TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان

Chapter 38 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 38 of 40 · 8 Hadith
۔ (۴۵۷۱) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْغَدِ یَوْمَ النَّحْرِ وَھُوَ بِمِنًی: ((نَحْنُ نَازِلُوْنَ غَدًا بِخَیْفِ بَنِیْ کِنَانَۃَ حَیْثُ تَقَاسَمُوْا عَلَی الْکُفْرِ۔)) یَعْنِی بِذٰلِکَ الْمُحَصَّبَ، وَذٰلِکَ أَنَّ قُرَیْشًا وَکِنَانَۃَ تَحَالَفَتْ عَلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ وَبَنِی الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا یُنَاکِحُوْھُمْ وَلَا یُبَایِعُوْھُمْ حَتّٰییُسْلِموْا إِلَیْہِمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۲۳۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو دن کے شروع میں فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منیٰ میں تھے : ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے، جہاں کفار نے مسلمانوں کے خلاف آپس میں قسمیں اٹھائی تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی،اس کی تفصیلیہ ہے کہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ اس وقت تک نہ نکاح کریں گے اور نہ خریدو فروخت، جب تک وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کے حوالے نہیں کر دیں گے۔
Takhreej
(۴۵۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۹۰، ومسلم: ۱۳۱۴(انظر: ۷۲۴۰)
Explanation
فوائد: … ہم کل خیف ِ بنی کنانہ میں ٹھہریں گے۔ اس حدیث کے مطابق تو یہ ذوالحجہ کی گیارہ تاریخ بنتی ہے، جب کہ تیرہ ذوالحجہ تک تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مِنٰی میں قیام کرنا تھا، اصل بات یہ ہے کہ اگرچہ غَدًا کا اطلاق موجودہ دن کے متصل بعد والے دن پر ہوتا ہے، لیکن عربوں نے وسعت اختیار کی اور اس لفظ کا اطلاق آنے والے کسی بھی وقت پر بھی کر دیا اور یہاںیہی معنی مقصود ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایام تشریق کے بعد مِنٰی سے روانہ ہوناتھا۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے پتہ چلا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بڑے اہتمام اور عزم کے ساتھ وادیٔ محصب میں قیام کیا تھا، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود اسلام کا اظہار اور غلبہ تھا، یہ قیاماتفاقی طور پر نہ تھا۔ آنے والی احادیث میں اس وادی میں قیام کے متعلق سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس کی جو آراء بیان کی گئی ہیں، وہ ان ہستیوں کا ذاتی فہم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اِن کو مذکورہ بالا حدیث کا علم نہ ہو سکا تھا، باب کے آخر میں مزید بحث کی جائے گی۔
4571
Sahih
۔ (۴۵۷۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی قِصَّۃِ عُمْرَتِہَا بَعْدَ الْحَجِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ: ((اُخْرُجْ بِأُخْتِکَ فَلْتَعْتَمِرْ فَطُفْ بِہَا الْبَیْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ ثُمَّ لِتَقْضِ، ثُمَّ ائْتِنِیْ بِھَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَیْلَۃَ الْحَصْبَۃِ۔)) قَالَتْ: فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْحَصْبَۃِ مِنْ أَجْلِی، (وَفِی لَفْظٍ:) قَالَتْ: ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّی نَزَلَ الْحَصْبَۃَ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا نَزَلَہَا إِلَّا مِنْ أَجْلِیْ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حج کے والے بعد اپنے عمرے کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم اپنی بہن (عائشہ) کے ہمراہ جائو اور ان کو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کراؤ، تاکہ یہ اپنا عمرہ ادا کر لے،پھر اس کو میرے پاس واپس لے آنا، لیکن اس سے پہلے کہ میں حصبہ والی رات گزار لوں، (یعنی راتوں رات واپس آ جانا)۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں صرف میری وجہ سے قیام کیا تھا۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منیٰ سے روانہ ہوکر وادی محصّب میں جاکر ٹھہرے، اللہ کی قسم ! آپ نے صرف میری وجہ سے وہاں قیام کیا تھا۔
Takhreej
