۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں بلند ترین اور سب سے اعلی شعبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور سب سے ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
فوائد:… لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔ اس کلمہ کی فضیلت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۵۴۳۰)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کر، تاکہ وہ برائی کے اثر کو مٹا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے۔
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خواہش تھی کہ کاش میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عمل کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا جو ہمیں ان (وسوسوں اور مذموم امور) سے نجات دلاتا، جو شیطان ہمارے نفسوں میں ڈال دیتا ہے۔ سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا تھا: تم کو ان امور سے اس کلمے کا ذکر نجات دلائے گا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا، لیکن اس نے وہ کلمہ نہیں پڑھا تھا۔
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔
Takhreej
(۵۴۲۵) تخریج: صحیح بشواھدہ (انظر: ۲۰)
Explanation
فوائد:… امر سے مراد وہ وسوسے اور شرّ کی انواع ہیں، جو شیطان بندوں کے نفسوں میں ڈالتا ہے، چونکہ سب سے زیادہ فضیلت والا، بخشش کا ذریعہ بننے والا، توحید کو ثابت کرنے والا اور شرک کی نفی کرنے والا ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے، اس لیے ایسے عظیم ذکر سے ہی شیطان اور اس کے وسوسوں سے بچا جا سکتا ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب الموت لوگوںکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
Takhreej
(۵۴۲۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۱۶(انظر: ۱۰۹۹۳)
Explanation
فوائد:معلوم ہوا کہ قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کرنی چاہئے۔عوام الناس میں مشہور کر دیا گیاہے کہ قریب المرگ آدمی کے پاس بیٹھ کر کلمہ پڑھنا چاہئے، اسے تلقین نہیں کرنی چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تلقین قبول کرنے سے انکار کر دے۔
۔ ابو عمر زاذان ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو موت کے وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لیے گیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، جب میں تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں بھی جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور اسی پر فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ تین بار ایسے ہی ہوا، چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ازار کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے نکلے اور یہ کہہ رہے تھے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے، پھر وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو اس کے آخر میں کہتے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
فوائد:… اس حدیث میں خوارج اور معتزلہ جیسی بدعتی فرقوں کاردّ ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ توبہ کے بغیر مرنے والا کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (نہیں ہے، کوئی معبود برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ اکیلاہے، بے نیاز ہے، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد اور اس کا کوئی ہمسر نہیں) اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔
Takhreej
(۵۴۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف خلیل بن مرۃ البصری، ولانقطاعہ، الازھر بن عبد اللہ لم یسمع من تمیم الداری، أخرجہ الترمذی: ۳۴۷۳(انظر: ۱۶۹۵۲)
Explanation
فوائد:… ہم نے صَمَد کے معانی بے نیاز کے کیے ہیں، اس لفظ کے مزید معانی یہ ہیں:
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا : تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔
فوائد:… سبحان اللہ! کیا شان ہے اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کی صفات پر دلالت کرنے والے کلمات کی۔ اسی لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَکْثِرُوْا مِنْ شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ قَبْلَ أَن یُّحَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھَا وَلَقِّنُوْھَا مَوْتَاکُمْ۔)) … کثرت سے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکی شہادت دیتے رہا کرو ، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔ (ابو یعلی: ۱۱/۸، ۶۱۴۷، الصحیحۃ:۴۶۷) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو بیان کیا۔
۔ ثابت کہتے ہیں: شام کے ایک باشندے نے ہمیں بیان کیا، وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا اور ان کی باتیں سنتا تھا، وہ کہتا ہے: ایک میں ان کے ساتھ تھا کہ وہ نوف کو ملے، نوف نے کہا: ہمیں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: میرے لیے میرے بندوں کو بلاؤ، انھوں نے کہا: اے ربّ! ان کو کیسے بلایا جائے، جبکہ ان کے سامنے سات آسمان حائل ہیں اور ان کے اوپر عرش ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہیں گے تو وہ جواب دیں گے۔
Takhreej
(۵۴۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرج المرفوع منہ ابن ماجہ: ۸۰۱ (انظر: ۶۸۶۰)
