۔ سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرے دل پر بھی غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں ہر روز سو سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۴۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۰۲(انظر: ۱۸۲۹۱)
Explanation
فوائد:… دل پر طاری ہونے والی غفلت سے مراد کسی عارضے کی بنا پر ذکر کے تسلسل کا منقطع ہو جانا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاکیزہ دل اس انقطاع کو محسوس کر لیتا تھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا ازالہ کرتے تھے، کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والے کو اس حدیث ِ مبارکہ کا عملی طور پر تجربہ ہوتا ہے، جب عظیم لوگوں کی عبادت کا وقت دوسرے جائز اور مباح امور میں صرف ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مزاج میں اس کمی کو محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۔ سیدنا فضالہ بن عبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن میں رہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۵۴۸۳) تخریج: حسن بمجموع طریقیہ وشاھدہ (انظر: ۲۳۹۵۳)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آخری زندگی میں کثرت سے یہ ذکر کرتے تھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ یہ ذکر بہت کثرت سے کرنے لگ گئے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے ربّ نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا اور پھر مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں جب اس کو دیکھ لوں تو اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کروں اور اس سے بخشش طلب کروں، بیشک وہ توبہ قبول کرنے کرنے والا ہے، اور اب میں نے وہ علامت ان آیات کی صورت میں دیکھ لی ہے: {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا} جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (النصر: ۱۔۳)
Takhreej
(۵۴۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۴(انظر: ۲۴۰۶۵)
Explanation
فوائد:… دراصل سورۂ نصر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری وقت آ گیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسبیح و تحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جو لوگ بڑی عمر یا مخصوص بیماری کی وجہ سے موت کو قریب سمجھنے لگ جائیں وہ اس سورت میں دی گئی ہدایت پر عمل کریں۔
۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین بار دعا کریں اور تین بار استغفار کریں۔
فوائد:… آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل بعض اوقات ہوتا تھا، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک بار دعا کرنے پر بھی اکتفا کر لیا کرتے تھے اور کئی کئی بار استغفار کرتے تھے۔