TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 428 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
غسل میں اعضاء کو ایک ایک بار دھونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ .
It was narrated that Maimunah, the wife of the Prophet (ﷺ), said: The Prophet (ﷺ) performed Ghusl from Janabah; he washed his private part then rubbed his hand on the ground or the wall, then he performed Wudu' as for prayer, then he poured water over his head and the rest of his body.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔
428
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 428 In-book reference : Book 4, Hadith 33 English translation : Vol. 1, Book 4, Hadith 428
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 428
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۲۵۴ (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: چونکہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے پانی بہانے کے متعلق دو یا تین بار کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ایک بار ہی سمجھا جائے گا، کیونکہ یہی اصول ہے، لیکن یہ وجوب کی حد تک ہے، دو یا تین بار بھی دھویا جا سکتا ہے۔

Related Chapters

970
1
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Once.
باب: اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
3
(32)Chapter: What Has Been Related About Wudu' One Time (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
4
(35)Chapter: What Has Been Related About Wudu One Time, Two Times And Three Times
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
5
(36)Chapter: [What Has Been Related] About One Who performs Some Of Wudu, Two Times Each, And Some Of It Three
باب: وضو میں بعض اعضاء دو بار دھونے اور بعض تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
6
(3) CHAPTER. Taking a bath with a Sa of water or so. (One Sa = 3 kilograms approx.)
اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے
Sahih Bukhari
7
(12) CHAPTER. Having sexual intercourse and repeating it. And engaging with one's own wives and taking a single bath (after doing so).
جس نے جماع کیا اور پھر دوبارہ کیا اور جس نے اپنی کئی بیویوں سے ہمبستر ہو کر ایک ہی غسل کیا اس کا بیان
Sahih Bukhari
8
(28) CHAPTER. When male and female organs come in close contact (bath becomes compulsory).
اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے
Sahih Bukhari
9
(13) CHAPTER. To Sprinkle camphor on the dead body as the last thing (before shrouding).
میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے
Sahih Bukhari
10
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Thrice..
باب: وضو میں اعضاء کو تین تین بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
11
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Twice.
باب: اعضاء وضو کو دو دو بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
ایک ایک بار اعضائے وضو دھونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
13
تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
14
ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
15
اعضاء وضو کو تین تین بار دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
16
(26)Chapter: What Has Been Related About Wiping The Head Once
باب: سر کا مسح صرف ایک بار ہے
Jam e Tirmazi
17
(33)Chapter: What Has Been Reported About Wudu Two Times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کے دو دو بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
18
(34)Chapter: What Has Been Related About Wudu Three times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
19
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: : What Has Been Related About The Congregation In The Masjid Being Held Two Times
باب: جس مسجد میں ایک بار جماعت ہو چکی ہو اس میں دوبارہ جماعت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About 'There Are No Two Witr In One Night'
باب: ایک رات میں دو بار وتر نہیں
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What has been related about: One sip or two sips will not make a prohibition
باب: ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What has been Related About Do Not Revert to Disbelief After Me, Some Of You Striking The Necks Of Others
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردن نہ مارنا
Jam e Tirmazi
24
باب: رویت باری تعالیٰ سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
25
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
26
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
27
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
30
مسنون غسل کی اقسام ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
Musnad Ahmad
31
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
Musnad Ahmad
32
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
33
زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے
Musnad Ahmad
34
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
Musnad Ahmad
35
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا موت کے سکرات سے واسطہ پڑنا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دنیا اور آخرت میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیئے جانے اور آپ کے رفیق اعلیٰ کو منتخب کرنے کا بیان اور اس بات کا ذکر کہ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
Musnad Ahmad
36
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
Musnad Ahmad
37
اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایکیہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
Musnad Ahmad
38
یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس زہر آلودہ بکری کے بارے میں بتلا دیا، جو ایکیہودی خاتون نے تحفہ کی صورت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پیش کی تھی
Musnad Ahmad
39
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
40
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
Musnad Ahmad
41
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
42
(30) CHAPTER. Repeating one's talk thrice in order to make others understand.
اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے ( ایک ) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے
Sahih Bukhari
43
(36) CHAPTER. Whoever heard something (but did not understand it) and then asked again till he understood it completely.
اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے ، یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
44
(42) CHAPTER. The passing of wet hands over the head once only (while performing ablution).
سر کا مسح ایک بار کرنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
45
(1) CHAPTER. The performance of ablution before taking a bath.
اس بارے میں کہ غسل سے پہلے وضو کر لینا چاہیے
Sahih Bukhari
46
(2) CHAPTER. Taking a bath by a man along with his wife.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
47
(5) CHAPTER. To wash the body (parts) once only.
اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہوگا
Sahih Bukhari
48
(6) CHAPTER. Starting one's bath by scenting oneself with Hilab or some other scent.
اس بارے میں کہ جس نے حلاب سے یا خوشبو لگا کر غسل کیا تو اس کا بھی غسل ہوگیا
Sahih Bukhari
49
(14) CHAPTER. Whoever scented himself and then took a bath while the effect of scent remained even after bathing .