(۴۵۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن محمد بن عقیل ضعیفیعتبر بہ، ولم یتابع ھنا ۔ أخرجہ البزار: ۱۰۸۵، والطبرانی فی الاوسط : ۱۱۷۲، وأخرجہ البخاری: ۱۷۸۷، ومسلم: ۱۲۱۱بغیر ھذا السیاق (انظر: ۲۴۴۹۰)
4572
Zaeef
۔ (۴۵۷۳) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: إِِنَّ نُزُوْلَ الْأَبْطَحِ لَیْسَ بِسُنَّۃٍ، إِنَّمَا نَزَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَنَّہُ کَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوْجِہِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۵۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ وادیٔ ابطح میں ٹھہرنا سنت نہیں ہے ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صرف اس لئے وہاں ٹھہرے تھے کہ اس میں (مدینہ کی طرف روانگی کے لیے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سہول ت تھی۔
Takhreej
(۴۵۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۶۵، ومسلم: ۱۳۱۱(انظر: ۲۵۹۲۶)
4573
Sahih
۔ (۴۵۷۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَیْسَ الْمُحَصَّبُ بِشَیْئٍ، إِنَّمَا ھُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ وادیٔ محصّب میں قیام کرنے کی شرعی حیثیت کوئی نہیں ہے،یہ تو محض ایک مقام ہے، جہاں اللہ کے رسول نے قیام کیا تھا۔
Takhreej
(۴۵۷۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۶۶، ومسلم: ۱۳۱۲(انظر: ۱۹۲۵)
4574
Sahih
۔ (۴۵۷۵) عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَانَ لَا یَرٰی أَنْ یَنْزِلَ الْأَبْطَحَ، وَیَقُوْلُ: إِنَّمَا قَامَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی عَائِشَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۲۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وادیٔ ابطح (یعنی وادیٔ محصّب) میں قیام کو کوئی شرعی حیثیت نہیں دیتے تھے، بلکہ وہ تواس کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وجہ سے وہاں (اتفاقی طور پر) قیام کیا تھا۔
Takhreej
(۴۵۷۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لعنعنۃ الحجاج بن ارطاۃ (انظر: ۳۲۸۹)
4575
Zaeef
۔ (۴۵۷۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ أَیْ بِالْمُحَصَّبِ ثُمَّ ھَجَعَ ھَجْعَۃً، ثُمَّ دَخَلَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۵۸۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں وادیٔ محصّب میں ادا کیں اور اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا طوافِ وداع کیا۔
Takhreej
(۴۵۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۶۸، ومسلم: ۱۳۱۰(انظر: ۵۸۹۲)
4576
Sahih
۔ (۴۵۷۷) عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنْ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَہْجَعُ ھَجْعَۃً بِالْبَطْحَائِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُوْلََ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۸۲۸)
۔ بکر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وادیٔ بطحاء میں کچھ دیر سوتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۴۵۷۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد: …وادیٔ بطحاء سے مراد وادیٔ محصب ہی ہے۔
4577
Sahih
۔ (۴۵۷۷) عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنْ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَہْجَعُ ھَجْعَۃً بِالْبَطْحَائِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُوْلََ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۸۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ سب حضرات وادی محصّب میں ٹھہرا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۵۷۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ((مِنَ السُّنَّۃِ النُّزُوْلُ بِــ(الْأَبْطَحِ) عَشِیَّۃَ النَّفَرِ)) (ادائے حج کے بعد) روانگی کی شام کو ابطح وادی میں قیام کرنا سنت ہے۔ (معجم اوسط : ۱/۱۹۸/۲ـ ۱۹۹/۱، صحیحہ: ۲۶۷۵) امام البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: جونہی (المعجم الأوسط) کا مصوّر نسخہ مجھے ملا تو میں نے اس حدیث کی تخریج پیش کرنے میں جلدی کی، کیونکہیہ حدیث بڑی عظیم الشان تھی اور بہت کم مخرجین نے اس کو بیان کیا اور تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث امام مسلم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی درج ذیل روایت کا قویشاہد ہے: نافع ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال تھا کہ وادیٔ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے باپ سے یہ مسلک وصول کیا ہو گا، اس طرح ان کی رائے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی شاہد کی وجہ سے قوی ہو جائے گی۔ اور یہ حقیقت اہل علم پر مخفی نہیں ہے کہ ابن عمر کیرائے کی بہ نسبت، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ رائے وادی ٔ محصّب میں قیام کرنے پر قوی دلالت کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہیہ بات معروف ہے کہ سیدنا ابن عمر، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کرنے کے بہت زیادہ پابند تھے، حتی کی ان امور میں بھی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اتفاقاً صادر ہوتے تھے، نہ کہ قصداً۔ اس دعوے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، امام منذری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اپنی ترغیب کے شروع میں بعض کا ذکر کیا ہے۔ رہا مسئلہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا، تو وہ تو آثار کی پیروی کرنے سے منع کرتے تھے، لیکن جب وہ بالجزم اس رائے کا اظہار کریں گے کہ وادیٔ محصب میں ٹھہرنا سنت ہے تو دل مطمئن ہو کر اس امر کی طرف مائل ہو گا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ یہ ایسی سنت ہے، جس کا التزام کرنا مقصود ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: ہم منی میں تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: ((نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَیْف بِنَی کَنَانَۃُ حَیْثُ تَقَاسَمُوا عَلٰی الْکُفْرِ۔)) … ہم کل خیف بنی کنانہ میں اتریں گے، جہاں انھوں نے کفر پر ایک دوسرے سے معاہدہ کیا تھا۔ (بخاری، مسلم) چونکہ قریش اور بنو کنانہ نے اس مقام پر بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف یہ معاہدہ پاس کیا تھا کہ وہ اُن سے نکاح کریں گے نہ خرید و فروخت، جب تک وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کے سپرد نہ کردیں۔ خیف بنی کنانہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد وادیٔ محصّب تھی۔ امام ابن قیم ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے (زاد المعاد) میں کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مقام پر اسلام کے شعائر کا اظہار کیا جائے، جہاں کافروں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے کفر کے شعائر کا اظہار کیا تھا۔ یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عادت ِ مبارکہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کفر و شرک کے مقامات پر توحید کے شعائر کا قیام عمل میں لاتے تھے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ مسجد ِ طائف، لات و عزی کے مقام پر تعمیر کی جائے۔رہا مسئلہ صحیح مسلم کی اس روایت کا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ وادی ٔ ابطح (وادیٔ محصّب) میں اترنا سنت نہیں ہے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اس پڑاؤ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔محققین نے اِ ن روایات کے دو جوابات دیے ہیں: (۱)مثبت کو منفی کرنے والے پر مقدّم کیا جاتا ہے، (۲) سرے سے ان دو میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، کیونکہ نفی کرنے والوں کا مقصد یہ ہے کہ اس مقام پر اترنا حج کے مناسک میں سے نہیں ہے کہ اس کو ترک کرنے کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم آئے اور ثابت کرنے والوں نے چاہا ہے کہ تمام افعال میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیروی کی جائے، وہ بھی اس چیز کو لازم نہیں قرار دیتے۔ مکہ کی وادی کے بہاؤ کی جگہ کو ابطح کہتے ہیں، اس کی جمع بطاح اور اباطح آتی ہے۔ اسی سے قریش البطاح کہا جاتا ہے، یعنی وہ لوگ جو مکہ کی ابطح وادیوں میں اترتے تھے۔ وادیٔ محصّب میں اترنے کو تَحْصِیب کہتے ہیں،یہ وہ گھاٹی ہے جو مکہ اور منی کے درمیان ابطح کی طرف نکلتی ہے، یہی خیف بنی کنانہ بھی ہے۔ (صحیحہ: ۲۶۷۵)
4578
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.