TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 184 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 14 of 15 in this chapter
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
184
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Arabic reference : Book 1, Hadith 185
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 184
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ۵۶۷۱)، مسند احمد ۱/۳۶۶، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطہارة ۵۰ (۲۰۷)، الأطعمة ۱۸ (۵۴۰۴)، صحیح مسلم/الحیض ۲۴ (۳۵۴)، سنن ابی داود/الطہارة ۷۵ (۱۸۷)، مسند احمد (۱/۲۲۶، ۲۲۷، ۲۴۱، ۲۴۴، ۲۵۳، ۲۵۴، ۲۵۸، ۲۶۴، ۲۶۷، ۲۷۲، ۲۷۳، ۲۸۱، ۳۳۶، ۳۵۱، ۳۵۲، ۳۵۶، ۳۶۱، ۳۶۳، ۳۶۵، ۳۶۶) (صحیح)

Related Chapters

744
1
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
CHAPTER: Not Performing Wudu’ FRom [Food Which Had Been Cooked] Over Fire.
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
CHAPTER: Strictness In This Regard.
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو کرنے کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
4
(58)Chapter: [What Has Been Related] About Wudu From What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
5
(59)Chapter: [What Has Been Related] About Not Performing Wudu For What Has Been Altered By Fire
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
7
آگ میں پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
8
آگ پر پکی ہوئی چیز کے استعمال کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
9
CHAPTER: Whoever Said That He Many Eat From What Has Fallen.
باب: زمین پر گری ہوئی چیزوں کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
(60)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu From Camel Meat
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About 'The Borrowed Is To Be Returned'
باب: عاریت لی ہوئی چیز کو واپس کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Wudu' Before Meals And Afterwards
باب: کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: About Not Performing Wudu Before Eating
باب: کھانے سے پہلے وضو نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے
Jam e Tirmazi
17
(بول و براز کے) راستوں سے خارج ہونے والی ہر چیز سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان پیشاب اور پائخانہ سے وضو کرنا
Musnad Ahmad
18
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
20
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
21
عاریۃً دی ہوئی چیزکا بیان
Musnad Ahmad
22
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
Musnad Ahmad
23
خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
24
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی
Musnad Ahmad
25
ودیعت اور عاریہ کے طور پر دی ہوئی چیزوں کی ضمانت کا بیان
Musnad Ahmad
26
والد کے علاوہ سب کے لیے ہبہ کی ہوئی چیز کو واپس لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
27
لہسن اور پیاز اور ان جیسی چیز کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
28
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
Musnad Ahmad
29
سورۃ النصر اس چیز کا بیان کہ سورۂ نصر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے اعلان کے لیے نازل ہوئی
Musnad Ahmad
30
(71) CHAPTER. It is unlawful to perform ablution with Nabidh (water in which dates or grapes etc. are soaked and is not yet fermented) or with any other intoxicant.
نبیذ سے اور کسی نشہ والی چیز سے وضو جائز نہیں
Sahih Bukhari
31
(43) CHAPTER. When the Imam is called for As-Salat (the prayer) while he has in his hands something to eat.
جب امام کو نماز کے لیے بلایا جائے اور اس کے ہاتھ میں کھانے کی چیز ہو تو وہ کیا کرے ؟
Sahih Bukhari
32
(4) CHAPTER. If the owner of a lost thing is not found for one year, then the thing is for the one who has found it.
پکڑی ہوئی چیز کا مالک اگر ایک سال تک نہ ملے تو وہ پانے والے کی ہو جائے گی
Sahih Bukhari
33
(9) CHAPTER. If the owner of lost property comes back after a year, it should be returned to him as it is a trust with the one who has found it.
پڑی ہوئی چیز کا مالک اگر ایک سال بعد آئے تو اسے اس کا مال واپس کر دے کیونکہ پانے والے کے پاس وہ امانت ہے
Sahih Bukhari
34
(10) CHAPTER. Should one pick up a fallen thing, lest it should be spoilt or taken by somebody who does not deserve it?
پڑی ہوئی چیز کا اٹھا لینا بہتر ہے ایسا نہ ہو وہ خراب ہو جائے یا کوئی غیر مستحق اس کو لے بھاگے
Sahih Bukhari
35
(20) CHAPTER. The food gained as war booty in the battlefield.
اگر کھانے کی چیزیں کافروں کے ملک میں ہاتھ آجائیں
Sahih Bukhari
36
(15) CHAPTER. If someone sends his Hady to be slaughtered then nothing lawful is rendered unlawful for him.
اگر کوئی شخص اپنی قربانی کاجانور حرم میں کسی کے سا تھ ذبح کرنے کے لیے بھیجے تو اس پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی ۔
Sahih Bukhari
37
(3) CHAPTER. Prohibition of alcoholic drinks have been revealed and these drinks are prepared from unripe and ripe dates.
شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی
Sahih Bukhari
38
(20) CHAPTER. Refraining from doing things Allah has made illegal.
اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ان سے صبر کئے رہنا بلاشبہ صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بے حساب دیا جائے گا
Sahih Bukhari
39
(38) CHAPTER. If something flies in a dream.
جب خواب میں کوئی چیز اڑتی ہوئی نظرآئے
Sahih Bukhari
40
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
41
Chapter: Performing wudu’ after eating something that has been touched by fire
۔ ایسی چیز سے وضو (کا حکم) منسو ہونا جسے آگ نے چھوا ہو
Sahih Muslim
42
Chapter: The sanctity of Makkah and the sanctity of its game, grasses, trees and lost property, except for the one who announces it, is forever
مکہ حرم ہے ‘اس میں شکار کرنا ‘اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا اور اعلان کرنے والے کے سوا(کسی کا)یہاں سے کوئی پڑی ہوئی چیز اٹھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے
Sahih Muslim
43
Chapter: It is recommended to lick one's fingers and wipe the bowl, and to eat a piece of food that is dropped after removing any dirt on it. It is disliked to wipe one's hand before licking it, because of the possibility that the blessing of the food may be in that remaining part. The Sunnah is to eat with three fingers
انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے
Sahih Muslim
44
Chapter: It is permissible to eat garlic, but the one who is going to address prominent people should refrain from eating it, and the same applies to other, similar foods
لہسن کھانے کا جواز اور جو بڑوں سے بات کرنا چاہے وہ یہ اور اس جیسی (بو والی )چیز نہ کھا ئے ۔
Sahih Muslim
45
CHAPTER: Wudu’ From Eating Camel Meat.
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ( ٹوٹ جانے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: Those Who Said That The Sexually Impure Should Perform Wudu’.
باب: جنبی کھانے اور سونے سے پہلے وضو کر لے ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: Permitting Food In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے ملک میں ( غنیمت میں ) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
48
CHAPTER: Regarding Carrying Food Out Of The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کی زمین سے اپنے ساتھ کھانے کی چیزیں لانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
49
CHAPTER: Regarding Selling Food When There Is Surplus For The People In The Land Of The Enemy.
باب: دشمن کے علاقہ میں ضرورت سے زائد کھانے کی چیزوں کو بیچنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: One Who Swears Not To Eat Food.
باب: کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,752
Sunnan Nisai
183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ . وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
It was narrated that Sulaiman bin Yasar said: I entered upon Umm Salamah and she told me that the Messenger of Allah (ﷺ) used to wake up in a state of Janabah without having had a wet dream, then he would fast. And she told him that she brought the Prophet (ﷺ) some grilled ribs and he ate from that, then he got up and prayed, and did not perform Wudu'.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں  ( بلکہ جماع سے )  صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے،  ( محمد بن یوسف کہتے ہیں: )  اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ  ( یہ بھی )  بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو  ( گوشت کا ٹکڑا )  پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
Sunnan Nisai
3139
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ:‏‏‏‏ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ:‏‏‏‏ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَرَفَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ قِيلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَرَفَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ، ‏‏‏‏‏‏لِيُقَالَ عَالِمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ قَارِئٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ قِيلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَرَفَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ ؟ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ وَلَمْ أَفْهَمْ تُحِبُّ كَمَا أَرَدْتُ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ لِيُقَالَ إِنَّهُ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ .
It was narrated from Abu Hurairah, that one of the people of Ash-Sham said to him: O Shaikh, tell me of a Hadith that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ). (He said: Yes; I heard the Messenger of Allah (ﷺ)) say: 'The first of people for whom judgment will be passed on the Day of Resurrection are three. A man who was martyred. He will be brought and Allah will remind him of His blessings and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I fought for Your sake until I was martyred. He will say: You are lying. You fought so that it would be said that so-and-so is brave, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the second will be) a man who acquired knowledge and taught others,and read Qur'an. He will be brought, and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. He will say: What did you do with them? He will say: I acquired knowledge and taught others, and read the Qur'an for Your sake. He will say: You are lying. You acquired knowledge so that it would be said that you were a scholar; and you read Qur'an so that it would be said that you were a reciter, and it was said. Then He will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire. And (the third will be) a man whom Allah made rich and gave him all kinds of wealth. He will be brought and Allah will remind him of His blessings, and he will acknowledge them. he will say: What did you do with them? He will say: I did not leave any way that You like wealth to be spent - Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasa'i) said: I did not understand what You like as I wanted to [1] - but I spent it. He will say: You are lying. You spent it so that it would be said that he was generous, and it was said. Then he will order that he be dragged on his face and thrown into the Fire.' [1] That is, he did not hear or understand what came after it as well as he wanted to, but it was similar to what follows regarding the spending. Similar was stated by Shaikh 'Abdur-Rahman Al-punjani in his notes on the text, according to Al-Funjani in his commentary At-Ta'iqat As-Salafiyyah (2:51)
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( کی مجلس ) سے لوگ جدا ہونے لگے، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: شیخ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہو گا، وہ تین ( طرح کے لوگ ) ہوں گے، ایک وہ ہو گا جو شہید کر دیا گیا ہو گا، اسے لا کر پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی ( ان ) نعمتوں کی پہچان کروائے گا ( جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں ) ۔ وہ انہیں پہچان ( اور تسلیم کر ) لے گا۔ اللہ ( اس ) سے کہے گا: یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا: میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چنانچہ تجھے ایسا کہا گیا ۱؎، پھر حکم دیا جائے گا: اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر لے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ ہو گا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے ( دوسروں کو ) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چنانچہ تجھے کہا گیا۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا“۔ ایک اور شخص ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہو گی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ ( اس سے ) کہے گا: ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا: اے رب! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بکتا ہے، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چنانچہ تجھے کہا گیا، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں «تحب» ( کا مفہوم ) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے «تحب» کے آگے «أن ينفق فيها» “ کہا۔
Sunnan Nisai
474
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَسَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَبِيدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ .
It was narrated from 'Ali (ﷺ) that the Prophet (ﷺ) said: They distracted us from Salatul-Wusta (the middle prayer) until the sun went down.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  ( جنگ خندق کے موقع پر )  فرمایا:  ان لوگوں  ( کافروں )  نے ہمیں بیچ والی نماز سے مشغول کر دیا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا ۔
Sunnan Nisai
604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) eight (Rak'ahs) together and seven (Rak'ahs) together.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے  ( ظہر و عصر کی )  آٹھ رکعتیں، اور  ( مغرب و عشاء کی )  سات رکعتیں ملا کر پڑھیں۔
Sunnan Nisai
971
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال:‏‏‏‏ فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ .
It was narrated that Abu Hurairah said: In every prayer there is recitation. What the Messenger of Allah (ﷺ) made us hear (by reciting out loud) we make you hear, and what he hid from us (by reciting silently) we hide from you.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ۱؎۔
Sunnan Nisai
991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ مَا أَطْوَلُ الطُّولَيَيْنِ قَالَ الْأَعْرَافُ .
Marwan bin Al-Hakam narrated that: Zaid bin Thabit said: Why do I see you reciting short surahs in Maghrib when I saw the Messenger of Allah (ﷺ) reciting the longer of the two long surahs in it? I said: O Abu Abdullah, what is the longer of the two long surahs? He said: Al-A'raf.
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔
Sunnan Nisai
2054
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ جَالِسًا وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وخَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرُوا:‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلا تُوُفِّيَ مَاتَ بِبَطْنِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُمَا يَشْتَهِيَانِ أَنْ يَكُونَا شُهَدَاءَ جِنَازَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ:‏‏‏‏ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يَقْتُلْهُ بَطْنُهُ فَلَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ ،‏‏‏‏ فَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ بَلَى.
Abdullah bin Yasar said: I was sitting with sulaiman bin Sard and Khalid bin 'Urfutah, and they said that a man had died as a result of abdominal illness. They wanted to attend his funeral, and one of them said to the other: 'Didn't the Messenger of Allah say: Whoever is killed by an abdominal illness, he will not be punished in his grave? The other said: 'Yes.'''
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور ( وہیں ) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما ( بھی ) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔
Sunnan Nisai
2924
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ ذَكَرَهُ فِي نَذْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَطَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ نَذْرٌ .
It was narrated that Ibn Abbas said: The Messenger of Allab passed by a man who was leading another man with something that he had stipulated in a vow. The Prophet took it and broke it, and he said: 'It is a vow.' (Sahih) Chatper 136. It Is Permissible To Speak During Tawaf
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے ( باندھ کر ) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: ”یہ نذر ہے“ ۱؎۔
Sunnan Nisai
3526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، ‏‏‏‏‏‏فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَتْ بِهِ .
It was narrated that Abu Maimunah said: While I was with Abu Hurairah he said: 'A woman came to the Messenger of Allah and said: May my father and mother be ransomed for you! My husband wants to take my son away, but he helps me, and brings me water from the well of Abu 'Inabah. Her husband came and said: Who is going to take my son from me? The Messenger of Allah said: O boy, this is your father and this is your mother; take the hand of whichever of them you want. He took his mother's hand and she left with him.'
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ ( و آرام ) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی ( لا کر ) پلاتا ہے، ( اتنے میں ) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا ( اور اختلاف ) کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے بیٹے سے کہا: ) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