TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3056 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
باب: وادی محسر میں اونٹ کو تیز بھگانے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي .
Jafar bin Muhamad narrated that hi father said: We enterd upon Jabir bin Abdullah and I said: Tell me about the Hajj of the Prophet.' He said: 'The Messenger of Allah moved on from Al-Muzadalifah before the sun rose, and Al-Fadl bin Abbas rode behind him. When he came to Muhassir he sped up a little, then he follwed the middle road that brings you out at the largest Jamrat. When he came to the Jamrat whichis by the tree, he threw seven pebbles, saying the Takbir with each one, (using) pebbles the size of the date stones of fingertips, and he threw from the bottom of the valley.'
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے ( وہاں پہنچ کر ) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
3056
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 3054 In-book reference : Book 24, Hadith 0 English translation : Vol. 3, Book 24, Hadith 3056
صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3054
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۲۶۲۳، ۲۶۳۶)، انظر حدیث رقم: ۲۹۷۵)، ویأتي عند المؤلف: ۳۰۵۶

Related Chapters

131
1
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
(60)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu From Camel Meat
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Zakat On Camels and Sheep
باب: اونٹ اور بکری کی زکاۃ کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About Sharing In Badanah (Sacrificial Camels) and Cows
باب: قربانی میں اونٹ یا گائے میں شرکت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Marking The Budn (Sacrificial Camels)
باب: اونٹوں کے اشعار کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Riding The Badanah
باب: ہدی کے اونٹ پر سوار ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Camping At Al-Abtah
باب: وادی ابطح میں قیام کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Taking A Camel Or Other Animals On Loan
باب: اونٹ یا کوئی اور جانور قرض لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Lost Items, The Stray Camel And Sheep
باب: گری پڑی چیز اور گمشدہ اونٹ اور بکری کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Blood Money, How Many Camels Is It?
باب: دیت میں دئیے جانے والے اونٹوں کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Camels, Cows, And Sheep, When They Flee And Become Wild: Are They Shot With An Arrow Or Not ?
باب: اونٹ، گائے اور بکری بدک کر وحشی بن جائیں تو انہیں تیر سے مارا جائے گا یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Drinking Camel Urine
باب: اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: علاج میں اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About If the Son of Adam had two valleys of wealth, He Would Desire A Third
باب: آدمی کے پاس دو وادی بھر مال ہو تو وہ تیسری وادی کا خواہشمند ہو گا
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Riding An Animal
باب: اونٹنی پر سوار ہو تو کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
17
اونٹ کے پیشاب کا بیان
Musnad Ahmad
18
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
19
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
Musnad Ahmad
20
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
21
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
Musnad Ahmad
22
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
Musnad Ahmad
23
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
قربانی کے اونٹوں کو اشعار کرنا اور ہدی کے تمام جانوروں کو قلادے ڈالنا
Musnad Ahmad
25
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
Musnad Ahmad
26
ہدی میں اشتراک اور ہدی میں اونٹ اور گائے کا سات سات افراد سے کفایت کرنا
Musnad Ahmad
27
ہدی والے اونٹ پر سوار ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
28
اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
Musnad Ahmad
29
اونٹوں کا بیان
Musnad Ahmad
30
شراب کے مفاسد اور شراب کی حرمت سے قبل سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دو اونٹنیوں کے متعلق واقعہ
Musnad Ahmad
31
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
Musnad Ahmad
32
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
34
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
35
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
Musnad Ahmad
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جانورں، اونٹوں ، اونٹنیوں، گھوڑوں اور اسلحہ وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
37
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
Musnad Ahmad
38
باب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
Musnad Ahmad
39
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان ، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
Musnad Ahmad
40
(66) CHAPTER. (What is said) about the urine of camels, sheep and other animals and about their folds.
اونٹ ، بکری اور چوپایوں کا پیشاب اور ان کے رہنے کی جگہ کے بارے میں
Sahih Bukhari
41
(50) CHAPTER. To offer Salat (the prayer) in the camel-yards (the places where the camels are stationed).
اونٹوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
42
(78) CHAPTER. To take the camel inside the mosque if necessary.
ضرورت سے مسجد میں اونٹ لے جانا
Sahih Bukhari
43
(98) CHAPTER. To offer As-Salat (prayers) facing a Rahila (mount) a camel, a tree or a camel-saddle (etc. as a Sutra).
اونٹنی اور اونٹ اور درخت اور پالان کو سامنے کر کے نماز پڑھنا
Sahih Bukhari
44
(36) CHAPTER. The Zakat of camels.
اونٹوں کی زکوٰۃ کا بیان
Sahih Bukhari
45
(37) CHAPTER. Whoever has to pay a Bint Makhad (one year old she-camel) as Zakat and has not got it.
جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ زکوٰۃ میں ایک برس کی اونٹنی دینا ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو
Sahih Bukhari
46
(42) CHAPTER. There is no Zakat for less than five camels.
پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں
Sahih Bukhari
47
(68) CHAPTER. The use of the camels given as Zakat and their milk for travellers.
