takhreej
(۵۴۵۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۱۱ (انظر: ۲۰۲۲۳)
5455
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۵۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، حُطَّتْ خَطَایَاہُ، وَإِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ کہا، اس کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
Takhreej
(۵۴۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۴۰۵، ومسلم: ۲۶۹۱(انظر: ۸۰۰۹)
5456
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۵۷)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الْکَلاَ مِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَا اصْطَفَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِعِبَادِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۴۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا کلام افضل ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کلام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے منتخب فرمایا ہے، یعنی سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ۔
Takhreej
(۵۴۵۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۳۱ (انظر: ۲۱۳۲۰)
5457
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۵۸)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَدَعْ رَجُلٌ مِنْکُمْ أَنْ یَعْمَلَ لِلّٰہِ أَلْفَ حَسَنَۃٍ حِینَ یُصْبِحُ یَقُولُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ مِائَۃَ مَرَّۃٍ فَإِنَّہَا أَلْفُ حَسَنَۃٍ، فَإِنَّہُ لَا یَعْمَلُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ مِثْلَ ذٰلِکَ فِی یَوْمِہِ مِنْ الذُّنُوبِ، وَیَکُونُ مَا عَمِلَ مِنْ خَیْرٍ سِوٰی ذٰلِکَ وَافِرًا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۲۶)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی صبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے ایک ہزار نیکی کرنا نہ چھوڑے، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖکہہ دے، یہ ایک ہزار نیکیاں ہیں، اگر اللہ نے چاہا تو وہ بندہ اس دن ایک ہزار گناہ نہیں کرے گا اور اس کے علاوہ بھی اس کے نیک اعمال اس کے علاوہ وافر مقدار میں ہوں گے ہو گی۔
Takhreej
(۵۴۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ، أخرجہ الطبرانی فی مسند الشامیین : ۱۴۷۱، والحاکم: ۱/ ۵۱۵(انظر: ۲۷۴۷۸)
5458
Zaeef
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۵۹)۔ عَنْ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَکْسِبَ فِی الْیَوْمِ أَلْفَ حَسَنَۃٍ؟)) قَالَ: وَمَنْ یُطِیقُ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((یُسَبِّحُ مِائَۃَ تَسْبِیحَۃٍ فَیُکْتَبُ لَہُ أَلْفُ حَسَنَۃٍ، وَتُمْحٰی عَنْہُ أَلْفُ سَیِّئَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۹۶)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم روزانہ ایک ہزار نیکی کرنے سے عاجز آ گئے ہو؟ انھوں نے کہا: بھلا کون اتنی نیکیوں کی طاقت رکھتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہِ کہہ دیا کرے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ایک ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی۔
Takhreej
(۵۴۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۸(انظر: ۱۴۹۶)
5459
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۶۰)۔ عَنْ سَھْلٍ عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ نُبِتَ لَہٗ غَرْسٌ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۳۰)
۔ سہل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ کہا، اس کے لیے جنت میں ایک پودا لگا دیا جائے گا۔
Takhreej
(۵۴۶۰) تخریج: حدیث حسن لغیرہ (انظر: ۱۵۶۴۵)
5460
Sahih
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
۔ (۵۴۶۱)۔ عَنْ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَتٰی عَلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غُدْوَۃً وَأَنَا أُسَبِّحُ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَۃٍ ثُمَّ رَجَعَ قَرِیبًا مِنْ نِصْفِ النَّہَارِ، فَقَالَ: ((مَا زِلْتِ قَاعِدَۃً؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((أَلَا أُعَلِّمُکِ کَلِمَاتٍ لَوْ عُدِلْنَ بِہِنَّ عَدَلَتْہُنَّ، أَوْ لَوْ وُزِنَّ بِہِنَّ وَزَنَتْہُنَّ، یَعْنِی بِجَمِیعِ مَا سَبَّحَتْ، سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ خَلْقِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللّٰہِ زِنَۃَ عَرْشِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رِضَا نَفْسِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۲۹۴)
۔ سیدہ جویریہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر کے بعد میرے پاس تشریف لائے اور میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کے لیے چلے گئے اور نصف النہار کے قریب واپس آئے اور مجھ سے فرمایا: کیا تو اسی حالت پر بیٹھی ہوئی (ذکر کر رہی ہے)؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے ایسے کلمات کی تعلیم دوں کہ اگر ان کا تیرے اس ذکر سے وزن کیا جائے تو وہ بھاری ثابت ہوں، وہ کلمات یہ ہیں، یہ کلمات تین تین مرتبہ کہے جائیں گے: سُبْحَانَ اللّٰہِ عَدَدَ خَلْقِہِ، … الی … سُبْحَانَ اللّٰہِ مِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔ (اگلی حدیث میں ان کلمات کا ترجمہ دیکھ لیں)
Takhreej
(۵۴۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۲۶(انظر: ۲۶۷۵۸)
5461
Sahih