اس بارے میں کہ جس نے خوشبو لگائی پھر غسل کیا اور خوشبو کا اثر اب بھی باقی رہا
Sahih Bukhari
50
(16) CHAPTER. Whoever performed the ablution of Janaba and then washed his body but did not wash once again the parts which were washed in ablution.
اس بارے میں کہ جس نے جنابت میں وضو کیا پھر اپنے تمام بدن کو دھویا ، لیکن وضو کے اعضاء کو دوبارہ نہیں دھویا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,822
Jam e Tirmazi
103
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَلَكَ بِيَدِهِ الْحَائِطَ أَوِ الْأَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
Ibn 'Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said: I prepared some water for the Prophet to perform Ghusl for Janabah with. So he turned the vessel with his left hand, (pouring some water) over his right. Then he washed his hands. Then he entered his hand into the vessel to pour water over his private area, then he rubbed his hands on the wall, or the ground. Then he rinsed out his mouth and washed his nose by putting water in and blowing it out, and washed his face and forearms. Then he poured water over his head three times, then he poured water over the remainder of his body, then he moved from where he was and washed his feet.
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے لیے نہانے کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا، تو برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر جھکایا اور اپنے پہونچے دھوئے، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہایا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر وہاں سے پرے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، جابر، ابوسعید جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
722
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ، قَالَتْ: «أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ أَفْرَغَ بِهِ عَلَى فَرْجِهِ، وَغَسَلَهُ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ، فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ، فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ»
Ibn 'Abbas reported it on the authority of Maimuna, his mother's sister, that she said: I placed water near the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to take a bath because of sexual intercourse. He washed the palms of his bands twice or thrice and then put his hand In the basin and poured water over his private parts and washed them with his left hand. He then struck his hand against the earth and rubbed it with force and then performed ablution for the prayer and then poured three handfuls of water on his head and then washed his whole body after which he moved aside from that place and washed his feet, and then I brought a towel (so that he may wipe his body). but he returned it.
عیسیٰ بن یونس نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے کریب سے ، انہوں نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : مجھے میری خالہ میمونہ ؓ نے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے آپ کے قریب پانی رکھا ، آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو یا تین دفعہ دھویا ، پھر اپنا ( دایاں ) ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا ، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مار کر اچھی طرح رگڑ اور اپنا نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر ہتھیلی بھر کر تین لپ پانی اپنے سر پر ڈالا ، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا ، پھر اپنی اس جگہ سے دور ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر میں تولیہ آپ کے پاس لائی تو آپ نے اسے واپس کر دیا ۔
Sahih Muslim
4814
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Salim b. al-Ja'd who said: I asked Jabir: How many were you on the Day of Hudaibiya? He said: One thousand and four hundred.
اعمش نے کہا : مجھے سالم بن ابی جعد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا : ایک ہزار چار سو ۔ ( یعنی بیعت کرنے والے
Sunnan Abu Dawood
245
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا يَغْتَسِلُ بِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَبَّ عَلَى فَرْجِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِشِمَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَغَسَلَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَنَحَّى نَاحِيَةً فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَاوَلْتُهُ الْمِنْدِيلَ فَلَمْ يَأْخُذْهُ وَجَعَلَ يَنْفُضُ الْمَاءَ عَنْ جَسَدِهِ ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَانُوا لَا يَرَوْنَ بِالْمِنْدِيلِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْعَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ قَالَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ:‏‏‏‏ كَانُوا يَكْرَهُونَهُ لِلْعَادَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَكَذَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي هَكَذَا.
Maimunah reported: I placed (the vessel of) water for the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم to wash himself because of sexual intercourse. He lowered down the vessel and poured water on his right hand. He then washed it twice or thrice. He then poured water over his private parts and washed them with his left hand. Then he put it on the ground and wiped it. He then rinsed his mouth and snuffed up water, and washed his face and hands. He then poured water over his head and body. Then he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake he moved aside and washed his feet. I handed him a garment, but he began to shake off water from his body. I mentioned it to Ibrahim. He said that they (companions) did not think there was any harm in using the garment (to wipe the water), but they disliked its use as a habit. Abu Dawud said: Musaddad said: I asked Abdullah bin Dawud whether they (the companions) disliked to make it a habit. He replied: it (the tradition) goes in a similar way and I found it in a similar way in this book of mine.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی رکھا، تاکہ آپ غسل کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا اور اسے دوبار یا تین بار دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، اور بائیں ہاتھ سے اسے دھویا، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی ڈالا، پھر کچھ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، میں نے بدن پونچھنے کے لیے رومال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا، اور پانی اپنے بدن سے جھاڑنے لگے۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا، تو انہوں نے کہا: رومال سے بدن پونچھنے میں لوگ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، لیکن اسے عادت بنا لینا برا جانتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد نے کہا: اس پر عبداللہ بن داود سے میں نے پوچھا «العادة» یا «للعادة» ؟ تو انہوں نے جواب دیا «للعادة» ہی صحیح ہے، لیکن میں نے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
573
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْكُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ فِي الأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ‏‏‏‏‏‏وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ .
Ibn 'Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said: I put out some water for the Prophet to take a bath, and he bathe to cleanse himself from impurity following sexual activity. He tilted the vessel with his left hand, pouring water into his right, and washed his hands three times. Then he pourd water over his private parts, then he rubbed his hands on the ground. Then he rinsed his mouth and nose, and washed his face three times, and his forearms three times. Then he poured water over the rest of his body, then he moved aside and washed his feet.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا اور برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر انڈیلا، اور دونوں ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پہ پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور اپنا چہرہ اور بازو تین تین بار دھویا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر غسل کی جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔
Sunnan Nisai
77
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ الْأَعْمَشُ:‏‏‏‏ فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِجَابِرٍ:‏‏‏‏ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ.
It was narrated that 'Abdullah said: We were with the Prophet (ﷺ) and they could not find any water. A vessel was brought to him and he put his hand in it, and I saw water springing from between his fingers. He said: 'Come to a means of purification and a blessing from Allah, may He be glorified.' (One of the narrators) Al-A'mash said: Salim bin Abi Al-Ja'd told me: I said to Jabir: How many were you that day?' He said: One thousand five hundred.
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک طشت لایا گیا، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ابل رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے:  پاک کرنے والے پانی اور اللہ کی برکت پر آؤ ۔
Jam e Tirmazi
16
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ لِسَلْمَانَ:‏‏‏‏ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَلْمَانُ:‏‏‏‏ أَجَلْ،‏‏‏‏ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَخَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ سَلْمَانَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ:‏‏‏‏ رَأَوْا أَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْحِجَارَةِ يُجْزِئُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْمَاءِ إِذَا أَنْقَى أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاقُ
Abdur-Rahman bin Yazld said, : They said to Salman, 'Your Prophet taught you about everything, even defecating?' So Salman said, 'Yes. He prohibited us from facing the Qiblah when defecating and urinating, performing Istinja with the right hand, using less than three stones for Istinja, and using dung or bones for Istinja
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی رضی الله عنہ نے بطور فخر کہا: ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمان رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کر لینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔
Jam e Tirmazi
93
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ أَتَفْعَلُ هَذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ حَدِيثُ جَرِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ هَذَا قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي كَانَ يُعْجِبُهُمْ،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَبُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ابْنُ عِمَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيُّ بْنُ عِمَارَةَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ جَرِيرٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Hammam bin AI-Harith narrated: Jarir bin Abdullah urinated, then he performed Wudu, wiping over his Khuff. So he was asked, 'You do this?' He replied, 'What prevents me, when I have seen Allah's Messenger doing it? He [Ibrahim] said And they were impressed by the narration of Jarir since he accepted Islam after the revelation Sural Al-Ma'idah. [This is the saying of lbrahim, that is, They were impressed. ] [He said:] There are narrations on this topic from Umar, Ali, Hudhaifah, AI-Mughirah, Bilil, Sa'd, Abu Ayyub, Salman, Buraidah, Amr bin Umayyah, Anas, Sahl bin Sa'd, Ya'la bin Murrah, Ubadah bin As-Samit, Usamah bin Shank, Abu Umamah, Jabir, Usamah bin Zaid, and Ibn Ubadah. They call him Ibn Imarah and Ubayy bin Imarah.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، ان سے کہا گیا: کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس کام سے کون سی چیز روک سکتی ہے جبکہ میں نے خود رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کو جریر رضی الله عنہ کی یہ حدیث اچھی لگتی تھی کیونکہ ان کا اسلام سورۃ المائدہ کے نزول کے بعد کا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جریر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، حذیفہ، مغیرہ، بلال، ابوایوب، سلمان، بریدۃ، عمرو بن امیہ، انس، سہل بن سعد، یعلیٰ بن مرہ، عبادہ بن صامت، اسامہ بن شریک، ابوامامہ، جابر، اسامہ بن زید، ابن عبادۃ جنہیں ابن عمارہ اور ابی بن عمارہ بھی کہا جاتا ہے رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
104
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُشَرِّبُ شَعْرَهُ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنِ انْغَمَسَ الْجُنُبُ فِي الْمَاءِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَجْزَأَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق.
Aishah narrated: When AlIah's Messenger wanted to perform Ghusl for Janabah, he would begin by washing his hands before putting them into the vessel. Then he would wash his private area, and perform the Wudu (as one does) for Salat. Then he would wet his hair with the water, then he would pour water over his head with his hands three times.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے، پھر شرمگاہ دھوتے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر بال پانی سے بھگوتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی کو اہل علم نے غسل جنابت میں اختیار کیا ہے کہ وہ نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالے، پھر اپنے پورے بدن پر پانی بہائے، پھر اپنے پاؤں دھوئے، اہل علم کا اسی پر عمل ہے، نیز ان لوگوں نے کہا کہ اگر جنبی پانی میں غوطہٰ مارے اور وضو نہ کرے تو یہ اسے کافی ہو گا۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