زکوٰۃ کے اونٹوں سے مسافر لوگ کام لے سکتے ہیں اور ان کا دودھ پی سکتے ہیں
Sahih Bukhari
48
(69) CHAPTER. Branding the camels given in As-Sadaqa (Zakat) by the Imam with his own hands.
زکوٰۃ کے اونٹوں پر حاکم کا اپنے ہاتھ سے داغ دینا
Sahih Bukhari
49
(16) CHAPTER. The saying of the Prophet : “Al-Aqiq is a blessed valley.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ وادی عقیق مبارک وادی ہے
Sahih Bukhari
50
(107) CHAPTER. To twist (and make) the garlands for the Budn (Hady camels for sacrifice) and cows.
گائے اونٹ وغیرہ قربانی کے جانوروں کے قلادے بٹنے کا بیان
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

504
Sunnan Ibn e Maja
3074
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏سَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَحَلَّ زِرِّي الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حَلَّ زِرِّي الْأَسْفَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا بِكَ، ‏‏‏‏‏‏سَلْ عَمَّا شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَانِبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنَا عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْرِمِي ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ بَيْنَ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِك وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ مَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَكَ وَالْمُلْكَ، ‏‏‏‏‏‏لَا شَرِيكَ لَكَ ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، ‏‏‏‏‏‏لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ أَبِي يَقُولُ:‏‏‏‏ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَاب:‏‏‏‏ إِلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، ‏‏‏‏‏‏نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَلَّلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ الْمُلْكُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏يُحْيِي وَيُمِيتُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْجَزَ وَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنَصَرَ عَبْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ فَمَشَى حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا يَعْنِي قَدَمَاهُ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَى الْمَرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي، ‏‏‏‏‏‏مَا اسْتَدْبَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ، ‏‏‏‏‏‏فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلِعَامِنَا هَذَا، ‏‏‏‏‏‏أَمْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ لَا بَلْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدِمَ عَلِيٌّ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي أَبِي بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ:‏‏‏‏ فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ فِي الَّذِي صَنَعَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏مُسْتَفْتِيًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَتْ صَدَقَتْ، ‏‏‏‏‏‏مَاذَا قُلْتُ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي جَاءَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ مِائَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَتَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ أَوْ الْمُزْدَلِفَةِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي، ‏‏‏‏‏‏فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ، ‏‏‏‏‏‏يَوْمِكُمْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَانَا رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَمْ تَضِلُّوا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُبُهَا إِلَى النَّاسِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ خَلْفَهُ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ شَنَقَ الْقَصْوَاءَ بِالزِّمَامِ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:‏‏‏‏ أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏السَّكِينَةَ ، ‏‏‏‏‏‏كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ، ‏‏‏‏‏‏أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَرَقِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَمِدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعَرِ، ‏‏‏‏‏‏أَبْيَضَ وَسِيمًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظُّعُنُ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا، ‏‏‏‏‏‏حَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ:‏‏‏‏ حَصَى الْخَذْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ انْزَعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ . فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ.
Ja’far bin Muhammad narrated that his father said: “We entered upon Jabir bin ‘Abdullah, and when we reached him he asked about the people (i.e., what their names were, etc.). When he reached me, I said: ‘I am Muhammad bin ‘Ali bin Husain.’ He stretched forth his hand towards my head, and undid my top button, then undid my lower button. Then he placed his hand on my chest, and I was a young boy at that time. Then he said: ‘Welcome to you, ask whatever you want.’ So I asked him, and he was blind. The time for prayer came, so he stood up, wrapping himself in a woven cloth. Every time he put it on his shoulders, its edges came up, because it was too small. And his cloak was beside him on a hook. He led us in prayer, then he said: ‘Tell us about the Hajj of the Messenger of Allah (ﷺ).’ He held up his hands, showing nine (fingers), and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) stayed for nine years without performing Hajj, then it was announced to the people in the tenth year that the Messenger of Allah (ﷺ) was going for Hajj. So many people came to Al-Madinah, all of them seeking to follow the Messenger of Allah (ﷺ) and do what he did. He set out and we set out with him, and we came to Dhul-Hulaifah where Asma’ bint ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abu Bakr. She sent word to the Messenger of Allah (ﷺ) asking what she should do. He said: “Perform Ghusl, fasten a cloth around your waist and enter Ihram.” The Messenger of Allah (ﷺ) prayed in the mosque, then he rode Qaswa’ (his she-camel) until, when his she-camel arose with him upon Baida’,’ Jabir said: ‘As far as I could see, I saw people riding and walking in front of him, and I saw the same to his right and left, and behind him, and the Messenger of Allah (ﷺ) was among us and Qur’an was being revealed to him, and he understood its meaning. Whatever he did, we did too. Then he began the Talbiyah of monotheism: “Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni’mata laka wal-mulk, la sharika laka (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” And the people repeated his words. And the Messenger of Allah (ﷺ) approved of that. And the Messenger of Allah (ﷺ) continued to recite the Talbiyah.’ Jabir said: ‘We did not intend (to do) anything but Hajj. We were not aware of ‘Umrah. Then when we reached the House with him, he touched the Corner, and walked quickly (Ramal) for three circuits and walked (normally) for four. Then he stood at the place of Ibrahim and said: “And take you (people) the place of Ibrahim as a place of prayer.” [2:125] He stood with the place between him and the House. My father used to say:* “And I do not think that he mentioned it other than from the Prophet (ﷺ): ‘That he used to recite in those two Rak’ah (at the place of Ibrahim): “Say: ‘O you disbelievers!’” [Al-Kafirun (109)] and “Say: ‘He is Allah, (the) One.’” [Al-Ikhlas (112)] “Then he went back to the House and touched the Corner, then he went out through the gate to Safa. When he drew near to Safa he recited: “Verily, Safa and Marwah are among the symbols of Allah,” [2:158] (and said:) “We will start with that with which Allah started.” So he started with Safa and climbed it until he could see the House, then proclaimed the greatness of Allah (by saying: Allahu Akbar) and said Tahlil (La ilaha illallah) and praised Him (saying Al-Hamdulillah), and he said: “La ilaha illallah wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku, wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumit wa huwa ‘ala kulli shai’in Qadir. La ilaha illallah wahdahu, La sharika lahu anjaza wa’dahu, wa nasara ‘abduhu, wa hazamal-Ahzaba wahdahu (None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner or associate; His is the dominion, all praise is due to Him, He gives life and causes death and He is able to do all things. None has the right to be worshiped but Allah alone; He has no partner or associate, He fulfilled His promise, granted victory to His slave, and defeated the Confederates alone).” And he said that three times, supplication in between. Then he headed towards Marwah walking normally until, when he started to go downhill, he walked quickly (Ramal) in the bottom of the valley. When he started to go uphill, he walked normally, until he reached Marwah, and he did atop Marwah what he had done atop Safa. At the end of his Sa’y, atop Marwah he said: “If I had known before what I have come to know now, I would not have garlanded the sacrificial animal, and I would have made it ‘Umrah. Whoever among you does not have a sacrificial animal with him, let him exit Ihram and make it ‘Umrah.” So all the people exited Ihram and cut their hair, except the Prophet (ﷺ) and those who had sacrificial animals with them. Suraqah bin Malik bin Ju’shum stood up and said: “O Messenger of Allah! Is this for this year only, or forever and ever?” The Messenger of Allah (ﷺ) interlaced his fingers and said: “‘Umrah is included in Hajj like this,” twice. “No, it is forever and ever.” ‘Ali brought the camels of the Prophet (ﷺ), and he found that Fatimah was one of those who had exited Ihram. She had put on a dyed garment and used kohl. ‘Ali disliked this action on her part, but she said: “My father told me to do this.” ‘Ali used to say in Iraq: “So I went to the Messenger of Allah (ﷺ), feeling upset with Fatimah because of what she had done, to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about what she had said that he said, and that I had disliked that. He said: ‘She spoke the truth, she spoke the truth. What did you say when you began your Hajj?’” He said: “I said: ‘O Allah, I begin the Talbiyah for that for which your Messenger (ﷺ) begins the Talbiyah.’ (He said:) ‘And I have the sacrificial animal with me, so do not exit Ihram.’ He said: “The total number of sacrificial animals that ‘Ali had brought from Yemen and that the Prophet (ﷺ) brought from Al-Madinah were one hundred. Then all the people exited Ihram and cut their hair, apart from the Prophet (ﷺ) and those who had sacrificial animals with them. When the day of Tarwiyah came (the 8th of Dhul-Hijjah), they headed for Mina and began the Talbiyah for Hajj. The Messenger of Allah (ﷺ) rode. He prayed Zuhr, ‘Asr, Maghrib, ‘Isha’ and Fajr at Mina. Then he stayed for a short while until the sun rose, and he ordered that a tent of goat hair be pitched for him in Namirah. Then the Messenger of Allah (ﷺ) set out, and the Quraish were certain that he was going to stay at Al-Mash’ar Haram or at Al-Muzdalifah, as Quraish used to do during the Ignorance days. But the Messenger of Allah (ﷺ) continued until he came to ‘Arafat, where he found that the tent had been pitched for him in Namirah, and he stopped there. Then when the sun had passed its zenith, he called for Qaswa’ and she was saddled for him. He rode until he came to the bottom of the valley, and he addressed the people and said: ‘Your blood and your wealth are sacred to you, as sacred as this day of yours, in this month of yours, in this land of yours. Every matter of Ignorance days is abolished, beneath these two feet of mine. The blood feuds of the Ignorance days are abolished, and the first blood feud of Rabi’ah bin Harith, who was nursed among Banu Sa’d and killed by Hudhail. The usuries of Ignorance days are abolished, and the first usury (that I abolish) is our usury, the usury due to ‘Abbas bin ‘Abdul-Muttalib. It is all abolished. Fear Allah with regard to women, for you have taken them as a trust from Allah, and intimacy with them has become permissible to you through Allah’s Word. Your rights over them are that they should not allow anyone whom you dislike to sit on your bedding.** If they do that, then hit them, but in a manner that does not cause injury or leave a mark. Their rights over you are that you should provide for them and clothe them in a reasonable manner. I have left behind you something which, if you adhere to it, you will never go astray: the Book of Allah. You will be asked about me. What will you say?’ They said: ‘We bear witness that you have conveyed (the message) and fulfilled (your duty) and offered sincere advice.’ He gestured with his forefinger towards the sky and then towards the people, (and said:) ‘O Allah, bear witness, O Allah bear witness,’ three times. Then Bilal called the Adhan, then the Iqamah, and he prayed Zuhr. Then he made Iqamah and prayed ‘Asr, and he did not offer any prayer between them. Then the Messenger of Allah (ﷺ) rode until he came to the place of standing, and he made his she-camel face Sakharat*** with the path in the sand in front of him, and he faced the Qiblah, then he remained standing until the sun had set and the afterglow had lessened somewhat, when the disk of the sun disappeared. Then he seated Usamah bin Zaid behind him and the Messenger of Allah (ﷺ) set out. He pulled Qaswa’s reins tight until her head was touching the saddle, and he gestured with his right hand: ‘O people, calmly, calmly!’ Every time he came to a hill, he released the reins a little so that she could climb. Then he came to Muzdalifah where he prayed Maghrib and ‘Isha’ with one Adhan and two Iqamah, offering no prayer in between. Then the Messenger of Allah (ﷺ) lay down until dawn came, and he prayed Fajr, when he saw that morning had come, with one Adhan and one Iqamah. Then he rode Qaswa’ until he came to Al-Mash’ar Al-Haram. He climbed it and praised Allah and proclaimed His greatness and that He is the only One worthy of worship. Then he remained standing until it had become quite bright, then he moved on before the sun rose. He seated Fadl bin ‘Abbas behind him, who was a man with lovely hair, white and handsome. When the Messenger of Allah (ﷺ) moved on, he passed some women riding camels. Fadl started to look at them, so the Messenger of Allah (ﷺ) put his hand on the other side. Fadl turned his face to the other side to look. When he came to Muhassir, he sped up a little. Then he followed the middle road that brings you out to the biggest Pillar, until he reached the Pillar that is by the tree. He threw seven pebbles, saying the Takbir with each throw, pebbles suitable for Khadhf (i.e., the size of a chickpea) throwing from the bottom of the valley. Then he went to the place of slaughter, and slaughtered sixty-three camels with his own hand. Then he handed it over to ‘Ali who slaughtered the rest, and he gave him a share in his sacrificial animal. Then he ordered that a piece from each camel be brought; (the pieces) were put in a pot and cooked, and they (the Prophet (ﷺ) and ‘Ali) ate from the meat and drank from the soup. Then the Messenger of Allah (ﷺ) hastened to the House, and prayed Zuhr in Makkah. He came to Banu ‘Abdul-Muttalib, who were providing water to the pilgrims at Zamzam, and said: ‘Draw me some water, O Banu ‘Abdul-Muttalib. Were it not that the people would overwhelm you, I would have drawn water with you.’ So they drew up a bucket for him and he drank from it.’” * It appears that the speaker is Ja’far bin Muhammad who is narrating from his father, from Jabir. **And they say that the meaning if ‘your furniture’ or, ‘your special place’ in which case the objective is to say that the wife is not to admit anyone in the house whom the husband would be displeased with. ***Sakharat plural of Sakhrah rock or boulder. Nawawi said: “They are the rocks that lay at the base of the Mount of Mercy, and it is the mount in the middle of ‘Arafat.”
