۔ (۳۵۹۶) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ اَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((الْمَنِیْحَۃُ، اَنْ یَمْنَحَ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ الدِّرْہَمَ اَوْ ظَہْرَ الدَّابَّۃِ اَوْ لَبَنَ الشَّاۃِ اَوْ لَبَنَ الْبَقَرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۴۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ سب سے افضل صدقہ کونسا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی کو کوئی چیز عاریۃً دے دینا، مثلاً تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کو درہمیا سوارییا بکری کا دودھ یا گائے کا دودھ دے دے۔
Takhreej
(۳۵۹۶) تخر یـج: حسن لغیرہ۔ اخرجہ ابویعلی: ۵۱۲۱، والبزار: ۹۴۷ (انظر: ۴۴۱۵)
Explanation
فوائد:… کوئی چیز عاریۃً دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کچھ عرصہ کے لیے کوئی چیز اس نیت سے دی جائے کہ وہ یہ اس عرصہ میں اس کی منفعت سے فائدہ اٹھاتا رہے، جیسے دودھ کے لیے جانور، کھیتی باڑی کرنے کے لیے زمین، پھل کے لیے پھلدار درخت اور سواری کے لیے سواری والا جانور عارضی طور پر دینا۔ اس سے مستقل دی ہوئی چیز کی اہمیت کا اندازہ لگالینا چاہیے۔
3596
Sahih