TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان

Chapter 26 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 26 of 40 · 5 Hadith
۔ (۴۵۰۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) حَتَّی انْتَہٰی إِلٰی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ، فَقَالَ: نَاوِلْنِی أَحْجَارًا، قَالَ: فَنَاوَلْتُہُ سَبْعَۃَ أَحْجَارٍ، فَقَالَ لِی: خُذْ بِزِمَامِ النَّاقَۃِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَیْہَا فَرَمٰی بِہَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِی بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَھُوَ رَاکِبٌ یُکَبِّرُمَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، وَقَالَ: اللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا، ثُمَّ قَالَ: ھَاھُنَا کَانَ یَقُوْمُ الَّذِیْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقْرَۃِ۔ (مسند احمد:۴۰۶۱)
۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا، جب وہ جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچے تو کہا: مجھے پتھر لا کر دو، پس میں نے انہیں سات پتھر لا دیئے، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: اونٹنی کی مہار پکڑلو، اس کے بعد وہ جمرہ کی طرف گئے اور وادی کے درمیان سے سات کنکریاں ماریں، جبکہ وہ سوار تھے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہہ رہے تھے، پھر انھوں نے یہ دعا کی: اے اللہ اس کو حج مبروربنا دے اور گناہ معاف کر دے۔اس کے بعد انھوں نے کہا: جس ہستی پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی،اس نے اس جگہ پر کھڑے ہو کر رمی کی تھی۔
Takhreej
(۴۵۰۷) تخریج: صحیح دون قولہ: ’’اللھم اجعلہ حجا مبرورا و ذنبا مغفورا‘‘ وھذا اسناد ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم ۔ أخرجہ مسلم: ۱۲۹۶ مختصرا ودون ذکر الدعاء (انظر:۴۰۶۱)
4507
Zaeef
۔ (۴۵۰۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِیَ فَجَعَلَ الْجَمْرَۃَ عَنْ حَاجِبِہِ الْأَیْمَنِ وَاسْتَقْبَلَ الْبَیْتَ، ثُمَّ رَمَاھَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ،…۔ فَذَکَرَ الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۹)
۔ (دوسری سند) عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ وادی کے درمیان کھڑے ہوئے اور انہوں نے جمرۂ عقبہ کو اپنی دائیں جانب رکھا اور بیت اللہ کی طرف رخ کر کے اس کو سات کنکریاں ماریں، …۔ (الحدیث )
Takhreej
(۴۵۰۸) تخریج: صحیح دون قولہ: ’’واستقبل البیت‘‘۔ أخرجہ الترمذی: ۹۰۱، وابن ماجہ: ۳۰۳۰، وانظر الحدیث بالطریق الاول(انظر: ۴۰۸۹)
Explanation
فوائد:… اگلی احادیث میں بیان کردہ کیفیت مذکورہ بالا کیفیت سے مختلف ہے، ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دونوں طرح عمل کیا ہو، بہرحال درج ذیل کیفیت زیادہ مشہور اور صحیح ہے۔
4508
Sahih
۔ (۴۵۰۹) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ فَرَمَی الْجَمْرَۃَ الْکُبْرٰی بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَجَعَلَ الْبَیْتَ عَنْ یَسَارِہِ وَمِنًی عَنْ یَمِیْنِہِ، وَقَالَ: ھٰذَا مَقَامُ الَّذِیْ اُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۱۵۰)
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں، اس وقت بیت اللہ ان کی بائیں جانب اور منیٰ دائیں جانب تھا، پھر انھوں نے کہا: جس شخصیت پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی، انہوں نے اسی مقام پر کھڑے ہوکر رمی کی تھی۔
Takhreej
(۴۵۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۴۸، ۱۷۴۹، ومسلم: ۱۲۹۶(انظر: ۴۱۵۰)
4509
Sahih
۔ (۴۵۱۰) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: رَمٰی عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی بِسَبْعٍ حَصَیَاتٍ،یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، فَقِیْلَ لَہُ: إِنَّ نَاسًا یَرْمُوْنَہَا مِنْ فَوْقِہَا، فَقَالَ: ھٰذَا وَالَّذِیْ لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ! مَقَامُ الَّذِیْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُالْبَقَرَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۳۵۹)
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وادی کے درمیان کھڑے ہوکر جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، کسی نے ان سے کہا: لوگ تو اوپر والی جگہ کی طرف سے رمی کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! یہ اس ہستی کا مقام ہے، جس پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی۔
Takhreej
(۴۵۱۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
4510
Sahih
۔ (۴۵۱۱) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِی أُمِّی أَنَّہَا رَأَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْمِی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی وَخَلْفَہُ إِنْسَانٌ، یَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ أَنْ یُصِیْبُوْہُ بِالْحِجَارَۃِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَیْتُمْ فَارْمُوْا بِمْثِلِ حَصَی الْخَذْفِ،۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۷۲)
۔ سلیمان بن عمرو بن الاحوص ازدی کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کی رمی کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ایک انسان تھا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں کی کنکریوں سے بچا رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: لوگو! کوئی کسی کو قتل نہ کر دے اور جب تم رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) کنکری مارو۔
Takhreej
(۴۵۱۱) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۲۸، ۳۰۳۱ (انظر: ۲۷۱۳۱)
Explanation
فوائد:… یعنی ایسا نہ ہو کہ ہجوم کی وجہ سے یا بڑے پتھر پھینکنے کی وجہ سے کوئی مسلمان قتل ہو جائے۔ ان احادیث میں رمی کی کیفیت کا بیان ہے، آج کل آسانی کے ساتھ اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے، لیکن کسی کو تکلیف نہیں ہو نی چاہیے، بہرحال ہر طرف سے رمی کرنا جائز ہے۔
4511
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.