جعفر الصادق اپنے والد محمد الباقر سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، جب ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں پوچھا کہ کون لوگ ہیں، یہاں تک کہ آخر میں مجھ سے پوچھا، میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی پھر نیچے کی کھولی پھر اپنی ہتھیلی میری دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی، میں ان دنوں نوجوان لڑکا تھا، اور کہا: تمہیں خوش آمدید، تم جو چاہو پوچھو، میں نے ان سے ( کچھ باتیں ) پوچھیں، وہ نابینا تھے ۱؎ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، وہ ایک بنی ہوئی چادر جسے جسم پر لپیٹے ہوئے تھے اوڑھ کر کھڑے ہوئے، جب اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈالتے تو اس کے دونوں کنارے ان کی جانب واپس آ جاتے ( کیونکہ چادر چھوٹی تھی ) اور ان کی بڑی چادر ان کے پاس ہی میز پر رکھی ہوئی تھی، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو ( ۹ ) کی گرہ بنائی ( یعنی خنصر، بنصر اور وسطی کا سرا ہتھیلی سے لگا لیا ) اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک ( مدینہ میں ) ٹھہرے رہے، آپ نے حج نہیں کیا، پھر ( ہجرت ) کے دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا کہ اس سال آپ حج کو جائیں گے، تو مدینہ میں ( اطراف سے ) بہت سے لوگ ( آپ کے ساتھ حج میں شریک ہونے کے لیے ) آ گئے، سب کی یہ خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، اور جو کام آپ کریں وہی وہ بھی کریں، خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، ہم ذو الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل کر لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، اور احرام کی نیت کر لو ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذوالحلیفہ ) مسجد میں نماز ادا کی، پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہو گئے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو لے کر مقام بیداء میں سیدھی کھڑی ہوئی تو جہاں تک میری نگاہ گئی میں نے آپ کے سامنے سوار اور پاپیادہ لوگوں کو ہی دیکھا، اور دائیں بائیں اور پیچھے بھی ایسے ہی لوگ نظر آ رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترتا تھا، آپ اس کے معانی کو سمجھتے تھے، آپ جو کام کرتے تھے ہم بھی وہی کرتے تھے، آپ نے توحید پر مشتمل تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا ان میں کوئی شریک نہیں تو لوگوں نے بھی انہیں الفاظ میں تلبیہ پکارا جن میں آپ پکار رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کسی الفاظ کی تبدیلی نہیں فرمائی ۳؎، آپ یہی تلبیہ پکارتے رہے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، ہم عمرہ جانتے بھی نہ تھے ۴؎ ( یعنی اس کا سرے سے کوئی خیال ہی نہیں تھا ) یہاں تک کہ جب ہم خانہ کعبہ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، اور طواف میں تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر مقام ابراہیم کے پاس جا کر کھڑے ہوئے، اور آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو پڑھی ۵؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کیا۔ جعفر کہتے ہیں کہ میرے والد کہتے تھے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے: آپ ( طواف کی ) دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون»، «قل هو الله أحد» پڑھ رہے تھے ۶؎۔ پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لوٹ کر خانہ کعبہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر باب صفا سے صفا پہاڑی کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب صفا کے قریب ہوئے تو: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پڑھی اور فرمایا: ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سعی ) صفا سے شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل صفا چڑھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ نظر آنے لگا تو «الله أكبر لا إله إلا الله اور الحمد لله» پڑھا، اور فرمایا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده لا شريك له أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں، ساری بادشاہت اسی کے لیے ہے، اور تمام قسم کی تعریفیں اسی کے لیے سزاوار ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اور اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا بہت سی جماعتوں کو شکست دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درمیان دعا فرمائی اور یہ کلمات تین بار دہرائے، پھر آپ ( صفا سے ) اتر کر مروہ کی طرف چلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ نے رمل کیا ( یعنی مونڈھے ہلاتے ہوئے دوڑ کر چلے ) ، پھر جب چڑھائی پر پہنچے تو عام چال چل کر مروہ تک آئے، اور مروہ پر بھی آپ نے ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا، پھر جب آپ کا آخری پھیرا مروہ پر ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو گئی ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا، اور حج کو عمرہ میں بدل دیتا، لہٰذا تم میں سے جس آدمی کے ساتھ ہدی ( کے جانور ) نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اس کو عمرہ میں تبدیل کر لے ، یہ سن کر لوگوں نے احرام کھول دیا، اور بال کتروا لیے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ پھر سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ حکم ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں اور دو بار فرمایا: عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہو گیا ہے ، اور فرمایا: صرف اس سال کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ۔ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ ( یمن ) سے لے کر آئے تو انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا، وہ رنگین کپڑا پہنے ہوئے تھیں، اور سرمہ لگا رکھا تھا، تو اس پر انہوں نے ناگواری کا اظہار کیا، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں: میرے والد نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ ( اپنے ایام خلافت میں ) عراق میں فرما رہے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کر رکھا تھا، غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس چیز کے متعلق پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے متعلق بتائی تھی، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ سچ کہتی ہے، ہاں، وہ سچ کہتی ہے ، اور جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو تم نے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے یوں کہا تھا: اے اللہ! میں وہی تلبیہ پکارتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو ہدی ہے تو اب تم حلال نہ ہو ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو قربانی کے وہ اونٹ جو علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے، اور وہ اونٹ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو تھے، پھر سارے لوگ حلال ہو گئے، اور انہوں نے بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ پھر جب یوم الترویہ ( ذی الحجہ کا آٹھواں دن ) آیا تو حج کا تلبیہ پکار کر لوگ منیٰ کی طرف چلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے، اور منیٰ پہنچ کر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں، ( نوویں ذی الحجہ کو فجر کے بعد ) تھوڑی دیر رکے رہے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، اور بال کے خیمے کے متعلق حکم دیا کہ اسے نمرہ میں لگایا جائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش کو اس میں شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام ۷؎ یا مزدلفہ کے پاس ٹھہریں گے، جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۸؎، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پار کر کے عرفات میں جا پہنچے، دیکھا تو خیمہ نمرہ میں لگا ہوا ہے، آپ وہیں اتر پڑے، جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء ( اونٹنی ) پر کجاوہ کسے جانے کا حکم دیا، آپ اس پر سوار ہو کر وادی کے نشیب میں آئے، اور خطبہ دیا، اس میں فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے اور تمہارے اس شہر میں، سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے ان دونوں پاؤں کے تلے رکھ کر روند دی گئی، اور جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے، اور سب سے پہلا خون جس کو میں معاف کرتا ہوں ربیعہ بن حارث کا خون ہے، وہ بنی سعد میں دودھ پی رہے تھے کہ شیر خوارگی ہی کی حالت میں ہذیل نے انہیں قتل کر دیا تھا، اور جاہلیت کے سارے سود بھی معاف کر دئیے گئے اور اپنے سودوں میں سے پہلا سود جس کو میں معاف کرتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے، وہ سب معاف ہے۔ اور عورتوں کے سلسلہ میں تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے امان اور عہد سے اپنے عقد میں لیا ہے، اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلام سے حلال کیا ہے، لہٰذا تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر اس شخص کو روندنے نہ دیں جن کو تم برا جانتے ہو ۹؎، اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن ایسی سخت مار نہیں کہ جس سے ہڈی پسلی ٹوٹ جائے، ان کا حق تمہارے اوپر یہ ہے کہ تم ان کو دستور و عرف کے مطابق روٹی اور کپڑا دو، میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کو اگر تم مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو گمراہ نہ ہو گے، اور وہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) ہے، اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو بتاؤ، تم کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا اور ذمہ داری ادا کر دی! اور آپ نے ہماری خیر خواہی کی، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت والی انگلی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا پھر آپ اسے لوگوں کی طرف جھکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے: اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ ، تین بار آپ نے یہ کلمات دہرائے۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر تکبیر کہی تو عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان آپ نے کوئی اور نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور اس مقام پر آئے جہاں عرفات میں وقوف کرتے ہیں، اور اپنی اونٹنی کا پیٹ جبل رحمت کی طرف کیا اور جبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا، اور قبلہ رخ کھڑے ہوئے، اور سورج ڈوبنے تک مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ تھوڑی زردی بھی جاتی رہی، جب سورج ڈوب گیا تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، پھر آپ عرفات سے چلے، اور قصواء کی نکیل کو کھینچے رکھا یہاں تک کہ اس کا سر کجاوے کی پچھلی لکڑی سے لگ جایا کرتا تھا، اور اپنے داہنے ہاتھ کے اشارے سے فرما رہے تھے: لوگو! اطمینان اور آہستگی سے چلو ، جب آپ کسی ریت کے ٹیلے پر آتے تو قصواء کی نکیل تھوڑی ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ وہ چڑھ جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے، اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھی اور ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، تو آپ نے فجر پڑھی جس وقت صبح پوری طرح واضح ہو گئی، پھر آپ قصواء پر سوار ہو ے، اور مشعر حرام ( مزدلفہ میں ایک پہاڑ ہے ) کے پاس آئے، اور اس پر چڑھے اور اللہ کی تحمید، تکبیر اور تہلیل کرتے رہے، اور وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر وہاں سے سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے، اور سواری پر فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، وہ بہت بہترین بال والے گورے اور خوبصورت شخص تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور اونٹوں پر سوار عورتیں گزرنے لگیں، تو فضل انہیں دیکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری طرف سے اپنے ہاتھ کا آڑ کر لیا تو فضل اپنا چہرہ پھیر کر دوسری طرف سے انہیں دیکھنے لگے، یہاں تک کہ آپ وادی محسر میں آئے، وہاں آپ نے سواری کو ذرا تیز کیا، پھر آپ اس کے درمیان والے راستہ پر سے چلے جو تمہیں جمرہ عقبہ کی جانب نکالتا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے، ( یعنی جمرہ عقبہ پر ) اور سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر آپ تکبیر کہتے تھے، اور کنکریاں ایسی تھی جو دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں، وادی کے نشیب سے آپ نے کنکریاں ماریں، پھر آپ نحر کے مقام پر آئے، اور ۶۳ اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر ( ذبح ) کیے، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کو دیا، اور باقی اونٹوں کا نحر انہوں نے کیا، انہیں بھی آپ نے اپنی ہدی میں شریک کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے اونٹوں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لانے کے لیے کہا، چنانچہ لا کر اسے ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر دونوں نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا، پھر وہاں سے لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس آئے، اور مکہ میں نماز پڑھی ۱۰؎، پھر خاندان بنی عبدالمطلب میں آئے، دیکھا تو یہ لوگ حاجیوں کو زمزم کا پانی پلا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالمطلب کے بیٹو! نکالو اور پلاؤ ۱۱؎، اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تمہارے اس پلانے کے کام میں لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو تمہارے ساتھ میں بھی نکالتا پھر لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک ڈول دیا آپ نے بھی اس میں سے پیا۔
Jam e Tirmazi
697
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ الصَّوْمَ وَالْفِطْرَ مَعَ الْجَمَاعَةِ وَعُظْمِ النَّاسِ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: The fast is the day the people fast, the breaking of the fast is the day the people break their fast, and the sacrifice is the day the people sacrifice.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صیام کا دن وہی ہے جس دن تم سب روزہ رکھتے ہو اور افطار کا دن وہی ہے جب سب عید الفطر مناتے ہو اور اضحٰی کا دن وہی ہے جب سب عید مناتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے کہ صوم اور عید الفطر اجتماعیت اور سواد اعظم کے ساتھ ہونا چاہیئے ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
2660
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّحَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ فَنَفَرُوا لَهُمْ هُذَيْلٌ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامٍ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ لَجَئُوا إِلَى قَرْدَدٍ فَقَالُوا لَهُمْ:‏‏‏‏ انْزِلُوا فَأَعْطُوا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَاصِمٌ:‏‏‏‏ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ وَزَيْدُ بْنُ الدَّثِنَةِ وَرَجُلٌ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ:‏‏‏‏ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً فَجَرُّوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ أَسِيرًا حَتَّى أَجْمَعُوا قَتْلَهُ فَاسْتَعَارَ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَلَمَّا خَرَجُوا بِهِ لِيَقْتُلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُمْ خُبَيْبٌ:‏‏‏‏ دَعُونِي أَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسَبُوا مَا بِي جَزَعًا لَزِدْتُ .