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں جمع ہوئے، نوف نے کہا: اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی مخلوقات کو ایک ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں تو دوسرا پلڑا بھائی ہو جائے گا، اور اگر آسمان، زمین اور ان کے درمیان والی مخلوق کو لوہے کی تہہ بنادیا جائے اور اس پر لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمہ اس میں سوراخ کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے گا۔
۔ کثیر بن مرّہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مرض الموت کے دوران کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، میں اس کو تم سے چھپاتا رہا، اب بیان کر دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا آخری کلام لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہو گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
۔ یعلی بن شداد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے سردار شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی، جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے اور ان کی تصدیق کر رہے تھے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اہل کتاب تھی، ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دروازے کو بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے ہاتھوں کو بلند کر لو اور کہو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ پس ہم نے کچھ دیر تک اپنے ہاتھ بلند کیے رکھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے رکھ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا، تو نے مجھے اس کلمہ کا حکم دیا اور مجھ سے اس پر جنت کا وعدہ کیا اور بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو بخش دیا ہے۔
Takhreej
(۵۴۳۴) اسنادہ ضعیف لضعف راشد بن داود الصنعانی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۱۶۳(انظر: ۱۷۱۲۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے اپنے ایمان کی تجدید کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کثرت سے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا کرو۔
Takhreej
(۵۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،صدقۃ بن موسی ضعفہ ابن معین وابوداود والنسائی وغیرھم، أخرجہ البزار: ۶۶۴(انظر: ۸۷۱۰)
Explanation
فوائد:… یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی توحید و الوہیت پر مشتمل ہے، آدمی اسی کلمہ کے ذریعے مشرف باسلام ہوتا ہے، اس لیے یہ شہادت دینے سے اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور بندے کی عبدیت کا احساس تازہ ہو تا رہتا ہے اور بندے میں نور و یقین جیسی نعمت کی تجدید ہوتی رہے گی۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: روزِ قیامت کون لوگ آپ کی سفارش کے زیادہ مستحق ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! میرا خیال تھا کہ کوئی آدمی تجھ سے پہلے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، کیونکہ میں نے تیرے اندر حدیث کی حرص پائی ہے، قیامت کے دن میری سفارش کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہو گا، جو اپنی طرف سے اور خلوص کے ساتھ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن دو سو (۲۰۰) بار یہ ذکر کیا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ(نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کیلئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) تو اس سے پہلے گزر جانے والا کوئی آدمی اس سے سبقت نہیں لے جا سکے گا اور بعد والوں میں سے کوئی شخص اس کے مقام کو نہیں پا سکے گا، مگر اس کے عمل سے زیادہ عمل کر کے۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی کا عطیہ دیا، یا دودھ کا عطیہ دیا، یا کسی کو راستے کی رہنمائی کر دی تو اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ کہا، وہ بھی ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
فوائد:… چاندی کے عطیے سے مراد قرض دینا ہے اور دودھ کے عطیے سے مراد یہ ہے کہ دودھ والا جانور کسی کو دے دیا جائے اور کچھ عرصہ تک دودھ کا فائدہ حاصل کرتا رہے اور پھر وہ جانور مالک کو واپس کر دے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا کیا کرتے تھے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
Takhreej
(۵۴۳۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۵۸۵ (انظر: ۶۹۶۱)
Explanation
فوائد:… یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنائ، توحید اور اس کے لیے قدرت و عظمت کے اقرار پر مشتمل ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اس کے لیے سو (۱۰۰) نیکیاں لکھی جائیں گی، اس سے سو (۱۰۰) برائیاں مٹائی جائیں گی اور یہ عمل شام تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت ثابت ہو گا اور کوئی آدمی اس کے عمل سے زیادہ فضیلت والا عمل نہیں لائے گا، مگر وہ جو یہ عمل اس سے زیادہ مقدار میں کرے گا۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ کہے گا، وہ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابو درداء کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں: پس میں وہاں سے نکلا اور لوگوں میں اس حدیث کا اعلان کرنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ملے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس چلو، اگر لوگوںکو اس چیز کا علم ہو گیا تو اسی پر توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)۔ پس میں لوٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۵۴۴۱) صحیح، لکن من حدیث ابی ذر دون القصۃ مع عمر، کما سلف برقم (۵۴۲۸) (انظر: ۲۷۵۶۱)