Abu Hurairah said “The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم sent ten persons (on an expedition) and appointed Asim bin Thabit their commander. About one hundred men of Hudhail who were archers came out to (attack) them. When Asim felt their presence, they took cover in a hillock. They aid to them “Come down and surrender and we make a covenant and pact with you that we shall not kill any of you”. Asim said “I do not come to the protection of a disbeliever. Then they shot them with arrows and killed Asim in a company of seven persons. The other three persons came down to their covenant and pact. They were Khubaib, Zaid bin Al Lathnah and another man. When they overpowered them, they untied their bow strings and tied them with them”. The third person said “This is the first treachery. I swear by Allaah, I shall not accompany you. In them (my companions) is an example for me. They pulled him, but he refused to accompany them, so they killed him. Khubaib remained their captive until they agreed to kill him. He asked for a razor to shave his pubes. When they brought him outside to kill him. Khubaib said to them “Let me offer two rak’ahs of prayer”. He then said “I swear by Allaah, if you did not think that I did this out of fear. I would have increased (the number of rak’ahs).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے بھیجا، اور ان کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، ان سے لڑنے کے لیے ہذیل کے تقریباً سو تیر انداز نکلے، جب عاصم رضی اللہ عنہ نے ان کے آنے کو محسوس کیا تو ان لوگوں نے ایک ٹیلے کی آڑ میں پناہ لی، کافروں نے ان سے کہا: اترو اور اپنے آپ کو سونپ دو، ہم تم سے عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی میری بات تو میں کافر کی امان میں اترنا پسند نہیں کرتا، اس پر کافروں نے انہیں تیروں سے مارا اور ان کے سات ساتھیوں کو قتل کر دیا جن میں عاصم رضی اللہ عنہ بھی تھے اور تین آدمی کافروں کے عہد اور اقرار پر اعتبار کر کے اتر آئے، ان میں ایک خبیب، دوسرے زید بن دثنہ، اور تیسرے ایک اور آدمی تھے رضی اللہ عنہم، جب یہ لوگ کفار کی گرفت میں آ گئے تو کفار نے اپنی کمانوں کے تانت کھول کر ان کو باندھا، تیسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ پہلی بدعہدی ہے، اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے میرے ان ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے، کافروں نے ان کو کھینچا، انہوں نے ساتھ چلنے سے انکار کیا، تو انہیں قتل کر دیا، اور خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ میں قیدی ہی رہے، یہاں تک کہ انہوں نے خبیب کے بھی قتل کرنے کا ارادہ کر لیا، تو آپ نے زیر ناف کے بال مونڈنے کے لیے استرا مانگا ۱؎، پھر جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے لے کر چلے تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے چھوڑو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں، پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے مارے جانے کے خوف سے گھبراہٹ ہے تو میں اور دیر تک پڑھتا۔
Sunnan Abu Dawood
3112
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا. حتَّى أَجْمَعُوا لِقَتْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَعَارَ مِنَ ابْنَةِ الْحَارِثِ مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعَارَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَرَجَ بُنَيٌّ لَهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ. حتَّى أَتَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَتْهُ مُخْلِيًا وَهُوَ عَلَى فَخْذِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُوسَى بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَفَزِعَتْ فَزْعَةً عَرَفَهَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ ؟ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَى هَذِهِ الْقِصَّةَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا يَعْنِي لِقَتْلِهِ اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسًى يَسْتَحِدُّ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعَارَتْهُ.
Narrated Abu Hurairah: Banu al-Harith bin Amir bin Nawfal bought Khubaib. Khubaib killed al-Harith bin Amir on the day of Badr. Khubaib remained with them as a prisoner until they agreed on his killing. He borrowed razor form the daughter of al-Harith to shave his pubes. She let it to him. A small child of her crept to him while she was inattentive. When she same, she found him alone and the child was on this thigh and the razor was in his hand. She was terrified and he realized its effect on her. He said: Do you fear that I shall kill him ? I am not going to do that. Abu Dawud said: Shuaib bin Abi Hamzah transmitted this narrative from al-Zuhri. He said: Ubaid Allah bin Ayyash told me that the daughter of al-Harith told him that when they gathered for killing him, he borrowed a razor from her to shave (his pubes). She lent it to him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو خریدا ۱؎ اور خبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، تو خبیب ان کے پاس قید رہے ( جب حرمت کے مہینے ختم ہو گئے ) تو وہ سب ان کے قتل کے لیے جمع ہوئے، خبیب بن عدی نے حارث کی بیٹی سے استرہ طلب کیا جس سے وہ ناف کے نیچے کے بال کی صفائی کر لیں، اس نے انہیں استرہ دے دیا، اسی حالت میں اس کا ایک چھوٹا بچہ خبیب کے پاس جا پہنچا وہ بےخبر تھی یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ اکیلے ہیں، بچہ ان کی ران پر بیٹھا ہوا ہے، اور استرہ ان کے ہاتھ میں ہے، یہ دیکھ کر وہ سہم گئی اور ایسی گھبرائی کہ خبیب بھانپ گئے اور کہنے لگے: کیا تم ڈر رہی ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا، میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصہ کو شعیب بن ابوحمزہ نے زہری سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی ہے کہ حارث کی بیٹی نے انہیں بتایا کہ جب لوگوں نے خبیب کے قتل کا متفقہ فیصلہ کر لیا تو انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے اس سے استرہ مانگا تو اس نے انہیں دے دیا ۳؎۔
Sunnan Abu Dawood
4188
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَعْنِي يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ .
Narrated Ibn Abbas: The people of the Book used to let their hair hand down, and the polytheists used to part their hair. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم like to confirm with the People of the Book in the matters about which he had received no command. Hence he Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم let his forelock hang down but afterwards he parted it.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا «سدل» کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔
Sunnan Nisai
657
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا .
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: The Messenger of Allah (ﷺ) moved until he came to Al-Muzdalifah, where he prayed Maghrib and 'Isha' with one Adhan and two Iqamahs, and he did not offer any prayer in between them.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ( عرفہ سے )  لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
Sunnan Nisai
3078
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ .
Jafar bin Muhammad bin 'Ali bin Husain narrated that his father said: We entered upon Jabir bin 'Abdullah and I said: 'Tell me about the Hajj of the Prophet. He said: 'The Messenger of Allah stoned the Jamart which is by the tree, with seven pebbles, saying the Takbir with eeach pebble - pebbles that were the size of data stones or fingertips. And he threw them for the bottom of the valley, then he went to the place of sacrifice in Mina. '
ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ کے پاس گئے تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جمرہ کو جو درخت کے قریب ہے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں جو چٹکی میں آ سکیں۔ آپ نے وادی کے اندر سے رمی کی، پھر آپ منحر ( قربان گاہ ) کی طرف پلٹے اور قربانی کی۔
Sunnan Nisai
4252
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا .
It was narrated that 'Aishah said: The Prophet said: 'The dead animal is purified by tanning it. '
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردار کی کھال کی پاکی ہی اس کی دباغت ہے“۔
Jam e Tirmazi
182
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَحَفْصَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ فِي صَلَاةِ الْوُسْطَى حَسَنٌ وصَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةُ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ. حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ:‏‏‏‏ سَلِ الْحَسَنَ مِمَّنْ سَمِعَ حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ قُرَيْشِ بْنِ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيٌّ:‏‏‏‏ وَسَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
Smurah bin Jundub narrated that : the Prophet said: Salatul-wusta is the Asr prayer.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” «صلاة وسطیٰ» عصر کی صلاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- «صلاة وسطیٰ» کے سلسلہ میں سمرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عائشہ، حفصہ، ابوہریرہ اور ابوہاشم بن عقبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کا کہنا ہے: حسن بصری کی حدیث جسے انہوں نے سمرہ بن جندب سے روایت کیا ہے، صحیح حدیث ہے، جسے انہوں نے سمرۃ سے سنا ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، زید بن ثابت اور عائشہ رضی الله عنہا کا کہنا ہے کہ «صلاة وسطیٰ» ظہر کی صلاۃ ہے، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم کہتے ہیں کہ «صلاة وسطیٰ» صبح کی صلاۃ ( یعنی فجر ) ہے ۲؎، ۵- وہ حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا کہ تم حسن بصری سے پوچھو کہ انہوں نے عقیقہ کی حدیث کس سے سنی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اسے سمرہ بن جندب سے سنا ہے، ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ علی ابن المدینی نے کہا ہے کہ سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کا سماع صحیح ہے اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